ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام
7مئی،2026
اختلاف آراء یا نظریاتی اور فکری اختلاف کے دو پہلو ہیں ۔ ایک پہلو تو اس کا مثبت ہے یعنی جب کسی کو کسی کے رائے ، فکر اور خیال سے اختلاف علم و تحقیق ، دلیل اور ثبوت کی بنیاد پر ہوتا ہے تو اس اختلاف سے معاشرے میں علم و ادب اور تحقیق و تفتیش کی راہ ہموار ہوتی ہے ۔ معاشرے کو جب کئی متبادل ملتے ہیں تو دشواریاں ختم اور آسانیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ اس وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اختلاف آراء کی بنیاد دلیل و حجت پر قائم ہے تو یہ ایک مثبت گوشہ ہے اس کا سب کو احترام کرنا چاہیے اور یہ ہم سب کا مقصود بھی ہونا چاہیے کیونکہ اگر آراء کا اختلاف مثبت خطوط پر استوار نہیں ہوگا تو علم و تحقیق کا راستہ مسدود ہو جائے گا ۔
برعکس اس کے اختلاف آراء کا ایک پہلو منفی ہے ۔ وہ اس لیے کہ یہاں اختلاف علمی و فکری تحریک کو فروغ دینے یا معاشرتی مفادات کو سامنے رکھ کر نہیں کیا جاتا ہے۔ بلکہ اپنی بالادستی ، طاقت اور نام و نمود یا پھر اپنے مسلک و مشرب کی تائید و حمایت کے لیے کیا جاتا ہے ۔
اس اختلاف کا مقصد فروغ علم نہیں ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے اس کے اندر ماحولیاتی آلودگی اور معاشرتی عدم توازن پیدا ہوتا ہے ۔ چنانچہ اب یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اختلاف آراء کا وہ پہلو جس سے سماج کے امن و امان میں خلل واقع ہو یا پھر اس سے علم و تحقیق کی راہ مسدود ہو کسی بھی طرح قبول نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔اسی طرح اختلاف آراء کا ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے جس کے عام طور پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ معاشرتی آلودگی کو فروغ دیتا ہے وہ ہے عدم احترام، یعنی اختلاف سچ ہے ، اختلاف کرنے والے کی نیت بھی درست ہے اور اس سے علمی و تحقیقی فائدہ بھی معاشرے کو ہوگا مگر اس طرح کے نظریات اور افکار و تصورات کا معاشرے میں احترام نہیں کیا جا تا ہے ۔ یا علمی و فکری حلقوں میں استقبال نہیں ہوتا ہے ۔ اس کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں ۔ کبھی تجدد پسندی کا الزام لگا کر ، کبھی اسلاف و اکابر کی روایت کے خلاف بتا کر سخت ترین انداز میں تردید کردی جاتی ہے ۔ چنانچہ متذکرہ بالا تمام پہلو ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں ۔ اس صورتحال کا مزید افسوسناک پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب مسلک و مشرب کے نام پر تشدد اختیار کرکے معاشرے کو آلودہ کرتے ہیں ۔ گویا اختلاف آراء ایک درست اور صحیح منہج یا اس کے مثبت اثرات اسی وقت مرتب ہوسکتے ہیں جب کہ ہم اپنے نظریات کے علاوہ دوسرے کے نظریات کو برداشت بھی کریں اور ان کا احترام بھی کریں۔
اب ذیل میں اختلاف آراء کی اخلاقیات کا جاننا نہایت ضروری ہے ۔ اختلاف علمی و تحقیقی بنیاد پر ہو تو یہ ایک محمود عمل ہے اور تاریخ اسلام میں اس طرح کے اختلاف کی عملی روایت ملتی ہے ۔ اختلاف آراء کی اخلاقیات کا پہلا ضابطہ یہ ہے کہ زبان کا استعمال بہت محتاط ہونا چاہیے ۔ کسی پر لعن طعن کرنا، یا زبان درازی کرنے سے علمی و فکری اختلاف کے بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ لہٰذا اختلاف کو سماجی سطح پر کارگر بنانے کے لیے لعنت و ملامت سے گریز کرنا ہوگا۔ ہاں اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کسی سے کوئی علمی بنیاد پر اختلاف ہے تو خود کو زیادہ علم والا سمجھنا اور سامنے والے کو علمی طور پر ناقص یا کمتر گرداننا بھی قطعی طور پر درست نہیں ہے ۔ اس سے معاشرے میں آلودگی پیدا ہوتی ہے۔
یحییٰ بن سعید علیہ الرحمہ نے اختلاف آراء کی اخلاقیات کے متعلق بڑی عمدہ بات کہی ہے:
فتویٰ دینے والوں سے فتاویٰ و مسائل کا سوال ہمیشہ ہوتا رہا اور وہ جواب دیتے رہے ، ایک نے ایک چیز کو حلال اور دوسرے نے اسی چیز کو حرام کہا ، لیکن حرام کہنے والے نے یہ نہ سمجھا کہ حلال کہنے والا اس وجہ سے تباہ ہوگیا اور نہ حلال کہنے والے یہ گردانا کہ حرام کا فتویٰ دینے والا اس کی وجہ سے برباد ہوگیا ۔"
اسی طرح علامہ ابن قیم نے ایک جگہ کہا ہے:
" جس رائے تک آدمی اپنے اجتہاد سے پہنچا ہے اور جس کی بابت اس کو اللہ یا اس کے رسول کی طرف سے کوئی نص نہیں مل سکی ہے، آدمی کو اس کی بابت یوں نہ کہنا چاہئے ، اللہ نے اس چیز کو حرام کیا ہے یا فلاں چیز کو واجب یا مباح کہا ہے، اسی طرح یہ کہ اللہ کا حکم یہی ہے"
یہ دونوں اقتباس یقیناً عہد حاضر میں ان افراد کے لیے مشعل راہ ہیں جو کسی بھی مسئلہ میں اپنی راء کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں ۔ دوسرے کی آراء کی توہین کرتے ہیں اور اس پر لعن طعن کرنے لگتے ہیں ۔ اگر آج مسلکی اور مذہبی اختلافات میں یہ اصول اپنایا جاتا تو واقعی معاشرے میں مسلک و مشرب اور دین و دھرم کے نام پر اس طرح کی جنونیت ، تشدد اور ہمہ ہمی دیکھنے کو نہیں ملتی جس کا مشاہدہ ہم آئے دن اپنے معاشرے میں کرتے رہتے ہیں ۔ افسوس یہ ہے کہ آج ہمیں نئی چیزوں کے سیکھنے اور ان سے استفادہ کا شوق تو ہے، مگر ہم اسلاف کے عمل اور مسلکی مجبوریوں کی وجہ سے محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ اسی تنگ نظری کی وجہ سے ہم اختلافات کی اخلاقیات کو دانستہ طور پر نظر انداز کررہے ہیں ۔ جس سے معاشرتی آلودگی بڑی تیزی سے فروغ پا رہی ہے ۔ ہمارے یہاں ہر صاحب علم خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو یہی چاہتا ہے کہ اس بات کو سب تسلیم کریں بقیہ ارباب علم کی آراء کو رد کردیا جائے ۔ یہ تصور ہمارے یہاں عام ہے ۔ اس کے متعلق ذیل کا واقعہ ملاحظہ کیجیے!
خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام دار الحجرة مالک بن انس کے سامنے یہ بات رکھی کہ موطا کو تمام عالم اسلام میں پھیلا دیا جائے اور لوگوں کو اس کے اختیار کرنے اور اس کے مشتملات پر عمل کرنے کا پابند بنا دیا جائے تو امام مالک نے ابو جعفر کو اس سے منع کیا اور فرمایا:
”اے امیر المومنین! آپ ایسا نہ کریں، اس لیے کہ لوگوں کے پاس پہلے سے بہت سے اقوال ہیں اور انہوں نے بہت سی احادیث سن رکھی ہیں وہ بہت سی روایات نقل کرتے ہیں اور ہر قوم کے پاس جو علم پہلے سے پہنچ چکا ہے وہ اس کو پکڑے ہوئے ہے، اور اسی پر اس کا عمل ہے، نیز اسی کو وہ اپنا دین سمجھتے ہیں جس میں ان کا اور دوسروں کا اختلاف بھی ہے اور لوگ جس چیز کے قائل و معتقد ہیں اس سے ان کو پھیرنا بڑا سخت ہوتا ہے، اس لئے عام لوگ جس چیز پر ہیں ان کو اس پر ہی رہنے دیجئے اور اس پر ان کو چھوڑ دیجئے جس کو ہر شہر و علاقے کے لوگوں نے اپنے لئے اختیار کر رکھا ہے۔"
اکابر علماء اور ارباب علم کا یہ وطیرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم و تحقیق کا تقاضا ہے کہ اس کے اندر برد باری آئے اور دوسروں کی آراء کو قبول کرنے اور ان کا احترام کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ اگر ہمارا علم ہمیں اختلافات کی اخلاقیات نہ سکھا سکے تو ہمارے علم سے معاشرے کو کیا فائدہ ہوگا یہ ہمیں خود سوچنا ہوگا ؟
امام شافعی ؒ کا معروف قول ہے:’" میری راے صحیح ہے جس میں غلطی کا امکان بہرحال موجود ہے، جب کہ دوسرے کی راے غلط ہے مگر اس میں صحت کا امکان موجود ہے" ایک جگہ پر وہ فرماتے ہیں: "جب کسی مسئلے پر میری کسی سے بحث ہوتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس کی زبان سے حق ظاہر کردے تاکہ میں بھی اس حق کی اتباع کروں۔"
مدینہ منورہ کے سات اہم ترین فقہا میں سے ایک کا نام القاسم بن محمدؒ تھا۔ان کی وسیع الظرفی اور دُوراندیشی دیکھیے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ امام کے پیچھے مقتدی کو فاتحہ پڑھنی چاہیے یا نہیں؟ انھوں نے جواب دیا:" امام کے پیچھے اگر مقتدی فاتحہ پڑھ لے تو رسول اکرمؐ کے صحابہ کرامؓ کی اتباع کرے گا اور اگر نہیں پڑھے گا تب بھی رسول اکرمؐ کے صحابہؓ کی اتباع کرے گا۔"
ہمارے علمی ذخیرہ میں اس طرح کی ان گنت مثالیں موجود ہیں ۔ یہاں صرف یہ کہنا ہے کہ معاشرے میں اختلاف کے آداب اور اخلاقیات سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے عہد حاضر میں جس طرح کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ انہوں نے سماجی تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ جب یہ کشیدگی حد سے تجاوز کرتی ہے تو معاشرہ کا امن اور پر سکون ماحول آلودہ ہوجاتا ہے۔اس لیے بنیادی طور پر ہمیں اختلافات کے آداب اور اس کی اخلاقیات کو سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم کسی بھی طرح سے معاشرے کے ماحول کو آلودہ نہ ہونے دیں۔
—--
مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔
--------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/environmental-pollution-intellectual-differences/d/139928
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism