ڈاکٹریامین انصاری
24 ستمبر،2023
صرف تین دن پہلے کی ہی تو
بات تھی، جب ’جمہوریت کے نئے مندر‘ میں کھڑے ہوکر نریندر مودی اراکین پارلیمنٹ کو
کچھ نصیحتیں کررہے تھے۔ وہ بتارہے تھے کہ ’بھون(عمارت) بدل گیاہے، بھاؤ(احساس) کو
بھی بدلنا چاہئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’نئی عمارت‘ کی عظمت ’امرت کال‘ کو روشن کرتی
ہے او رآج ہمارے جذبات ہمارے طرز عمل میں ہماری رہنمائی کریں گے۔ بظاہر انہوں نے
یہ بھی کہا کہ ’پارلیمنٹ ملک کی خدمت کے لئے سب سے اعلیٰ مقام ہے، ہمیں اپنے قو ل،
خیالات اور عمل سے آئین کی روح کو برقرار رکھنا چاہئے‘۔ مودی نے اسپیکر کو یقین دلایا
کہ ہر رکن ایوان کی توقعات اور خواہشات پرپورا اترے گا اور ان کی رہنمائی میں کام
کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ’ایوان میں اراکین کا رویہ ان عوامل میں سے
ایک ہوگا جو اس بات کو تعین کرے گا کہ آیا وہ حکمراں جماعت کا حصہ ہوں گے یا
اپوزیشن کا، کیونکہ تمام کارروائی عوام کی نظروں کے سامنے انجام دی جارہی ہے‘۔
مودی نے یہ باتیں پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں پہلے خصوصی اجلاس کے دوران کیں۔ اس کے
صرف تین دن کے بعد ہی اس نئی عمارت کے اندر، اسی خصوصی اجلاس کے دوران، انہی کی
پارٹی کا ایک رکن بھری پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر،نہ صرف مودی کی باتوں پر منہ
چڑھارہا تھا، بلکہ ایک ساتھی ممبرکے خلاف زہر افشانی کرکے ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ
بنارہا تھا۔وہ پارلیمنٹ کی اس نئی عمارت میں نفرت اور تعصب کی نئی تاریخ لکھ رہا
تھا۔ حسب روایت ایسا لگ رہا تھاکہ جیسے بی جے پی کا ممبر پارلیمنٹ اپنے ’روشن
مستقبل‘ کی کہانی لکھ رہا ہے۔90 ء کی دہائی سے لے کر 2023 ء تک بی جے پی کی روایت
تو یہی بتاتی ہے کہ رمیش بدھوڑی جیسے خیالات رکھنے اور ایسی زبان کا استعمال کرنے
والوں نے اس پارٹی میں اپنا خاص مقام بنایاہے، بلکہ پارٹی کے باہر بھی اعلیٰ مقام
حاصل کیا ہے۔ بات چاہے رام مندر تحریک کی ہو، گجرات او رمظفر نگر فسادات کی ہو،
یوپی اور دیگر ریاستوں میں انتخابی بیانات کی ہو، مسلمانوں کے خلاف جس نے جتنی
زیادہ زہر افشانی کی ہے، اس کو پارٹی میں اتنی ہی ترقی ملی ہے۔ اب تو’امرت کال‘ چل
رہا ہے ،جو بھلے ہی دوسروں کے لئے ’وش کال‘ ثابت ہورہا ہو۔
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ
رمیش بدھوڑی نے پہلے ہی اجلاس میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی عظمت کو کیا عزت بخشی
ہے، پوری دنیا نے دیکھ لیا۔انہوں نے نہ صرف ملک، بلکہ ملک کے آئین اور جمہوریت کے
مندر کی توہین کی ہے۔ ان کے بے لگام نفرت اور پراگندہ ذہن ملک کے لئے خطرناک ثابت
ہوسکتا ہے۔کیونکہ 2014 ء کے بعد جو کچھ اب تک کمروں میں، جلسوں میں، ریلیوں اور
جلوسوں میں ہوتارہا ہے، وہی سب کچھ جمہوریت کے اس نئے مندر میں دہرایا جارہا ہے۔
پارلیمنٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب ایک ممبر کے ذریعہ اس قدر غلیظ او
ربیہودہ زبان کا استعمال کیا گیا ہوگا۔ ایسے نفرت انگیز اور زہر آلود بیان کی توقع
ایک رکن پارلیمنٹ سے تو نہیں کی جاتی کہ اس کے الفاظ کو ٹی وی چینلوں پر ’بیپ‘
کرکے چلایا جائے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ کیسے ممکن ہے کہ بی جے
پی کے رکن کے ذریعہ استعمال کی گئی غلیظ زبان دنیا کے سامنے نہ آسکے۔ ویسے دنیا کو
معلوم بھی ہونا چاہئے کہ ’مدر آف ڈیموکریسی‘ میں کیا چل رہا ہے۔ خود حکمراں جماعت
کے لوگ پستی کی کس انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ ذلت او رپستی کی انتہا یہ کہ ایک مسلم
ممبر پارلیمنٹ کنور دانش علی کو بھرے ایوان میں دہشت گرد، کٹوا، ملا اور بھڑوا
جیسے بیہودہ الفاظ سے مخاطب کیا جارہاہے۔ دراصل یہ صرف کنور دانش علی کے لئے نہیں،
بلکہ بدھوڑی نے مسلمانوں کے تئیں اپنے اور اپنی پارٹی کے نظریات کی عکاسی کی ہے۔
وہ اس لئے بھی کہ جس وقت رمیش بدھوڑی مادر زاد ننگی گالیاں دے رہے تھے، اس وقت اس
کے ٹھیک پیچھے بیٹھے دو سابق مرکزی وزراء روی شنکر پرساد اور ہرش وردھن انتہائی
کراہت آمیز قہقہے لگا رہے تھے۔گوکہ وہ بدھوڑی کی نفرت او رزہریلی زبان کا راستہ
دکھایا گیا تھا۔ ہرش وردھن تو چاندنی چوک حلقہ سے جیت کر پارلیمنٹ پہنچے ہیں، جہاں
مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہے۔ جس وقت ان دونوں کو کابینہ سے باہر کیا گیا تھا، اس
وقت طرح طرح کی باتیں کی گئی تھیں، انہیں معتوب سمجھا جارہا تھا۔ اس کے علاوہ خود
بدھوڑی اس جنوبی دہلی حلقہ سے پارلیمنٹ پہنچے ہیں، جسے دہلی کا پاش علاقہ مانا
جاتا ہے او رجہاں کی 90 /فیصد آبادی کو تعلیم یافتہ سمجھا جاتاہے۔اگر بدھوڑی جیسے
لو گ اس حلقہ کی نمائندگی کی کررہے ہیں تو کیا یہ سمجھا جائے کہ اب ہمارا پورا
معاشرہ اور ملک ہی پستی کی طرف جارہا ہے؟ اگر نہیں تو پھر 2024 ء میں ملک کے مہذب
او رتعلیم یافتہ رائے دہندگان کو دنیا کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ وہ نفرت، تشدد،
تعصب اور اشتعال انگیز ی کے خلاف ہیں۔ ملک کی قدیم اقدار و روایات کو ایک خاص
ذہنیت او رنفرت انگیز نظریہ کے ذریعہ پامال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بدھوڑی جیسے لوگوں پر
حکومت یا پارٹی کی سطح پر کوئی سخت کارروائی ہوگی، اس کی توقع تو بے معنی ہے۔ اس
سلسلہ میں ملک کے عوام کو ہی آگے آنا ہوگا۔ کیونکہ حکومت یا پارٹی کوئی کارروائی
کرتی تو اسے کسی کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسا کہ اپوزیشن لیڈران کے ساتھ
کیا گیا۔صرف ’مودی‘ سرنیم پر تبصرہ کرنے پر راہل گاندھی جیسے قدر آور لیڈر کی
رکنیت چند گھنٹوں میں منسوخ کی جاسکتی ہے۔منی پور میں پھیلی انار کی پر سوال کرنے
پر سنجے سنگھ، ڈیریک اوبرائن او رراگھو چڈھا کو ایوان سے معطل کیا جاسکتا ہے، مگر
انتہائی بیہودگی او ربدکلامی کرنے والے بدھوڑی کو صرف نوٹس اور وارننگ دے کر چھوڑ
دیا جاتاہے، یا بیان پر افسوس کا اظہار کرکے خانہ پری کردی جاتی ہے۔ اگر بدھوڑی کی
جگہ کسی اپوزیشن جماعت کا کوئی رکن ہوتا تو کیا ا س کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا؟
ایوان سے لے کر سڑک اور ٹی وی اسٹوڈیوز تک کیا طوفان کھڑا کردیا جاتا، آپ تصو ر
بھی نہیں کرسکتے۔ جب ایک مسلم رکن پارلیمنٹ کے ساتھ جمہوریت کے نئے مندر میں ایسا
سلوک کیا جارہا ہے، آپ تصور کریں کہ ’نئے بھارت‘ میں عام مسلمان ہر روز کن حالات
کا سامنا کرتے ہو ں گے۔ خود کنور دانش علی کس کرب اور تکلیف سے گزرے ہیں، ان کے
آنسو اس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔
پارلیمنٹ کے اندر یا باہر
ایک مہذب معاشرہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ غیر شائستہ الفاظ کا استعمال ہر گز نہ
کیا جائے، کیونکہ سخت سے سخت تنقید بھی شائستہ الفاظ او رانداز میں ممکن ہے۔
معاشرے کی پستی او ر پارلیمانی قدروں کے زو ال سے پہلے اس ملک کی یہی روایت بھی
رہی ہے۔ارکین پارلیمنٹ، تنقیدی نقطہئ نظر سے بڑی سے بڑی بات نہایت عمدگی کے ساتھ
یا نہات حسین پیرائے میں کہہ دیتے تھے اور جس سے مخاطب ہوتے، اس کے ماتھے پر شکن
تک نہیں آتی تھی۔ مگر کیا کیا جائے، معاشرہ تو پستی کی طرف جاہی رہا ہے،قانون ساز
ادارہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ حالانکہ خود مودی حکومت میں ہی گزشتہ برس ’غیر
پارلیمانی الفاظ‘ کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ ان میں شامل الفاظ کو ناپسندیدہ
قرار دیا گیا او راس تنبیہ کے ساتھ انہیں ترک کرنے کا مشورہ دیا گیا کہ اگر ان کا
استعمال ہوا تو اسے پارلیمنٹ کے ریکارڈ سے نکال دیا جائے گا۔ان میں کئی الفاظ او
رمحاورے وغیرہ ایسے ہیں جو عام بول چال کا حصہ ہیں۔ جیسے ڈھنڈورہ پیٹنا، گھڑیالی
آنسو، ڈراما، بہری سرکار، بکواس، فضول، بدعنوان، جھوٹ، نا اہل، ماورائے حقیقت،
گمراہ کرنا، بزدل اور جرائم پیشہ وغیرہ لفظ۔اب حکومت، لوک سمجھا اسپیکر او رحکمراں
جماعت کے ذمہ دار فیصلہ کریں کہ دہشت گرد، کٹوا، ملا اور بھڑوا جیسے الفاظ کیا اس
زمرے میں نہیں آتے کہ رمیش بدھوڑی کو ایوان سے باہر کا راستہ دکھایا جائے؟
24 ستمبر،2023، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی
---------------
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism