New Age Islam
Mon May 11 2026, 11:43 PM

Urdu Section ( 25 Apr 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Environmental Pollution in Islam-Part-5 ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

( قسط پنجم)

25 اپریل 2026

فضائی آلودگی کے منفی اثرات

قدرتی وسائل میں ہوا خالق کائنات کا بہت بڑا عطیہ ہے ۔ ہوا پر تمام مخلوق کی زندگی کا انحصار ہے ۔ اگر ہوا نہ ہو انسان کو سانس لینا تک دوبھر ہو جائے گی ۔ اس کے علاوہ اور دیگر ضروری امور کی انجام دہی کے لیے ہوا لازمی ہے ۔ ہوا زندگی  کا ایک ایسا اٹوٹ حصہ ہے کہ جس کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا ۔

اگر ہم ہوا اور فضاء کو آلودہ اور مسموم بنا دیں تو اس کے مضر اثرات آج ہمارے معاشرے پر ہی مرتب ہوں گے۔  یہ جانتے ہوئے کہ فضاء کو آلودہ نہیں کرنا چاہیے اس کے باجود ہم  فضاء کو آلودہ کررہے ہیں ۔ چنانچہ  ڈاکٹر کریم  نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے:

"ہوا میں آلودگی عموماً گاڑیوں یا کار خانوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ گاڑیوں اور مختلف قسم کی مشینوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، ہائیڈ روجن اور کاربن مونو آکسائیڈ گیسیں ہوا میں شامل ہوتی رہتی ہیں۔ اسی طرح گرد و غبار اور راکھ و دھواں بھی ہوا میں شامل ہو کر اس کو آلودہ بنا دیتا ہے۔ جدید تحقیقات سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ گھروں میں کھانا پکانے کے عمل کے دوران اٹھنے والے دھوئیں سے بھی خواتین اور بچے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر صرف کھانا پکانے کے لیے محفوظ چولہے ہی فراہم کر دیئے جائیں تو دنیا میں لاکھوں افراد کی جانیں بچ سکتی ہیں۔ "

(https://jirs.uoh.edu.pk/index.php/JIRS/article/view/131/61)

اس کے علاوہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ فضائی آلودگی اس وقت دنیا کے بڑے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہے ۔ چنانچہ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے نشریاتی ادارے بی بی سی (BBC) کو رپورٹ دیتے ہوئے کہا :43 لاکھ اموات گھروں کے اندر کی فضا کی آلودگی خصوصاً ایشیا میں لکڑیاں جلا کریا کوئلوں پر کھانا پکانے کے دوران اٹھنے والے دھویں کی وجہ سے ہوئیں۔  جبکہ بیرونی فضاء میں آلودگی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 37 لاکھ کے لگ بھگ رہی،  جن میں سے 90 فیصد کے قریب ترقی پذیر ممالک میں تھیں۔

لہٰذا فضاء کو آلودہ کرنے والے جو اسباب ہیں  کا معتدل استعمال ناگزیر ہے ۔ اسی طرح دھواں بھی ان اشیاء ممنوعہ میں شامل ہے جس کی استعمال سے فضاء آلودہ ہوتی ہے ۔ اسی وجہ سے  دھوئیں کو اسلام نے عذاب مبین سے تعبیر کیا ہے ۔ علاوہ ازیں جب ہم فضائی آلودگی کے حوالے سے فقہاء کی تصریحات کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے دھوئیں کی تمام شکلوں کو فضاء کو آلودہ کرنے والا کہا ہےاور اس کے بے جا استعمال سے منع کیا ہے ۔ اسلام میں فضائی  کو آلودگی سے بچانے اور اس کو محفوظ رکھنے کے لیے بڑے ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔ من جملہ ان کے اسلام نے ایک نظریہ یہ پیش کیا کہ شجر کاری زیادہ سے زیادہ کی جائے  تاکہ فضاء آلودہ ہونے سے  محفوظ رہ سکے ۔  کیونکہ سبزہ ہی ہے جس سے فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے،  اس لیے کہ ہوا زندگی کے مختلف امور میں بڑی مفید ثابت ہوتی ہے ۔ ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ ہوا کے ذریعے غلہ میوہ جات اور دیگر بنیادی ضروریات میں کام آنے والی اشیاء خورد و نوش کے پکنے میں ہوا کا بڑا عمل دخل ہے ۔ اس لیے اس خدائی  عطیہ کی قدر ضروری ہے۔  اسلام نے اس  نعمت عظمیٰ کی  افادیت بتائی ہے۔  اسی طرح ہوا پر پوری سوسائٹی کی زندگی  کی بقاء کا انحصار ہے ۔

البتہ جب ہم ہوا کے متعلق  اسلام کا نظریہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہوا کو تین انداز میں بیان کیا ہے ۔ رحمت بارش لانے والی ، عذاب یعنی تباہی لانے والی اور نشانی  قدرت الٰہی کی دلیل ۔

ہوا  نوع انسانی کے تئیں رحمت ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے ہوا کو رحمت کا سبب بنایا ہے ۔ یعنی ہوا بادلوں کو اٹھاتی ہے پھر اس کے ذریعہ باران رحمت نازل ہوتی جو فضائی آلودگی کو بہتر بناتی ہے ۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَهُوَ الَّـذِىْ يُـرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَىْ رَحْـمَتِهٖ ۖ حَتّــٰٓى اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَـدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۚ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۔ ( الاعراف: 57)

"اور وہی ہے جو مینہ سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم اس بادل کو مردہ شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر ہم اس بادل سے پانی اتارتے ہیں پھر اس سے سب طرح کے پھل نکالتے ہیں، اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔"

اس آیت کریمہ میں ہوا کو رحمت کہا گیا ہے اور پھر اس کے بیشتر فوائد کا ذکر ہے جن سے استفادہ انسان  کرتا ہے ۔  ہوا انسانیت کے لیے رحمت و برکت کا ذریعہ اس مفہوم کو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

اَللَّـهُ الَّـذِىْ يُـرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيْـرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهٝ فِى السَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ وَيَجْعَلُـهٝ كِسَفًا فَتَـرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِـهٖ ۖ فَاِذَآ اَصَابَ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٓ ٖ اِذَا هُـمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ۔ ( الروم: 48)

"اللہ وہ ہے جو ہوائیں چلاتا ہے پھر وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر اسے آسمان میں جس طرح چاہے پھیلا دیتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو مینہ کو دیکھے گا کہ اس کے اندر سے نکلتا ہے، پھر جب اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔"

ایک جگہ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَاَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَيْنَاكُمُوْهُۚ وَمَآ اَنْتُـمْ لَـهٝ بِخَازِنِيْنَ ۔ ( الحجر: 22)

"اور ہم نے بادل اٹھانے والی ہوائیں بھیجیں پھر ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر وہ تمہیں پلایا، اور تمہارے پاس اس کا خزانہ نہیں ہے۔"

مفتی شفیع عثمانی لکھتے ہیں کہ ہوا رحمت انسانیت کے لیے کس طرح ثابت ہوتی ہے۔ رقم طراز ہیں:

" قدرت الہیہ  کے اس حکیمانہ نظام کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان اور جانور ، چرندوں، پرندوں ، درندوں کے لیے ضرورت کے مطابق آب رسانی کا ایسا نظام محکم قائم کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو ہر جگہ ہر حال میں اپنی ضرورت کے مطابق پینے، نہانے، دھونے اور کھیتوں، درختوں کو سیراب کرنے کے لئے پانی بلا کسی قیمت کے مل جاتا ہے، اور جو کچھ کسی کو کنواں بنانے یا پائپ لگانے پر خرچ کرنا پڑتا ہے  وہ اپنی سہولتیں حاصل کرنے کی قیمت ہے ،  پانی کے ایک قطرہ کی قیمت بھی کوئی ادا نہیں کرسکتا،  نہ کسی سے مانگی جاتی ہے ۔ اس آیت میں پہلے تو اس کا ذکر کیا گیا کہ کہ سمندر کے پانی کو پوری زمین پر پہنچانے کا عجیب و غریب نظام بنایا ہے کہ سمندر میں بخارات پیدا فرمائے جن سے بارش کا مواد (مان سون) پیدا ہوا اوپر سے ہوائیں چلائیں، جو اس کو بادل کی شکل میں تبدیل کر کے پانی سے بھرے ہوئے پہاڑوں جیسے جہاز بنا دیں، پھر پانی سے لبریز ان ہوائی جہازوں کو دنیا کے ہر گوشہ میں جہاں جہاں پہونچانا ہے پہونچا دیں، پھر فرمان الٰہی کے تابع جس زمین پر جتنا پانی ڈالنے کا حکم ہے، اس کے مطابق یہ خود کار ہوائی جہاز وہاں پانی برسا دیں۔"

( معارف القرآن ، جلد پنجم صفحہ: 291)

ہوا بطور عذاب الٰہی

اللہ تعالیٰ نے ہوا کی ایک حیثیت عذاب کی بیان کی ہے اور یہ بتایا ہے سابقہ امتوں میں ایک امت عاد کے نام سے تھی ، اس کو اللہ تعالیٰ نے ہوا کے ذریعہ تباہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِـرِيْـحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ ۔ اَيَّامٍۙ حُسُوْمًا فَتَـرَى الْقَوْمَ فِيْـهَا صَرْعٰى كَاَنَّـهُـمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ ۔ ( الحاقہ: 6-7)

"اور لیکن قوم عاد، سو وہ ایک سخت آندھی سے ہلاک کیے گئے۔ وہ ان پر سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار چلتی رہی (اگر تو موجود ہوتا)، اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا کہ گھری ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔"

ہوا کی اس انداز کو دوسری جگہ بیان کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَفِىْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمُ الرِّيْحَ الْعَقِـيْمَ ۔ ( الذاریات: 41)

"اور قوم عاد میں بھی (عبرت ہے) جب ہم نے ان پر سخت آندھی بھیجی۔"

اس آیت کے ذیل میں سید ابو الاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے:

" اس کے معنی یہ ہونگے….. ( کہ) اپنے اندر کوئی نفع نہ رکھتی تھی،  نہ خوشگوار تھی،  نہ بارش لانے والی تھی ، نہ درختوں کو بار آور کرنے والی ، اور نہ ان فائدوں میں سے کوئی فائدہ اس میں تھا جس کے لیے ہوا کا چلنا مطلوب ہوتا ہے۔  دوسرے مقامات پر بتایا گیا کہ یہ صرف بے خیر اور خشک ہی نہ تھی بلکہ نہایت شدید آندھی کی شکل میں آئی تھی جس نے لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پٹخ دیا اور یہ مسلسل اٹھ دن اور سات راتوں تک چلتی رہی ، یہاں تک کہ قوم عاد کے پورے علاقے کو اس نے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ "

(تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، صفحہ:  149)

ہوا قدرت الٰہی کی دلیل

اسلام میں ہوا کی تیسری حیثیت نشانی کی ہے ۔ یعنی یہ کہا گیا کہ ہوا  کا چلنا  یا دن و رات کا بدلنا  ، اس میں ارباب عقل و شعور کے لیے نشانیاں ہیں ۔ ظاہر ہے ان تمام باتوں سے وہی قومیں عبرت و نصیحت حاصل کرتی ہیں جو عقلمند ہوتی ہیں ۔ اللہ نے ہوا کو بطور نشانی کے بتایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا وَتَصْرِيْفِ الرِّيَاحِ اٰيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ ۔ ( الجاثیہ: 5)

"اور رات اور دن کے بدل کر آنے میں اور اس میں جو اللہ نے آسمان سے رزق نازل کیا پھر اس کے ذریعے سے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندہ کیا اور ہواؤں کے بدل کر لانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"

آخر میں یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے ایک متوازن اور ذمہ دار طرزِ زندگی پیش کرتا ہے، جس میں انسان کو نہ صرف اپنے فائدے بلکہ پوری کائنات کے تحفظ کو مدنظر رکھنا چاہیے۔  گویا فضائی آلودگی موجودہ دور کے سنگین عالمی مسائل میں سے ایک ہے، جو انسانی صحت، ماحولیاتی توازن اور زمین پر زندگی کے تسلسل کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ صنعتوں کے دھوئیں، گاڑیوں کے اخراج، جنگلات کی کٹائی اور دیگر انسانی سرگرمیوں نے فضا کو مضر گیسوں اور ذرات سے بھر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں سانس کی بیماریاں، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی نظام میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ اس لیے ان تمام آلات کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے جن سے فضاء آلودہ ہوتی ہے ۔

اسلام میں صرف فضائی آلودگی سے حفاظت کی تعلیمات ہی نہیں ملتی ہیں بلکہ نوع انسانی کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے اعمال کے ذریعہ معاشرے میں ماحول کو خراب کرنے کی سعی کرے گا تو اس ہوا کو ہم اس کے لیے عذاب بھی بنا سکتے ہیں جیسا کہ متذکرہ بالا آیات میں بتایا گیا ہے ۔

مضمون نگار اسلامک اسکالر، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

----------

Part: 1- Environmental Pollution in Islam-Part-1 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part: 2- Environmental Pollution in Islam- Part-2 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part: 3- Environmental Pollution in Islam-Part-3 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part: 4- Environmental Pollution in Islam-Part-4 ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/environmental-pollution-islam-part-5/d/139786

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..