New Age Islam
Tue May 19 2026, 10:44 AM

Urdu Section ( 20 Nov 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Scholarly and Literary Services of Allama Shibli Naumani: A Study علامہ شبلی نعمانی کی علمی وادابی خدمات: ایک مطالعہ

ڈاکٹر شفیع الزماں

17 نومبر،2024

شبلی نعمانی ان لوگوں میں شا مل ہیں جو سرسید احمد خان کے اثر اور صحبت کی بدولت محدود اور تنگ حدود سے نکل کر ادب کے وسیع میدان میں آئے۔ انہوں نے اردو زبان میں اسلامی تاریخ کا صحیح ذوق عام کیا۔ تاریخ میں اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیات کے حالات زندگی قلم بند کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں کئی مشہور ہستیوں کے حالات آگئے۔ ان کی سب سے مشہور اور مقبول کتاب حضرت عمر فاروق کی سوانح ”الفاروق“ ہے۔ اس حوالے سے ان کی آخری تصنیف ”سیرت النبی“ تھی جو ان کی زندگی میں مکمل نہ ہوسکی تھی بعد میں ان کے شاگرد سید سلیمان ندوی نے اسے مکمل کرکے شائع کیا۔ ان تصانیف کے علاوہ شبلی نے بے شمار تاریخی اور تحقیقی مضامین لکھے جن سے تاریخ کے علم اور تاریخ نویسی میں عام دلچسپی پیدا ہوئی۔شبلی شاعر اور اعلیٰ درجے کے شاعری کے نقاد تھے اور انہیں اردو تنقید کے بانیوں میں شمار کیا جاتاہے۔ علی گڑھ کے قیام کے دوران انہوں نے پروفیسر آرنلڈ سے بھی استفادہ کیا اور ان کے توسط سے مغربی تہذیب اور اس کے سماجی آداب سے واقف ہوئے۔ شبلی نے اس تہذیب اور معاشرت کے خوبیوں کو قبول کیا اور مشرق تہذیب کے ساتھ ان کا متزاج بھی کیا۔اس امتزاج نے قدامت پسندوں کو ان سے بدظن کردیا یہاں تک کہ انہیں ندوہ سے بھی نکالا گیا۔

علامہ شبلی نعمانی

--------

شبلی نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی، لیکن دونوں زبانوں کی شاعری کامزاج مختلف ہے۔ شبلی کی فارسی شاعری میں گرم جوش عشقیہ مضامین ہیں جو عوام کی نظر سے کم ہی گزرتے ہیں۔ اردو میں انہوں نے عموماً قومی اور سیاسی شاعری کی ہے۔ ان کی فارسی شاعری کے بارے میں حالی نے کہا، ”کوئی کیسے مان سکتاہے کہ یہ اسی شخص کاکلام ہے جس نے سیرت النعمان، الفاروق اور سوانح مولانا روم جیسی مقدس کتابیں لکھی ہیں۔ غزلیں کچھ اس طرح ہیں کہ شراب دوآتشہ ہے، جس کے نشے میں خمارہ چشم ساقی بھی شامل ہے۔ غزلیات حافظ کا جو حصہ رندی او ربے باکی کے موضوعات پر مبنی ہے، ممکن ہے کہ اس کے الفاظ میں زیادہ دلکشی ہو، مگر خیالات کے اعتبار سے یہ غزلیں بہت زیادہ گرم ہیں“۔

شبلی 1857 میں اعظم گڑھ کے نزدیک بندول میں پیدا ہوئے، یہ لوگ دراصل راجپوت تھے۔ شبلی نے امام ابوحنیفہ سے تعلق ظاہر کرنے کے لئے اپنے نام کے ساتھ ”نعمانی“ لکھنا شروع کیا۔ ان کے والد اعظم گڑھ کے مشہور وکیل،بڑے زمیندار او رنیل و چینی کے تاجر تھے۔ انہوں نے شبلی کو دینی تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا۔ شبلی نے اپنے وقت کے نامور علماء سے فارسی، عربی، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم حاصل کیے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا نے کچھ عرصہ سرکاری ملازم کی حیثیت سے کام کیا، پھر وکالت کا امتحان دیا جس میں ناکام ہوئے،لیکن اگلے سال کامیاب ہوگئے۔ کچھ عرصہ مختلف جگہوں پر ناکام وکالت کرنے کے بعد مولانا کو علیگڑھ میں سرسید کے کالج میں عربی اور فارسی کے استاد کی ملازمت مل گئی۔ یہاں سے شبلی کی کامیابیوں کا سفر شروع ہوا۔ علی گڑھ کی ملازمت کے دوران ہی مولانا نے ترکی، شام اور مصر کا سفر کیا۔ ترکی میں سرسید کے ساتھی اور عربی فارسی کے عالم کے طور پر ان کا شاندار استقبال ہوا۔ عطیہ فیضی کے والد حسن آفندی کی سفارش پر،جو سلطان عبدالحمید کے دربار میں خاص رسوخ رکھتے تھے، انہیں ”تمغہ مجیدیہ“ سے نواز ا گیا۔واپسی پر انہوں نے ”المامون“ اور ”سیرت النعمان“ لکھیں۔ 1890 میں شبلی نے ایک بار پھر ترکی، لبنان اور فلسطین کا دورہ کیا اوروہاں کے کتب خانے دیکھے۔اس سفر سے واپسی پر انہوں نے ”الفاروق“ لکھی۔1898 میں سرسید کے انتقال کے بعد شبلی نے علی گڑھ چھوڑ دیا اور اعظم گڑھ واپس آکر اپنے قائم کردہ ”نیشنل اسکول“ (جواب شبلی کالج ہے) کی ترقی میں مصروف ہوگئے۔ پھر وہ حیدرآباد چلے گئے، جہاں چار سالہ قیام میں انہوں نے ”الغزالی“، ”علم الکلام“، ”الکلام”،”سوانح عمری مولانا روم“ اور”موازنہ انیس ودبیر“لکھیں۔ اس کے بعد وہ لکھنو آگئے جہاں انہوں نے ندوۃ العلماء کے تعلیمی امور سنبھالے۔ندوہ کی مصروفیات کے درمیان ہی انہوں نے ”شعر العجم“ لکھی۔ 1907 میں گھر میں بھری ہوئی بندوق اچانک چل جانے سے وہ اپنا ایک پیر کھو بیٹھے او ربقیہ زندگی لکڑی کے پیر کے ساتھ گزاری۔ مولانا نے دوشادیاں کیں، پہلی شادی کم عمری میں ہی ہوگئی تھی۔ پہلی بیوی کا 1895 میں انتقال ہوگیا۔ 1900 میں 43 سال کی عمر میں انہوں نے ایک کم عمر لڑکی سے دوسری شادی کی، جس کا 1905 میں انتقال ہوگیا۔ شبلی کا خواب تھا کہ بڑے بڑے علماء کو جمع کرکے علمی تحقیق واشاعت کاایک ادارہ ”دارالمصنفین“ کے نام سے قائم کیاجائے۔ انہو ں نے اس کا انتظام مکمل کرلیا تھا لیکن ادارے کا افتتاح ان کے وفات کے بعد ہی ممکن ہوا۔ مولانا کی کچھ سرگرمیوں کی وجہ سے ندوہ میں ان کی مخالفت بڑھ گئی تھی۔آخر انہیں اس ادارے سے جس کی ترقی کے لئے انہوں نے بڑی محنت کی تھی، علیحدہ ہونا پڑا۔ اعظم گڑھ آکر صحت گرنے لگی اور 18نومبر 1914 کو ان کا انتقال ہوگیا۔

شبلی کی گنتی اردو تنقید کے بانیوں میں ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی تنقید ی فکر کو اپنی دوبہترین کتابوں ”شعرالعجم“ اور”موازنہ انیس ودبیر“ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ”موازنہ“ میں شبلی نے مرثیہ نگاری کے فن کے بنیادی اصولوں کے ساتھ ساتھ فصاحت، بلاغت، تشیبہ، استعارہ اور دوسرے لسانی خصوصیات کی وضاحت کی ہے۔ ”شعر العجم“ میں انہوں نے شعر کی حیثیت اور فطرت او رلفظ ومعنی کے رشتے کو سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس میں اردو کی تمام کلاسیکی اصناف کا جائزہ لیا ہے۔ اس میں انہوں نے شاعری کے بنیادی عناصر، تاریخ وشعر کے فرق اور شاعری اور واقعہ نگاری کے فرق کو واضح کیا ہے۔

وہ شاعری کوذوقی او رجذباتی چیز سمجھتے تھے جس کی کوئی جامع اور حتمی تعریف ممکن نہیں۔ وہ محسوسات کے مقابلے میں جذبات اورحسیات کو شاعری کی اصل جان مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر چہ جذبات کے بغیر شاعری ممکن نہیں،مگر اس کا مطلب جوش یاہنگامہ برپا کرنا نہیں بلکہ جذبات میں زندگی اور شدت پیداکرنا ہے۔ وہ ہر اس چیز کو جو دل میں حیرت، جوش یا کوئی اور جذبہ پیدا کرے، شعر میں شمار کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے نزدیک آسمان، ستارے، صبح کی ہوا، کلیوں کی مسکراہٹ،بلبل کے نغمے، دشت کی ویرانی او ر چمن کی شادابی سب شعر میں شامل ہیں۔ اس طرح شبلی نے شعر کے حسی او رجمالیاتی پہلو پر زور دیا۔

لفظ ومعنی کی بحث میں ان کا جھکاو لفظ کی خوبصورتی او راس کے مناسب استعمال کی طرف ہے۔ وہ لفظ کو جسم اور معنی کو اس کی روح قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اعلیٰ معنی اعلیٰ الفاظ کے لباس میں سامنے آئیں تو زیادہ مؤثر ہوں گے۔ شبلی نعمانی کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انگریز حکومت نے انہیں ”شمش العماء“ کا خطاب دیاتھا۔ ان کی قائم کردہ ادارہ شبلی کالج اور دارالمصنفین آج بھی علم و تحقیق کے کاموں میں مصروف ہیں۔ اردو زبان شبلی کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

17 نومبر،2024،بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

---------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/scholarly-allama-shibli-naumani-literary/d/133765

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..