New Age Islam
Tue Mar 10 2026, 06:28 AM

Urdu Section ( 3 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Education, Awareness and Positive Thinking — A Remedy for Eliminating Ignorance and Promoting Unity تعلیم، شعور اور مثبت سوچ — جہالت کے خاتمے اور اتحاد کے فروغ کا نسخہ

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

3 دسمبر 2025

تمہید:

جہالت کسی بھی معاشرے کی وحدت اور ہم آہنگی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ یہ انسان کے اندر تعصبات، غلط فہمیوں، انتہا پسندی اور نفرت کو جنم دیتی ہے۔ جہالت صرف تعلیمی محرومی کا نام نہیں، بلکہ یہ شعور، درست معلومات، مثبت طرزِ فکر اور مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت سے محرومی کا مجموعہ ہے۔ جب افراد یا معاشرے علمی شعور سے خالی ہوتے ہیں تو وہ اختلافِ رائے برداشت نہیں کرتے اور ہر نئی بات یا نظریے کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہی رویّہ باہمی کشمکش، انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنتا ہے اور اتحاد و یکجہتی کے خواب کو کمزور کر دیتا ہے۔

اس کے برعکس تعلیم اور آگاہی انسان کے ذہن کو کھولتی ہے، اسے تحقیق، تنقیدی سوچ اور حقیقت تک رسائی کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ تعلیم نہ صرف معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ انسان کو مثبت سوچ، برداشت، احترام اختلاف اور مشترکہ ترقی کے اصول بھی سکھاتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی معاشرے میں اتحاد اور امن کے قیام کی بنیاد تعلیم اور شعور ہے۔ اگر ہم معاشرتی وحدت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو معیاری تعلیم کی فراہمی، بیداریِ فکر اور مثبت سوچ کے فروغ کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ جہالت کے اندھیرے ختم ہو کر علم، امن اور اتحاد کی روشنی پھیل سکے۔

یہ سچ ہے کہ کہ عدم علم اور ناواقفیت ایسے سنگین عناصر ہیں جو قومی وفکری سطح پر ہی سماج میں انتشار برپا نہیں کرتے ہیں بلکہ ظاہری طور پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سماجی و معاشرتی ہم آہنگی میں جہالت بڑی وجہ رہی ہے ۔

جہالت سے مراد صرف علمی یا تعلیمی عدم موجودگی نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تصور ہے جس میں شعور کی کمی، تعصبات، غلط فہمیاں اور منفی سوچ شامل ہیں۔ جب لوگ اپنے نظریات اور عقائد کو سمجھنے یا دوسروں کی رائے کو قبول کرنے سے قاصر ہوں، تب وہ غلط فہمیوں، نفرتوں، اور انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی صورت میں معاشرتی ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔

جہالت نہ صرف لوگوں کے ذہنوں کو محدود کر دیتی ہے بلکہ یہ تعصب اور تعصب سے جنم لینے والی نفرتوں کو بھی جنم دیتی ہے، جو اتحاد کو توڑنے والا سب سے بڑا عنصر ہے۔ اگر ہم معاشرے میں اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے جہالت کے خاتمے پر توجہ دینی ہوگی۔ تعلیم، آگاہی، مثبت سوچ کے فروغ سے ہم اس جہالت کو ختم کر کے ایک مضبوط اور متحد معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔  جہالت کا مطلب صرف تعلیمی یا علمی کمی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ذہنی اور فکری خلا ہے جس میں افراد صحیح معلومات حاصل کرنے، دوسروں کے نظریات کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ جہالت کی مختلف اقسام ہوتی ہیں ان میں سے ایک اہم قسم علمی جہالت ہے ۔

علمی جہالت سے مراد علم، معلومات اور سمجھ بوجھ کی کمی ہے جو فرد یا معاشرے کو سچائیوں، حقائق اور نئے تجربات سے محروم کر دیتی ہے۔ یہ جہالت صرف کتابی تعلیم کی کمی نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تصور ہے جس میں سوچنے، سمجھنے اور درست معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت کا فقدان شامل ہوتا ہے۔ علمی جہالت انسان کے ذاتی، معاشرتی اور تہذیبی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ علم ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو دور کرتا ہے اور انسان کو روشنی، فہم و فراست اور بصیرت عطا کرتا ہے۔

علمی جہالت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں ناکافی تعلیمی مواقع، معاشرتی و ثقافتی رکاوٹیں، غلط عقائد اور روایات، معلومات کے محدود ذرائع اور تدبر و تفکر کی کمی شامل ہیں۔ جب فرد یا معاشرہ علمی جہالت کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ ترقی کی راہوں سے دور رہ جاتا ہے، اور اس کا نقطہ نظر تنگ ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد حقائق کی بجائے افواہوں، غلط فہمیوں اور بے بنیاد عقائد پر یقین کرنے لگتے ہیں، جو ان کی سوچ کو محدود اور معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے۔

علمی جہالت کے منفی اثرات زندگی کے ہر شعبے پر پڑتے ہیں۔ یہ نہ صرف تعلیمی اور فکری سطح پر نقصان دہ ہے بلکہ اس کے سبب لوگ جدید سائنس، ٹیکنالوجی، سماجی اصلاحات اور عالمی مسائل کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ پرانی روایات اور غلط تصورات کے شکنجے میں پھنس جاتے ہیں، جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، علمی جہالت نفرت، تعصب اور انتہا پسندی کو بھی جنم دیتی ہے کیونکہ جب لوگ تعلیم اور علم سے محروم ہوتے ہیں تو وہ دوسروں کے نظریات اور اختلافات کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں لہذا علمی جہالت کا خاتمہ تعلیم اور آگاہی کے ذریعے ممکن ہے۔ تعلیم نہ صرف کتابی علم دیتی ہے بلکہ عقل و شعور، تنقیدی سوچ اور تحقیق کا جذبہ بھی پیدا کرتی ہے۔ ایک معاشرہ جو تعلیم کی قدر کرتا ہے، وہ اپنے افراد کو علمی جہالت سے بچا کر انہیں ترقی، مساوات اور امن کی جانب لے جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی نظام میں بہتری لائی جائے، ہر فرد کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے اور سچائی کی تلاش کو فروغ دیا جائے تبھی جاکر معاشرے میں اتحاد و یکجہتی قائم ہوسکتی ہے ۔

—---

مضمون نگار مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

----------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/education-eliminating-promoting-unity/d/137864

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..