New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 01:18 AM

Urdu Section ( 7 Oct 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Gaza Ceasefire, Concerns and Prospects غزہ جنگ بندی،اندیشے اورامکانات

ڈاکٹر یامین انصاری

5 اکتوبر،2025

غزہ میں جاری نسل کشی کودوسال مکمل ہونے کو ہی تھے کہ نوبل امن انعام کے خود ساختہ دعویدار امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ’امن منصوبہ‘ پیش کردیا۔ بظاہر یہ منصوبہ وقتی طور پر فلسطینیوں کے لئے راحت دے سکتاہے، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ مسئلہ فلسطین کے مستقل یادیر پا حل کی سمت میں کتنا اثر انداز ہوگا، کیونکہ اسرائیل نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بار بارظلم وبربریت کی تاریخ رقم کی ہے۔ حالت جنگ میں بھی او رجنگ کے علاوہ بھی انسانی تہذیب او راصول واقدار کی پامالی کی ہے۔ اس نے بار ہا دنیا کے قوانین او رعالمی اداروں کی عظمت ووقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ صیہونی ریاست اپنااعتبار پہلے ہی کھوچکی ہے، مستقبل میں اس سے خیر کی کیاامید کی جائے۔ حالیہ امن منصوبے پر حامی بھرنے کے بعد بھی اسرائیل کی سفاکیت میں کوئی کمی نہیں آئی، حملے بند کرنے کے وعدے کے باوجود غزہ میں بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔ ایسے میں کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ مسئلہ فلسطین کاکوئی دیر پا حل نکلے گا۔کیونکہ اگر اسرائیل کی سفاکیت جاری رہی تو فلسطینیوں کی مزاحمت کوبھی نہیں روکا جاسکتا ہے۔ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ اگر مسئلہ فلسطین کامستقل یادیر پا حل نکالنا ہے تو فلسطینیوں کوان کی سرزمین میں واپس کرنی ہوگی او رمسجد اقصیٰ کو آزاد کرنا ہوگا۔

7اکتوبر 2025 ء کو غزہ میں جاری خونریزی کو دوسال مکمل ہو جائیں گے۔ ان دوسال میں دنیا نے نام نہاد مہذب دنیا کو مکروہ چہرہ بھی دیکھ لیا او رانسانی تہذیب کی پامالی کابھی مشاہدہ کرلیا۔ نوزائیدہ سے لے کر کم عمر بچوں کے روتے بلکتے چہرے بھی دیکھے او ران کی معصوم لاشیں بھی۔کفن میں لپٹے اپنوں کی میتوں پرباحجاب او رپردہ نشین خواتین کی آہ وبکا بھی دیکھی  او ران کی حرمت کو پامال ہوتے بھی دیکھا۔ بزرگ اور نواجوانوں کے عزم وحوصلے کو دیکھا تو اپنوں سے بچھڑنے کے غم میں نڈھال چہروں پرمایوسی اور بے بسی بھی دیکھی۔غرض یہ کہ گزشتہ دوبرسوں کے دوران انسانی تاریخ کی سب سے خوفناک داستان لکھی گئی او ر عالمی طاقتیں تماشائی بنی دیکھتی رہیں۔ غزہ کی پٹی دنیا کی کھلی جیل سے قبرستان میں تبدیل ہوگئی۔دوسال سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ اور سفاکانہ فوجی کارروائی نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنادیا۔ اسکول، ہسپتال، مکان، دوکان، دفتر سب کچھ زمین بوس کردیئے گئے۔ لیکن ٹرمپ کایہ کیسا ’امن منصوبہ‘ ہے، جس میں اسرائیل کی سفاکیت کاکوئی ذکر ہے او رنہ ہی اس غیر معمولی نسل کشی کے گھناؤنے ارتکاب پراس کے مواخذنہ کا۔ نہ توفلسطینی ریاست کے قیام کاکوئی منصوبہ ہے، نہ ہی مظلو م اور فاقہ کش اہل غزہ کی باز آبادکاری او رریلیف کاکوئی منصوبہ۔ایسا لگتاہے کہ اس منصوبہ کااصل مقصد اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی اور نتن یاہو کی گردن بچانا ہے۔ایسالگتاہے کہ دوطاقتوں کے سامنے عالمی ضمیرمردہ ہوچکاہے اور مسلمان حکمرانوں نے توجیسے اپنی روحیں ہی فروخت کردی ہیں۔ خطے کے مسلم حکمراں یا تو مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں یا ظالم طاقتوں کے سامنے خود سپردگی کرچکے ہیں۔

دراصل تین اکتوبر بروز جمعہ امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی بھر ے انداز میں فلسطینی تنظیم حماس کوغزہ جنگ بندی معاہدہ قبول کرنے کی ڈیڈلائن دے دی تھی۔ ٹرمپ کاکہنا تھا کہ حماس کے پاس معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے اتوار کی شام چھ بجے تک کا وقت ہے۔ ا نہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ غزہ میں دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔ امریکی صدر نے دوزخ کا دروازہ کھولنے کی دھمکی حماس کو پہلی بار دی۔ اس سے پہلے بھی دوچار مرتبہ ایسی دھمکی دے چکے تھے۔ ٹرمپ نے سب سے پہلے 3دسمبر 2024 کو امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے 20جنوری کاالٹی میٹم دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پر بیان دیا تھا۔ پھر اپنے منہ سے 7 جنوری2025 کو حماس کو دھمکی دی۔امریکی صدرنے اس کے بعد 16ستمبر 2025کو بھی حماس کے حوالے سے بیان جاری کیا تھا او راب تین اکتوبر کو انہوں نے اپنے بیان میں پھر ایسا ہی کہا تھا۔ اس دوران غزہ کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، نہ دھمکیوں سے یرغمال رہا ہوسکے او رنہ ہی غزہ پر بمباری بند ہوئی۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ حماس کے پاس معاہدہ کرنے کا  یہ آخری موقع ہے، معاہدے پر دیگر ممالک دستخط کرچکے ہیں۔ اس سے پہلے امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے 20نکاتی غزہ امن معاہدے کااعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس پر تمام مسلم عرب ملکوں نے اتفاق کیا ہے۔ تاہم قطر او رمصرکا کہناتھا کہ ٹرمپ کے منصوبے کے کئی نکات وضاحت او رمذاکرات کے متقاضی ہیں۔ ایسا ہی حماس نے اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ وہ امن منصوبہ پرسنجیدگی سے غور وخوض کرنے  کے بعد ہی کوئی جواب دیں گے۔ البتہ جمعہ کی دیر شام حماس نے ٹرمپ کے امن منصوبہ پرحامی بھردی۔حماس نے ٹرمپ منصوبے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی غزہ پر جنگ ختم کرنے اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے بدلے تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔حماس کی جانب سے کہا گیا کہ وہ معاملے کی تفصیلات پربات چیت کے لئے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات میں شامل ہونے کو بھی تیار ہے۔ تنظیم کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ غزہ کی انتظامیہ ایک ایسے آزاد اور غیر جانبدار ادارے کے حوالے کرنے پر راضی ہے، جو فلسطین کی تشکیل قومی اتفاق رائے اور عرب واسلامی حمایت کی بنیاد پرکی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیاکہ صدر ٹرمپ کی تجویز میں غزہ کے مستقبل ا ور فلسطینی عوام کے جائز حقوق سے متعلق جو دیگر نکات شامل ہیں، وہ ایک مشترکہ قومی موقف، بین الاقوامی قوانین اور قرار دادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ حماس نے یہ بھی واضح کیا کہ ان معاملات کو ایک جامع فلسطینی قومی ڈھانچے کے تحت حل کیا جائے گا، جس میں حماس اپنی ذمہ دارارنہ شرکت اور کردار ادا کرے گی۔ حماس نے ٹرمپ منصوبے کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کامجوزہ کردار مسترر کردیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبہ پر فلسطین کی مزاحمتی تنظیم ’حماس‘ کا مثبت جواب خوش آئند ضرور ہے،مگر اس جواب نے فلسطین او رمسلم دنیا میں ایک بحث کوجنم دیا ہے۔ اس جواب کو روایتی بیانات سے مختلف او رایک نئی سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھاجارہاہے،جس میں حقیقت پسندی اور اصولی موقف دونوں کو یکجا کیا گیاہے۔ حماس کے جواب میں بعض عملی نکات مثلاً جنگ بندی، قابض اسرائیلی افواج کے انخلا، صیہونی قیدیوں او ران کی لاشوں کی واپسی جیسے امورکو ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق قبول کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔البتہ ان تفصیلات پرمزید مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیاہے۔ حماس کاجواب اس بات کی عکاسی کرتاہے کہ وہ فلسطین کے اصولی موقف مضبوطی سے قائم ہے۔ اسی حماس کے بارے میں ٹرمپ اورنتن یاہو دعویٰ کررہے تھے کہ ہم نے حماس کو 90فیصد تک ختم کردیا ہے اور اس کے تقریباً 25 ہزار جنگجومارے جاچکے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ حماس کی سیاسی اور عسکری قیادت کو کافی حد تک نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے باوجود اگر ٹرمپ او رنتن یاہو اسی حماس کے ساتھ امن معاہدہ کرنے پرمجبور ہیں تو اسے حماس کی کامیابی ہی کہا جاسکتاہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ نتن یاہو نے غزہ میں بربریت کی جو نشانیاں چھوڑی ہیں، ان سے وہ جلد ہی نجات حاصل نہیں کرسکے گا۔فلسطینیوں کی آہ وبکا اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی، اور وہ دن دور نہیں جب وہ انصاف کہ کٹہرے میں کھڑا نظر آئے گا۔

-------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/gaza-ceasefire-concerns-prospects/d/137138

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..