ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب
16 دسمبر،2022
پانچ دسمبر۲۰۲۲ء کو ہندوستان کے بڑے
سیاست دانوں میں سے ایک راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یاد و کے گردےکی
کامیاب پیوندکاری ہوئی۔ایک بار پھر بیٹی نے باپ کی زندگی بچا کراپنا نام ان بیٹیوں
کی فہرست میں شامل کرلیا جو والدین ہی اپنوں کےلئے دل، جگر سب کچھ نثار کرتی آرہی
ہیں۔ اس بار جس بیٹی نے بیٹوں پر سبقت لے جاتےہوئے جذبۂ ایثار پیش کیا ہے اس کا
نام ’روہنی اچاریہ‘ ہے ۔روہنی لالوپرساد یادو کی صاحبزادی ہیں جو سنگا پور میں
اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہیں،انہوں نے مختلف امراض سے متاثر اپنے والد کو موت سے
کراہتےہوئے دیکھا تو ان سے باپ کا یہ درد سہا نہیں گیا اور انہوں نے اپنی کڈنی باپ
کو عطیہ کرکے ان کی زندگی بچانے کی ٹھان لی اور پھر لالوپرساد اور اہل خانہ کو اس
پر راضی کرلیا۔کیوں کہ عام طورپر والدین اپنی بچیوں خاص کر شادی شدہ اولاد کے
اعضاء لینے سے انکار کردیتےہیں ۔اس کی وجہ صاف ہے،والدین کے سامنے بچیوں کی زندگی
، گھریلو مسائل ،دیگرذمہ داریاں اور بہت سےضروری امور ہوتےہیں جس کی وجہ سے وہ
انکارکردیتےہیں مگر یہاں پر روہنی نے نہ صرف والدین کو راضی کیا بلکہ اپنے شوہر
اور سسرال والوں کا دل بھی جیت لیا۔ بلاشبہ روہنی نے جو مثال پیش کی ہے وہ اس سماج
کے منھ پر کھلا طمانچہ ہے جو آج بھی لڑکیوں کو ثانوی درجہ کی چیز سمجھتےہیں اور
ہرمعاملات میں لڑکوں کو فوقیت دے کر بیٹی کے دل کو چھلنی کرنے سے باز نہیں
آتے،پھر بھی بیٹیاں امتیازی سلوک کا یہ زہر بخوشی پی جاتی ہیں۔
ہندوستان ہی نہیں دنیاکے
کسی بھی خطے میں جب بھی اعضاءکے عطیہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو سب سے پہلے اپنےعزیز
واقارب کی زندگی کو بچانے کے لئے خواتین ہی آگے آتی ہیں۔اب وہ بیٹی ہو کہ
بیوی،ماں ہوکہ بہن یا پھر دادی نانی ،ہوتی خواتین ہی ہیں۔یہ اس سماج کا کڑواسچ
ہےکہ جس اولاد نرینہ کے لئے وہ سب کچھ قربان کردیتےہیں،اپنی خوشی اپنا غم سب کچھ
قربان کردیتےہیں ، برے وقت میں وہی ساتھ چھوڑدیتا ہے۔جبکہ بیٹیاں نہ صرف برے وقت
میں بلکہ بڑھاپے میں بھی والدین کا سہارا بننے میں فخرمحسوس کرتی ہیں۔اپنے والدین
کی خوشیوں کے لئے سب کچھ وار کردیتی ہیں۔اگر اس کا بس چلے تو وہ دنیا کی ساری
خوشیاں اپنے والدین کے قدموں میں نچھارو کردے،اس کے باوجود بیٹیاں سب سے زیادہ
استحصال،بے اعتنائی ،امتیازی سلوک اور عدم توجہی کا شکار ہوتی ہیں،اس کی ایک دو
نہیں کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں جس میں سچائی کم انا،غیرت،تکبر ،گھمنڈ اور جھوٹی
شان زیادہ ہوتی ہے۔دوسری طرف نالائق اور بگڑی اولاد کو بھی مرتے دم تک سرآنکھوں
پر بٹھانےکی غلط روش آج بھی سماج کا حصہ ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہےکہ جب کبھی بیٹیوں
کو موقع ملا ،انہوں نے اپنی صلاحیت اور جدوجہد ،محبت و خلوص ،اخلاق و کردار ،تعلیم
و تربیت سے یہ ثابت کردیاہےکہ وہ بیٹوں سے کسی بھی طرح کم نہیں بلکہ بہت
آگےہیں۔اس لئے یہ تصور کہ بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں سراسر غلط ہے،بٹیاں قدرت کا انمول
تحفہ ہیں۔
بیٹیاں دنیا کے تمام
چیلنجوں کا سامنا کرتےہوئے زندگی کے کٹھن اور دشوارترین سفر میں اپنوں کے لئے درد
کا مدوا بن جاتی ہیں۔اگر یہ کہاجائے توغلط نہیں ہوگا کہ پیدائش سے لے کر جوانی اور
بڑھانے تک تعصبانہ رویہ کا سامنا کرنے والی عورت ہر قدم پر اپنوں کا سہارابننے کی
بے لوث کوشش کرتی ہے۔کبھی ماں بن کر،کبھی بہن اور بیٹی بن کرتو کبھی شریک سفربن کر
ان کی زندگی کو خوشیوں کا گلدستہ بنانے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔ آج بھی جب ایک
باپ کو گردے کی ضرورت پڑی تو روہنی اچاریہ سامنے آئی۔یوں اس نے خواتین کی قربانی
پیش کرنے کی مثال کو قائم رکھا ۔ اسی لئے ملک ہی نہیں دنیا بھر اس کی قربانی اور
جذبے کو سلام پیش کیا گیا۔مبارکبادی اور ستائش کا یہ سلسلہ جاری ہے اور میں سمجھتا
ہوں کہ جب تک لالویادو زندہ رہیں گے روہنی کا دل ان کے اندردھڑکتا رہےگا اور وہ دل
سے دعائیں دیتےر ہیں گے۔
اسلام کے علاوہ دوسرے
مذاہب میں خواتین کو اس کا مقام دینا تو دور اسےمنحوس سمجھا جاتا رہا ہے۔ان مذاہب
کی تعلیم بھی تعصبات پر مبنی ہیں۔کسی مذہب نے عورت کو برائی‘ تو کسی نے تمام
برائیوں کا سرچشمہ قرار دیا۔کسی نے عورت کے وجودہی کو باعث نحوست قرار دیا تاہم
اسلام نے بیٹیوں کوجو اعلیٰ مقام و مرتبہ
دیا ہے اس کی دوسرے مذاہب میں نظیر نہیں ملتی۔اس کے باوجود مسلم معاشرے میں بھی
لڑکیوں کو کم آزمائشوں سے نہیں گزرناپڑتا۔اس کی پیدائش سے ہی آزمائش کا سلسلہ
شروع ہوجاتاہے۔ کم ظرف والدین کے جسم پر اوس پڑجاتی ہے،چہرہ فق پڑجاتا ہے اور
اداسی چھا جاتی ہے۔یہ تو اس سماج کا حال ہے جس میں لڑکیوں کو رحمت بتایاگیاہے
اورجس کی پیدائش و پرورش پر جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ یہ عمل قبیح مسلم معاشرے میں
موجود ہے کہ جب کسی کے گھر میں بیٹا پیدا ہوتا ہے تو ہر فرد خوشیوں سے جھوم اٹھتا
ہے ،مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں لیکن جب اسی گھر میں بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے تو پورے
خاندان میں خاموشی چھا جاتی ہے اورسب کی پیشانیوں پر بل پڑجاتے ہیں، جیسے سب کو
سانپ نے سونگھ لیاہو۔یہی نہیں کچھ لوگ تو اتنے گرجاتےہیں کہ بچیوں کی آمد پر
عورتوں پر ظلم و زیادتی سے بھی باز نہیں آتے، بلکہ رشتے ختم کر لیتےہیں ۔یہ جانتے
ہوئے کہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں۔
بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی
طرف سے عطا کی گئی رحمت،محبت و شفقت کا پیکر ہوتی ہیں۔اس لئے ہمیشہ ان کے ساتھ
نرمی سے پیش آنا چاہیے۔پیغمبراسلام محمدؐ نے بچیوں کی ولادت اور اس کی بہترین
پرورش و پرداخت پر جنت کی بشارت دی ہے۔اس لئے اس کی تعلیم میں تربیت پر کامل توجہ
دینی چاہئے۔اس کے ساتھ ایسا کوئی امتیازی سلوک روانہ رکھا جائے کہ وہ احساس کمتری
کا شکار ہو کربے بس بن جائے اور اپنے ارمانوں کا گلا گھونٹ دے۔غور کریں کہ آج
بیٹیاں تعلیم ہی نہیں زندگی کے ہر شعبے میں بلندیوں کو چھو رہی ہیں،والدین ،خاندان
اور ملک و سماج کا نام روشن کررہی ہیں۔اس نے اپنی صلاحیتوں اور خلوص و لگن سے یہ
ثابت کردیاہے کہ وہ واقعی انمول ہیں۔ا س لئے کہ جب کبھی معاشرتی زندگی میں کسی
آزمائش کی گھڑی آن پڑتی ہے تو سب سے پہلےدرد کا مرہم عورت ہی بنتی ہے۔ بچیوں کی
ہنسی ویران گھرانے کو بھی خوشیوں کا چمن بنادیتی ہے۔
گزشتہ ۲۰؍سال
کے اعدادوشمار پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اعضاء عطیہ کرنے والوں
میں۷۵؍
سے۸۰؍
فیصد خواتین تھیں۔ دوسری طرف۷۵؍
سے۸۰؍
فیصد وصول کنندگان یعنی اعضاء کی پیوند کاری کرانے والے مرد تھے۔ گردے کی پیوند
کاری کے ڈیٹا پر بھی تحقیق کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہےکہ جن جوڑوں نے زندہ رہتے
ہوئے اعضاء عطیہ کیے ان میں ۹۰؍
فیصد خواتین تھیں۔یہ اور بات ہےکہ زیادہ تر کیسیز میں لینے اور دینے والے میاں
بیوی تھے مگر ان میں بھی ۹۰؍فیصدڈونر
بیوی تھیں جبکہ محض ۱۰؍فیصدڈونر
شوہر تھے۔یہ بھی معاشرے کا کڑوا سچ ہےکہ اگر کسی مرد کو گردے کی ضرورت ہو تو
خاندان کی پہلی پسند بیوی یا ماں ہوتی ہے۔ پھربیٹی یا بہن کی طرف ذہن جاتا ہے۔یہ
معاملہ صرف گردے کی پیوند کاری تک ہی محدودنہیں بلکہ پھیپھڑوں، جگر، دل وغیرہ کے ٹرانسپلانٹ میں بھی زیادہ تر خواتین ہی ڈونر رہی ہیں۔
16 دسمبر،2022، بشکریہ: انقلاب،نئی
دہلی
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic
Website, African
Muslim News, Arab
World News, South
Asia News, Indian
Muslim News, World
Muslim News, Women
in Islam, Islamic
Feminism, Arab
Women, Women
In Arab, Islamophobia
in America, Muslim
Women in West, Islam
Women and Feminism