New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 08:35 PM

Urdu Section ( 17 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

M.A.O College and Sir Syed ایم اے او کالج اور سر سید

 

 

ڈاکٹر شکیل صمدانی

17 اکتوبر، 2014

17اکتوبر2013کو پوری دنیا میں سر سید احمد خان کا 196واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے اور اس کے لیے علیگ برادری اپنے انداز میں جگہ جگہ تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے۔ کہیں ان کی یاد میں جلسہ ہونے جا رہا ہے تو کہیں سمینار اور کہیں ڈنر کا انتظام کیا گیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی سر سید ڈے تقریبات کی تیاریاں زور و شور سے ہو رہی ہیں ۔سر سید ڈے تقریبات کے مہمانِ خصوصی اتراکھنڈ کے گورنر مسٹر عزیز قریشی ہوں گے۔زیرِ نظر مضمون میں ایم اے او کالج کی مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے اور اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ عام لوگوں کو وہ بنیادی معلومات فراہم کی جائیں جو ان سے پوشیدہ ہیں، انہیں معلوم ہو سکے کہ سر سید نے اس ادارے کو قائم کرنے کے لیے کتنی محنت اور جاں فشانی سے کام لیا اور ان کی راہ میں کتنی رکاوٹیں آئیں ۔ مسلم یونیورسٹی کے بارے میں عام لوگوں کو اتنی واقفیت تو ہے ہی کہ مسلم یونیورسٹی سرسید احمد خاں کی کاوشوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے اور اسے سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کی تعلیم اور ترقی کے لیے قائم کیا تھا۔ لیکن اس کی تاریخی حیثیت کیا ہے اور سرسیدنے ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ کن حالات میں کیا؟ اور یہ پایۂ تکمیل کو کس طرح پہنچا ؟یہ عوام تو کیا خواص کو بھی بہت کم معلوم ہے۔ سرسید احمد خاں نے یہ بات اچھی طرح سمجھ لی تھی کہ جو چیز مسلمانوں کی خستہ حالی کو دور کر سکتی ہے وہ جدید تعلیم ہے۔ انہوں نے یہ اچھی طرح محسوس کرلیا تھا کہ 1857 ء کے غدر کے نتیجے میں مسلمان بری طرح کے کچلے جا چکے ہیں اور انگریزوں نے انہیں اپنا دشمن نمبر ون مان لیاہے۔ حکومت اس کے ہاتھ سے جا چکی ہے ۔

انگریزوں کے قہر اور عتاب کی وجہ سے زمین اور جائیدادیں بھی جا رہی ہیں۔ ملک کا اکثریتی طبقہ تیزی سے اس خلاء کوپر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کا مستقبل انہیں بے انتہا تاریک نظرآیا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اس سے نکلنے کا واحد راستہ انگریزوں کی طرف مفاہمت کا ہاتھ اور تعلیم ہی ہے۔ لہٰذا انہوں نے عزمِ مصمم کرلیا کہ مسلمانوں کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے تعلیم ہی ایک ذریعہ ہے اور مسلمانوں کو اس پر ڈالنا ہے۔ سرسید احمد خاں خود لکھتے ہیں کہ’’جو حال اس وقت قوم کا تھاوہ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا تھا۔ چند روز میں اسی خیال میں اور اسی غم میں رہا۔ آپ یقین کیجئے کہ اس غم نے مجھے بوڈھاکردیا اور میرے بال سفید کردئیے جب میں مردآباد میں آیا جو ایک بڑا غم کدہ ہماری قوم کی رئیسوں کی بربادی کا تھاتو اس غم کو کسی قدر اور ترقی ہوئی۔‘‘’’لائل محمڈنس آف انڈیا‘‘ کے پہلے شمارے میں انہوں نے لکھا تھا’’ یہ بدبختی کا وہ زمانہ ہے جو 1857-58 ء میں ہندوستانی مسلمانوں پر گزرا کوئی آفت ایسی نہیں ہے جو اس زمانے میں ہوئی ہواور یہ نہ کہا گیا ہو کہ مسلمانوں نے کی۔ کوئی بلا آسمان پر سے نہیں چلی جس نے زمین پرپہنچنے سے پہلے مسلمانوں کا گھر نہ ڈھونڈھا ہو۔۔۔ جو کتابیں اس ہنگامہ کی بابت تصنیف ہوئیں وہ بھی میں نے دیکھیں تو ہر ایک میں یہی دیکھا ہے ہندوستان میں مفسد اور بدذات کوئی نہیں مگر مسلمان ! مسلمان! مسلمان! کوئی کانٹوں والا درخت اس زمانے میں نہیں اگا جس کی نسبت یہ نہ کہا گیا ہو کہ اس کا بیج مسلمانوں نے بویا تھا اور کوئی آتشی ببولہ نہیں اٹھا جو یہ نہ کہا گیا ہو کہ مسلمانوں نے اٹھایا تھا مگر میں اس کے بر خلاف سمجھتا ہوں۔‘‘(سرسید اور ان کے کار نامے، نوالحسن نقوی) ان حالات میں سرسید نے مسلمانوں کے تعلیم اور ترقی کا بیڑہ اٹھایا۔سرسید نے ہندوستانیوں کی ترقی وسربلندی کے لیے 1859 ء میں مرادآباد میں ایک مدرسہ قائم کیا تھا۔

1863 ء میں انہوں نے اپنے قیامِ غازی پور کے دوران تعلیم کے میدان میں ایک زبردست قدم اٹھایا اور ایک’ سائنٹفک سوسائٹی‘ قائم کی۔ اس کام میں انہیں ہندوؤ اور مسلمانوں دونوں کا تعاون ملا۔ دو لیفٹنٹ گورنروں نے اس کی سرپرستی قبول کی۔سائنٹفک سوسایٹی کے قیام کا مقصد مختلف عائنسی علوم کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنا تھا تاکہ جدیدتعلیم کو عوام وخواص میں فروغ حاصل ہو۔ 1864 ء میں اسی شہر میں ایک اسکول قائم کیا۔ جس کا سنگِ بنیاد راجہ دیونارائن سنگھ اور مولانا محمد فصیح نے رکھا۔ راجہ صاحب ہی اس کے سرپرست اور وزیٹر مقرر ہوئے۔ آگے چل کر راجہ جے کشن داس نے سید احمد کے تعلیمی منصوبوں میں دلچسپی لی اور سائنٹفک سوسایٹی کو مستحکم کیا۔ لیکن سر سید کاخواب تو کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرز پر ہندوستان میں جدید اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک عظم الشان مرکزی اور اقامتی ادارہ قائم کرنا تھا اور اسی خواب کی تعبیر کے لیے سرسید احمد خاں اپنے بیٹے سید محمود کے ساتھ انگلستان جانے کا فیصلہ کیا۔ 1 ؍ اپریل1969 ء کو وہ اپنے دونوں بیٹوں سید حامد ، سید محمود اور دو خادموں کے ساتھ بنارس سے انگلستان کو روانہ ہوئے۔انگلستان میں سرسید کو اپنے تعلیمی منصوبے پر یکسائی کے ساتھ غور کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ان دونوں یونیورسٹیوں کے نظم و نسق، اقامتی زندگی اور عمارات کا تنقیدی جائزہ لیا۔ انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی سے یازہ کیمبرج یونیورسٹی کے زیادہ متاثرکیا اس زمانے میں نہ تو فوٹو کھینچے کی مشین تھی نہ ویڈیو گرافی کا اانتظام تھا اور نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولیات میسر تھی لہٰذا انہوں نے انگریز انجینئروں کی مدد سے کیمبرج کی طرز کے نقشے وہیں تیار کرائے تاکہ کالج کی تعمیر کے وقت ان نقشوں کو بطور نمونہ استعمال کیا جا سکے۔تقریباً ڈیڑھ سال لندن میں قیام کرنے کے بعد سرسید 2 ؍ اکتوبر1870 ء کو واپس اپنے وطن پہنچے اور ممبئی کی زمین پر اس عزم کے سات قدم رکھا کہ اب وہ بلاتاخیر اپنے منصوبہ کوعملی جامہ پہنائیں گے۔

جدید تعلیم کو فروغ دینے کے لیے سرسید نے بنارس میں’’ کمیٹی خواست گار ترقئ تعلیم مسلمانان‘‘ بنائی،جس کا مقصد مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار کرنا تھا اور اس مقصد کے لیے کمیٹی کی جانب سے ایک اشتہار شائع کیا گیا کہ لوگ مسلمانوں کے تعلیمی مسائل پر مضامین لکھ کر بھیجیں ۔اچھے مضامین کے لیے تین انعام۔ پانچ سو، تین سو اور ڈیڑھ سو روپیے کے مقرر کئے گئے اور ان مضامین کی بنیاد پر اردو اور انگریزی میں ایک رپورٹ تیار کی گئی۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایک دوسری کمیٹی ’’کمیٹی خزینتہ البضاعۃ‘‘تشکیل دی گئی جس کا مقصد رقم کی فراہمی تھاتاکہ کالج کے لیے زمین خریدی جاسکے۔ کمیٹی کی طرف سے جولائی1872ء میں ایک اشتہار شائع کرکے یہ دریافت کیا گیا کہ مدرستہ العلوم کس شہر میں قائم کیا جائے۔ممبران کی اکثریت نے علی گڑھ شہر کا انتخاب کیا۔ اب ایسا لگنے لگا کہ مدرسہ یقینی طور پر قائم ہوجائے گا۔اسی درمیان لارڈ نارتھ بروک، وائسرائے و گورنر جنرل ہند نے دس ہزار روپیے ، سر ولیم میور، لیفٹنٹ گورنر جنرل نے ایک ہزار روپئے اور مسٹر اسپنکی، جج ہائی کورٹ، الہ آباد نے ایک معقول رقم دینے کا اعلان کیا جس کی وجہ سے کمیٹی کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی اور ان کو یقین ہوگیا کہ سرسید کے ذریعہ کالج کے لیے دیکھاگیا خواب یقیناًپورا ہوگا ۔یہ بات بھی یہاں قابلِ ذکر ہے کہ سرسید کے اس وقت تک کسی کا چندہ قبول نہ کیا جب تک کہ انہوں نے پہلا چندہ اپنی جیب خاص سے ادا نہ کردیا۔سرسید نے چند ہ اکٹھا کرنے میں جن دشواریوں کا سامنا کیا اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ۔ صرف یہ کہہ دینا کافی ہوگا کہ انہوں نے چندہ اکھٹا کرنے میں بے پناہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہمت نہ ہاری اور نئے نئے طریقوں سے کالج کے لیے رقم اکٹھا کی۔

صرف ایک واقعہ نقل کرنا چاہوں گا جو کہ نورالحسن نقوی نے اپنی کتاب میں لکھاہے۔ ’’کالج کے لیے روپیہ اکٹھا کرنے کا کوئی طریقہ انہوں نے اٹھا نہ رکھا۔کتابوں کی دکان کھولی اور اس میں بیٹھ کرکتابیں بیچیں۔ ایک بار تیس ہزار کی لاٹری کھلی، اعتراض ہوا یہ گناہ ہے۔ انہوں نے جوا ب دیا ہزار گناہ اپنے لیے کرتے ہیں ایک گناہ کالج کے لیے بھی صحیح۔ ایک دوست موجود تھے بولے، اس کا گناہ مسلمان رئیسوں پر ہوگاکہ وہ سید احمد کی مدد کرتے تو یہ اس غلط کام کی طرف متوجہ کیوں ہوتا۔‘‘چونکہ مدرسہ کے قیام کے لیے جولائی1872 ء میں ہی علی گڑھ کا نام پاس ہوچکا تھااس لیے زمین کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ تومعلوم ہوا کہ علی گڑھ چھاؤنی میں فوجی پریڈ کا میدان بے کار پڑا تھا جس میں تقریباً74 ایکڑ زمین باقی تھی۔1874 ء کے شروع میں کمیٹی نے سرکار کو درخواست دی تھی کہ یہ آراضی کالج کے لیے مرحمت فرمادی جائے۔ مسٹرلارینس، کلکٹر علی گڑھ نے18 ؍ مارچ1874 ء کو اپنی سفارشات کے ساتھ درخواست لفٹننٹ گورنر کو بھیج دی اور سرولیم میور، لیفٹنٹ گورنریو۔پی نے بھی زمین دینے کا وعدہ کرلیا۔ مدرسہ کی کلاسیں شروع کرنے کے لیے تین عدد پھونس کے بنگلے پندہ ہزار روپیے میں خریدے گئے اور چوتھا بنگلہ کچھ دنوں کے بعد خریداگیا۔اچانک علی گڑھ کا کلکٹربدل گیااور قائم مقام کلکٹر نے آراضی دینے سے صاف انکار کردیا اور تجویز کے خلاف رپورٹ سرکار کو بھیج دی۔ ان کے جانے کے بعد دوسرے کلکٹر نے بھی سابقہ کلکٹر کی رائے سے اتفاق کیا اور انہیں کے ساتھ ساتھ بہت سارے یوروپین بھی ان کے ہم خیال بن گئے۔ اور زمین کی منتقلی کھٹائی میں پڑ گئی۔

لیکن سرسید احمد خاں کے ہمت نہ ہاری اور بالآخر انہوں نے سر جان اسٹریچی، لیفٹنٹ گورنر یو۔پی سے ملاقات کی اور دونوں کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔اور گورنر یو۔پی نے حکم جاری کیاکہ چھاؤنی کی آراضی کالج کو دے دی جائے۔5 ؍ مارچ1875 ء وہ تاریخی دن ہے جس دن یہ آراضی کالج کمیٹی کو سونپ دی گئی۔ملکہ وکٹوریہ کی سالگرہ یعنی24 ؍ مئی 1875 ء کو مدرسہ کا افتتاح علی گڑھ چھاؤنی کے’ میس ہاؤس‘ میں کیا گیا ۔یہ وہ جگہ ہے جہاں آج سلیمان ہال موجود ہے۔اس جگہ کو صاحب باغ بھی کہتے ہیں۔ افتتاح کے ایک ہفتہ بعدجون1875 ء کو انہیں پھونس کے بنگلوں میں ابتدائی تعلیم یعنی درجہ دو سے درجہ سات تک کی کلاسیں شروع ہوئیں۔اب تقرری کا کام شروع ہوا اور ہیڈ ماسٹر کی جگہ مسٹر سڈنس کا تقرر ہوا ،لالہ بیج ناتھ سیکنڈ ماسٹر مقرر ہوئے اور تھرڈ ماسٹر کی جگہ مولوی ابوالحسن ، مولوی محمد اکبر اور سید جعفر علی کا تقرر ہوا۔تقرری میں اس بات کی وضاحت کردی تھی کہ یوروپین ہیڈ ماسٹر کو بھتے کے علاوہ تین سو روپئے ماہوار تنخوا ہ دی جائے گی۔ لالہ بیج ناتھ کو ایک سو بیس روپئے ماہانہ اور تھرڈ ماسٹر صاحبان کو ساٹھ روپئے ماہانہ طے ہوا۔سرسید نے اسی کے ساتھ ساتھ طلبہ کی رہائش کے لیے بورڈنگ ہاؤس کا انتظام کیا۔ سرسید کو اس پر بہت فخر تھا اور کالج لائف کے اوپر ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا تھا کہ’ کالج لائف ہی یہاں کی سب سے اہم کتاب ہے۔اس کا پڑھنا اور سمجھنا زندگی اور اس تعلیمی ادارے کا اصل مقصد ہے۔‘یو۔پی کے لفٹنٹ گورنر نے 12 ؍ نومبر،1875 ء کو اسکول کا معائنہ کیا۔ انہوں نے اسکول کے نظم ونسق اور تعلیمی معیار کو سراہا۔سرولیم مور کے سامنے ہی کمیٹی کے جلسے میں یہ اعلان کیا گیا کہ کالج کا نام’ محمڈن اینگلو اوینٹل کالج‘ ہوگا۔ میرٹھ ڈویزن کے کمشنر8 ؍ دسمبر،1875 ء کو علی گڑھ تشریف لائے۔

 اسکول کے ساتھ ساتھ انہوں نے بورڈنگ ہاؤس کا بھی معائنہ کیا اور اس درجہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے اعلان کیا کہ اسکول کو معقول سرکاری امدار دی جائے گی۔اکتوبر،1876 ء کو سرولیم مور دوبارہ علی گڑھ تشریف لائے اور اسکول کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ میں نے اپنی مدتِ ملازمت میں مسلمانوں کو حکومتِ برطانیہ کا بے حد وفادار پایا۔ یعنی سرسید نے 1857 ء کے بعد انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان جو مفاہمت کی کوشش کی تھی اس میں وہ کامیاب ہوئے۔ریٹائر منٹ کے بعد سرسید علی گڑھ واپس آگئے اور پورے انہماک کے ساتھ اپنے تعلیمی مشن کی طرف متوجہ ہوگئے سرسید کے علی گڑھ آنے کے بعد قیامِ کالج کی مہم تیز تر ہوگئی ۔ تعمیرات کی رفتار بڑھ گئی۔ سرسید بذاتِ خود عمارتوں کی تعمیر کی نگرانی کرتے ،بنیادیں کھدواتے، دن بھر دھوپ میں کھڑے ہوکر معماروں اور سنگ تراشوں کو ہدایات بھی دیتے اور شام کو مزدوری بھی اپنے دستِ مبار ک سے تقسیم کرتے۔ کالج کے مرکز ی ہال کا سنگ بنیاد لارڈ لٹن، وائسرائے و گورنر جنرل نے 8 ؍ جنوری1877 ء رکھا۔بقول حالیؔ بنیاد رکھنے کی رسم یوروپی قاعدے کے مطابق رکھی گئی۔اسٹریچی ہال میں بنیاد کے قریب جس جگہ سنگِ مرمر کا کتبہ لگاہوا ہے ٹھیک اسی جگہ بنیاد کھودی گئی۔ ایک کاغذ جس پر قیامِ کالج کی مختصر تاریخ فارسی اور انگریزی میں درج تھی لپیٹ کر ایک بوتل میں رکھ دیا گیا تھا اور اس بوتل کو سر بمہر کردیا گیا تھا۔ وائسرائے نے اس بوتل کو چاندی سونے کے سکوں کے ساتھ بنیاد کے جوف میں رکھ دیا اور اسے دھات کی ایک پلیٹ سے ڈھک دیا گیا۔ اس پلیٹ پر بھی کالج کے قیام کی مختصر تاریخ کندہ کی گئی تھی۔ اس کے بعد ایکزیکیٹو انجینئر مسٹر نوائس کی نگرانی میں سنگِ بنیاد کو زنجیروں کی مدد سے بنیاد میں اتارا گیا۔ اس پتھر کا وزن تیس مَن تھا۔وائسرائے نے چاندی کی ہھتوڑی سے دھم ۔دھم۔ دھم تین بات سنگِ بنیاد پر ضرب لگائی اور بآواز بلند فرمایا۔’’ میں اعلان کرتاہوں کہ سنگِ بنیاد کو بحسن و خوبی نصب کردیا گیا۔‘‘(سرسید اور ان کے کارنامے: نورالحسن نقوی)سرسید نے مرکزی لائبریری کا نام’’ لٹن لائبریری‘‘ تجویز کیا چونکہ لارڈ لٹن بذاتِ خود ایک ادبی شخصیت اور متعدد کتابوں کے مصنف تھے ۔ سرسید احمد خاں نے مسلم ایجو کیشنل کانفرس کا قیام کیا اور ملک کے گوشے گوشے میں اس کے جلسے کئے تاکہ پورے ملک میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے اسکول کھولے جا سکیں۔سرسید نے کئی اہم استاد یوروپین مقرر کئے ۔غالباً مصلحت یہ تھی کہ حکومت کو کالج کے بارے میں کوئی غلط فہمی اور بد گمانی نہ ہو۔ آرنلڈ فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے، ماریسن انگریزی کے پروفیسر مقرر ہوئے ۔کئی انگریز کالج کے پرنسپل ہوئے لیکن سر تھیوڈربیک کانام کالج کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے کالج سے اس قدر محبت تھی کہ شملہ میں انتقال سے پہلے انہوں نے اپنی بیوی کو وصیت کی تھی کہ:۔

‘ میری قبر لال اینٹوں سے بنائی جائے ۔کیونکہ محمڈن کالج کی عمارتیں لال اینٹوں ہی کی بنی ہوئی ہیں۔’

کالج میں لائق وفائق اساتذہ کا تقرر کیا گیا۔ علامہ شبلی فارسی کے ، جادو ناتھ چکروتی ریاضی کے اور پنڈت شیوشنکر ترپارٹھی سنسکرت کے پروفیسر مقرر ہوئے۔سرسید نے تعمیر پر بہت محنت اور توجہ دی اور سب سے زیادہ توجہ جامع مسجد کی تعمیر پر دی۔ مسلم یونیورسٹی کی جامع مسجد واقعی اپنے آپ میں فنِ تعمیر کی ایک شاندار مثال ہے اور تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ۔دوسرے نمبر پر سرسید نے اسٹریچی ہال پر توجہ دی اور جس وقت یہ کشادہ بلند اور پروقار ہال زیر تعمیر تھا اس وقت طلبہ کی تعداد صرف ساٹھ تھی۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سرسید کا وژن کتنا وسیع تھا اور ان کی نگاہیں کتنی دورس تھیں۔ ایک دن علامہ شبلی نے سرسید کے کہا کہ آپ اتنا بڑا ہال تعمیر تو کروارہے ہیں اتنے طالبِ علم کہاں سے لائیں گے۔ سرسید نے جواب دیا ’مولوی صاحب ایک زمانہ آوے گا جب یہ ہال بھی چھوٹاپڑجائے گا۔‘سرسید کا وژن اور پیشن گوئی سچ نکلی۔ اسٹریچی ہال چھوٹا پڑنے لگا تو کینیڈی ہال کی تعمیر ہوئی اب کینیڈی ہال بھی چھوٹا پڑرہا ہے۔ اب اس سے بڑے اور شاندار ہال کی تعمیر ناگزیر ہوگئی۔دیکھئے کون مردِ مجاہد اس نئے ہال کو تعمیر کرواتاہے؟یہ ہے ایم۔ اے ۔او۔ کالج کی مختصر تاریخ جس میں ہمیں سرسید کا ایثار ،قربانی،جدوجہد اور اخلاص نظر آتا ہے۔ سرسید ہی نہیں ان کے رفقاء کی بھی قربانیاں ہمیں دکھائی دیتی ہیں۔ 1875 ء میں بنا۔

 یہ مدرسہ1877 ء میں کالج بنا اور1920 ء میں مسلم یونیورسٹی میں تبدیل ہوگیا۔آج مسلم یونیورسٹی میں تقریباً 28ہزار طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اساتذہ کی تعداد تقریباً1800 ہے اور نان ٹیچنگ کی تعدادتقریباً 6 ہزار ہے۔ اقامتی ہالوں کی تعداد 19 ہے اور جس میں 5 اقامتی ہال صرف طالبات کے لیے ہیں۔آج مسلم یونیورسٹی میں الحمد اﷲ12 فیکلٹیاں ہیں اور 100 سے زیادہ شعبہ ہیں،تقریباً300 کورسز پڑھائے جا رہے ہیں۔ لڑکیوں کا الگ کالج ’ویمنس کالج‘ بھی ہے۔ طب کی پڑھائی کے لیے طبیہ کالج بھی ہے۔ مسلم یونیورسٹی کی خصوصیت یہاں پر موجود اسکول بھی ہیں جو مسلم یونیورسٹی کے لیے فیڈر کا کام کرتے ہیں۔ اس سال ان سبھی اسکولوں کو ترقی دیکر 10+2کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلم یونیورسٹی کا رائڈنگ کلب یونیورسٹی کی امتیازی شان ہے جو کسی اور یونیورسٹی میں نہیں ہے۔مسلم یونیورسٹی کی سینٹرل لائبریری جسے مولانا آزاد لائبریری کہا جاتا ہے ایشیا کی عظیم لائبریریوں میں سے ایک ہے یہاں ہر طرح کی کتابیں اور ہر طرح کی انٹرنیٹ و جدید سہولیات موجود ہیں۔موجودہ وائس چانسلر لفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ)ضمیر الدین شاہ اور پرو وائس چانسلر برگیڈیئر (ریٹائرڈ)سید احمد علی یونیورسٹی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ یونیورسٹی ان کے دورِ اقتدار میں ہندوستان کی بہترین یونیورسٹی بن جائے۔بزرگ علیگیرین اور سنیئر اساتذہ کرام کا ماننا ہے کہ مسلم یونیورسٹی میں اخلاص اور کمٹمینٹ کا فقدان ہوتا جا رہا ہے۔لوگوں میں یونیورسٹی اور اس کی ترقی کے لیے وہ جذبہ نہیں رہا جو آج سے 40-50سال پہلے ہوا کرتا تھا۔قوم کی ترقی کے لیے کوئی بھی خاص جوش و ولولہ نہیں ہے۔ سماجی کام کے لیے وقت نہیں ہے۔

مسلم یونیورسٹی کے جو اساتذہ ملی اور سماجی خدمت میں مصروف ہیں وہ عام طور پر اپنے ہی شعئبوں اور اپنے ہی لوگوں کے درمیان معتوب ہیں اور عام طور پر انہیں بے وقوف سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنا قیمتی وقت اپنی ترقی کے لیے نہ لگاکر قوم کی ترقی کے لیے لگا رہے ہیں ۔یہ ایک افسوسناک صورتِ حال ہے جس سے بہر حال مسلم یونیورسٹی کو نکلنا ہی ہوگا۔اردو اپنی ہی یونیورسٹی میں بیگانی ہے۔ طلبہ کی غالب اکثریت سرسید کی زبان یعنی اردو سے نابلد ہے۔اردوصرف گریجویٹ لیبل تک بچوں کوپڑھنی ہوتی ہے اور اس صرف پاس کرنا ہوتا ہے اور اس کے نمبر کسی بھی امتحان میں جوڑے نہیں جاتے ۔اگر صرف اس کے نمبر ہی امتحان میں جوڑے جانے لگیں تو اردو کا زبردست فروغ ہو سکتا ہے۔موجودہ وائس چانسلر محترم ضمیر الدین شاہ نے اردو کی ترقی کے لیے گریجوایشن کی سطح پر اردو کے نمبرات کو ڈویزن میں جوڑنے کا حکم صادر فرما دیا ہے اس سے امید ہے کہ طلبہ کے ساتھ ساتھ اردو زبان کو بھی فائدہ ہوگا۔ادھر کچھ سالوں میں طلبہ میں ڈسپلن شکنی میں اضافہ ہوا ہے اور ہاسٹلوں کا نظام ڈھیلا پڑ گیا ہے۔ ویسے یہ خوش آئندہ بات ہے کہ نئے وائس چانسلر لفٹننٹ جنرل(ریٹائرڈ )ضمیر الدین شاہ اس سلسلے میں کافی فکر مند ہیں اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹی میں کسی قسم کی ڈسپلن شکنی قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔ان کی کوشش ہے کہ یونیورسٹی میں ڈسپلن قائم ہو اورادارے میں تعلیمی ماحول مزید ساز گار ہوجائے۔انہوں نے کئی معاملات میں ڈسیپلن شکنی پر سخت رخ اپنایا ہے اور یونیورسٹی میں انصاف کا ماحول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔خدا کرے ان کی کوششیں بارآور ہوں۔لہٰذا یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سر سید اور ان کے رفقاء نے انتہائی خلوص اور نیک نیتی سے اس ادارے کا قیام کیا تھا اور بے پناہ تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کیا تھا۔ سر سید ڈے پر تمام علیگیریئنس اور سر سید سے عقیدت رکھنے والوں کو عہد کرنا چاہئے کہ وہ صرف ڈنر پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں یہی ان کے لیے سچا خراجِ عقیدت ہوگا۔

17 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ عزیز الہند، نئی دہلی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-shakeel-samdani/mao-college-and-sir-syed--ایم-اے-او-کالج-اور-سر-سید/d/99587

 

Loading..

Loading..