New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:47 AM

Urdu Section ( 18 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

Muhajireen, According to Quran مہاجرین بمطابق قرآن

 

 

 

ڈاکٹر شہاب عالم

ہر آدمی کے اندر مختلف حالات کے تحت اس کا ایک مائنڈسیٹ یا ایک ذہنی سانچہ بن جاتا ہے ۔ آدمی اسی کے مطابق سوچتا ہے، آدمی اسی کے مطابق رائے بناتا ہے۔ حقیقت خواہ بظاہر کچھ اور ہو لیکن آدمی کے ذہن میں چیزوں کے بارے میں وہی تصویر بنتی ہے جو اس کے اپنے ذہنی سانچے کے مطابق ہو۔ انسان کے بارے میں یہ حقیقت قرآن میں یو ں بیان کی گئی ہے قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًا (84۔17) اور ہر ایک کوئی عمل کرتا ہےاپنے شکل پر پس تمہارا رب اس کو خوب جانتا ہے جو خوب ہدایت والے راستے پر ہے۔ یعنی علم الہی میں کسی چیز کی نوعیت خواہ کچھ ہو لیکن انسان اپنے خود ساختہ شاکلہ (Mind Set) کے مطابق چیزوں کے بارے میں رائے قائم کر لیتا ہے ۔ اس کمزوری سےوہی شخص بچ سکتا ہے جو اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ لفظوں کو اللہ کی نظر سے دیکھ سکے ۔انسان ایک سماجی مخلوق ہے ۔ دنیا میں ہر آدمی ایک سماجی ماحول میں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ اس ماحول میں ہر وقت روز آنہ مختلف قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔ انسان خواہ چاہے یا نہ چاہے وہ اپنے ماحول سے اثر قبول کرتا رہتا ہے ۔ اس طرح ہر انسان کاکیس ایک متاثر ذہن کاکیس بن جاتا ہے۔ یہ مثاتر ذہن دھیرے دھیرے اتنا پختہ ہوجاتا ہے کہ آدمی اسی کو درست سمجھنے لگتا ہے ۔ اسی سوچ کے تحت موجود ہ مسلمانوں نے قرآن کو سمجھنے میں بڑی غلطیاں کی ہیں ۔ وہ اپنی اصلاح کو تیار نہیں ہیں اور اکابرین کے کیے گئے ترجموں کو حرف آخر سمجھ بیٹھے ہیں ۔ مثال کے طور پر آج میں ایک لفظ مہاجرین کو لے رہا ہوں ۔ دنیا میں بے انتہا مہاجرین مثلاً فلسطینی ، ہندوستانی ، بہاری، فغانی، چیچنی ، بوسنیائی ، برمی ، عراقی، ایرانی، کروشیائی اور شامی وغیرہ پھیلے ہوئے ہیں ۔ کیا یہ مہاجرین قرآن کے مطابق مہاجرین کہلانے کے حقدار ہیں؟ آئیے آج قرآن سے اس کاجواب تلاش کرتے ہیں ۔

مہاجرین کا مادہ ‘‘ہجر’’ ہے۔ اس مادہ سے قرآن میں 32 آیتیں ہیں ۔ اگر تمام آیتوں کو لیا جائے تو مضمون بہت زیادہ طویل ہوجائے گا ۔ لہٰذا میں صرف ان آیتوں کو لونگا جس میں لفظ مہاجرین اور مہاجر استعمال ہوا ہے ۔ یہ لفظ قرآن میں سات (7) بار آیا ہے۔ جو کہ یہ ہیں : 8۔59، 6۔33، 26۔29، 22۔24، 117، 100۔9، 100۔4 اب آئیے ایک ایک آیت کو بتدریج سمجھتے ہیں ۔

آئیے اب اس لفظ کو قرآن کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ کسی لفظ کو سمجھنے کے لئے دو (2) بنیاد ہیں:

(1) تصریف آیا                        (اکثر تصریف آیات کے ذریعہ معنی کی وضاحت ہو جاتی ہے۔)

(2) لغات                                ( لغات سے معنی لے کر کوئی ایک لفظ جو اپنے بنیادی معنی تبدیل کیے بغیر قرآن میں ہر جگہ اپنی بات سمجھا دے)

سورۃ عنکبوت میں حضرت لوط ماننے کےبعد کہہ رہے ہیں ‘ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں’ ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ لوط اپنے ہر اس عمل سےہجرت کو (چھوڑ) رہے ہیں جو اللہ کے احکام کے خلاف ہے۔ یہ کسی سر زمین کی طرف اپنی جان بچانے یا اپنے تحفظ کےلیے مہاجرین نہیں بن رہے ہیں ۔ آئیے اس معنی کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ۔

اب آئیے ایک ایک کر کے ان آیتوں پر غور کرتے ہیں ۔ طوالت کے خوف سے میں صرف ایک ترجمہ محترم فتح محمد خان جالندھر ی والا لےر ہا ہوں جو کہ میں نمبر (1) میں درج کررہا ہوں ۔ آپ چاہیں تو کوئی سا بھی ترجمہ اپنے سامنے رکھ سکتے ہیں ۔ نمبر (2) کے تحت قرآن کے مطابق ترجمہ پیش خدمت ہے۔

وَمَن يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً ۚ وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (100۔4)

(1) اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی جگہ او رکشائش پائے گا۔ او رجو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سےنکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے۔ تو اس کا ثواب خدا کےذمہ ہوچکا ۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

 (2) اور جو اللہ کے راستے میں یہ چھوڑ ے وہ زمین میں بہت ناپسندندگی اور وسعت پائے گا۔ اور جو اپنی کتابوں میں سے چھوڑتے ہوئے اللہ کی طرف یعنی اس کے پیغام کےذریعہ نکل جائے پھر اسے مردنی کا ادراک ہوجائے پس یقینی اس کا اجر ( نتیجہ / بدلہ) اللہ پر واقع ہوگیا ۔ اور اللہ حفاظت کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (100۔9)

(1) جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سےبھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کےلئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ( اور ) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

(2) اور پہلے پہلے سبقت کرنے والے چھوڑ دینے والوں اور مدد گاروں میں سے اور جن لوگوں نےاحسان (حسن کارانہ، تناسب و توازن کو قائم رکھنے) پر ان کی اتباع (پیچھے چلے) کیا اللہ ان کے بارے میں راضی ہوا اور وہ اس کے بارے میں راضی ہوئے اور ان کےلئے خوشحالی تیار کیا تم پر اس کے تحت سے فراوانی جاری رہے گی اس میں لا محدود مدت تک ہمیشہ رہیں گے ۔ وہی انتہا ئی کامیابی ہے۔

لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (117۔9)

(1) بے شک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اورمہاجرین اور انصار پرجو باوجود اس کےکہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے مشکل کیے گھڑی میں پیغمبر کےساتھ رہے ۔ پھر خدا نےان پر مہربانی فرمائی ۔ بے شک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا ( اور ) مہربان ہے۔

( 2)یقیناً اللہ نبی ( خبر دینے والے) پر او رمہاجرین ( چھوڑ دینے والے) پر اور انصار ( مددگار بن جانے والے) پر متوجہ ہوا جن لوگوں نے تنگی ( سختی) کے لمحہ میں اس کی اتباع کی ( پیچھے چلے) اس کے بعد جو کہ قریب تھا ان میں سے ایک فریق (گروہ) کے دلوں میں ٹیڑھ پن ( باطل کی طرف جھکاؤ) تھا پھر ان پر متوجہ ہوا ۔ بے شک وہ ان پر شفقت والا رحم کرنے والا ہے۔

وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (22۔24)

(1) اور جو لوگ تم میں صاحب (فضل اور صاحب) وسعت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دینگے ۔ ان کو چاہئے کہ معاف کردیں اور در گزر کریں کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے؟ اور خدا تو بخشنے والامہربان ہے۔

(2) اورتم میں سے فضل کی قوت والے اور کوشش والے طاقت رکھتے ہوئے کمی نہیں کرتے یہ کہ وہ قریبی قوت والوں اور ٹھراؤ (سکونت) والوں اور اللہ کے راستے میں چھوڑ نے والوں کو دیں ۔ اور وہ عافیت دیں اور در گزر کریں ۔ کیا تم محبت نہیں کرتے ہو یہ کہ اللہ تمہارے لئے حفاظت کرے؟ اور اللہ حفاظت کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔

فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم (26۔29)

(1) پس ان پر (ایک) لوط ایمان لائے اور ( ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ۔ بے شک وہ غالب حکمت والا ہے۔

(2) پس اس کےلئے لوط نے مان لیا او رکہا بے شک میں اپنے رب کی طرف مہاجر (چھوڑنےوالا) ہو رہا ہوں بے شک وہ وہی غالب حکم دینے والا ہے۔

النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ۗ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا (6۔33)

(1) پیغمبر مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں ان کی مائیں ہیں ۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب اللہ کی رو سے مسلمانوں اور مہاجروں سے ایک دوسرے ( کے تر کے) کے زیادہ حقدار ہیں ۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو (تو اور بات ہے) ۔ یہ حکم کتاب (یعنی قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے۔

(2) خبر دینے والا ماننے والوں پر ان کی نفسیات سے زیادہ نزدیک ہے اور اس کے ساتھی اس کے ماخذ والے ہیں ۔ اور رحم کی قوت والے ان کے بعض بعض پر اللہ کی کتاب (قانون) میں ماننے والوں اور چھوڑ دینے والوں سے زیادہ نزدیک ہیں سوائے یہ کہ تمہارا فعل (عمل) ہو تمہاری نزدیکی کی طرف پہچان کروائی ہوئی ۔ اور وہی الکتاب کی سطروں میں (لکھا ہوا) ہے۔

لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (8۔59)

(1) اور ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں او رمالوں سے خارج ( اور جدا) کردئے گئے ہیں ۔ ( اور ) خدا کےفضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور ا س کے پیغمبر کے مددگار ہیں ۔ یہی لوگ سچے (ایماندار ) ہیں۔

(2) چھوڑ دینے والے تنگ دست لوگوں کے لئے جو اپنے ٹھکانوں ( گھروں) سے اور اپنے مالوں سے خارج (نکالے) کئے گئے وہ اللہ کے فضل میں سے تلاش کرتےہیں ،یعنی اسے راضی کرنا اور وہ اللہ اس کا پیغام دینے والے کے مددگار بن جاتے ہیں ۔ یہی لوگ وہی سچوں میں سے ہیں۔

دونوں ترجمہ آپ کے پیش خدمت ہے۔ کیا اب آپ خود ہی غور و فکر یعنی تذبر کریں گے؟

آج کے دور میں اللہ رب العالمین کو ماننے یا ثابت کرنے والا بھی اتنا ہی گمراہ ہےجتناکہ اللہ کا انکار کرنے والا ۔ ہمارا وہ دین جسے اللہ نے الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (3۔5) آج کے دورانیہ میں تمہارے لئے میں نے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت مکمل کردیا اور میں نے تمہارے لئے سلامتی والے نظام کو پسند کرلیا ۔یہ کہہ کر مکمل کردیا۔ ہمارے پاس وہ قرآن جس کی حفاظت خود اللہ نے اپنے ذمہ لیا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (9۔15) بے شک ہم نے اس یاد دہانی کو نازل کیا ہے اور بے شک ہم ہی اس کےلئے حفاظت کرنے والے ہیں ۔ جو مکمل او رمحفوظ ایساکہ اللہ کاکلام ہو کر بھی اس میں لفظ اللہ کا اضافہ بھی کیا جاسکے ۔ جس کا رہتی دنیا تک کےلئے کھلا چیلنج کہ کوئی ایسی ایک سورت بنا کر دکھائے أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (38۔10) یا وہ یہ کہتے ہیں اسے گھڑ لیا ہے کہو پس اس جیسی کوئی ایک سورت دو اور اللہ کےعلاوہ سےجو تم استطاعت رکھتے ہو اسے پکار لو اگر تم سچوں میں سے ہو۔

قرآن ہر زمانے کےلئے ہے اس سے ہر زمانے میں رہنمائی لی جائے گی ۔ ذرا عظمت قرآن توملاحظہ ہوکہ وہ مغرب جس نے پہلے قرآن سے انکار کیا اور پھر اس انکار پر مصر مغرب اپنے بہترین دماغ اور سب وسائل جھونک کر بھی نہ صرف ناکام ہوا بلکہ الٹا معترف قرآن ہوا۔ جاننا چاہتے ہیں کیسے تو وہ ایسے جب قرآن نے کہا وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (19۔10) او رلوگ صرف ایک ہی ماخذ والے تھے پس انہوں نے اختلاف کیااور اگر تمہارے رب کی بات پہلے سےنہیں ہوتی ضرور ان کے درمیان مکمل (فیصلہ) کردیتا اس میں جس میں وہ اختلاف کیاکرتے ہیں ۔ یعنی اس زمین میں شروع میں سب مواحد تھے بت پرستی بعد میں شروع ہوئی (مطلب نہ صرف خوف اور آسیب بعد میں مجسم ہوئے بلکہ چھ سات یونانی اور لاکھوں ہندوستانی دیوتاؤں کی زندگیاں بھی بعد میں شروع ہوئی) تو مغربی بابے اسے غلط ثابت کرنے کےلئے سر جوڑ کر بیٹھ گئے پھر انسانی تاریخ کا ایک ایک لمحہ کھنگال کر تھکے ہارے ڈاکٹر اسمتھ کو ایک دن یہ کہنا ہی پڑ گیا کہ واقعی ابتدائی انسان ایک اللہ کی عبادت کرتا تھا:۔میکس ٹائر کو ماننا ہی پڑ گیا کہ ہاں شروع کےانسان میں صرف خدا ئے واحد کا تصورملتا ہے ۔ قصہ ہاپکن کی تھیوریاں ہوں یا واٹسن کے تھیسسز ۔ برگساں اور ایلان و تال کا فلسفہ Stream of consciousness یا نشٹے کا نظریہ Recurrent life ۔ اب نہ چاہتے ہوئے بھی مغرب کا رجوع قرآن کی طرف اور یہ بھی سن لیں کہ وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (47۔51) اور آسمان کو ہم نے اپنی قوت پر بنایا او ربے شک ہم ہی ضرور اس کو وسعت دیتے ہیں ۔ یہ ایک آیت جہاں ایڈون حبل اور اسٹیفن ہاکنگ کی تحقیق کی بنیاد وہاں یہی آیت آئین اسٹائین کی عمر بھر کی ریاضت کا حاصل بھی۔ تب ہی تو ‘‘سائنس کے بغیر مذہب اندھا ہے’’ کہنے والا آئین اسٹائین بولا ‘‘مذہب کے بغیر سائنس لنگڑی ہے’’ ۔ اور یہی مغربی تحقیق داں یہ بھی مان چکے إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (2۔76) بے شک ہم نے انسان کو دہرے مخلوط نطفہ (جراثیم) سے پیدا کیا کہ ہم اسے آزمائیں پس ہم نے اسے سننے والا بصیرت والا بنا دیا ۔ قرآن کا یہ بتانا کہ انسان کو دہرے مخلوط جرثومہ سے پیدا کیا گیا ۔ پھر قرآن کا یہ بتانا ۔ ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (11۔41) پھر آسمان کی طرف متوجہ (برابر) ہوا وہی دھواں تھا پس کہا اس کے لئے اور زمین کےلئے تم دونوں خوشی سےآؤ یا نا خوشی سے دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں ۔ یعنی قرآن کا یہ بتانا کہ آسمان اور زمین جڑ ے ہوئے تھے یہ تو اللہ نےانہیں ایک دوسرے سے جدا کیا مغربی تھیوری بگ بینگ ( Big Bang) تو بہت بعد میں آئی ۔ یہ تو صرف چند مثالیں ہیں لیکن یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف مغرب انکار کرکے بھی جب قرآن کےمطابق وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (191۔3) کے راستے پر چلا تو ان کےلئے ہر روز ایک نیا دروازہ کھلا اور دوسری طرف ہم پیدائشی قرآن کے ماننے والے اپنے ذہنی نفاق کی وجہ سے ابھی تک کہیں تدبذب (confuse) تو کہیں شدت پسندی بے لوچ ( Rigid) ۔ اور مغرب کے لئے قرآن معرفت و حکمت کا ایک جہاں جب کہ ہمارے لئے قرآن یا تو قرآن خوانیوں کے لئے یا پھر صرف ( Refrence to Allah) اللہ کی سند کے طور پر ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے پاس کتاب تو ہے مگر کتاب کا وہ علم نہیں کہ جس علم کی بدولت اللہ کے رسول اور ان کے رفقاء نے دنیا کے لئے ایک مثالی معاشرہ بنا کر دیا۔

یہاں آپ سے پوچھنا صرف یہ ہے کہ ایسی کتاب کےہوتے ہوئے بھی ہم اتنی ڈھیر ساری بدنصیبیوں میں گھرے ہوئے کیوں ہیں؟ کبھی سوچا ہے؟ یقیناً نہیں سوچا ہوگا ، کیونکہ اگر سوچتے تو اس حال تک نہیں پہنچتے اور دوسرے یہ پتہ بھی چل جاتا کہ ہم وہ جو اللہ کو مان کر بھی اللہ کی نہیں مانتے ہیں ۔ ہم وہ جس کی نبی سے محبتیں ظاہری اور قولی ۔ ہم وہ جنہوں نے اسلام میں اتنے خود ساختہ اسلام کو ملا دیا کہ اب اصل اسلام ہی نہیں مل رہا ۔ ہم وہ جنہوں نے قرآن میں معنوی او رمطالب کی تحریفوں کی حد کر دی او رہم وہ جو ایک اللہ ایک رسول اور ایک قرآن کے ہوتے ہوئے بھی اونٹ کو نگل کر یوں مچھر چھان رہے ہیں کہ نہ وحدت ملت رہی او رنہ وحدت عمل ۔ نتیجہ اس شعر جیسا

یہ امت روایات میں کھو گئی                           حقیقت خرافات میں کھو گئی

مارچ 2016 بشکریہ: ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-shahab-alam/muhajireen,-according-to-quran--مہاجرین-بمطابق-قرآن/d/108592

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..