New Age Islam
Sun Feb 15 2026, 07:45 AM

Urdu Section ( 15 Feb 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Is The Number Of People Giving Up Their Indian Citizenship Growing? ہندوستانی شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟

ڈاکٹر یامین انصاری

12 فروری،2023

یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ تازندگی کسی دوسرے ملک میں رہے ،مگر اپنے گھر او راپنے وطن کو نہیں بھول سکتا۔ ویسے بھی کسی انسان کے لئے اپنا آبائی وطن چھوڑ نا زندگی کا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے پس پشت بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں۔ حالانکہ اپنا گھر بار چھوڑنے والوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں دوسرے ملکوں میں بہتر مواقع کی تلاش ہوتی ہے۔وہ دولتمند اور ترقی یافتہ ملکوں میں بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہوئے اپناملک چھوڑنے کا ارادہ کرلیتے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سیاسی، سماجی اور بہت سے دیگر عوامل بھی کام کرتے ہیں۔ ان میں عدم تحفظ ، عدم انصاف اور عدم تحمل کانظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ہمارے ملک میں ان امور پر گزشتہ کچھ برسوں کے دوران کافی تناـزعہ او رمباحثہ بھی ہوا ہے۔ موجودہ حالات میں جب ہندوستانیوں کے شہریت چھوڑنے کے اعداد وشمار سامنے آتے ہیں تو سب سے اہم سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ ہندوستانی باشندوں کے دوسرے ملکوں کا رخ کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جب ہم ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایمانداری سے اس کے ہر پہلو کو مدنظر رکھناچاہئے۔

ایک طرف دعو یٰ ہے کہ ہم دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہم ‘ وشوگرو’ بننے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں ۔ وہیں دوسری طرف اپنا وطن چھوڑنے والوں کی تعداد میں سال درسال اضافہ ہورہا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی جہاں ہندوستان جاپان اور جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے، وہیں ایسے لوگ ہیں جو دوسرے ممالک میں ہندوستان سے زیادہ امکانات دیکھ رہے ہیں ۔ جب کہ دعوے مطابق تو جن لوگوں نے ماضی میں وطن چھوڑ ا ہے، انہیں واپس ہندوستان آجانا چاہئے تھا ، مگر اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ دراصل گزشتہ سال 2 لاکھ 25 ہزار سے زیادہ شہریوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی اور بیرون ملک میں جاکر آباد ہوگئے ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایک سال میں ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں کی یہ تعداد اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خود پارلیمنٹ میں یہ اعداد شمار پیش کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 12 برسوں میں 16 لاکھ لوگ ہندوستان چھوڑ کر بیرون ملک گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2011ء سے اب تک 16 لاکھ سے زیادہ ہندوستانیوں نے اپنی ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ 2 لاکھ 25ہزار 620 ہندستانی وہ ہیں جنہوں نے پچھلے سال ہندوستانی شہریت چھوڑی ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے 12 سال میں شہرت چھوڑنے والوں کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔2011ء سے اب تک ہندوستانی شہریت چھوڑنے والو ں کی کل تعداد 16لاکھ 63ہزار 440ہے ۔2011ء میں ایک لاکھ 22ہزار819 ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کردی ،جبکہ 2022 ء میں یہ تعداد 60فیصد بڑھ کر 2 لاکھ 25ہزار 620تک پہنچ گئی ۔2011 ء کے بعد سے ہر سال شہریت ترک کرنے والے ہندوستانیوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2012 ء میں ایک لاکھ 20ہزار 923،؍ 2013 ء میں ایک لاکھ 31ہزار 405،/ 2014 ء میں ایک لاکھ 29ہزار 328 / ، 2015 ء میں ایک لاکھ 31 ہزار 498،؍ 2016ء میں ایک لاکھ 41 ہزار 603 ،؍2017 ء میں ایک لاکھ 33 ہزار 49 ،؍ 2018 ء میں ایک لاکھ 34ہزار 561، ؍2019 ،ء میں ایک لاکھ 44 ، ہزار 17 ؍ 2020ء میں 85، ہزار 256؍ ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کردی ۔ ان ہندوستانی شہریوں نے دنیا کے 135 ؍ مختلف ممالک کی شہریت حاصل کی ہے۔

اعداد و شمار تو اپنی جگہ ،لیکن ہمیں یہ ضرور دیکھنا ہوگا ہندوستانی شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟ اتنی بڑی تعداد میں ہندوستانیو ں کے اپنی شہریت ترک کرنے سے یہ سوال بھی اٹھنا فطری ہے کہ یہ لوگ اپنی شہریت کیوں چھوڑ رہے ہیں اور کون لوگ ہیں جو اپنی شہریت ترک کررہے ہیں؟ کیا شہریت ترک کرنے والے سبھی لوگ بہتر مواقع یا روزگار او رملازمتوں کے لیے دوسرے ملکوں کا رخ کررہے ہیں؟ یا کچھ صاحب ثروت لوگ بھی ہندوستان کو خیر باد کہہ رہے ہیں؟ یا پھر ملک میں بڑھتی منافرت،عدم تحفظ کا احساس اور عدم تحمل بھی اس کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے؟ پہلی نظر میں لگتا ہے کہ لوگ بہتر تعلیم اور روزگار کے لیے بیرون ملک کارخ کرتے ہیں، لیکن سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ملک چھوڑنے والوں میں خوشحال اور صاحب ثروت لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ برطانیہ کی انویسٹمنٹ مائیگریشن کنسلٹنسی کمپنی ہینلے اینڈ پارٹنرز کی گزشتہ سال کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ایک سال میں ہندوستان کے 8؍ہزارکروڑ پتی ملک چھوڑ چکے ہیں ۔ ان اعداد وشمار کے ساتھ ہندوستان اب امیروں کی نقل مکانی کے معاملے میں سرفہرست تین ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ ہائی نیٹ ورتھ انفرادی وہ لوگ ہیں جن کے اثاثے 8؍اشاریہ25؍کروڑ روپے (10؍لاکھ ڈالرہے) یا اس سے زیادہ۔ ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں میں اگر ‘ کروڑپتیوں’ کی اتنی تعداد ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ‘ لکھ پتی’ کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ تاہم ایسے ‘کروڑ پتی’ لوگوں کاکوئی ڈیٹا نہیں ہے ۔دراصل جب ان صاحب ثروت لوگوں کے وطن چھوڑنے کی وجہ پر غور کریں تو اس کی بنیادی وجہ خود کو معاشی طور پر مضبو ط کرنا ہوتاہے۔ ایسا لگتا ہے یہ لوگ ملک کی معاشی صورت حال اورعدم تحفظ کے احساس کو بنیادی مسئلہ سمجھتے ہوئے وطن چھوڑ رہے ہیں۔ دوسرے ملکوں میں صحت، تعلیم اور بہتر طرز ندگی جیسی مضبوط بنیادی سہولت بھی اس کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جرائم کی شرح میں کمی کے سبب بھی لوگ ان ممالک کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ یہ رجحان عام ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں پیسہ کمانے کے بعد جیسے ہی اسیر لوگوں کو موقع ملتا ہے ترقی یافتہ ممالک میں آباد ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متوسط گھرانو ں کے نوجوان تعلیم اورروزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں ترقی یافتہ ممالک کارخ کررہے ہیں۔ جونوجوان حصول تعلیم کے لئے بیرون ملک جاتے ہیں ،ان میں سے اکثرکو اپنے اجداد کی زمین جائددار فروخت کرنا پڑتی ہے یا بینکوں سے قرض لینا پڑتا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق ایک طالب علم کے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پر تقریباً 25؍سے 30؍لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد جب انہیں وہیں روزگار میسر ہوتاہے تو پھر وہ وہیں آباد ہوجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ ملک میں بڑھتے عدم تحمل کے رجحان کوبھی ایک بڑی وجہ مان رہے ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا تھا کہ وزارت خارجہ کے مطابق ہندوستانی شہریوں نے اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنی شہریت ترک کردی ہے۔آخر یہ ذاتی وجہ کیا ہے؟ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ سال پہلے مختلف شعبہائے زندگی سے وابستہ کئی اہم شخصیات نے ملک میں عدم برداشت کے ماحول پر تبصرہ کیا تھا۔ اس کے بعد کافی تناـزعہ بھی ہوا تھا۔ خود حکمراں طبقے کی جانب سے ان لوگوں کو دوسرے ملک میں جانے کے مشورے دئے جانے لگے تھے ۔ ایک دو معروف فلمی ہستیوں نے بھی کہا تھا کہ اب‘ ملک میں ڈر لگتا ہے’۔ اس کے بعد ان لوگوں کو اس حد تک نشانہ بنایا گیا ، کہ اب کوئی دوسرا اس طرح کااظہار نہیں کرتا۔ شاید اسی عدم برداشت کا ان شخصیات نے ذکر کیا تھا۔ اب ایک بار پھر ملک سے باہر جانے والوں اور شہریت ترک کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو اس کی کچھ تووجوہات ہوں گی۔ جن کے بارے میں حکومت کومعلوم حاصل کرناچاہئے۔

12 فروری،2023،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/number-people-indian-citizenship-growing/d/129108

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..