New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 07:19 AM

Urdu Section ( 4 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Islam is the Greatest Flag bearer of Religious Freedom اسلام مذہبی آزادی کا عظیم ترین علمبردار ہے

 

 

ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی

4 نومبر ، 2014

اسلام استدلالی و عقلی اور مبرہن و مدلل مذہب ہے۔ جسے مالک الملک نے ایک اصول و ضابطے کی شکل میں کائنات انسانی میں بسنے والے لوگوں کے لیے طے کرکے دنیا میں اتار دیا ہے۔ یہ انسان کے لیے زندگی کے تمام تر شعبہ جات میں اس  کی مکمل رہنمائی کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا، اس کی تبلیغ و دعوت کےاصول حکمت و دانشمندی ، وعظ و تلقین اور بحث و مباحثہ پر قائم ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو صحیفۂ ربانی ناز ل ہوا، اس نے سب سے پہلے عقل انسانی کو مخاطب کیا ۔ اور غور و فکر ، فہم و تدبر کی دعوت دی کہ اسلام اپنی کسی بھی تعلیم کو لوگوں پر زبردستی نہیں تھوپتا ہے۔ بلکہ وہ لوگوں کو غور و فکر کاموقع فراہم کرتاہے ۔ حق و باطل کے امتیاز کو واضح کرتا ہے ۔ ضلالت و گمراہی اور نجات و فلاح کے راستے سے لوگوں کو روشناس کراتا ہے  پھر یہ کہ جو مذہب اپنی ترویج و اشاعت کے لیے دعوت و تبلیغ ، ارشاد و تلقین کا راستہ اختیار کرنے اور سوچنے و سمجھنے کا لوگوں سےمطالبہ کرتا ہو، وہ بھی بھلا کیوں کسی مذہب کے پیروکاروں کو جبرا و کراہ کے ذریعہ اپنے مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کرے گا۔  اور زور زبردستی اختیار کرے گا۔ متعصبین اور معاند ین اسلام اس کی اشاعت کو فتوحات او رملکی محاربات کانتیجہ قرار دیتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے ان کی زبان نہیں تھک رہی ہے کہ ، اسلام کو بزور شمشیر پھیلایا گیا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ اسلام نےاپنی ذاتی خوبیوں اور محاسن سے لوگوں کو اپنا مطیع و فرماں بردار نہیں  بنایا بلکہ اپنی طاقت و قوت، جبروا کراہ کے ذریعہ دین اسلام کا قلادہ ان کی گردن میں ڈال دیا ہے ، اور اسی جبروا کراہ نے امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ رضا رغبت کالبادہ اوڑھ لیا ہے۔ لیکن ہم تعلیمات اسلام کی روشنی میں اس قسم کی مسموم ذہنیت رکھنے والوں  کےباطل خیالات کو پرکھیں گے، کہ قرآنی آیات اور تعلیمات  نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مذہبی آزادی کے سلسلہ میں کیا احکام و تعلیمات موجود ہیں اور اسلام کے ماننے والے ان تعلیمات پر کتناعمل پیرا ہوئے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کو طویل معرکہ آرائیوں سے سابقہ پڑا ہے۔ ان کے یہ محاربات جارحانہ ہوں یا مدافعانہ، فتوحاتِ ملکی کے لیے ہوں یا اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے، ان تمام محاربات و فتوحات کامقصد اور حاصل یہ نہ تھا کہ کسی کو بزورِ شمشیر اور حکومت و اقتدار کے بل بوتے پر مسلمان بنایا  جائے۔ اسلام نے تو صرف اور صرف اپنی خوبیوں اور محاسن سےعالم میں رسوخ اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس نے جس تیزی کے ساتھ اقوام و ملل کے اذہان و قلوب کو مسخر کیا اس طرح کی نظیر دوسرے مذاہب و ادیان میں دیکھنے کو نہیں  ملتی ہے ۔ یہ بات کہ اسلام میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے ، اس کو ثابت کرنے کے لیے شریعت اسلام کے اصول، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و خصائل ، اخلاق حمیدہ طریقہ تعلیم اور پھر آپ کےبعد آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ کے طرز عمل یہ ساری چیزیں تاریخ میں محفوظ  ہیں ۔ شریعت اسلام نے بہ زور خوف و ہراس کسی کو مسلمان بنانے کی سخت ممانعت کی ہے قرآن کی متعدد آیات اس بات پر شاہد عدل ہیں ۔

مفہوم : زبردستی نہیں ہے دین کے معاملہ میں بے شک جدا ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے اب جب کوئی نہ مانے گمراہی کرنے والو ں کو اور یقین لائے اللہ پر تو اس نے پکڑ لیا حلقۂ مضبوط جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ جاننے  او رسنتا ہے ۔ ( سورہ البقرہ :256)

اس میں کچھ تر دو و شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ مسلمانوں نے اس حکم خداوندی اور عہد نامۂ رسول کی پاسداری کی ہے بلکہ ان احکامات و معاہدایات کے مطیع و فرمانبردار بن کر رہے اور ان کا پورا پورا  حق ادا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفائے راشدین نے مختلف نامے تیار کیے ان میں ہمیں اسلام کی وسعت  نظری کا اندازہ  اور دریا دلی کا ثبوت ملتا ہے ۔ یہی  نہیں غیر اقوام کے  لوگوں نے بھی اس چیز کو تسلیم کیا ہے۔ کہ اسلام کس طرح سے غیر مذاہب کے لوگوں کا ادب احترام محفوظ رکھتا ہے انہیں کس طرح سےمذہبی آزادی ، معاشرتی و تجارتی آزادی کی چھوٹ دیتا ہے ۔ بطور مثال کچھ حقائق حوالہ قرطاس     کیے جاتے ہیں اہل نجران  کی درخواست پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انہیں صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے ۔

ترجمہ : نجران کے عیسائیوں اور ان کے ہمسایوں کے لیے پناہ اور اللہ کے رسول نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کاذمہ ہے۔ ان کی جانوں کے لیے ۔ ان کے مذہب ان کی زمین  ان کے اموال،  ان کے حاضرہ غائب ،ان کے اونٹوں ان کے قاصدوں ، اور ان کے مذہبی نشانات سب کے لیے جس حالات پر واہ اب تک ہیں اسی پر بحال رہیں گے۔ ان کے حقوق   میں سے کوئی حق اور نشانات میں سے کوئی نشان نہ بدلا جائے گا۔

ایک دفعہ حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ والی مصر کے بیٹےنے ایک غیر مسلم کو ناحق  سزادی۔ خلیفہ وقت امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب اس کی شکایت ہوئی تو انہوں نے سر عام گورنر مصر کے بیٹے کو اس غیر مسلم مصری سے سزا دلوائی اور ساتھ ہی فرمایا تم نےکب سے لوگوں کو اپناغلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کے کلیسا کے ایک گوشے میں نماز پڑھی پھر خیال آیا کہ کہیں مسلمان میری نماز کوحجت قرار دے کر عیسائیوں کو نکال نہ دیں اس لیے ایک خاص عہد نامہ لکھوا کر بطریق ( پادری) کو دیا ۔ جس کی رو سے کلیسا کو عیسائیوں کے لیے مخصوص کردیا گیا ۔ اور یہ پابندی لگادی گئی کہ ایک ہی مسلمان کلیسا میں داخل ہوسکتا ہے اس سے زیادہ نہیں ۔ ( اسلامی ریاست۔ امین احسن اصلاحی ص ۔29)

اسلامی قطعی طور پر مذہب کے سلسلہ میں جبروا کراہ کو سرے سے خارج قرار دیتا ہے ۔ اس لیے کہ اسلام صرف ظاہری و روایتی رسوم کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ لوگوں کے دلوں کو اپنی دعوت و تبلیغ کا نشیمن بناناچاہتا ہے ۔ وہ انسان کے خرمنِ دل کو نورایمانی سے منور کرنا چاہتا ہے ۔ کیسا اسلام اسے درکار ہے، کیسے دین  و مذہب کا متقاضی ہے، سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں : ‘‘ اسلام کی دو حیثیت ہے ایک حیثیت میں وہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ دوسری حیثیت میں وہ نیکی و تقویٰ  کی جانب ایک دعوت اور پکار ہے۔ پہلی حیثیت کامنشادنیا میں امن قائم کرناہے اس کو ظالم و سرکش انسانوں کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچانا اور دنیا والوں کواخلاق و انسانیت کے حدود کا پابند بنانا ہے۔ جس کےلیے قوت و  طاقت کے استعمال کی ضرورت ہے، لیکن  دوسری حیثیت میں وہ قلوب کا تزکیہ کرنے والا ارواح کو پاک و صاف کرنے والا، حیوانی کثافتوں کو دور کرنے بنی آدم کو اعلیٰ درجہ کا انسان بنانے والا ہے۔ جس کےلیے تلوار کی دھار نہیں بلکہ ہدایت کا نور، دست و پاکا انقیاد نہیں بلکہ دلو ں کا جھکاؤ اور جسموں کی پابندی نہیں بلکہ روحوں کی اسیری درکار ہے۔ اگر کوئی شخص تلوار چمکتی ہوئی دیکھ کر لا اِلہٰ اِ لا اللہ کہہ دے مگر اس کا دل بد ستور ماسوی اللہ کا بتکدہ بنارہے تو دل کی تصدیق کے بغیر یہ زبان کا اقرار کسی کام کا نہیں اسلام کے لیے اس کی حلقہ بگوشی قطعاً بیکار ہے ۔ الجہاد فی الاسلام :165

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلاطین اسلام مذہبی آزادی کے لیے نقوش چھوڑ گئے جس کی مثال پیش کرنے سے دنیا کی ( قدیم و جدید تاریخ) قاصر ہے۔ غزوہ خیبر میں جو مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا تھا اس میں توریت کے متعدد نسخے تھے ۔ یہودیوں نے درخواست  کی وہ ان کو عطا کردیئے جائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہ سب صحیفے ان کےحوالے کردیئے جائیں ۔ یہودی فاضل ڈاکٹر اسرائیل و الفنسون اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے ۔

‘‘ اس واقعہ سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان مذہبی صحیفوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کسی درجہ احترام تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس رواداری اور فراخ دلی کا یہودیوں پر بڑا اثر پڑا۔ وہ آپ کے اس احسان کو کبھی بھول نہیں سکتے کہ آپ نے ان کے صحیفوں کے ساتھ کوئی ایسا سلوک نہیں کیا جن سے ان کی بے حرمتی لازم آتی ہو، اس کےبالمقابل انہیں یہ واقعہ        بھی خوب دیا ہے کہ جب رومیوں سے یروشلم کو سن 70 قبل مسیح میں فتح کیا تھا تو انہوں نے ان مقدس صحیفوں کو آگ لگادی اور ان کو اپنے پاؤں سے روندا۔ اسی طرح  متعصب نصرانیوں نے اندلس میں یہودیوں پر مظالم کے دوران توریت کے صحیفے نذر آتش کیے، یہ ہے وہ عظیم فرق، جو ان فاتحین ( جن کا ابھی ذکر گزرا ہے) اور اسلام کے نبی کے درمیان ہمیں نظر آتا ہے ۔ ( تاریخ الیہود فی بلاد العرب ص :170)

قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین و سلاطین اسلام نے مذہبی  آزادی کے معاملے میں جس وسعت ظرفی کامظاہرہ کیا ہے اور جتنا انہوں نے دین و مذہب کے سلسلے میں استغنا سے کام لیا ہے اس کی مثال او رکہیں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ دوسرے مذہب کی تعلیمات میں اور ان کے ماننے والوں میں مذہبی امور کو انجام دینے کی اس طرح کی آزادی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ مذہبی آزادی اسلام میں کتنی ہے اس کے ثبوت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اشاعت اسلام کے لیے کوئی کمیٹی یا کوئی ادارہ قائم نہیں کیا گیا ۔ اسلامی ریاست میں یہود نصاریٰ پوری آزادی کےساتھ مذہبی امور کو ادا کرتے تھے ۔ ان کو بھی مملکتِ اسلامیہ میں وہی حقوق حاصل تھے جو خود مسلمانوں کو حاصل تھے ان کے جان ومال کی وہی قدر و قمیت تھی جو ایک مسلمان کے جان ومال  کی تھی ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اشاعت اسلام کے لیے اگر اس قسم کی تدبیر یں کی جاتیں جو دوسرے ادیان مذاہب کی ترویج و اشاعت کے لیے اختیار کی گئی ہیں، تو بلا د اسلامیہ میں کسی غیر مذہب یا اس کے ماننے والوں کا وجود بھی باقی نہ رہتا ۔ اسلام کی ذاتی خوبیوں اور سادہ تعلیم کے ساتھ اگر سامانِ رضا و رغبت کو بھی جمع کردیا جاتا تو کیا ایک بھی ایسا انسان باقی رہ جاتا جو اسلام قبول نہ کر لیتا ۔

بہر حال اسلام نے مساوات او رمذہبی آزادی کے وہ فراخ دل اصول و ضابطے تیار کیے جن کی وجہ سے سلطنتِ اسلامیہ کے عروج کے زمانہ میں یہودی و عیسائی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ رہتے تھے ، اور بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے میں مسلمانوں سے مزاحمت کرتے تھے۔

4 نومبر، 2014  بشکریہ : روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-rehan-akhtar-qasmi/islam-is-the-greatest-flag-bearer-of-religious-freedom--اسلام-مذہبی-آزادی-کا-عظیم-ترین-علمبردار-ہے/d/99868

 

Loading..

Loading..