New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 11:49 AM

Urdu Section ( 7 March 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Journey of the Holy Prophet from Al-Aqsa To Sidra Al-Muntaha نبی کریمﷺ کا مسجد ِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر اور قرآنی آیات کا ربط

ڈاکٹر طاہرالقادری

5 مارچ 2021

معراج کی رات آقا علیہ السلام کی حیات طیبہ میں سب سے بڑی مسرت وفرحت کی رات ہے۔ اس لئے کہ ۶۳؍ برس کی زندگی میں اس رات سے بڑھ کر کوئی ایسی رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نہیں آئی ہوگی جس میں آپؐ سب سے بڑھ کر خوش ہوئے ہوں گے۔ مسرت و فرحت کے اس کمال و انتہا پر ہونے کا سبب کوئی معمولی نہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس رات بلا حجاب اپنے محبوبِ حقیقی کا دیدار کیا۔ جس رات اللہ رب العزت کا بے حجابانہ دیدار اور اس کی نوازشات و انعامات کی انتہا ہوئے، اُس سے بڑھ کر بھلا کون سی رات یا لمحہ حضورؐ کیلئے بے انتہاء خوشی و مسرت کا باعث ہوسکتا ہے؟

سفرمعراج کے تین مراحل ہیں:

(۱)    مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک

(۲)    مسجدِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک اور

(۳)     سدرۃ المنتہیٰ سے لامکاں تک

مسجد ِ  اقصیٰ

-------

اکثر علماء اس سفر کے پہلے حصے ’’مسجد ِ حرام سے مسجد ِ اقصیٰ‘‘ کو ’’اسریٰ‘‘ کہتے ہیں اور مسجد ِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک کے حصۂ سفر کو ’’معراج‘‘ کہتے ہیں۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: سدرۃ المنتہیٰ سے قاب قوسین او ادنیٰ تک کے تیسرے حصے کا نام ’’اعراج‘‘ ہے اور یہ حقیقت ِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سفر ہے۔

مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کی تفصیلات اکثر ہم سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں اور اس سفر کو اللہ رب العزت نے سورۃ بنی اسرائیل کی ابتداء میں سبحن الذی اسریٰ بعبدہ کے الفاظ کے ساتھ بیان کیا۔ احادیث مبارکہ سے اس حصہ کی تفصیلات ملتی ہیںکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سفر کیسے طے کیا، راستے میں کہاں کہاں پڑائوکیا،اس سفر کے دوران کیا کیا واقعات پیش آئے اور مسجد اقصیٰ میں انبیاء کی امامت کس طرح فرمائی، وغیرہ؟

زیرِ نظر سطور میں قرآن حکیم کی آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں سفرِ معراج کے دوسرے مرحلہ یعنی مسجد ِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک کے سفر کی تفصیل پیش کی گئی ہے:

مسجد ِ  اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر

جس طرح مسجد ِ حرام سے مسجد ِ اقصیٰ تک کے سفر کی ایک داستان، ایک راستہ اور مختلف واقعات ہیں، اسی طرح اس سفر کے دوسرے مرحلہ مسجد اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک کے سفر کا بھی ایک روٹ اور راستہ ہے۔ مسجد ِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک کے سفر کے دوران سبع سماوات، البیت المعمور اور دیگر عجائبات کا مشاہدہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ انہی مشاہدات کے متعلق اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

’’بے شک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۔‘‘(النجم:۱۸)

ربط بین الآیات والسَّور

قرآن مجید میں تین جگہ واقعہ معراج کا ذکر ملتا ہے۔ واقعہ معراج کے پہلے مرحلہ کا بیان سورۃ بنی اسرائیل میں  سبحن الذی اسرٰی بعبدہ  کے الفاظ کے ساتھ ہے۔ سورۃ الطور میں اس سفر کے دوسرے مرحلہ ’’مسجد ِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ‘‘ تک کا بیان ہے اور واقعہ معراج کا مفصل ذکر سورۃ النجم میں آیا ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل میں مذکور واقعہ معراج اور اس کے معاً بعد آنے والی آیتِ مبارکہ کے درمیان ایک معنوی ربط ہے، اسی طرح سورۃ الطور اور سورۃ النجم کے مابین بھی ابتداء اور انتہا دونوں اعتبار سے ایک ربط ہے۔ ایک قاعدہ یاد رکھیں، میں ہمیشہ اس پر غور کرتا ہوں اور کبھی اس عمل کو ترک نہیں کرتا اور وہ یہ کہ قرآن مجید کی آیات اور سورتوں کے مابین ایک معنوی ربط بھی پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی ترتیب نزولی کچھ اور ہے اور ترتیب ِ کتابی کچھ اور ہے۔

اللہ رب العزت کا کوئی بھی حکم یا امر بلامقصد نہیں۔ قرآن کی آیات اور سورتوں کے مابین ایک معنوی ربط بھی موجود ہے۔ یہی معنوی ربط ہمیں واقعہ معراج کے ضمن میں بیان کردہ آیات اور سورتوں کے مابین بھی نظر آتا ہے۔ آیئے اس معنوی ربط پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

معراج پر جانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ بنی اسرائیل میں کیا ہے۔ ارشاد فرمایا:

’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجد ِ حرام سے (اس) مسجد ِ اقصٰی تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘

اس آیت کے معاً بعد موسیٰ علیہ السلام کا بیان ہے۔ فرمایا:’’اور ہم نے موسٰی کو کتاب (تورات) عطا کی ۔‘‘ (بنی اسرائیل:۲)

یہ دونوں آیتیں سورۃ بنی اسرائیل میں متصل ہیں۔ قرآن مجید کی ۱۱۴؍ سورتیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے کسی اور سورہ میں معراج کا ذکر نہیں کیا بلکہ بنی اسرائیل کو چنا حالانکہ بنی اسرائیل سے تو براہ راست معراج مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جب معراج ہوئی تو اس وقت تو بنی اسرائیل یعنی یہود سے میل ملاقات اور رابطہ بھی شروع نہیں ہوا تھا۔ ان سے واسطہ و رابطہ تو مدینہ ہجرت کے بعد شروع ہوا۔ یہود مکہ میں نہ تھے بلکہ مدینہ میں تھے۔ بنی اسرائیل سے واسطہ مدینہ میں ہوا جبکہ معراج مکہ میں ہوئی، جہاں بنی اسرائیل رہتے نہ تھے۔ اس کے باوجود سورۃ بنی اسرائیل میں معراج کی آیت آئی، کیوں؟ اس کو لانے کا مقصد کیا ہے؟

وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کو ایک معراج ہو چکی تھی، اُس معراجِ موسیٰ علیہ السلام کو اِس معراجِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر سے جوڑا گیا اور ’’طور‘‘ کو ’’قاب قوسین‘‘ سے جوڑا گیا۔ اس لیے سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ فرماکر فوراً فرمایا: وَاِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ اور جب ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب عطا کی۔

معراجِ موسیٰ علیہ السلام اور معراجِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فرق

اس موقع پر معراجِ موسیٰ علیہ السلام اور معراجِ مصطفیٰ ﷺکے مابین فرق کا ذکر خالی از فائدہ نہ ہوگا۔ آیئے ان کو جانتے ہیں:

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تورات مقامِ طور پر عطا کی، جہاں اﷲ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے بلاواسطہ گفتگو بھی فرمائی اور یہ گفتگو جبریل امین علیہ السلام کے واسطہ کے بغیر براہِ راست ہوئی۔ عمر بھر موسیٰ علیہ السلام پر جو وحی ہوتی رہی، وہ بذریعہ جبریل امین ہوتی رہی لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر پہنچے تو واسطۂ جبریلؑ کو درمیان سے ہٹا دیا گیا اور وہاں براہِ راست کلام فرمایا اور تورات عطا کی۔

معراجِ موسیٰ علیہ السلام اور معراجِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پہلا فرق یہ ہے کہ معراجِ موسیٰ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جبریلؑ امین کے واسطے کے بغیر براہِ راست کلام کیا مگر یہ براہِ راست کلام اور بلا واسطہ وحی حجاب اور پردے کے پیچھے سے کی جبکہ معراجِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت اللہ تعالیٰ نے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ صرف براہِ راست کلام کیا بلکہ بلا حجاب اپنا دیدار بھی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمایا۔

    موسیٰ علیہ السلام نے چالیس راتیں ’’طور‘‘ پر گزاریں۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معراجِ تھی اور اس معراج کے لئے موسیٰ علیہ السلام کو خود ’’طور‘‘ پر جانا پڑا۔ ارشاد فرمایا:

’’اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) ہمارے (مقرر کردہ) وقت پر حاضر ہوا۔‘‘(الاعراف:۱۴۳)

ہم نے ملاقات کی وقت اور جگہ مقرر کر دی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام مقرر کی ہوئی جگہ پر اور مقرر کئے ہوئے وقت پر خود آ گئے۔ جب معراجِ موسیٰ کی باری آئی تو موسیٰ علیہ السلام کو بلایا اور موسیٰ آ گئے لیکن جب معراج مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری آئی تو فرمایا: سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ… مصطفیٰ ﷺآئے نہیں، میں خود لے کر گیا ہوں۔

    اسی طرح طور پر موسیٰ علیہ السلام نے طلبِ دیدار کیا۔ جواب لَنْ تَرٰنِیْ ملا اور معراج مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیدار طلب نہیں کیا بلکہ رب کائنات نے اپنا دیدار کروانے کے لئے خود نقاب و حجابات اٹھا دیئے۔ اس لئے کہ جب کوئی اپنے لئے طلب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ رَبِّ اَرِنِیْ تو اس کا مطلب ہے کہ اسے ابھی فنائیت تام نہیں ہوئی، اپنے لئےطلب کر رہا ہے۔

 مانگنے کا مطلب ہے کہ ابھی اسے ہوش ہے کہ ’’میں‘‘ ’’میں‘‘ ہوں اور ’’وہ‘‘ ’’وہ‘‘ ہے، اسی لئےکہتا ہے کہ ’’اے رب! مجھے تو اپنا آپ دکھا۔‘‘ اور جب کوئی یہ سوال نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اُس کی رضا میں فنائے تام حاصل ہے۔ یعنی اپنا دھیان بھی جب فنا ہو جائے تو پھر پردہ اٹھا دیا جاتاہے۔

(آئندہ ہفتے پڑھئے:سورۃ الطور اور سورۃ النجم کا باہمی تعلق)

5 مارچ 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-journey-holy-prophet-al/d/124481

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..