New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 02:55 AM

Urdu Section ( 4 May 2014, NewAgeIslam.Com)

Who is a Muslims? مسلمان کسے کہتے ہیں؟

  

 

ڈاکٹر شکیل احمد خان

کفر اور اسلام اس بات کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے آپ کو یہ جاننا چاہئے کہ کفر کیا ہے اور اسلام کیا ہے۔ کفریہ ہے کہ آدمی اللہ کی  فرمانبرداری سے انکار کر دے۔ اور اسلام یہ ہے آدمی صرف اللہ کا فرمانبردار ہو اور ہر ایسے طریقے  ، قانون، یا حکم کو ماننے سے انکار کردے جو اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کے خلاف ہو۔ اسلام اور کفر کا یہ فرق قرآن میں صاف صاف بیان کر دیا گیا ہے ۔  چنانچہ ارشاد ہے ۔ ‘‘ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (5:44) الظَّالِمُونَ (5:45) الْفَاسِقُونَ (5:47) جو شخص اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق فیصلہ ( حکم ) نہ کرے تو ایسے ہی لوگ کافر، ظالم اور فاسق ہیں ۔ یہ تینوں آیات کریمات سورہ مائدہ کی ہیں۔ ان تینوں آیاتِ کریمات میں نہایت تاکید اور زور دے کر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق حکومت نہیں چلاتے  وہ کافر، ظالم اور فاسق ہوتے ہیں ۔ ہر وہ ملک جو قوانین الہٰی سے اعراض کرکے ، اپنے وضع کردہ قوانین کے مطابق حکومت چلائے گا، اس ملک میں کفر، ظلم اور فسق تینوں  حالتیں پائی جائیں گی ۔ یہی ہے بنیاد ایک مسلم کی ۔

فیصلہ کرنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ عدالت میں جو مقدمہ جائے بس اُسی کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہو ۔ بلکہ دراصل اس سے مراد وہ فیصلہ ہے جو ہر شخص اپنی زندگی میں ہر وقت کیا کرتا ہے ۔ ہر موقع پر آپ کے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ فلاں کام کیا جائے یا نہ کیا جائے ؟ فلاں بات اس طرح کیا جائے یا اُس طرح کی جائے ؟ فلاں معاملے میں یہ طریقہ اختیار کیا  جائے یا، وہ طریقہ اختیار کیا جائے ؟ تمام ایسے موقعوں پر ایک طریقہ اللہ کی کتاب اور دوسرا طریقہ انسان کے اپنے نفس کی خواہشات یا باپ دادا کی رسمیں ، یا انسانوں کے بنائے ہوئے قانون بتاتے ہیں ۔ اب جو شخص اللہ کےطریقے کو چھوڑ کر کسی دوسرے طریقے  کے مطابق کام کرنے کا فیصلہ کرتاہے وہ دراصل کفر کا طریقہ اختیار  کرتا ہے،

اگر اس نے ساری زندگی کے لئے یہی ڈھنگ اختیار کیا ہے تو وہ پورا کافر ہے ۔اور اگر وہ بعض معاملات میں تو اللہ کی ہدایت کو مانتا ہو اور بعض میں اپنے نفس کی خواہشات کو یا رسم و رواج کو یا انسانوں  کے قانون کو اللہ کے قانون پر ترجیح دیتا ہو ، تو جس قدر بھی وہ اللہ کے قانون سے بغاوت کرتا ہے اسی قدر کفر میں مبتلا  ہے ۔ کوئی آدھا کافر ہے، کوئی چوتھائی کافر ہے کسی میں دسواں حصہ کفر کا ہے اور کسی میں بیسواں حصہ ۔ غرض جتنی اللہ کے قانون سے بغاوت ہے اتنا ہی کفر بھی ہے ۔ اسلام اس کے سوا کچھ  نہیں  ہے کہ آدمی صرف اللہ کا بندہ ہو ۔ نفس کا بندہ نہ باپ دادا کا بندہ، خاندان اور قبیلہ کا بندہ ، نہ مولوی صاحب اور پیر کا بندہ ، نہ زمیندار صاحب اور تحصیلدار صاحب اور مجسٹریٹ صاحب کا بندہ، نہ اللہ کے سوا کسی اور صاحب کا بندہ ۔

اللہ کا ارشاد ہے :۔‘‘ اے نبی ! اہل کتاب سے کہو کہ آؤ ہم تم ایک ایسی بات پر اتفاق کرلیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے ۔ ( یعنی جو تمہارے نبی بھی بتا گئے ہیں، اور اللہ کا نبی ہونے کی حیثیت  سے میں بھی وہی بات کہتا  ہوں ) وہ بات یہ ہے کہ ایک تو ہم اللہ کے سوا کسی کے بندے نہ بنیں ۔ دوسرے یہ کہ خدائی میں کسی کو شریک نہ کریں ۔ اور تیسری  بات یہ ہے کہ ہم میں کوئی انسان کسی انسان کو اللہ کے بجائے اپنا آقانہ بنائے ۔یہ تین باتیں  اگر وہ نہیں مانتے  تو ان سے کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں ۔ یعنی  ہم تینوں  باتو ں کو مانتے ہیں ’’۔ (3:64)

‘‘ کیا وہ اللہ کی اطاعت کے سوا کسی  اور کی اطاعت چاہتے ہیں؟ حالانکہ اللہ وہ ہے کہ زمین اور آسمان کی ہر چیز چارونا چار اُسی کی اطاعت کررہی ہے اور سب کو اسی کی طرف پلٹنا ہے ۔’’ ( 3:83)  ان دونوں  آیات  میں ایک ہی بات بیان کی گئی ہے ۔ یعنی یہ کہ اصلی دین اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔ اللہ کی عبادت کے معنی  یہ نہیں ہیں کہ بس پانچ  وقت اُس  کے آگے سجدہ  کر لو ۔ بلکہ اس کی عبادت کے معنی  یہ ہیں کہ رات دن میں ہر وقت اس کے احکام  کی اطاعت کرو۔ جس چیز سے اس نے منع کیا ہے اس سے رک جاؤ، جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے، اس پر عمل کرو۔ ہر معاملے  میں یہ دیکھو کہ اللہ کا حکم کیا ہے ۔ یہ نہ دیکھو کہ تمہارا  اپنا دل کیا کہتاہے ، تمہاری عقل  کیا کہتی ہے ، باپ دادا کیا کہہ گئے ہیں ۔ اگر تم نے اللہ کے حکم کو چھوڑ کر کسی  کی بات  بھی مانی  تو خدائی  میں اس کو شریک کیا ۔ اس وہ درجہ د  یا جو صرف اللہ کا درجہ ہے ۔ حکم دینے  والا تو صرف اللہ ہے ۔  ان الحکم الا اللہ ۔( 5:57)

بندگی کے لائق تو وہ ہے جس نے تمہیں پیداکیا اور جس کے بل بوتے پر تم زندہ ہو۔ زمین اور آسمان کی ہر چیز  اسی کی اطاعت کررہی ہے ۔ کوئی پتھر کسی پتھر کی اطاعت نہیں کرتا ۔ کوئی جانور کسی جانور کی اطاعت نہیں کرتا ۔ پھر کیا تم جانوروں   ، درختوں  اور پتھروں  سےبھی گئے گزرے ہو گئے کہ وہ تو صرف اللہ کی اطاعت کریں اور تم اللہ کو چھوڑ کر انسانوں  کی اطاعت  کرو؟ یہ ہے وہ بات جو قرآن کی  ان  دونوں آیتوں  میں بیان فر مائی گئی ہے ۔

گمراہی کی راہیں ۔  کفر اور گمراہی دراصل نکلتی  کہاں سے ہیں ۔ قرآن ہم کو بتاتاہے کہ اس کے آنے کے تین راستے  ہیں ۔

(1)  نفس کی بندگی ، پہلا راستہ انسان کے اپنے نفس  کی خواہشات ہیں ۔ ‘‘ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جس نے اللہ کی ہدایات کے بجائے اپنے نفس  کی خواہش کی پیروی کی ۔ ایسے  ظالم لوگ کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ’’۔ ( 28:50)

مطلب یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر انسان کو گمراہ کرنے والی چیز  انسان کے اپنے نفس کی خواہشات  ہیں ۔ جو شخص خواہشات کا بندہ بن گیا اس کے لئے اللہ کا بندہ بننا ممکن ہی نہیں ۔ وہ تو ہر وقت یہ دیکھے گا کہ مجھے روپیہ کس کام میں ملتا ہے ، میری عزت اور شہرت کس کام میں ہوتی ہے ۔مجھے لذت اور لطف کس کام میں حاصل  ہوتا ہے، مجھے آرام اور آسائش کس کام میں ملتا ہے ۔ بس یہ چیزیں  جس کام میں ہوں گی اسی کو وہ اختیار کرے گا ، چاہے اللہ اس سے منع کرے ۔ اور یہ چیز جس کام میں نہ ہوں اس کو وہ ہر گز نہ کرے گا ، چاہے اللہ اس کا حکم دے ۔ تو ایسے  شخص کا معبود اللہ تبارک و تعالیٰ نہ ہوا ، اس کاا پنا نفس  ہی اس کا اللہ ہوگیا ۔ اس کو ہدایت  کیسے مل سکتی ہے؟ اسی بات  کو دوسری جگہ قرآن  میں یوں بیان کیا گیا ہے ۔

‘‘ اے نبی تم نے اس شخص کے حال پر غور بھی کیا جس نے اپنے نفس کی خواہش کو اپنا اللہ بنا لیا ہے؟ کیا تم ایسے  شخص کی نگرانی کرسکتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے بہت سے لوگ سنتے اورسمجھتے ہیں؟ ہر گز نہیں  ، یہ تو جانور وں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ۔’’ ( 25:43،44)

نفس کے بندے کا جانوروں سے بد تر ہونا ایسی  بات ہے جس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ کوئی جانور آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھتا ہو ۔ ہر جانور وہی چیز  کھاتا ہے جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کی ہے ۔ اسی قدر کھاتاہے جس قدر اس کے لئے مقرر کی ہے اور جتنے کام جس جانور کے لئے مقرر ہیں بس  اتنے ہی کرتاہے ۔ مگر یہ انسان ایسا جانور ہے  کہ جب یہ اپنی خواہش کا بندہ بنتا ہے تو وہ حرکتیں کر گزرتا ہے کہ اس سے شیطان بھی پناہ مانگے ۔

باپ دادا کی اندھی  پیروی  یہ تو گمراہی کے آنے کاپہلا راستہ  ہے ۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ باپ دادا  سے جو رسم و رواج جو عقیدے اور خیالات ، جو رنگ ڈھنگ چلے آرہے ہوں ، آدمی ان کاغلام بن جائے اور اللہ کے حکم سے بڑھ کر ان کو سمجھے، اور اگر ان کے خلاف اللہ کا حکم اس کے سامنے پیش کیا جائے تو کہے کہ میں تو وہی کروں گا جو میرے باپ دادا کرتے تھے اور جو میرے  خاندان اور قبیلے کا رواج ہے ۔ جو شخص اس مرض میں مبتلا ہے وہ اللہ کا بندہ کب ہوا ۔ اس کے تو اللہ اس کے باپ دادا اور اس کے خاندان اور قبیلے کے لوگ ہیں ۔ اس یہ  جھوٹا دعویٰ کرنے کا حق ہے کہ میں مسلمان ہوں؟ قرآن کریم  میں اس پر بھی سختی کے ساتھ تنبیہ کی گئی ہے ۔ ‘‘ اور جب کبھی ان سے کہا گیا کہ جو حکم اللہ نے بھیجا  ہے اس کی پیروی  کرو، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اس بات کی پیروی کریں گے جو ہمیں باپ دادا  سے ملی ہے ۔ اگر ان کے باپ دادا  کسی بات کو نہ سمجھتے  ہوں اور راہِ راست پر نہ ہوں تو کیا یہ پھر بھی انہی  کی پیروی کئے چلے  جائیں گے ؟ ’’ (2:170)

دوسری جگہ فرمایا :۔ ‘‘ اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ اس فرمان کی طرف جو اللہ نے بھیجا ہے اور آؤ رسول کے طریقے کی طرف ، تو انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔ کیا  یہ باپ دادا ہی کی پیروی  کے چلے جائیں گے چاہے ان کو کسی بات کا علم نہ ہو اور وہ سیدھے راستے پر  نہ ہوں؟ اے ایمان والو! تم کو اپنی فکر ہونی ہی چاہئے اگر تم سیدھے راستے پر لگ جاؤ تو کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہیں  کوئی نقصان  نہیں ہوگا، پھر آخر کار سب کو اللہ کی طرف واپس جانا ہے ۔ اس وقت اللہ تم کو تمہارے اعمال کو نیک و بد سب کچھ بتادے گا’’۔ (5:104،105) یہ ایسی گمراہی ہے جس میں تقریباً ہر زمانے کے جاہل لوگ مبتلا رہے ہیں، او رہمیشہ  اللہ کے رسولوں کی ہدایت کو ماننے سے یہی چیز انسان کو روکتی ہے ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جب لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا تھا، اس وقت بھی لوگوں نے یہی کہا تھا : ‘‘ کیا تم ہمیں اس راستے سے ہٹانا چاہتا ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔’’ ( 10:78) سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے قبیلے والوں کو شرک سے روکا تو انہوں نے بھی یہی کہا  تھا ۔ ‘‘ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی خداؤں کی بندگی کرتے ہوئے دیکھا ہے ’’۔ ( 21:53) غرض اسی طرح ہر نبی کے مقابلے میں لوگوں نے یہی حجت پیش کی ہے کہ تم جو کہتے ہو یہ ہمارے باپ دادا  کے طریقے  کے خلاف  ہے اس لئے ہم اسےنہیں مانتے ۔

چنانچہ قرآن میں ہے :  ‘‘ ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ جب کبھی ہم نے کسی بستی  میں کسی آگاہ کرنے والے یعنی پیغمبر کو بھیجا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نےاپنے باپ دادا  کو ایک طریقے  پر پایا ہے اور ہم انہی  کے قدم بہ قدم چل رہے ہیں ۔ پیغمبر  نے ان سے کہا، اگر میں اس سے بہتر بات بتاؤں تو کیا پھر بھی تم باپ دادا ہی کی پیروی کئے چلے جاؤ گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس بات کو نہیں مانتے جو تم لے کر آئے ہو۔ پس جب انہوں نے یہ جواب دیا تو ہم نے بھی ان کو خوب  سزادی اور اب دیکھ لو کہ ہمارے احکام کو جھٹلا نے والوں  کا کیا انجام ہوا ہے ۔’’ ( 43:23،25)

یہ سب کچھ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یا  تو باپ دادا ہی کی پیروی کر لو یا پھر ہمارے ہی حکم کی پیروی کرو۔ یہ دونوں  باتیں ایک ساتھ نہیں  ہو سکتیں ۔ مسلمان ہونا چاہتے ہو تو سب کو چھوڑ کر صرف اُس کی بات مانو جو ہم نے بتائی ہے ۔

‘‘ جب ان سے کہا گیا کہ اُس حکم کی پیروی کرو جو اللہ نے بھیجا ہے تو انہوں نے کہاکہ نہیں  ہم تو اس بات کی پیروی  کریں گے جس پر  ہم نے اپنے باپ دادا  کو پایا ہے، چاہے شیطان  ان کو عذاب جہنم ہی کی طرف کیوں نہ بلا رہا ہو۔ جو کوئی  اپنے آپ کو بالکل  اللہ کے سپرد کردے اور نیکوکار ہو تو اس نے مضبوط رسی تھام  لی اور آخر  کار تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں،  اور جس نے اس سے انکار کیا تو اے نبی تم کو اس کے انکار سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت  نہیں ۔ وہ سب ہماری طرف واپس آنے  والے ہیں پھر ہم انہیں  ان کے اعمال  کا نتیجہ  دکھادیں گے ’’۔ ( 31:21،23)

غیر اللہ کی اطاعت یہ گمراہی  کے آنے کا دوسرا راستہ  تھا ۔ تیسرا  راستہ قرآن  نے یہ بتایا  کہ انسان  جب اللہ کے حکم کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کے حکم کو ماننے لگتا  ہے او ریہ خیا ل کرتا ہے کہ فلاں شخص بڑا آدمی ہے ، اس کی بات سچی ہوگی ، یا فلاں شخص کے ہاتھ میں میری روزی ہے اس لئے اس کی بات سننی چاہئے ، یا فلاں شخص بڑا صاحب اقتدار ہے اس لئے اس کی فرمانبرداری  کرنی چاہئے، یا فلاں صاحب اپنی بد دعا سےمجھے تباہ کریں گے یا اپنے ساتھ جنت  میں لے جائیں گے ۔ ‘‘ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (5:44) الظَّالِمُونَ (5:45) الْفَاسِقُونَ (5:47)  جو شخص اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق فیصلہ ( حکم )نہ کرے تو ایسے ہی لوگ کافر، ظالم اور فاسق ہیں۔ یہ تینوں آیات کریمات سورہ مائدہ کی ہیں ۔ ان تینوں آیات کریمات میں نہایت  تاکید اور  زور سے یہ بات واضح  کردی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق حکومت نہیں  چلاتے ، وہ کافر ، ظالم اور فاسق ہوتےہیں ۔ ہر وہ ملک جو قوانین الہٰی سے اعراض کرکے، اپنے  وضع کردہ قوانین کے مطابق حکومت چلائے گا ، اس ملک میں کفر، ظلم اور فسق تینوں  حالتیں  پائی جائیں گی ۔ یہی  ہے بنیاد ایک مسلم کی ۔ جو وہ کہیں وہی صحیح ہے ، یا فلاں قوم بڑی ترقی کررہی ہے، اس کے طریقے اختیار کرنے چاہئیں ، تو ایسے شخص پر اللہ  کی ہدایت  کا راستہ بند  ہوجاتا ہے ۔ تو نے ان بہت سے لوگوں کی اطاعت کی جو زمین میں رہتے  ہیں تو وہ تجھ  کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے ۔’’ ( 6:116) یعنی  آدمی سیدھی راستے پر اس وقت ہوسکتا ہے جب اس کا ایک اللہ ہو ۔ سینکڑوں اور ہزاروں اللہ جس نے بنا لئے ہوں، اور جو کبھی  اس اللہ کے کہے پر اور کبھی اس اللہ کے کہے پر چلتا ہو، وہ راستہ  کہاں پاسکتا ہے ؟ اب آپ  کو معلوم ہو گیا ہوگا  کہ گمراہی  کے تین بڑے بڑے سبب ہیں۔

ایک نفس کی بندگی ۔ دوسرے باپ دادا، خاندان اور قبیلے کے رواجوں  کی بندگی ۔ تیسرے ، عام طور پر دنیا کے لوگوں کو بندگی جس میں دولت  مند لوگ ، اور حکام وقت اور بناوٹی  پیشوا اور گمراہ  قومیں  سب ہی شامل ہیں ۔

یہ تین بڑے بڑے بت ہیں جو خدائی کے دعوے  دار بنے ہوئے ہیں ۔ جو شخص مسلمان بنناچاہتا ہو ا س کی سب سے پہلے  ان تینوں  بتوں  کو توڑ نا چاہئے ۔  پھر وہ حقیقت میں مسلمان ہوجائے گا ۔ ورنہ جس  نے یہ تینوں  بت اپنے دل میں بٹھا رکھے ہوں اس کا بندہ ٔاللہ ہونامشکل ہے ۔ وہ دن میں پچاس وقت کی نماز یں پڑھ کر اور دکھاوے کے روزے رکھ کر او رمسلمانوں کی سی شکل بنا کر انسانوں کو دھوکا دے سکتاہے ، خود اپنے نفس کو بھی دھوکا دے سکتا ہے کہ میں پکا مسلمان ہوں، مگر اللہ کو دھوکا نہیں دے سکتا ۔ ان تین بتوں کی بندگی اصلی شرک ہے ۔آپ نے پتھر کے بت توڑ دیئے ۔ اینٹ اور چونے سے بنے ہوئے بت خانے ڈھا دئیے ۔ مگر سینوں  میں جو بت خانے بنے ہوئے ہیں ان کی طرف کم توجہ کی ۔ سب سے زیادہ  ضروری،بلکہ  مسلمان  ہونے  کے لئے اوّلین  شرط اور ان بتوں  کو توڑ نا ہے ۔ مجھے یقین  ہے کہ ساری دنیا  میں مسلمان جس قدر نقصان  اُٹھا رہے ہیں وہ انہی تین  بتوں کی پوجا کا نتیجہ  ہے ۔

حاصل مطالعہ ۔ یہ کہ جس کا جتنا  عمل قرآن پر ہے اتنا ہی وہ مسلمان ہے ۔

جنوری، 2014  بشکریہ : صوت الحق، کراچی

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/dr-shakeel-ahamd-khan/who-is-a-muslims?-مسلمان-کسے-کہتے-ہیں؟/d/76867

 

Loading..

Loading..