New Age Islam
Tue May 12 2026, 02:40 AM

Urdu Section ( 21 Apr 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Environmental Pollution in Islam-Part-1 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

( قسط اول)

21 اپریل 2026

یہ بدیہی صداقت ہے کہ اسلام دین فطرت  ہے ۔ جس نے انسانیت کو فطری ضروریات و  حاجات اور مقاصد میں اہم اور بنیادی ہدایات عطا فرمائیں ہیں ۔  انسانی ضروریات زندگی میں سے ایک اہم اور بنیادی ضرورت ماحول ہے ۔ جس پر حیاتیاتی تنوع کی بقا کا انحصار ہے ۔   ماحول میں آلودگی  کا ایک بنیادی سبب یہ بھی بنتا ہے کہ جب نوع انسانی فطری اور قدرتی وسائل میں بے جا مداخلت کا  ارتکاب  کرنے لگتی ہے ۔عام طور پر فطری اور قدرتی  وسائل  میں بے جا مداخلت  جہالت  خوف خدا کے فقدان سے  آتی ہے۔  جہالت یا نادانی کی وجہ سے ماحول کے لیے نقصان دہ اسباب و عوامل کی پہچان نہیں ہوپاتی ہے ۔ یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ ماحول کی خرابی سے کون سے نقصانات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں ؟ اور  اس کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟  اصلاح  کا عمل کس طرح ممکن ہوپائے گا ۔ یا رکھیے! خود غرضی اور دل میں خوف خدا نہ ہونے کی وجہ سے انسان اپنے مفادات کو معاشرتی اور اجتماعی مفادات سے مقدم رکھتا ہے،  حالت یہ ہوتی ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے اس سے حیاتیاتی تنوع اور ماحول کو نقصان پہنچ رہا ہے۔  لیکن پھر بھی ذاتی مفادات کے حصول کی وجہ سے وہ ان کاموں میں مگن رہتا ہے۔  اگر دل میں خوف خدا ہوتا تو قطعا ذاتی اغراض کی خاطر دوسروں کے نقصان کا باعث نہ بنتا۔ ماحول کو پاکیزہ اور تمام طرح کی آلودگیوں سے  بچانے کے لیے بنیادی طور پر انسان کو علم و تحقیق  ، شعور و آگہی سے ہم آہنگ ہونا ہوگا تو وہیں رب اور پالنہار کا خوف بھی ہونا چاہیے ۔ جب انسان علم اور خدا کے خوف سے آراستہ پیراستہ ہوتا ہے تو وہ صرف ماحول کو ہی پاکیزہ نہیں رکھتا ہے بلکہ حقوق و فرائض ، بقائے باہم اور دیگر تمام بنیادی تقاضوں اور ضروریات  زندگی  کو بڑی خوش اسلوبی سے انجام تک پہنچانے کی کامیاب سعی کرتا ہے ۔ سچ یہ بھی ہے کہ ایسا فرد زندگی میں ہر رشتہ اور حق کی اہمیّت و افادیت کو سمجھتا ہے ۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ آج بدقسمتی سے ماحولیاتی الودگی میں صرف ہوا کی الودگی ، پانی کی آلودگی ، زمین کی آلودگی اور مٹی کی  آلودگی کو شامل و داخل کر رکھا ہے ۔ اگر نگاہ تدبر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ماحول میں آلودگی کے متذکرہ بالا چار عناصر کے علاوہ بھی کئی اہم اور بنیادی چیزیں شامل ہیں ۔ مثلاً: اخلاقی آلودگی ، مذہبی آلودگی اقتصادی آلودگی، سیاسی  آلودگی ، تعلیمی آلودگی اور معاشرتی آلودگی  یہ تمام ایسے کی کردار اور عوامل ہیں کہ اگر ان کو  متوازن انداز میں انجام نہ دیا جائے  اور افراط و تفریط برتی جانے لگے تو ماحول کس طرح سے آلودہ ہوگا اس کا اندازہ لگانا تک مشکل ہے ۔ یقیناً ماحول کو آلودہ کرنے میں سائنس  نے جو عناصر بتائے ہیں اگر ان کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو کہیں نہ کہیں ان کا بھی اخلاق ، مذہب اور معاشرے سے گہرا تعلق ہے ۔  لہذا ماحول کو تمام طرح کی آلودگیوں اور آلائشوں سے پاک و صاف کرنے کے لیے انسان کو اپنے اخلاق ، کردار ، مذہب و دھرم اور دیگر معاشرتی علوم و معارف پر بھی سنجیدگی سے نظر رکھنی ہوگی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان تمام عناصر میں توازن ، ہم آہنگی   پیدا کرنی ہوگی ۔ ارباب علم و تحقیق یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ماحول کی خرابی اور اس کی آلودگی معاشرے  کو دو طرح سے متاثر کرتی ہے ایک ذہنی اور اخلاقی اور دوسرے جسمانی طور پر ۔ اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ماحول کی آلودگی کا تعلق صرف زمین ، پانی ، ہوا اور مٹی تک ہی محدود ہے یا پھر اس میں اخلاقی فسادات اور معاشرتی بگاڑ جیسی  اہم چیزیں بھی شامل ہیں ۔

  ہاں یہ تصور بالکل درست ہے کہ ذہنی اور اخلاقی طور پر انسان ماحول سے منفی طور پر اس وقت متاثر ہوتا ہے جب اقتصادی حالات ناموافق اور ناموار ہوں،  گھریلو حالات ٹھیک نہ ہوں،  انسان کو بنیادی ضروریات مہیا نہ ہوں۔  معاشرے کی اخلاقی حالت تباہ و برباد ہو اور ارد گرد ہر قسم کی غلاظت اور گندگی دیکھنے میں آتی ہو ہوں ۔ اس قسم کے ماحول میں انسان کے لیے یقیناً جینا دوبھر ہو جاتا ہے،  جسمانی اور ذہنی طور پر انسان اس ماحول سے بری طرح متاثر ہوتا ہے،  جہاں مناسب خوراک نہ ملتی ہو،  مناسب لباس مہیا  نہ ہو اور سرچھپانے  کے لیے مناسب جگہ نہ ہو اور صفائی کا کوئی نظام و انتظام نہ ہو اور ہر کہیں غلاظت اور گندگی کے ڈھیر اور گندا اور بدبودار پانی کے تالاب اور جھیل نظر آتے ہوں۔ں یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر قسم کے ماحول کو پاک و صاف رکھنے کی تاکید کی ہے تاکہ انسان اس میں ذہنی اخلاقی اور جسمانی طور پر خوش و خرم نظر آئے اور یہ چند سالہ زندگی آرام و سکون کے ساتھ گزرے۔  اس لیے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کو ہر طرح سے پاک رکھنے اور پر سکون بنانے کی سعی کرے ۔ ظاہری غلاظت و گندگی سے زیادہ  انسانی زندگی کو متاثر وہ عناصر کرتے ہیں جن کا تعلق روح  سے ہوتا ہے۔  یعنی اگر ان پر ٹھیک ٹھیک  عمل کیا جائے تو وہ روح کو پوری طرح  پرسکون رکھتے ہیں اور اگر ان کو ذرا بھی غلط سمت لے جایا گیا  اس سے روح متاثر ہوتی ہے اور یہ ماحول کی آلودگی میں اضافہ کا سبب  ہوتا ہے ۔

اسلام کی بنیادی تعلیمات میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان کے لیے پرسکون اور پرامن ماحول مہیا کرے ۔ مگر اسلام نے ماحول کی پاکیزگی کی ابتدا باطنی اور ذہنی صفائی سے کی ہے۔  وہ پہلا انسان کا دل اور ذہن ہر قسم کی آلائشوں سے پاک و صاف دیکھنا چاہتا ہے اور اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کا دل و ذہن خیالات و افکار کا مرکب ہے،  اگر یہ اچھے اور نیک خیالات و افکار کا گہوارہ ہیں تو انسان سے پھر نیک اور اچھے کام سرزد ہوں گے ، جس کے نتیجہ میں اس کو ذہنی اور قلبی سکون نصیب ہوگا۔  یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسانی ذہن و قلب کو اچھے اور نیک خیالات و افکار میں مصروف رکھنے کا مناسب بندوبست کیا ہے اور ایسا کرنے کے لیے ایمان اور عقیدہ لازمی قرار دیا ہے۔  جو آدمی ایمان اور عقیدہ صحیح رکھتا ہے۔ اس کو مومن کہتے ہیں اور مومن اصطلاح میں وہی شخص ہوتا ہے جو  اللہ پر صحیح معنوں میں ایمان رکھے ۔ جس کے اندر خدا کا خوف ہو اور معاشرتی تقاضوں و ضرورتوں کو  متوازن انداز میں پورا کرنے کی حقیقی تڑب اور احساس ہو ۔ وہ یہ بھی عقیدہ رکھتا ہو کہ  اللہ پوری کائنات کا خالق، مالک اور رازق ہے،  موت زندگی اس کے ہاتھ میں ہے،  عزت و ذلت وہ دیتا ہے،  مشکل کشا حاجت روا  وہی ہے۔

یہ تمام وہ عناصر اور اسباب و عوامل ہیں جن کو اختیار کرنے اور ان پر عمل کرنے سے دو طرح سے ماحولیاتی الودگی نابود ہوگی ایک مادی طور پر ماحول صاف وشفاف نظر آئے گا  تو وہیں روحانی اور اخلاقی طور پر بھی ماحول میں پاکیزگی آئے گی ۔ اس لیے بنیادی طور پر آج ماحول کو پاک کرنے اور اس کو انسانیت کے لیے نفع بخش بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مادی اور روحانی دونوں طرح سے ماحول کو پاک و صاف کرنے کی کوشش کریں ۔  اسلام جہاں مادی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو معدوم کرنے کی ہدایت دیتا ہے تو وہیں وہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان کی روح اور ذہن بھی پوری طرح سے پاک و صاف ہو اور اس کے لیے ہمیں اپنی اخلاقی اقدار ،  مذہبی تعلیمات اور فکری و نظریاتی کاوشوں ، تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول بپا کرنا ہوگا جو ماحولیاتی پاکیزگی میں معاون ثابت ہو ۔

ماحولیاتی آلودگی کے اس دوسرے پہلو کو اجاگر کرنا ہوگا اور بتانا ہوگا کہ روح و ذہن اور اخلاق و کردار کا فساد بھی ماحول جو بری طرح متاثر کرتا ہے اور جب انسان کی روح اور ذہن آلودہ ہو جاتا ہے تو اس کے معاشرے پر نہایت ہی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

اگلی قسطوں میں ماحولیاتی آلودگی کے دیگر روحانی عناصر پر روشنی ڈالی جائے گی ۔

—-

مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

-----

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/environmental-pollution-islam-part-1/d/139733

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..