New Age Islam
Tue May 12 2026, 02:42 AM

Urdu Section ( 24 Apr 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Environmental Pollution in Islam-Part-4 ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

( قسط چہارم)

24 اپریل 2026

کائنات کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ کہ قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے اور اس کے استعمال کو ضرورت کے مطابق کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایسے بہت سے قدرتی وسائل پیدا کیے ہیں جو انسان کی بنیادی ضرورت ہیں ۔ ان کے وغیرہ کوئی فرد زندہ نہیں رہ سکتا ہے ۔ جیسے : ہوا ، زمین ، نباتات ، حیوانات اور پانی وغیرہ وغیرہ ۔

ظاہر ہے یہ تمام وہ قدرتی وسائل اور نعمتیں ہیں جو انسان کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کرتی ہیں ۔

پانی کا اسلامی تصور

ان میں سے ایک اہم  قدرتی نعمت پانی ہے ۔ پانی کتنا ضروری ہے یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔  اسلام میں پانی کی کئی حیثیتوں  کا ذکر کیا گیا ہے ۔ نمبر ایک پانی تمام مخلوقات کو زندگی بخشتا ہے ۔ پانی کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ پاک ہے اور دوسری تمام نجاست آمیز اشیاء کو پاک کرتا ہے ۔ ایک حیثیت پانی کی یہ ہے کہ اللہ نے اسے لذیذ اور میٹھا بنایا ہے ۔ اور اہم بات یہ ہے کہ پانی کے بے جا استعمال سے  روکا گیا ہے ۔ سچ بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے پانی کو زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے۔  حتی کہ تمام جاندار اپنے وجود کے لیے پانی پر  انحصار کرتے ہیں ۔ قرآن کریم کی متعدد آیات اس نعمت عظمیٰ اور اس کی اہمیت کے بارے میں صاف طور پر بتاتی ہیں ۔ پانی کے بے شمار  حیاتی پہلوؤں کے علاوہ اس کی سماجی اور مذہبی حیثیت بھی مسلم ہے۔  پانی طہارت کے لیے بھی ناگزیر ہے اور کوئی بھی بدنی عبادت جسم اور کپڑوں کی پاکی کے بغیر ادا نہیں کی جا سکتی۔ لہذا پانی انسانی زندگی کے لیے ناگزیر شئی ہے ۔

پانی میں اسراف کی ممانعت

ماحولیاتی آلودگی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم پانی جیسی نعمت کی قدر نہیں کرتے ہیں ۔ پانی کا بلا ضرورت استعمال یقیناً اسراف میں داخل اور اسراف کی ممانعت قرآن کریم صاف طور پر کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

بَنِىٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٝ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۔ ( الاعراف: 31)

" اے آدم کی اولاد تم مسجد کی حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور کھاؤ اور پیئو اور حد سے نہ نکلو، بے شک اللہ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"

اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ:" مَا هَذَا السَّرَفُ"؟ فَقَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ۔

( سنن ابن ماجہ ، کتاب الطھارۃ وسننھا ، باب ماجاء فی القصد فی الوضوء و کراہیة  التعدی)

"عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ وضو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ کیسا اسراف ہے؟"، انہوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں چاہے تم بہتی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو"

پانی کے تحفظ اور اس کے صحیح استعمال کی مثال اس سے بہتر نہیں ہوسکتی کیونکہ وضوء عبادت کی ادائیگی کے لیے کیا جارہاہے تھا اس کے باجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی کہ پانی کے استعمال میں اسراف کی قطعی گنجائش نہیں ہے ۔  پانی کے بے جا استعمال کی ممانعت کا اندازہ ذیل کی روایت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ".

( الصحیح البخاری ، کتاب الاشربة، باب الشرب فی فم السقاء)

"ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کو منع فرمایا تھا۔"

اس کے علاوہ اور بھی کئی مقامات پر اسراف  کی ممانعت آئی ہے ۔ اسراف کسی بھی معاملہ میں ہو زندگی کے کسی بھی پہلو میں ہم اعتدال سے ہٹ کر اسراف کا راستہ اختیار کریں تو یہ کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی کے بڑھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم  پانی کے استعمال میں اسراف سے کام لیتے ہیں ۔ اگر ماحول کو پاکیزہ  رکھنا ہے اور آلودگی سے بچانا ہے تو ضروری ہے کہ کہ پانی جیسی عظیم قدرتی نعمت کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ معاشرے کو آلودگی سے بچایا جاسکے ۔

پانی زندگی کے لیے ناگزیر

اسلام میں پانی کی ایک حیثیت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ تمام  مخلوق کو زندہ کرتا ہے ۔ اس اعتبار سے  پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت  ثابت ہوتی ہے ، کیونکہ اس سے ہر چیز کو زندہ کیا  جاتاہے ۔ اورپانی سے اس کے اندر تازگی آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَيٍّ ۖ اَفَلَا يُؤْمِنُـوْنَ۔( الانبیاء: 30) "اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا، کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے۔"

اس آیت کے ذیل میں مفتی شفیع عثمانی نے بڑی عمدہ بات کہی ہے:

" مراد یہ ہے کہ ہر جاندار کی تخلیق میں پانی کا دخل ضرور ہے  اور جاندار ذی روح اہل تحقیق کے نزدیک  صرف انسان اور حیوانات ہی نہیں بلکہ نباتات اور جمادات میں روح اور حیات محققین کے نزدیک ثابت ہے  اور ظاہر ہے کہ پانی کو ان سب چیزوں کی تخلیق و ایجاد اور ارتقاء میں بڑا دخل ہے"

( معارف القرآن ، جلد ششم ، صفحہ: 181- 182)

ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَانْظُرْ اِلٰٓى اٰثَارِ رَحْـمَتِ اللّـٰهِ كَيْفَ يُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۚ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْىِ الْمَوْتٰى ۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ ۔ الروم: 50)

"پھر تو اللہ کی رحمت کی نشانیوں کو دیکھ کہ زمین کو خشک ہونے کے بعد کس طرح سر سبز کرتا ہے، بے شک وہی مردوں کو پھر زندہ کرنے والا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔"

بارش کے پانی سے اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو حیات بخشتا ہے اور پھر وہ لیلہانے لگتی ہے۔ اس یہ ثابت ہوتا ہے کہ پانی زندگی عطاء کرنے  کا ایک اہم وسیلہ اور خدائی عطیہ ہے ۔

پانی پاک ہے

ان کے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ اسلام میں پانی کی اہمیّت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو مبارک کہا ہے اور کہیں اسے طہور کہا ہے ۔ پانی کے متعلق اسلام کا یہ نظریہ صرف پانی کی عظمت و اہمیت ہی نہیں بتلاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ  یہ بھی پیغام دیتا ہے کہ پانی حیات انسانی کی ایک ایسی ضرورت ہے جس کی ضرورت ہر موڑ پر پڑتی ہے ۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًا ۔ (الفرقان: 48)

" اور ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل فرمایا۔"

اس آیت کے ذیل میں سید ابو الاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے:

" یعنی ایسا پانی جو ہر طرح کی گندگیوں سے بھی پاک ہوتا ہے اور ہر طرح کے زہریلے مادوں اور جراثیم سے بھی پاک۔ جس کی بدولت نجاستیں ڈھلتی ہیں اور انسان، حیوان، نباتات، سب کو زندگی بخشنے والا جو ہر خالص بہم پہنچتا ہے۔"  ( تفہیم القرآن ، جلد سوم ، صفحہ: 455)

مفتی شفیع عثمانی نے اپنی تفسیر معارف القرآن میں  لکھا ہے کہ پانی خود بھی پاک ہوتا ہے اور دوسروں کو پاک کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے ۔  چنانچہ وہ رقم طراز ہیں:

" طهور کا لفظ عربی زبان میں مبالغہ کا صیغہ ہے۔ طھور اُس کو کہا جاتا ہے جو خود بھی پاک ہو اور دوسری چیزوں کو بھی اُس سے پاک کیا جا سکے ۔ حق تعالی نے پانی کو یہ خاص صفت عطا فرمائی ہے کہ جیسے وہ خود پاک ہے اُس سے دوسری ہر قسم کی نجاست حقیقی و معنوی کو بھی دور کیا جاسکتا ہے ۔  اور جس پانی کو آدمی استعمال کرتے ہیں وہ عموماً وہی ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔  کبھی بارش کی صورت میں،  کبھی برف اور اولے کی صورت میں،  پھر وہ ہی پانی پہاڑوں کی رگوں کے ذریعہ قدرتی پائپ لائن کی صورت میں ساری زمین پر پھیلتا ہے،  جو کہیں خود بخود چشموں کی صورت میں نکل کر زمین پر بہنے لگتا ہے۔ کہیں زمین کھود کر کنویں کی صورت میں نکالا جاتا ہے۔  یہ سب پانی اپنی ذات سے پاک اور دوسری چیزوں کو پاک کرنیوالا ہے ۔ اس پر قرآن و سنت کی نصوص بھی ناطق ہیں اور امت کا اجماع بھی ۔"

( معارف القرآن ، جلد ششم ، صفحہ: 484)

پانی تمام ظاہری گندگیوں کو دور کرتا ہے اور اس کے لیے پانی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرمایا کہ  ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ پیشاب کرنے سے پانی آلودہ ہو جائے گا اور پھر اس پانی کے استعمال سے بدبو ، گندگی اور دیگر جراثیم پھیلیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْهُ ۔

(الصحیح المسلم ، کتاب الطھارۃ ، باب النہی عن البول فی الماء الراکد)

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہوئے پانی میں، جو چل نہ رہا ہو، پیشاب نہ کرو کہ پھر تم اس میں نہاؤ"

پانی کا ذائقہ لذیذ ہے

پانی کی ایک حیثیت اسلام میں یہ بتائی گئی ہے کہ  اس کا مزہ لذیذ اور شیریں ہے ۔ پینے کے بعد کیفیت میں فرحت و انبساط آتا ہے۔ ماہرین نے لکھا ہے کہ  زمین پر موجود پانی کا صرف تین فیصد ہی قابل استعمال ہے،  باقی 97 فیصد سمندر کی شکل میں نمکین ہے جو کہ عام طور پر قابل استعمال نہیں۔  اللہ تعالی نے اس تین فیصد قابل استعمال پانی کی حفاظت کا بندوبست  کیا تاکہ عام مخلوقات اسے استعمال کر سکے ۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَهُوَ الَّـذِىْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّهٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌۚ وَجَعَلَ بَيْنَـهُمَا بَـرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا ۔ ( الفرقان: 53)

"اور وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو آپس میں ملا دیا، یہ میٹھا خوشگوار ہے اور یہ کھاری کڑوا ہے، اور ان دونوں میں ایک پردہ اور مستحکم آڑ بنا دی۔"

اس آیت کے ذیل میں مفسرین نے لکھا ہے:

یہ کیفیت ہر اُس جگہ رونما ہوتی ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں آ کر گرتا ہے۔ اس کے علاوہ خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں، جن کا پانی سمندرکے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس ( کاتب رومی ) اپنی کتاب مرآة الممالک میں ، جو سولھویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ وہاں آپ شور کے نیچے آپ شیریں کے چشمے ہیں، جن سے میں خود اپنے بیڑے کے لیے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتداء میں وہ بھی خلیج فارس کے انھی چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی۔ بعد میں ظہران کے پاس کنویں کھو لیے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہ میں آپ شیریں کے چشمے ہیں، جن سے لوگ کچھ مدت پہلے تک پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں ۔"

(تفہیم القرآن ، جلد سوم ، صفحہ: 458)

آخر میں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پانی زندگی کا بیش بیش قیمتی خدائی عطیہ ہے ۔ لہذا اس کا تحفظ  ہر فرد و بشر کی اولین ذمہ داری ہے ۔ جب ہم پانی کو مقصد اور ضرورت کے اعتبار سے استعمال میں لائیں گے تب ہم معاشرے کو ماحولیاتی آلودگی سے بچا سکتے ہیں ۔

مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

----------

Part: 1- Environmental Pollution in Islam-Part-1 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part: 2- Environmental Pollution in Islam- Part-2 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part: 3- Environmental Pollution in Islam-Part-3 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/environmental-pollution-islam-part-4/d/139773

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..