New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 10:23 AM

Urdu Section ( 2 Feb 2015, NewAgeIslam.Com)

Obama Kept the Honour of Nobel Peace Prize اوباما نے نوبل امن انعام کی لاج رکھ لی

 

 

 

 

ڈاکٹر سید ظفر محمود

29 جنوری، 2015

فی الوقت امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقد بین الاقوامی سیمینار ‘‘ اکیسویں صدی میں دنیا میں امن کو کس طرح فروغ دیا جائے ’’ میں شرکت کی تیاری  کے دوران یہاں بوسٹن میں بیٹھ کر میں نے آئی پیڈ  پر امریکہ کے صدر براک اوباما کے دورہ ہند کے ہر لمحہ پر غور کیا ۔ دورے کے آخری دن انہوں نے دہلی میں علاؤالدین خلجی کے قلعہ کے احاطہ میں تعمیر شدہ سری فورٹ آڈیٹوریم میں نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے اپنی مدلل تقریر کے 12 منٹ میں 65 بیش قیمت جملوں میں کہا کہ ہندوستان آیا ہوں یہاں کے آئین کا جشن منانے کےلئے ، میں نے کل کی پریڈ میں یہاں  کی مختلف نوعیتیں (Diversity) دیکھیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہند۔ امریکہ   رشتہ دنیا میں اکیسویں  صدی کا خصوصی رشتہ بن سکتا ہے ۔ آج میں  ہندوستان کے عوام سے براہ راست گفتگو کرکے یہ بتا نا چاہتا ہوں کہ یہ رشتہ کس طرح بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب امریکہ میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نسلی علیحدگی پسند ( Racial segregation) کے خلاف احتجاج کررہے تھے اس وقت انہوں نے کہا تھاکہ انہیں مہاتما گاندھی سے حوصلہ ملا ہے جس سے انہیں معلوم ہوا کہ عدل اور انسانی وقار کی لڑائی میں سب سے طاقتور حربہ ہے عدم تشدد  پرمبنی مزاحمت (Non-violent Resistance) ۔ ساتھ ہی مجھے سوامی وویکانند بھی یاد آرہےہیں جب وہ ایک صدی سے زیادہ قبل میرے وطن شکاگو آئے اور انہوں نے ہر فرد میں الوہیت اور باہمی محبت کی پاکیزگی   (Divinity & purity of love) کاذکر کیا ۔ ہمارے دو ممالک کی اسی طرح کی مشترکہ اقدار کی پابندی ہمیں ایک دوسرے کے لئے کار آمد بناسکتی ہے ۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کی تجدید ہو جس میں ہندوستان کو سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت دی جائے ۔ لیکن طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے ۔ آپ کی جمہوریت کے تجربہ کا استفادہ دیگر ممالک کو ہوسکتا ہے ۔ آپ کے یہاں صحت کے میدان میں تحقیقات سے دیگر ممالک  کے لوگ بھی بیماریوں سےبچ سکتے ہیں ۔ جو ہری توانائی (Nuclear energy) سے تیار شدہ بجلی سے آپ کے ملک کی چوطرفہ ترقی میں بے انتہا   مدد ملے گی۔ دنیا میں آب و ہوا میں آنے والی تبدیلی ( Climate change) کا سب سے زیادہ نقصان جن ممالک کا ہونے والاہے ان میں ہندوستان شامل ہے، جس کےلیے ہم آپ کی مدد کرسکتےہیں ۔ ملکی بالیدگی (National development) جس سے عوام کی زندگی بہتر ہو جائے، تجارت جس سے معاشی مواقع پیدا ہوں، ملکی دفاعی انتظامات جس سے ہمارے ملک خطروں سےمحفوظ رہیں، یہ سب کام ہم دونوں ممالک ساتھ کرسکتے ہیں۔

لیکن یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ غور کریں کہ آپ اپنے ملک کےاندر ایک دوسرے کو کس زاویہ سے دیکھتےہیں ۔ ہم اور آپ تبھی طاقتور ہوں گے جب ہم ہر انسان کے وقار و عظمت کی پاسداری کریں ۔ ہمارے دونوں ممالک میں بےانتہا تنوع ( Diversity) ہے۔ آپ کا دستور شرو ع ہوتا ہے انفرادی وقار کی بالادستی برقرار رکھنے کی ضمانت (Assuring the dignity of the individual) سے ہمارا دستور بھی شروع میں ہی اعلان  کرتا ہے کہ سب انسان برابر پیدا ہوتے ہیں ۔ نئی نسلوں سےہمارے ممالک  کے لو گ اِن آدرشوں کی پاسداری  میں لگے ہوئے ہیں۔ میرے  دادا کینیا  میں برطانوی فوج میں باور چی تھے ۔ میری اہلیہ کے خاندان میں ماضی قریب کے رشتہ دار لوگ غلام تھے ۔ ہمارے ملک میں انفرادی و گروپ پہچان سےمتعلق دقتیں  رہی ہیں ۔ آپ کے ملک میں یہ تفریق  اب تک ہے۔ میرا یہ سب کہنے کامقصد یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ہماری آپ کی مشترکہ کار کردگی سے صرف سے صرف چند لوگوں کو ہی فائدہ ہو، یاد رکھئے کہ ہر ایک کو برابر کاموقع ملناچاہئے ۔

ہمارے ممالک تبھی مضبوط مانے جائیں گے جب ہم یہ یقین کرنےلگیں کہ ہم سب خدا کےبندے ہیں، سب اس کی نظر میں برابر ہیں اور سب اس کی محبت کے حقدار ہیں۔ ہمارے دونوں ملکو ں میں ہندو ہیں، مسلمان ہیں۔ عیسائی ہیں، سکھ ہیں ، یہودی ہیں اور بدھ ، جین وغیرہ ہیں ، ہمیں گاندھی جی کا جملہ  یاد ہے کہ میرے لیے  مختلف مذاہب باغ کے خوبصورت پھول کی طرح ہیں، وہ ایک ہی شاندار پیڑ کی شاخیں ہیں ۔ ہمارے قومی  بنیادی  ستاویز میں مذہبی آزادی کا حق نمایاں طور پر تحریر ہے ۔ وہ امریکہ  کے آئین کی پہلی ترمیم ہویا آئین  ہند کی دفعہ 25 جس میں لکھا ہے کہ تمام شہر یوں  کے ضمیر کی آزادی بالکل برابر ہے اور ہر ایک کو اپنے مذہب کا اقبال بلند کرنے ،اس پر عمل کرنے اور اس کی توسیع کرنے کا مکمل حق ہے (Right to profess, practice and propagate religion) ۔ ہمارے دونوں ممالک میں بلکہ تمام ملکوں میں ان حقوق کی بالا دستی بنائے رکھنے کی ذمہ داری ( Duty to uphold these rights ) حکومت کی بھی ہے او رہر فرد کی بھی ہے۔

صدر اوباما نے  کہا کہ کوئی بھی سماج انسان کے تاریک ترین اضطراب سے محفوظ نہیں ہے (No society is immune from the darkest impulses of man) اور دیکھنے میں آیا ہے کہ خدائی نور سےمستفید ہونے کے بجائے مذہب کو ان شر انگیز یوں کا تختہ مشق بنایا جارہا ہے۔ تین برس قبل امریکہ کے شہر و سکانسن میں سکھوں کی ایک عبادت گاہ میں ایک شخص نے گھس کر 6 معصوم افراد کا قتل کر دیا تھا جن میں  امریکی بھی تھے او ر ہندوستانی  بھی ۔  اس وقت غم سے پرُ اندوہ ہوتے ہوئے بھی ہم دونوں ممالک نے بنیادی سچائی کی بات کی تھی ۔ اسی بنیادی سچائی کی تصدیق و توثیق (Reaffimation the fundamental truth) ہمیں آج پھر کرنی پڑے گی کہ ہر فرد کو حق ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنے مذہب پر عمل کرسکتاہےلیکن اس کی وجہ سےاس کی کوئی ایذار سانی ( Persecution) نہیں ہونی چاہئے نہ اسے خوفزدہ کیا جائے اور  نہ اس کے خلاف تعصب (Discrimination) ہو۔ تقریر کے دوران یہ جملہ بولتے وقت صدر اوباما کی آواز بدل گئی تھی ، اس میں خود  ثوقی و کشش کے ساتھ عجیب قسم کے جذبات جھلک رہے تھے گویا وہ یہ کہہ رہے ہو ں کہ اتنی ظاہر اور عیاں بات آپ کی سمجھ میں بہ آسانی آجانی چاہئے ۔ اوباما نے کہا کہ ہم عالمی سطح پر جو امن چاہتے ہیں وہ انسان کے دل میں شروع ہوتا ہے۔ ہم اس سے تب مستفید ہوں گے جب ہم ہر فرد کی خوبصورتی میں  مسرت محسوس کرنے لگیں ۔ اور اس  احساس کی اہمیت اور اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہندوستان میں ہے۔ بے حد ضروری ہے کہ ہندوستان میں ان بنیادی اقدار کی پذیرائی کی جائے۔ ہندوستان تب تک کامیاب رہ سکے گا جب تک اس میں بین المذاہب ٹوٹ پھوٹ نہ ہونے دی جائے (India will succeed so long as it is not splintered on religious lines) اور اس کے بجائے یہاں ملکی اتحاد کو فروغ دیا جائے۔ اور یہ تب ممکن ہوگا جب ‘ بلا تفریق مذہب’ آپ سب لوگ ایک ساتھ فلم دیکھنے  جائیں شاہ رخ خان کی اور ملکھا سنگھ و میری کوم جیسے کھلاڑیوں کی ہمت افزائی کریں ۔ ہر ہندوستانی کو فخر کرنا ہوگا اس شخص میں جو بچوں اور بچیوں کو مزدوری  سے آزادی دلوائے جیسے کیلاش ستیارتھی جنہیں  حال میں نوبل  انعام ملا، اسی قسم کی عمل آوری ہم کو ایک دوسرے سےجوڑتی ہے۔

آئیے ہم غور کریں  کہ کیا ہم میں سب کے لیے ہمدردی اور ہمگدازی (Compassion & empathy) کی شدت یکساں ہے؟ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے الفاظ  میں کیا ہم اپنے کو اپنے کردار کے مواد سے تولتے ہیں؟ یا ہم اپنی کھال کے رنگ یا اپنی عبادت کے طریق  کار سے اپنے کو پرکھتے ہیں ؟ ہمارے دونوں ممالک امریکہ او رہندوستان میں ہماری گونا گونی ( Diversity) ہی ہماری طاقت  ہے۔ او رہمیں پہرہ داری کرنی ہوگی تاکہ ہمیں کوئی مذہب کے بنیاد پر با نٹ نہ سکے ۔ اگر امریکہ اور ہندوستان اپنے اپنے  ملکوں میں اس گونا گونی کی حفاظت کرسکیں، اس کا جشن منا سکیں  اور اس سے اپنی جمہوریت  کو مضبوط کرتے رہیں  تو یہ پوری دنیا کے لیے ایک خوش آئند رہنمائی ہوگی۔ اگر ہم دونوں ممالک شانہ بہ شانہ آگے بڑھ رہے ہیں تو یہی عوامی ہمنوائی  ہمیں  عالمی لیڈر بنائے گی، نہ کہ ہماری معیشت کے اعداد و شمار یا یہ کہ ہمارے پاس کتنے ہتھیار ہیں ۔ ہم  میں طاقت ہونی چاہئے دنیا کو دکھانے کی کہ ہم  ایک دوسرے کی کتنی عزت کرتے ہیں ۔

 اسی طرح تین دن کے شاندار دورے کے اختتام پر دنیا کے سب سے طاقتور لیڈر نے ہمارے ملک عزیز کے عوام اور حکومت دونوں کو تنبیہ کردی کہ اگر اکیسویں  صدی میں دنیا کی قیادت کرنی ہے تو اپنے گھر کے اندرونی حالات ٹھیک کرنے کے لیے اپنی سیاسی پالیسی میں خاطر خواہ تبدیلی کرنی ہو گی کیونکہ اقتصادی  و سماجی خوشحالی اگر ایک فرقہ کے حصہ میں نہ آئے تو اسے ملک کے چہرے پر بد نما داغ مانا جائے گا جس کی وجہ سے اسے عالمی لیڈر بننے کی دوڑ میں دشواری آسکتی ہے۔  اس طور پر صدر اوباما نے اپنے نوبل انعام کی لاج رکھ لی۔

29 جنوری، 2015  بشکریہ : روز نامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-syed-zafar-mahmood/obama-kept-the-honour-of-nobel-peace-prize--اوباما-نے-نوبل-امن-انعام-کی-لاج-رکھ-لی/d/101334

 

Loading..

Loading..