New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 02:28 PM

Urdu Section ( 21 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

An Introduction to the Qur'an and Gita قرآن اور گیتا ایک تعارف

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

21 فروری،2026

پروفیسر توقیر عالم فلاحی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات سے وابستہ ہیں ۔ پروفیسر توقیر عالم فلاحی کی مطالعہ ادیان پر ایک اہم کتاب " قرآن اور گیتا "کے عنوان پر ہے ۔   ذیل کی سطور میں راقم پروفیسر توقیر عالم فلاحی کی کتاب " قرآن اور گیتا" کا  تعارف پیش کرے گا ۔

مطالعہ ادیان کی افادیت

ہندوستانی ادیان کے مطالعہ اور اس پر بحث وتحقیق کی اس وقت جو ضرورت ہے  اس سے کسی طرح انحراف نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ مطالعہ ادیان سے جہاں مذاہب کے خلاف معاشرے میں پھیلی بدعنوانیاں دور ہوتی ہیں تو وہیں اس سے تحقیق و تفتیش کے جدید گوشے بھی وا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ معاشرتی اور سماجی رشتوں کو جو تقویت اور استحکام مطالعہ ادیان سے ملتا ہے وہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ چنانچہ  پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے اپنی کتاب " عظیم ہندوستانی مذاہب " کے مقدمہ میں مطالعہ ادیان کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے تین وجوہات رقم کی ہیں۔

مطالعہ مذاہب دینی اور مذہبی ضرورت

سماجی ومعاشرتی پہلو

علمی و تحقیقی ضرورت

 لھذا ذیل میں ان کو پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

" مطالعہ مذاہب دینی اور مذہبی ضرورت ہے۔ ایک آدمی خواہ کسی بھی مذہب سے متعلق ہو، بلاشبہ یہ اس کی زندگی میں سب سے زیادہ قیمتی نعمت ہے۔ اس نعمت عظمیٰ کی بنا پر دنیا کی یہ چند روزہ زندگی صالحیت و انسانیت کی ترجمان بنتی ہے اور دوسری طرف یہ لافانی زندگی مسرتوں کے حصول کا توشہ راہ ثابت ہوتی ہے۔ گویا دین ومذہب باس زوال آشنا اور تغیر پذیر زندگی کو بھی شرافت و انسانیت کے جو ہر سے مرصع کرتاہے ہے اور موت کے بعد کی زندگی میں بھی سعادت وکامرانی کی ضمانت بنتا ہے۔ اس لیے مفروضات و تحفظات ( Supposition and Reservation) روا رکھنے اور تردد وپس و پیش کی کیفیت سے دوچار ہوئے بغیر عارضی اور مستقل فلاح و بہتری کے لیے ادیان ومذاہب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔

مذاہب کے مطالعہ کی اہمیت کا دوسرا پہلو سماجی ومعاشرتی ہے۔ انسان سماجی حیوان ہے۔ ایک دوسرے کے بغیر زندگی گزاری نہیں جاسکتی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مذہب، ثقافت اور طریقہ زندگی کو جانے بغیر سماجی زندگی بے کیف وبے سرور ہوجاتی ہے اور میل جول نیز موانست ومحبت کے جذبات فروغ پانے کے بجائے انتشار و افتراق اور نفرت و عداوت کی بھٹیاں سلگنے لگتی ہیں۔ اس لیے یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ مذاہب ،ان کے مستند مصادر ومراجع ، بزرگ وبلند قامت ہستیاں اور متبرک ومقدس مقامات کی واقفیت ہو، تاکہ ایک دوسرے کے مذہب اور مذہبی جذبات احساسات کا خیال کیا جائے اور اس طرح معاشرتی زندگی کے حسن و زیبائی کے لیے راہیں ہموار ہو جائیں۔

مطالعہ مذاہب کی ضرورت واہمیت کا ایک پہلو علمی اور تحقیقی ہے۔ علم و تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ زندگی کی مہتم بالشان ضرورت مذہب کو نہ صرف یہ کہ صرف نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اپنے مذہب کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے علوم و معارف سے بھی شناسائی ہو اور معروضی انداز میں مخاطب معاشرہ کے سامنے حقائق تشت ازبام کیے جائیں تاکہ صحت مند اذہان و قلوب ان سے مجلی ومصفی ہوسکیں" ( فلافی،توقیر عالم، ( پروفیسر) عظیم ہندوستانی مذاہب، ناشر مصنف، 2015،  ص 14-15)

متذکرہ اقتباس کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مطالعہ ادیان یا تقابل ادیان کو تحقیق و تفتیش کا میدان بنانے کی علمی، سماجی اور دینی ضرورت ہے۔ البتہ جہاں اس کے سماجی اور تہذیبی فوائد ہیں تو وہیں یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے یہاں مطالعہ ادیان خصوصا غیر سامی ادیان پر یعنی ہندو مت، بدھ مت، سکھ مت اور جین مت پر بڑے پیمانے پر کام نہیں ہو ہے۔  اس سست روی کو توڑنے کی سخت ترین ضرورت۔ اس اصولی اور تمہیدی گفتگو کے بعد اب مذکورہ دونوں کتابیں کا یک بعد دیگرے تعارف کرایا جائے گا۔

قرآن اور گیتا کا تصور فلاح

پروفیسر توقیر عالم فلاحی کی یہ ایک اہم اور جامع کتاب ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود اور اس کی دنیوی و اخروی سعادت و کامرانی پر ناطق ثبوت ہے یہ کتاب 2014 میں شائع ہوئی ہے۔  اس کی ضخامت 102 صفحات پر مشتمل ہے۔  نیز ایک مقدمہ اور چار ابواب پر مشتمل ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس کے محتویات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

باب اول: عظمت قرآن کریم اور انسانی فلاح و کامرانی کے اہم محرکات

باب دوم: ہندومت اور بھگوت گیتا

باب سوم : گیتا میں نجات کے اہم عوامل

کتاب کے ابواب سے جہاں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے یہ کتاب تقابل ادیان پر نہایت علمی اور تحقیقی ہے تو وہیں مصنف کی متنوع فکر متوازن و معتدل نظریہِ کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یاد رکھئے وہ مصنف اور مفکر زندہ رہتے ہیں جو کسی بھی تہذیب، دھرم اور کلچر کے ساتھ رتی بھر بھی تعصب وجانبداری کا رویہ اختیار نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ بلا تعصب علم و تحقیق کی بنیاد پر جو مواد ملتا ہے اس کو پوری امانت و دیانت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر توقیر عالم فلاحی کی یہ خدمت بھی بڑی قابل قدر اور قابل فہم ہے ۔ کیونکہ ان کی تحریروں میں متوازی فکر، معتدل اور تحقیقی مزاج ملتا ہے جو انہیں صف اول کے مصنفین میں کھڑا کردیتا ہے۔

گیتا کا تعارف

یہ سچ ہے کہ گیتا ہندو ازم کا ایک اہم مصدر اور ماخذ ہے۔ اس کی اہمیت و افادیت کو بہت سارے مفکرین نے واضح کیا چناچہ ذیل میں گیتا کا تعارف پیش ہے۔

" بھگوت گیتا مہارت کے چھٹے باب بھیشم پرو  کا ایک حصہ سنسکرت ادب میں مشہور ترین منظوم ادب کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ یہ انتہائی حسین منظوم کلام ہے اور غالباً کسی معروف زبان میں موجود  واحد صداقت پر مبنی فلسفیانہ نظم ہے۔ گیتا کے ابواب ایک ایسا تارک دنیا  دنیا اور عارف کا کردار نظر آتا ہے جو اپنے احساس و شعور اور علم و ادراک کے جوش و جذبے میں بولتا ہے نہ کہ ایک فلسفی اور دانشور کا کردار جو کسی اسکول یا کالج کا پروردہ ہو اور جو اپنے ہاتھ سے مطالعہ یا مواد کو کئی حصوں تقسیم کرکے اور منتشر افکار و خیالات کو ترتیب دے کر کسی نتیجے تک پہنچتا ہو۔  بھگوت گیتا کی تاریخ تصنیف کے بارے میں بعض اہل علم نے شبہ ظاہر کیا ہے اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مہابھارت  میں یہ حصہ بعد کا  اضافہ ہے۔ لیکن مہا بھارت  موجود بھگوت گیتا کے بارے میں ایسے داخلی شواہد ہیں جن کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کہ بھگوت گیتا بعد کا اضافہ نہیں بلکہ مہابھارت کے زمانہ تصنیف  سےہی اس رزمیہ نظم کا اہم حصہ رہی ہے۔  گیتا اور مہابھارت میں اسلوب بیان کی یکسانیت  اس بات پر دال ہے کہ گیتا بنیادی طور پر مہارت کا ہی جزو ہے۔ فلسفہ اور مذہب سے متعلق افکار و خیالات میں بھی توافق و ہم آہنگی پائی جاتی ہے" ( فلاحی، توقیر عالم، ( پروفیسر) قرآن اور گیتا کا تصور فلاح، ناشر مصنف، 2014، ص 65)

یعنی پتہ یہ چلا کہ گیتا مہابھارت کا اہم حصہ ہے اور اس میں جو کلام پایا جاتاہے ہے وہ انسان کو پرہیز گار اور عارف ومتقی بنادیتا ہے۔  گیتا کو درج ابواب میں منقسم کیا گیا ہے یعنی گیتا کے ابواب تراجم کی تفصیل اس طرح ہے۔

پہلا باب ارجن وشادیوگ: اس میں ارجن کی اداسی کا فلسفہ پیش کیا گیا ہے۔

دوسرا باب سانکھیہ یوگ: یہاں روح کی لافانیت اور بے لوث عمل کا فلسفہ بتایا گیا ہے۔

تیسرا باب کرم یوگ: اس میں عمل کا فلسفہ زیر بحث آیا ہے۔

چوتھا باب گیان کرم سنیاس یوگ: عرفان عمل، ترک دنیا، دھرم کا زوال اور ظہور حق کا فلسفہ ، یہ سارے موضوعات اس باب کی زینت ہیں۔

پانچواں باب کرم سنیاس یوگ: اعمال کے نتیجہ سے بے فکری اور دستبرداری کا فلسفہ اس باب کا مرکزی موضوع ہے۔

چھٹا باب دھیان یوگ:؛اس باب میں ضبط نفس  کا فسلفہ واضح کیا گیا ہے۔

ساتواں باب گیان وگیان یوگ: اس کے اندر علم و آگہی کے فلسفہ کو حوالہ قارئین  کیا گیا ہے۔

آٹھواں باب اکچھ برہم یوگ : لافانی اور غیر متغیر برہما کا فلسفہ اس باب میں واضح کیا گیا ہے۔

نواں باب راج ودیا یوگ: اس میں عظیم الشان علم کا فلسفہ پیش کیا گیا ہے۔

دسواں باب وبھوتی یوگ: خدا کی عظمت و رفعت کا فلسفہ اس باب کے تحت بیان کیا گیا ہے۔

گیارہواں باب وشنو روپ درشن یوگ: خدا کے جلوہ کے ظہور کا فلسفہ اس باب کا موضوع ہے۔

بارہواں باب بھگتی یوگ: بے چون وچرا اور مکمل حوالگی وسپردگی کا فلسفہ اس باب میں تفصیل سے زیر بحث آیا ہے۔

تیرہواں باب کھشتیر کھشتیرگیہ وبھاگ یوگ: مادہ اور روح اور ظاہر وباطن کا فلسفہ اس باب میں موضوع بحث ہے۔

چودہواں باب گن تریہ وبھاگ یوگ: تین خاصیتوں کی تقسیم کا فلسفہ اس میں بیان کیا گیا ہے۔

 پندرہواں باب پرشوتم یوگ: اعلی ترین روح کے حصول کا فلسفہ س میں بیان کیا گیا ہے۔

 سولہواں باب دیوا آ سر سنپد وبھاگ یوگ: ملکوتی اور شیطانی سیرتوں کا فلسفہ اس باب میں واضح کیا گیا ہے۔

سترہواں باب شردھا تریہ وبھاگ یوگ: عقیدت کی تین قسموں کا فلسفہ اس میں بیان کیا گیا ہے۔

اٹھارہواں باب موکش سنیاس یوگ: نجات کا فلسفہ اس میں بڑی تفصیل سے اور مختلف پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے ( ایضاً، ص67-68)

بھگوت گیتا مفکرین کی نظر میں

پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے اپنی اس کتاب میں ایک گرانقدر بحث یہ اٹھائی ہے کہ مفکرین کے یہاں گیتا کا مقام ومرتبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کئی مفکرین کی آراء کو نقل کیا ہے۔ان آراء کو نقل کرنے سے قبل گیتا کا مختصر تعارف پیش کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

" شری کرشن کے پیرایہ بیان میں لکھی گئی بھگوت گیتا کو ایسے ہدایت نامہ کا مقام حاصل ہے جس میں فکر و فلسفہ کی ندرتوں کو شامل کیا گیا ہے۔ دوسری صدی قبل مسیح تک ہندوستان جن فلسفیانہ افکار و خیالات اور مذہبی تعلیمات وحقائق کی آماجگاہ بنا ہوا تھا،ان کا ماحصل گیتا میں آگیا ہے۔ آگر چہ گیتا صحت وسند کی میزان پر ویدوں اور اپنشدوں کی مثیل ومعاند ہے، تاہم اس کی عام مقبولیت ب، علمبرداران ہندو مت بلا اس سے والہانہ تعلق اور موجودہ ہندومت پر اس کے دوررس اثرات ونتائج کے لحاظ بسے دیکھا جائے تو ہندو روایت کی دیگر مذہبی باور مقدس کتابیں اس کی ہم سر نظر نہیں آتیں" ( فلاحی، توقیر عالم، ( پروفیسر) قرآن اور گیتا کا تصور فلاح، ناشر مصنف، 2014، 60) پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے اپنے اس قول کی تائید میں S.G.F. Brandon کی کتاب A Dictionary Of Comparative Religion  کا درج ذیل اقتباس نقل کیا ہے۔ انگریزی عبارت کو ترک  کرکے اردو ترجمہ پر اکتفا کیا جائے گا۔

" بھگوت گیتا خدا کا گیت ہے جو بہت مشہور ہے اور ہندو روایت کے مذہبی نوشتوں میں مقبول ہے۔ اگر چہ یہ وید کے معیار کو نہیں پہنچتی کیوں کہ وید کو شرتی ( الہامی) ہونے کا مقام حاصل ہے۔ لیکن ویدک شریعت کو جاننے کے لیے جو معاون تحریریں ہیں اور جنہیں سمرتی کہا جاتاہے، ان سے اس کا تعلق ہے۔ اس کا یہ مقام اس لیے ہے۔ کہ یہ رزمیہ ں" مہا بھارت" کی تصنیف کا ایک اہم حصہ ہے اور یہ اس میں شامل ہے اور رزمیوں کو سمرتی کا مقام دیا گیا ہے" ( ایضاً ، ص60-61)  ڈاکٹر رادھا کرشنن کو سب جانتے ہیں کہ انہوں ہندو فلاسفی اور ہندو ازم کی تجدید کے لیے نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے چنانچہ  پروفیسر توقیر عالم فلاحی گیتا کی اہمیت پر ایک اقتباس ان کی معروف و متداول کتاب۔ Indian Philosophy کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔

" گیتا کا پیغام آفاقی ہے۔ مقبول ہندومت کے لیے یہ کتاب فلسفیانہ بنیاد فراہم کرتی ہے۔ مصنف وسیع تہذیب و تمدن  کا علمبردارہے اور وسیع المشرب ہے۔ بلکہ کسی حد تک ناقد بھی ہے ۔مصنف کسی مخصوص تبلیغی جماعت و تحریک کی قیادت  نہیں کرتا ہے،وہ کسی فرقہ کو مخاطب نہیں بناتا اور نہ ہی کوئی مکتبہ فکر قائم کرتا ہے،  بلکہ وہ بہنے والی ساری ہواؤں کے لیے راستے کھلا رکھتا ہے۔  گیتا اپنے فکرو خیال کیطاقت اور پرشکوہ بصیرت سے ہی محض قائل نہیں کرتی بلکہ عشق و محبت کی تپش اور روحانی جذبے کی شیرینی کے ساتھ توجہ مبذول کراتی ہے" ( ایضاً، ص 62)

اسی طرح پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے ایک اقتباس گیتا اور مہابھارت کی افادیت قدر و قیمت کے متعلق مہاتما گاندھی کا بھی نقل کیا ہے۔

" 1988-89 ء میں جب پہلی بار گیتا ب  درشن ہوئے ، تبھی میرے دل میں یہ بات آئی کہ یہئ تاریخی کی کتاب نہیں ہے بلکہ اس میں جسمانی لڑائی کے بیان کے بہانے سے ہر ایک انسان کے دل کے اندر جو لگاتار کشمکش جاری رہتی ہے، اس کا ذکر ہے۔  مہا بھارت کو میں زمانہ حال کے معنوں میں تواریخ نہیں مانتا، اس  کے زبردست ثبوت آدی پرو میں ہیں۔  کھلاڑیوں کی غیر انسانی  اور معمولی انسانی پیدائش کا بیان کرکے بیاس  بھگوان نے بادشاہی مسجد کی تاریخ کو  دھو بہایا ہے۔ اس میں جن شخصیتوں کا ذکر ہے وہ بنیادی طور پر پر تاریخی ہو سکتی ہیں، لیکن مہارت میں تو اس کا استعمال صرف دھرم کا درشن کرانے کے لیے ہی کیا گیا ہے" ( ایضا، ص63)

یہ تمام اقتباس اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ گیتا ہندوؤں کے یہاں ان کے دینی مصادر میں بنیادی مقام کی حامل کتاب ہے۔ اس کے علاوہ  گیتا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گیتا پر ہاتھ رکھ عدالتوں میں سچ بولنے کا حلف لیا جاتاہے اس کے بعد عدالت کی کارروائی شروع ہوتی ہے۔

گیتا کا تصور نجات

پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے کتاب کے آخری اور چوتھے باب میں ایک اہم ترین بحث یہ کی ہے کہ گیتا کے مطابق فلاح و بہبود اور نجات کا تصور کیا ہے ؟ نیز نجات حاصل کرنے کے لیے انسان کو کن کن مراحل وعوامل سے گزرنا ہوگا یا اس کو کن چیزوں اور باتوں کی اتباع کرنی ہوگی جس کی وجہ سے وہ نجات حاصل کرسکے۔ مکتی یا نجات کے حصول میں ہندو ازم میں گیتا کا جو مقام اس پر پروفیسر فلاحی رقم طراز ہیں۔

" نجات یا مکتی کے حصول میں گیتا کی تعلیمات کیوں کر اہم رول ادا کرتی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ گیتا میں کوئی ایسا دانشور یا فلاسفر مخاطب نہیں ہوتا جو ظاہری یا مادی علوم و فنون کا ماہر ہو اور علمی انداز سے مسائل کی عقدہ کشائی کا علمبردار ہو، بلکہ ایسا مرشد عارف ہمکلام ہوتا ہے جس کی روح تمام نورانی اوصاف و کمالات سے متصف ہو اپنے قاری یا مخاطب بھکتوں کو روح کی حقیقت سے آگاہ کراتے ہوئے مکتی ونجات کا خواہاں وخوگربنانا چاہتا ہو"( ایضاً، ص 77) چناچہ گیتا کے مطابق مکتی یا نجات حاصل کرنے کے لیے تین عوامل واسباب ہیں۔

گیان مارگ

کرم مارگ

بھکتی مارگ

گیان مارگ کے حوالے سے پروفیسر فلاحی نے لکھا ہے۔

" گیتا کے نزدیک جہالت یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اعلی دانشگاہوں سے محروم رہا اور اس نے مادی اور عصری علوم کے کسی حاذق اور ماہر کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا یا عقل و فلسفہ کے لحاظ سے سے دیگر دانشوروں اور فلاسفہ کے بالمقابل وہ کسی بھی درجے میں قابل اعتناء نہیں ہے  یہاں جہالت روحانیت کے فقدان کے یا بے بصیرتی سےعبارت ہے ۔گیتا اس بات کی پر زور وکالت کرتی ہے کہ اشیاء کی حقیقت کے  شعور و ادراک  سے محرومی میں خود غرضانہ جذبات کا بھی داخل ہے ۔اس اندھے پن یا بے بصیرتی اور روحانی کور چشمے کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے جب کہ ان کو طہارت و پاکیزگی سے ہمکنار کیا جائے اور دلوں کی دنیا میں نئی بصیرت کی شمع فروزاں کی جائے اس غایت کے حصول کے لیے جذبہ تو خواہشات کو فرو کرکے ذہن و دماغ کو حقیقت کی جستجو میں مشغول و منہمک رکھا جائے" ( ایضاً، ص 79)

کتاب کی اہمیت

پروفیسر توقیر عالم فلاحی کی زیر تبصرہ کتاب ہندوستان جیسے تکثیری اور مخلوط معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور پرخاش کو مٹانے میں نہایت اہم رول ادا کررہی ہے۔ یہ کتاب اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے اندر جو پیغام دیا گیا ہے یا گیتا جیسی دینی کتاب کے متعلق جن جذبات واحساسات کا اظہار کیا گیا ہے ان سے یقینا ہمارے معاشرے میں بقائے باہم کا درخشاں اصول قائم ہوگا۔ مذہبی حلقہ ہو، یا پھر عصری علوم و فنون سے وابستہ طبقہ ، یا پھر عوام  سب کی خواہش یہی رہتی ہے کہ معاشرہ میں کسی بھی نوعیت کی کوئی بھی تفریق و امتیاز اور مغایرت وتقسیم نہ ہو ۔ لوگ جس طرح اپنے مذہب ودین کا احترام کرتے ہیں اور وہ یہ  چاہتے ہیں کہ دوسرے طبقہ یا فکر ونظر سے وابستہ افراد بھی ان کی مذہب کی تعظیم و توقیر کریں تو ضروری ہے کہ ہمیں اس طرح کے لٹریچر کا فروغ کرنا ہوگا ،جو ادیان ومذاہب کے حوالے سے رقم ہوچکا ہے، یا ابھی ہورہا ہے۔ اس تناظر میں پروفیسر توقیر عالم فلاحی کی یہ کاوش نہایت اہم اور قابل قدر ہے۔ مذہبی و سماجی ہم آہنگی اور انسانی رشتوں کی عظمت کا اعتراف ہر کوئی اسی وقت کرسکتا ہے جب کہ ہمیں ہم اپنی تہذیب اور کلچر سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی تہذیب و تاریخ اور ان کے تمدن وثقافت سے پوری طرح آشنا ہوں گے۔ اس تناظر میں بھی یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

—-

مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

-------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/introduction-quran-gita/d/138949

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..