New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 07:03 AM

Urdu Section ( 20 May 2016, NewAgeIslam.Com)

Sectarian Differences Were, Are, and will Remain !مسلکی اختلافات تھے، ہیں ، اور رہیں گے

 

 

 

ڈاکٹر یا مین انصاری

11 مئی، 2016

ہمیں یہ مان کر چلنا ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر مسلکی اختلافات کی جڑیں اس قدر مضبوط او رگہری ہیں کہ انہیں کسی ایک ملاقات سے نہ تو ختم کیا جاسکتا ہے او رنہ ہی یہ مانا جاسکتا ہے کہ کسی ایک کوشش سے یہ اختلافات دور ہوجائیں گے۔ پھر بھی اس طرح کی کوششوں کو امید افزا اور حوصلہ افزا تو کہا جاسکتا ہے ، لیکن موجودہ وقت میں مسلکی اختلافات کو جڑ سے ختم کیا جانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان جملوں میں مایوسی ہے، نا امیدی ہے، لیکن حقیقت بھی یہی ہے ۔ اگر ہم سچائی کے ساتھ حالات و واقعات کا جائزہ لیں تو تصویر بہت زیادہ واضح نظر نہیں آرہی ہے۔ خاص طور پر پچھلے کچھ عرصہ کے دوران مسلک در مسلک ، گروہ در گروہ اور گروپ در گروپ وجود میں آرہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف کھلے عام جنگ کا سارا عالم قائم کر رکھا ہے ، ایسے حالات میں کیسے بہت زیادہ توقع کی جاسکتی ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ حالات ہندوستان کے ہی نہیں ہیں، پڑوسی ملک پاکستان میں اس اختلاف کی جڑیں او ربھی مضبوط ہیں ۔ اور آگے بڑھیں تو مانیں یا نہ مانیں ، اکثر مسلم ملکوں میں خانہ جنگی کی صورت حال کے پیچھے یہی عوامل کار فرما ہیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ ابھی تک اختلافات کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کم، بھڑکانے کی زیادہ کوشش ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلہ میں کی جانے والی بڑی سے بڑی کوشش بھی معمولی نظر آتی ہے اور اس پر اندیشے اور خدشات زیادہ غالب رہتے ہیں ۔ یہ خدشات ا س وقت او ربھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں جب ایک طبقہ کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا جائے اور دوسرے طبقہ میں خاموشی طاری ہوجائے ۔ یہ اختلافات کیوں اور کیسے اس مقام تک پہنچ گئے، اس کے پیچھے بہت سارے عوامل کار فرما ہیں ۔ اسے سمجھنے کے لئے تاریخ کے چند اوراق ہی پلٹ لیں ، تو اندازہ ہوجائے گا کہ موجودہ مسلکی اختلافات ایک عرصہ دراز سے ہیں، موجودہ وقت میں او ربھی شدید ہیں اور فی الحال آئندہ بھی یہ اختلافات برقرار رہنے کا ہی امکان زیادہ ہے۔

دراصل دیوبند اور بریلی اتر پردیش کی دو انتہائی اہم بستیاں ہیں ۔ بریلی روہیلی کھنڈ کا صدر مقام اور ایک بڑا شہر ہے، جب کہ دیوبند بھی ایک ترقی یافتہ قصبہ شمار کیا جاتا ہے ۔ اسے اتفاق کہیں یا کچھ اور کہ ان دونوں جگہوں کے نام سے دو مشہور مکتبہ فکر عالم وجود میں آئے ۔ جنہیں عرف عام میں دیوبندی او ربریلوی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگر چہ دونوں خود کو اہل سنت الجماعت یا سنی کہا جانا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ اور اپنے حلقوں میں اسی نام سے جانے بھی جاتے ہیں ، لیکن پھر بھی عام لوگ انہیں دیوبندی اور بریلوی کے نا م سے ہی جانتے ہیں ۔ ویسے دونوں طبقوں میں کافی یکسانیت بھی پائی جاتی ہے۔ اس سب کے باوجود دونوں ہی طبقوں میں شدید اختلافات بھی پائے جاتے ہیں ۔ اختلافات کی یہ جڑیں کافی پرانی ہیں ، او ردنیا میں جہاں جہاں ان دونوں طبقوں کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں ، وہاں اسی طرح اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ کچھ مقامات پر تو یہ اختلافات بہت ہی سنگین صورت حال اختیار کر جاتے ہیں ۔ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کےاس دور میں یہ اختلافات او ربحث مباحثہ یہاں بھی خوب شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ حالات یہ ہیں کہ دشمنان اسلام اس طرح کے حالات سےفائدہ اٹھاتے ہیں اور فرقہ واریت او رمسلکی اختلافات کی آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں ۔ دونوں مسلک کے یہ اختلافات اچانک وجود میں نہیں آئے ہیں، بلکہ یہ اختلافات بتدریج ترقی پذیر ہوئے ۔ شروع میں یہ اختلافات جو ایک پودے کی شکل میں وجود میں آئے تھے ، بعد میں اس کی ایسی آبیاری ہوئی کہ یہ ایک تناور درخت بن گیا۔ اب یہ درخت سوکھنے کے بجائے ہماری نئی نسل کو بھی اپنے کھٹے میٹھے پھل کھانے پر مجبور کررہا ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنے کا مقصد اختلافات کی جڑیں کھودنا نہیں ہے، بلکہ محض تاریخ کے اوراق پلٹنا مقصود تھا۔ کیونکہ اختلافات پر ایک دوسرے کے رد میں بے شمار کتابیں تعلیمی اداروں او رکتب خانوں کی زینت بنی ہوئی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ دیوبندی او ربریلوی مسئلے کے حل کے لئے کوششیں نہیں ہوئیں ۔ کئی مرتبہ مختلف سطحوں پر یہ کوشش کی گئی کہ دونوں کے درمیان موجود اختلافات کو دور کیا جائے اور اتحاد قائم کیا جائے ، لیکن اب تک یہ رائیگا ہی گئی ہے۔

گزشتہ دنوں اسی بریلی سےخانوادہ اعلیٰ حضرت کی اہم شخصیت اور اتحاد ملت کونسل کے کنوینر مولانا توقیر رضا اچانک دارالعلوم دیوبند کیا پہنچے ، مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے حیرت آمیز خوشی کا اظہار کیا۔ پہلے تو یہ خبر سن کر یقین کر پانا مشکل تھا کہ مولانا توقیر رضا خاں دیوبند بھی جاسکتے ہیں ، لیکن جب مصدقہ ذرائع سے یہ اطلاع ملی اور سوشل میڈیا پرپیغامات عام ہونے لگے تو یہ غیر یقینی کی صورت حال یقین کے ساتھ ساتھ حیرت و استعجاب میں بدل گئی ۔ دھیرے دھیرے وہ تصویر یں بھی سامنے آنے لگیں جن میں مولانا توقیر رضا خاں دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانہ میں ادارہ کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کےساتھ تبادلہ خیال کررہے ہیں ۔ اس ملاقات سےیہ بات واضح ہوگئی کہ اگر عقائد او راختلافات کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے تو مسلمانوں کےمجموعی و مشترکہ مسائل کے حل کی کوششوں کے لئے تو ایک ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے ۔ اس وقت ویسے بھی ہندوستانی مسلمان شاید سب سے برے دور سے گزر رہےہیں ، تو کیوں نہ دیوبندی او ربریلوی متحد ہوجائیں ۔ مولانا توقیر رضا نے بھی کہا کہ مسلمان اس وقت پریشانی میں ہیں اور اس پریشانی کو متحد ہوکر ہی دور کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش ہورہی ہے، جس کے پس پردہ آر ایس ایس کار فرما ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کےدیوبند آنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں سے اتحاد کے پیغام کو عام کیا جائے او رمجھے امید ہے کہ مسلکی اختلافات کو پس پردہ ڈال کر ان پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ، مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں متحد ہونا پڑے گا تبھی ہم فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔

اس ضمن میں ہم دیکھیں کہ ہندوستان میں جس شدت کے ساتھ مسلمانوں پر حملے تیز ہورہے ہیں ، فرقہ پرست طاقتیں انہیں نشانہ بنانے سے ذرا بھی نہیں ہچک رہی ہیں، ان کے حب الوطنی پرکھلے عام شک کیا جارہا ہے ، بات بات پر پاکستان چلے جانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ، ان کے کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے پر بندشیں لگانے کی کوششیں ہورہی ہیں ،بے جا گرفتاریاں او رہراساں کئے جانے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ، ایسے میں اگر برادران وطن کا ایک طبقہ مسلمانوں کےساتھ کھڑا نظر آتا ہے اور ‘کاشی سے کعبہ تک’ جیسے عنوان سےبین المذاہب پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں تو پھر ہم اتحاد بین المسلمین کے پروگرام او رمہم کو آگے کیوں نہیں بڑھا سکتے ہیں ۔ جس طرح بین المذاہب پروگرام میں برادران وطن کےساتھ بیٹھنے سے ہمارے ایمان او رمذہب پرکوئی حرف نہیں آتا ،مختلف وجوہات کے سبب دنیابھر میں مشہور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھراتحاد بین المسلمین کی کوششوں کو ہم آگے کیوں نہیں بڑھا سکتے ؟ یقین مانئے کہ اگر ہمارے علمائے دین، دانشور ان او ر رہنما اپنے اختلافات ، اپنے نظریات اوراپنے عقائد کو پس پشت ڈال کر مجموعی طور پر صرف امت مسلمہ کی بات کریں ، ان کےمسائل کو حکومت وقت کے سامنے رکھیں مسلمانوں کےساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی پر مل کر آواز بلند کریں ، پھر دیکھیں کہ دشمنان اسلام کی صفوں میں کیسے کھلبلی ہوتی ہے۔ مولانا توقیر رضا خاں کے دورہ دیوبند کے بعد مسلمانوں کے ایک حلقہ کی جانب سےجس طرح خوشی و مسرت اور توقعات کااظہار کیا گیا ہے، وہ یقیناً قابل ستائش ہے، لیکن وہیں دوسری طرف ایک حلقہ میں مختلف سوالات او ربھر پور اعتراضات کےساتھ پر اسرار خاموشی طاری ہے۔ اس پر اسرار خاموشی کو اچھی طرح سمجھا جاسکتاہے ۔ اسی لئے ہمیشہ کی طرح آج بھی اتحاد بین المسلمین کی کوششوں کےسلسلہ میں خدشات یا اندیشے کا اظہار کرنا فطری ہے۔ پھر بھی ہم اختلافات تھے ، ہیں ، اور رہیں گے کہ باوجود مسلمانوں کے عام مسائل کے حل کے لئے آگے تو بڑھ ہی سکتے ہیں ۔

11 مئی ، 2016 بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-yamin-ansari/sectarian-differences-were,-are,-and-will-remain--!مسلکی-اختلافات-تھے،-ہیں-،-اور-رہیں-گے/d/107369

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..