New Age Islam
Tue May 12 2026, 02:36 AM

Urdu Section ( 23 Apr 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Environmental Pollution in Islam-Part-3 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

( قسط سوم)

23 اپریل 2026

ماحولیاتی آلودگی کا ایک سبب عدم توازن  ہے ۔  عدم توازن کے مظاہر  آئے دن دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں ۔

تصور کیجیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو  عقل عطا فرمائی اور اسے علم و تحقیق سے سرفراز فرمایا اور اس کے نتیجہ میں متعدد چیزیں وجود میں آئیں جن میں سائنس و ٹیکنالوجی بھی شامل ہے ۔ اب اگر سائنس  کے ذریعہ وجود میں آنے والے علوم و فنون اور ایجادات کے  استعمال کو  طاقت و قوت کی بنیاد پر توازن و اعتدال سے ہٹا کر پیش کیا جانے لگے اور ان سے نوع انسانی کو فائدہ کے بجائے نقصان ہونے لگے تو یقیناً اس سے ماحول بری طرح آلودہ اور پراگندہ ہوگا ۔ یہ ماحولیاتی آلودگی  کے جو اثرات معاشرے پر مرتب کرے گی وہ یقیناً ناقابل تلافی ہوں گے ۔ اس صداقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ماحولیاتی بحران سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے ۔ غیر سائنسی دور کے ہزاروں سالوں کی کائناتی تباہی سے سائنس کے دور کی ایک گھنٹی کی تباہی زیادہ ہے ۔ البتہ  اس  کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جدید ایجادات یا سائنس بذات خود مجرم ہے۔ سچ یہ ہے کہ یہ خدائی عطیہ ہے ۔ جس نے کائنات کی تسخیر اور ان سے استفادہ کو ہمارے لیے بہت آسان بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ جَـمِيْعًا مِّنْهُ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ ۔ ( الجاثیہ: 13)

"اور اس نے آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو اپنے فضل سے تمہارے کام پر لگا دیا ہے، بے شک اس میں فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"

 البتہ اس تناظر میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ کہ جدید سائنس کا عروج و ارتقاء مغرب میں  الحاد و لادینیت کے زیر اثر ہوا ہے،  اس لیے کہیں نہ کہیں  جدید سائنس نظام اخلاق اور اس کی پاکیزہ اقدار سے عاری نظر آتی ہے ، کیونکہ  اس کا بنیادی ہدف مادی ترقی ہے اور یہی پہلو ایسا  ہے  جوماحول کے توازن کو بگاڑتا ہے۔ اگر اس کے اندر روحانیت شامل ہوتی اور مادیت سے زیادہ توجہ عوامی مفادات پر رکھی جاتی تو یقیناً اس کے نتائج نہایت مثبت ہوتے ۔ کوئی بھی علم جو خدا اور آخرت کے تصور و یقین سے خالی ہو وہ  صحیح طور پر اِنسانیت کے لیے نفع بخش نہیں بن سکتا ہے ۔ کیوں کہ پھر اس میں خود غرضی ، مفاد پرستی ، اور استحصال داخل ہو جاتا ہے اور یہ ایسے اسباب  ہیں جو انسان کو تن آسانی ، تن پروری، لذت طلبی اور نفسانی خواہشات کی طرف دھکیلتے ہیں ۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ سائنسی علوم و فنون میں اگر توازن و اعتدال قائم رکھا جائے اور اس میں مذہبی عناصر اور روحانیت کو شامل کرلیا جائے تو یہ خدائی عطیہ انسانیت کے لیے پوری طرح مفید ثابت ہوسکتا ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی جدید ذرائع کو انسانی بربادی  کے لیے استعمال کیا گیا ہے تو اس کے نتائج غیر مفید اور مایوس کن ہی رہے ہیں ۔ اس لیے مذہب اور عقیدہ سے وابستگی انسان کو ماحولیاتی آلودگی سے بچاتی ہے اور ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتی ہے ۔  آج انسان نے خاصی مادی ترقی حاصل کرلی ہے اور عروج و ارتقاء کی  منازل بھی طے کرلی ہیں لیکن جب اس کے اندر سے روحانیت اور مذہب کے عمل دخل کو ختم کردیا گیا ہے اسی وجہ سے اس کے منفی اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔

مذہب اور خدائی صفات کو اختیار کرنے اور  اس کے معاشرتی مثبت اثرات کے متعلق Cressy  Morrison  نے اپنی  کتاب " Man Does Not Stand Alone" میں لکھا ہے:

" ادب و احترام،  فیاضی،  کردار کی بلندی،  اخلاق ، اعلی خیالات اور وہ سب کچھ جنہیں خدائی صفات کہا جا سکتا ہے وہ کبھی الحاد سے پیدا نہیں ہو سکتیں  جوکہ دراصل خود بینی کی عجیب و غریب قسم ہے ۔ جس میں آدمی خود اپنے آپ کو خدا کے مقام پر بٹھا ا لیتا ہے۔  عقیدہ اور یقین کے بغیر تہذیب تباہ ہو جائے گی،  نظم بے نظم میں تبدیل ہو جائے گا ، ضبط نفس اور اپنے آپ پر کنٹرول ختم ہو جائے گا اور برائی ہر طرف پھیل  جائے گی ۔ ضرورت ہے کہ ہم خدا پر یقین کو دوبارہ مضبوط کریں"

مولانا وحید الدین خاں نے اپنی  کتاب" مذہب اور جدید چیلنج"   میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے آخرت کا تصور ایک ذمہ دار اور متوازن شخصیت کی تشکیل اور صالح تمدن کے قیام کے لیے ضروری ہے:

" حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کچھ جو تمدن کی تعمیر کے لیے درکار ہے اس کا واحد اور حقیقی جواب صرف مذہب کے پاس ہے۔  مذہب ہمیں حقیقی قانون ساز کی طرف رہنمائی کرتا ہے،  وہ قانون کی موزوں ترین اساس فراہم کرتا ہے،  وہ زندگی کے ہر معاملے میں صحیح ترین بنیاد فراہم کرتا ہے،  جس کی روشنی میں ہم زندگی کا مکمل نقشہ بنا سکیں،  وہ قانون کے لیے وہ نفسیاتی بنیاد فراہم کرتا ہے جس کی عدم موجودگی میں قانون عملا بیکار ہو کر رہ جاتا ہے،  وہ سوسائٹی کے اندر موافق فضا پیدا کرتا ہے،  جو کسی قانون کے نفاذ کے لیے ضروری ہے۔  اس طرح مذہب ہمیں وہ سب کچھ دیتا ہے جس کی ہمیں اپنی تمدنی تعمیر کے لیے ضرورت ہے جبکہ لا مذبیت ان میں سے کچھ نہیں دے سکی اور نہ حقیقتا دے سکتی ہے۔ "

ظاہر ہے وہ تہذیب اور ثقافت یا معاشرہ جو مذہب و عقیدہ سے  آزاد ہوگا  اس کے اندر توازن اور اعتدال کبھی بھی نہیں آسکتا ہے ۔ جب انسان مذہب سے وابستہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنی زندگی کو ان خطوط پر گزارتا ہے جو اسے مذہب نے ہدایت کی ہوتی ہیں ۔ اس طرح وہ ماحول کو آلودگی سے محفوظ رکھتا ہے ۔ گویا مذہب و عقیدہ  سے وابستگی ماحولیاتی آلودگی کو معدوم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے ۔

جب انسان مذہب سے وابستہ ہوگا تو لامحالہ وہ آخرت پر بھی اعتقاد رکھے گا اور آخرت پر اعتقاد فطرت کو عزیز رکھنے کی دعوت دیتا ہے ۔ فطرت  کا بگاڑ اپنے آپ کو اور کائنات کے نظام کو مستقبل سے کاٹ دیتا ہے ۔

 خوبصورت ماحول،  فطرتی خواہشات کی تسکین،  لطف و سرور اور امن و سکون کی خواہش فطری ہے،  مگر موجودہ دنیا اس تکمیل کے لیے ناکافی ہے۔  اس کے لیے مذہب جنت کا تصور پیش کرتا ہے جو ان ساری خواہشات  کے پوری ہونے کی جگہ ہے۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

نَحْنُ اَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيْـهَا مَا تَشْتَهِىٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْـهَا مَا تَدَّعُوْنَ. ( الفصلت: 31)

"ہم تمہارے دنیا میں بھی دوست تھے اور آخرت میں بھی، اور بہشت میں تمہارے لیے ہر چیز موجود ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تم جو وہاں مانگو گے ملے گا"

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَبَشِّرِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اَنَّ لَـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْـهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّـذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۖ وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَـهُـمْ فِيْـهَآ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَّهُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ۔ ( البقرہ: 25)

"اوران لوگوں کو خوشخبری دے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جب انہیں وہاں کا کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے ملا تھا، اور انہیں ہم شکل پھل دیئے جائیں گے، اور ان کے لیے وہاں پاکیزہ عورتیں ہوں گی، اوروہ وہیں ہمیشہ رہیں گے۔ "

خواہشات و جذبات کی تکمیل کا سامان اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب انسان آخرت پر اعتماد و یقین رکھتا ہے ۔ فطرت انسانی کا بنیادی طور پر تقاضا یہی ہے کہ وہ تمام طرح کے سکون و اطمینان اور خوشی و مسرت کے ساتھ رہے ۔ اس کی دنیا اور آخرت دونوں کامیابی سے ہمکنار ہوں ۔ یہ تصور انسان کا اسی وقت پورا ہوسکتا ہے جب وہ مذہب اور اس کے تقاضوں  پر عمل کرکے اپنی زندگی کو صالح اور پاکیزہ خطوط پر استوار کرے ۔

مذہب سے وابستگی اور آخرت پر یقین  سے جس طرح سے  ماحول میں توازن و تناسب آتا ہے وہ کسی کی نظروں سے مخفی نہیں ہے ۔ اس کے برعکس جب ہم ان معاشروں اور افراد کی زندگیوں کا تجزیہ کرتے ہیں جو مذہب سے وابستہ نہیں ہیں، اور ان کا آخرت پر ایمان و یقین نہیں ہے ، وہاں عام طور پر بے اطمینانی ، بد امنی ، بد عنوانی اور اخلاقی رذائل ملیں گے  ۔ کیوں کہ وہ جواب دہی اور ذمہ داری کے  احساس سے عاری ہیں ۔  جب کہ قیامت کے متعلق مذہب کا یہ اعتقاد ہے کہ اس دن ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا کیوں کہ  وہ روز جزاء  ہے ۔ یہ عقیدہ لوگوں میں ذمہ داری کا شعور موجزن کرتا ہے ۔

ماحولیاتی تاریخ  کا فاضل اپنی کتاب  " Interpreting Natural Cultural Construction of the Environment" میں اخروی عقیدہ کی اہمیّت کو نمایاں کرتے ہوئے رقم طراز ہے:

All human activities must be based on the idea that the Earth is only a temporary home (even though man is a superior being )and that to find favour in the next world our action must be properly administered as a manifestation of faith. These include justice and piety plus the appropriate knowledge and understanding of environment problems

"تمام انسانی سرگرمیاں اس تصور پر مبنی ہونی چاہئیں کہ زمین صرف ایک عارضی قیام گاہ ہے (اگرچہ انسان ایک برتر مخلوق ہے)، اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمارے اعمال کو ایمان کے اظہار کے طور پر درست طریقے سے انجام دیا جانا ضروری ہے۔ ان اعمال میں عدل و انصاف، تقویٰ، اور ماحولیاتی مسائل کے بارے میں مناسب علم اور درست فہم شامل ہیں۔"

متذکرہ بالا شواہد و براہین کی روشنی میں یہ بات کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ مذہب و دھرم اور عقیدہ و یقین سے وابستگی ماحول کو متوازن اور معتدل رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے ۔ جب انسان اپنی خواہشات کی تکمیل اور کائنات کے نظام میں غیر فطری  اصولوں کو فروغ دینے کی کوشش کرتاہے تو وہ کہیں نہ کہیں ماحول کے توازن کو تباہ و برباد کرتا نظر آتا ہے ۔ اور یہ مزاج انسان کا اس وقت بنتا ہے جب وہ کسی بھی ذمہ داری اور مذہب سے وابستہ نہیں ہوتا ہے ۔ اس لیے ماحولیاتی آلودگی کا  ایک بنیادی سب مذہب اور اسکے لوازمات سے بیزاری ہے ۔ ماحول کو آلودگی اور تمام طرح کے فسادات سے محفوظ رکھنے کے لیے انسان کو مذہب سے اپنا رشتہ مضبوطی سے قائم کرنا ہوگا ۔

مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

-------

Part-1: Environmental Pollution in Islam-Part-1 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part-2: Environmental Pollution in Islam- Part-2 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/environmental-pollution-islam-part-3/d/139760

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..