New Age Islam
Mon Nov 29 2021, 04:32 AM

Urdu Section ( 18 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part- 9 (روحانیوں کے عالمی پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دن حصہ (9

 

ڈاکٹر راشد شاز ۔ دہلی

ادھر ہاشم فاتح  کے علاقے میں ہی رہ گئے تھے ۔ بار بار ان کا فون آرہا تھا کہ اگر ممکن ہو تو سلوک کی ہفت مجالس میں اپنی شرکت کو یقینی  بناؤں ۔ ان کا کہنا تھا کہ  یہ ایک نادر موقع ہے جب مشائخ تقشبندی  کی کبار شخصیات  سات مختلف مجالس میں طالبین کو سلوک کے اسرار و رموز پر آگاہ کررہی ہیں ۔ڈھائی دن  کے اس خصوصی  پروگرام  کا انہوں نے جس والہانہ انداز سے تذکرہ کیا اس نے میرے  اشتیاق  میں بڑی  حد تک اضافہ کردیا ۔ کہنے  لگے کہ آج شب کی مجلس ایک  طرح کا افتتاحی  جلسہ تھا جس میں طریقت کی اہمیت سے سالکین  کو آگاہ کیا گیا۔ ہمیں یہ بات بھی بتائی گئی کہ انسانی زندگی کو چار مختلف  سطحوں  پر جینا  ممکن ہے  گویا  یہ چار الگ الگ  دنیائیں  ہیں جو الگ  بھی ہیں اور ایک  دوسرے پر سایہ فگن بھی ۔ عوام  کالانعام کی دنیا  عالم ناسوت  ہے جس کی  پہنچ  حواس خمسہ  سے آگے  نہیں ۔ البتہ  سالک  اپنی ریاضت اور مجاہد ے کے ذریعہ عالم ملکوت میں پہنچ سکتا ہے جہاں  تسبیح  و تحلیل  اور قیام  و سجود تک پہنچ کر اس کے قدم رک جاتےہیں ۔ اگر سالک  کا روحانی سفر جاری رہا تو اس پر عالم جبروت کے دروازے واہو جاتے ہیں جہاں ذوق و شوق ، وجد و سکر اور سحو و مجد اس کا کل سرمایہ ہوتاہے ۔

اگلی منزل عالم لاہوت کی ہے جو دراصل لامکاں ہے، جہاں  نہ گفتگو ہے اور نہ ہی  جستجو ۔ ہاشم کہنے لگے : بڑی گہری باتیں  ہیں ۔ کاش آپ  اس پروگرام میں شریک  ہوتے ۔یہاں  بڑے پرانے سالکین ہیں اور ایسے  طالبین حق ہیں جنہوں نے چالیس چالیس سال ذکر کرو مجاہدہ  میں لگائے  ہیں ۔ ان حضرات کا تاثر ہے کہ جو باتیں  انہیں برسہا برس  کی صحبتوں  میں نہ ملیں  وہ اس مختصر  مجلس میں سہل  ممتنع کے انداز میں بیان کردی گئی ہیں اور سب سے  اہم بات یہ کہ علم لدنی کی تعلیم کے ساتھ ہی مراقبے او رمجاہدے کا پروگرام بھی رکھا گیا ہے تاکہ سالک کےذہن میں کسی طرح کا کوئی ابہام  باقی نہ رہے ۔ سچ پوچھئے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے مکاشقے  کا صحیح راستہ اب جاکے معلوم ہوا ہے ۔کل ہم میں سے ہر شخص ایک سفید چادر ڈال دی گئی ۔ کوئی گھنٹہ  بھر تاریک  کمرےمیں ہم لوگ اپنی اپنی  چادروں  کے اندر کشفِ قبر کی مشق  کرتے رہے ۔ عالم تصور میں  کوئی شیخ سرہندی  کی قبر  پر پہنچا  ، کس نے بہاء الدین  نقشبندی  کی قبر  پر توجہ  کی اور کسی  نےاپنے زندہ شیخ کواپنی توجہ  کا مرکز  بنایا ۔ میرے ساتھ  مصیبت  یہ تھی کہ  میں اب تک  شیخ سے محروم ہوں سو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو اپنی مشق کے لئے منتخب  کیا ۔

بہت خوب! میری زبان سےبے ساختہ  نکلا ۔ پھر نتیجہ  کیا رہا؟  میں نے جاننا چاہا ۔

بولے : مجھے تو کچھ زیادہ کامیابی  نہ ملی،  بس گبند خضراء  کامنظر  نگاہوں  میں گھومتا رہا ۔ البتہ جن لوگوں  نے زندہ شیوخ  کواپنی توجہ  کا مرکز بنایا تھا ان کاکہنا ہے کہ انہیں  اس دوران کئی بار ایسا  لگاجیسے  ان کے شیخ  طریقت کبھی تمثیل  میں او رکبھی  فی الواقع ان کے سامنے آپہنچے ہوں ۔ ایک صاحب نے تو یہ بھی  بتایا کہ   ان کے شیخ  جو کیلیفونیا میں رہتے ہیں  وہ بزبان عربی کچھ کہہ رہے تھے جس کے معانی  تک ان کی آگہی نہ ہوسکی ۔ایک بات یہ بھی ہے کہ اس بارے میں اپنے تجربہ کا افشاء مناسب  نہیں خیال  کیا جاتا ۔اس لیے  بہت کم لوگ اس پر زبان کھولتے ہیں البتہ  جب میں نے اپنے تجربے کی ناکامی  کاذکر کیا تو بعض  دوستوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے راست  تعلق  قائم کرنا ہماشما  کے بس کی بات نہیں ۔ اس لیے کسی ایسے شیخ کا دامن  تھا منا ضروری ہے جو تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار تک  پہنچا سکے ۔ بہر حال دوسرے ساتھیوں  کے مقابلے میں میری  حیثیت  تو نووارد کی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تجربہ  برا بھی  نہیں ۔

ہاشم  کی زبانی  ہفت مجالس  کا یہ ابتدائی تجربہ  سن کر میرا  اشتیاق  مزید بڑھ گیا ۔سوچا اس نادر  موقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ رات  کی افتتاحی مجلس سفینۂ نور میں شرکت  کے سبب پہلے ہی ہاتھ سے جاتی رہی تھی ۔ سو اگلی  صبح حاضری  کے وعدہ کے ساتھ  میں نے ٹیلیفون بند کردیا ۔ولید اور ساجد جو اب تک میری بات شوق اور تجسس سےسن رہے تھے ، بولے: کیا واقعی کل آپ فاتح  آئیں گے؟ پھر تو بڑا لطف آئے گا لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہم دونوں اس پر وگرام میں شریک نہیں ہوسکتے ۔ ہمیں مبتدئین  کے ساتھ رکھا  گیا ہے ۔ پتہ نہیں  آپ کو بھی اس میں رسائی مل  پائے گی یا نہیں  ۔ ہوسکتا ہے شیخ  حمود  کا توسط کام آجائے ۔ وہ آپ سے بڑے  متاثر ہیں۔

مبتدئین کے  نصاب  میں تمہیں  کیا پڑھا یا جارہا ہے؟ میں نے ساجد سے جاننا چاہا ۔

میرے لیے پانچ ہزار مرتبہ اسم ذات کا ذکر تجویز ہوا ہے اور ولیدکو ہر روز  اکیس ہزار مرتبہ نفی اثبات کا ذکر کرنا ہے ۔

اکیس  ہزار مرتبہ ! میں نے حیرت کا اظہار کیا ۔ کتنی  دیرلگتی  ہے اکیس ہزار مرتبہ کے ذکر میں؟

ابھی تو آدھا  دن نکل  جاتا ہے البتہ  مشّاق لوگ تین گھنٹہ  میں اس عمل سے نکل جاتے ہیں۔

پھر جو لوگ سلوک کی اعلیٰ  مدارج  طے کرتے  ہیں انہیں  تو بڑا وقت صرف کرنا پڑتاہوگا؟

 جی ہیں  ! انہیں  ذکر کے ساتھ ساتھ مراقبہ ، کشف ، توجہ اور رابطہ کے لیے بڑا  مجاہدہ  کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن کہتے ہیں  کہ اگر ایک بار آپ صحیح  راستہ پر چل نکلے اور شیخ کی توجہ  آپ کو حاصل ہوگئی تو پھر زندہ مردہ بزرگوں ، صاحب  قبر حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت  ممکن ہوجاتی ہے،بلکہ  ولی کا مل  تو راست خدا کے رابطہ  میں آجاتا ہے ۔ خدا سے اخذ کرتا اور بندوں کو بانٹتاہے ۔ لیکن ان  سب باتوں  کے لیے یقین  و ایمان  درکار ہے اور اسی کی اپنےاندر کمی کا شکوہ  ہے ۔ ولید نےزیر لب مسکراہٹ کے ساتھ  یقین  اور شبہات میں لپٹی ہوئی بات کہی ۔

ویسے شیخ نے یہ بھی بتایا ہے کہ کشفِ قبر  کے لیے قبر کی قربت مہمیز (Catalyst ) کا  کام دیتی ہے  ۔ البتہ  ایک بار اگر اس عمل میں  کامیابی  مل  جائے تو فیوض  کا سلسلہ  پھررکتا  نہیں ، ولید  نے مزید  وضاحت کی ۔

تمہیں  یہ معلوم کرکے حیرت ہوگی کہ ہمارے  بعض ثقہ  علماء  نے مکاشقے کے ذریعہ بڑے مدارج طے کیے  ہیں ۔ شاہ ولی اللہ کا تو  یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے  بلاواسطہ حود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے قرآن  مجید  پڑھا ہے او رعبدالقادر جیلانی  کی تو باقاعدہ تربیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ متاخرین میں قاسم نانوتوی کے بارے میں کہا جاتاہے کہ انہیں بعض  اصحاب  کشف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے بخاری کا درس لیتے دیکھا ہے ۔

ولی اللہ الدہلوی ؟ مصطفیٰ اوغلو نے حیرت سے پوچھا ۔ واقعی انہوں نے ایسی کوئی بات خود کہی ہے یا مخالفین کا پروپیگنڈہ ہے؟  راسخ العقیدہ مسلمانوں میں تو ان کا بڑا  اعتبار ہے۔

جی ہاں! انہوں نے الفوز الکبیر اور فیوض  الحرمین  میں کھلے الفاظ  میں یہ بات کہی ہے ۔بلکہ اسی پر کیوں جائیے شاہ صاحب  نے تو اپنی کتاب   دُرّثمین فی مبشرات النبی میں ایسی چالیس  حدیثیں نقل کی ہیں جو ان کے والد شیخ  عبدالرحیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راست سنی ہیں۔

واقعی ؟ یہ سب کچھ ہمارے ثقہ علماء کی کتابوں میں موجود ہے؟  ولید نے حیرت  کا اظہار کیا۔

پھر تو مکاشفہ ایک  ایسا چور دروازہ ہے جس  کے ذریعہ اسلام میں مختلف  قسم کے الّم غلّم خیالات کو داخل ہونے کا موقع  مل سکتا ہے ۔ جس کا جی چاہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےایک نئی  خبر منسوب کردے ۔ پھر تو سنت کا دائرہ  حدّو حساب  سے باہر ہوجائے گا۔ صحاح ستہّ کی روایتوں  پر تو آپ جرح و تعدیل  کرتےہیں ۔ کبھی راوی کو ثقاہٹ شک کے دائرے میں  آتی ہے ۔ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ سننے والے نے راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا ہے اور اگر مکاشفہ معتبر  ذریعہ ہے تو پھر ان حدیثوں  کا انکار  بھی نہیں کیا جاسکتا ۔

ساجد ہماری گفتگو بڑی توجہ سے سن رہا تھا ۔ وہی گم صم سا انداز جیسے  یہ باتیں  اس کے لیےانکشاف کا درجہ رکھتی ہوں ۔ کہنے لگا  کہ میں نے سنا ہےکہ شیخ محمود  کے ہا ں بھی  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بہ نفس نفیس تشریف آوری رہتی ہے ۔ ایک بار غالباً  شادی  کی یا ایسی ہی  کوئی تقریب  تھی، لوگ اچانک اٹھ کھڑے ہوئے ۔ مجلس  میں کچھ ہلچل  کی سی کیفیت رہی ۔ پتہ چلا  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبارک باد دینے کے لیے تشریف لائے تھے جنہیں اس موقع پر موجود سادات  کی آنکھوں  نے دیکھا ۔ کیا واقعی  یہ سب ممکن  ہے؟ آپ کا اس بارےمیں کیا خیال ہے ۔ ساجد نے اپنے اضطراب  کا اظہار کیا۔

میں نے کہا کہ  چونکہ سوال سے بہت  سے سوالوں کے تار جڑے ہیں اس لیے اس پر گہرے غور و فکر اور تحقیق کے بعد ہی کوئی  موقف قائم کرنا چاہئے اور چونکہ یہیں  سے دین میں  تحریف  کا چور دروازہ کھلتا ہے اور یہ مسئلہ حساس  اور نازک بھی ہے اس لیے لازم  ہے کہ تم  اس بارے میں  میرا یا کسی اور کا فتویٰ  قبول کرنے کے بجائے طالب علمانہ تلاش کے ذریعہ اس عقدہ کو حل کرو۔ قرآن مجید کی کسوٹی پر اصحاب کشف کے دعاوی  کو پرکھو۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا ۔ میں نے  اسے مطمئن  کرنے کی کوشش  کی ۔

لیکن یہ تو امت کا متفقہ عقیدہ ہے ناکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی قبر میں زندہ ہیں؟ اس  نے اپنےسوال  پر اصرار جاری رکھا ۔

دیکھو متفقہ  عقیدہ تو صرف وہ ہے جو صاف صاف طور پر قرآن مجید  میں بیان کر دیا گیا ہے ۔ اسکےباہر جو کچھ  ہے وہ لوگوں کے انداز ے ہیں کہ جس  کی بنیاد  کسی اثر یا کسی روایت  پر ہے۔ جس کی تحقیق  و تنقید کا حتمی کام ابھی  باقی ہے ۔ البتہ تمہاری   معلومات  کے لیے یہ بتاتا چلوں  کہ بہت سے بریلوی علماء کی طرح جنہیں  دیوبندی حضرات قبوری گردانتے  ہیں، علما  ئے دیوبند  کا بھی یہ عقیدہ  ہے جیسا کہ ان کی کتاب  الھند علی المفند میں لکھا ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ حیات  دنیا جیسی ہے برزخی نہیں ۔ جب ایک بار  یہ بات مشہور ہوگئی  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  باحیات  ہیں تو پھر اہل کشف کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سےملاقات  کی گویا نظر ی بنیاد ہاتھ آگئی ۔ اس سلسلے کا  ایک مشہور واقعہ شیخ احمد  رفاعی کا ہے ۔ 555ء میں جب انہوں نے  روضۂ اطہر  پر کھڑے ہوکر یہ اشعار پڑھے :۔

فی حالۃ البعد روحی کنت أرسھا      تقبل الأرض عنی وھی نائبتی

وھذہ رولۃ الاشباح قد حضرت        فامدد یمینک کی تخطیٰ بھا شفتی

یعنی  میں مسافت کے سبب  اپنی روح  کو خدمتِ اقدس  میں بھیجا کرتا تھا او رمیری نائب بن کر آستانہ  مبارک چومتی تھی ۔ اب جسموں  کی حاضری  کی باری آئی ہے ۔ اپنا  دستِ مبارک عطاء کیجئے  تاکہ میرے  ہونٹ اس کو چوم سکیں ۔

کہتے ہیں کہ  اس شعر  کے جواب میں  قبر مبارک سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ہاتھ باہر نکلا جیسے شیخ رفاعی  نے بوسہ دیا ۔ لیکن  شیخ رفاعی  تو پھر بھی زمانی بعد کے  سبب حقیقی  سے کہیں زیادہ  اسطوری کردار کے حامل ہیں ۔تصوف کی کتابوں  میں ان کے خرق عادت  واقعات  کا ایک بڑا  دفتر موجود ہے۔ ہمارے زمانے  میں حال کی تاریخ  میں تبلیغی  جماعت  کے مولوی  زکر یا نے عین حالت بیداری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ملاقات  کے دعوے کر رکھے ہیں ۔ ایسے  مکاشفات   کا تذکرہ بہجۃ القلوب نامی کتاب میں ان  کے ایک  مرید محمد  اقبال نے مولوی زکریا کے ذاتی روزنامچے  کی روشنی میں مرتب کردیئے  ہیں ۔ مجھے سارے مکاشفے  تو یاد نہیں  ۔ کتاب بہت پہلے  دیکھی تھی  ، ایک آدھ یا درہ گئے ہیں ۔ سن لو ! محفوظ  ہونے کے لیے اتنا کافی   ہے ۔ لکھا ہے کہ عبدالحئی  سے مکاشفے  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  کہ زکریا کی خدمت کرتے رہو ۔ اس کی خدمت میری خدمت ہے اور یہ بھی فرمایا  کہ میں اکثر  اس کے حجرے  میں جاتا رہتا ہوں ۔ بعض  مکاشفات  میں تاریخ  کے تعین کے ساتھ لکھا  ہے کہ آج  بروز فلاں دن بوقت دو پہر حضور اقدس  مدرسہ میں میری قیام گاہ  پر تشریف لائے اور میری  طرف اشارہ  کرکے فرمایا کہ میں انہیں  ظہر کی نماز  پڑھانے آیا ہوں ۔ ا س طرح  کے لطائف پر مشتمل مکاشفات  کا ایک بڑا طویل سلسلہ  ہے جو مختلف  بزرگوں کی زبانی ہمارے دینی ادب میں نسلاً بعد نسل  منتقل  ہوتا رہا ہے ۔ آپ  کے ہاں پاکستان میں تو ابھی حال کی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ، بقول صاحب منہاج القرآن  ، ان کے سالانہ  جلسہ میں  شرکت  کے لیے  ہر سال پاکستان تشریف لاتےہیں ۔

یہ باتیں سن کر ساجد کچھ مبہوت سا ہوگیا ۔ کہنے لگا  کہ یہ تو بتائے  کہ اگر یہ باتیں  سچ ہیں  تو ان کی تصدیق  کاطریقہ  کیا ہے اور اگر جھوٹ ہیں تو انہیں  ہمارے علماء مسترد  کیوں نہیں کرتے ؟ ان  راویوں کو قابل  گردن زنی کیوں قرار نہیں دیا جاتا ۔ انہیں امت  میں احترام و تقدس کا سزا وار کیوں سمجھا جاتا ہے؟

ساجد کے سوال  کی دھار مستقل تیز ہوتی جارہی  تھی ۔ میں نے سوچا کہ اس سے پہلے  کہ یہ سوالات مجھے زخمی  کریں  کیوں نہ اسے صحیح  رخ پہ موڑ  دیا جائے۔ میں  نے کہا یہی  تو سب سے بڑا سوال  ہے او رتمہیں  ایک طالب  صادق کی حیثیت  سے اس سوال کا جواب تلاش کرناچاہئے ۔

کشف قبور IV

دوسرے دن وقت مقررہ پر میں فاتح پہنچ گیا ۔پروگرام بس شروع ہوا چاہتا تھا ۔ کچھ لوگ ادھر ادھر کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے، بہت سے شرکاء  حال کے اندر فرشی  مجلس  میں اپنی جگہ  لے چکے تھے ۔ ایک طرف فرشی اسٹیج بنایا گیا تھاجہاں  خوبصورت  فرشی میز پرلیپ ٹاپ اور پرجیکٹر جیسی چیزیں  رکھی تھیں ۔ شیخ  طریقت کے آتے ہی صلوٰۃ و سلام  کی گونج  سے مجلس  کا باقاعدہ  آغاز  ہوگیا ۔ اسٹیج کے پیچھے  لگے بڑے اسکرین  پر گنبد خضرا  کی تصویر  طلوع ہوئی اور جب  دعاؤں کا سلسلہ اراوحِ خواجگان  تک پہنچا  تو اسکرین پر خواجہ بہاء الدین  نقشبندی  اور سلسلہ ذہب کے دوسرے شیوخ  کی قبروں  کی تصویریں  بکے بعد  دیگرے ابھرنے لگیں ۔ کچھ دیر مجلس  پر مکمل  سکوت طاری رہا ۔ شاید  یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ  سالکین  ذکر خفی  یا قلبی ذکر میں مصروف ہیں ۔ بعضوں  نےبتایا کہ سکوت کا یہ وقفہ دراصل رابطہ  اور تصور شیخ  کے لیے  وقف تھا کہ  کل پہلی  مجلس  میں یہ بات  ذہن نشیں کرائی  گئی تھی  کہ مرید کے لیے  یہ لازم ہے کہ وہ بند آنکھوں  سے اپنے شیخ  کو متصور  کرے ۔ فنافی الشیخ  ہونا، فنافی  اللہ کی پہلی  منزل ہے ۔ شیخ سے جتنی  زیادہ مناسبت  ہوگی اسی قدر اس کے باطن  سےفیض حاصل ہوسکے گا کہ پیر کا سایہ  ذکر حق  سے بہتر ہے ۔ اویس قرنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تصو ر  سے فیض  لیتے تھے ۔ صاحبِ کشف حضرات اولیاء  اللہ  کے مزارات  سے فیض لیتے ہیں مگر  چونکہ عام  سالکین  ایسا نہیں  کرسکتے اس لئے ان  کو اپنے شیخ کو درمیان  میں رکھنا پڑتا ہے ۔

واللہ علم کس کے تصور میں کیا تھا، میں تو پندرہ منٹ کی خاموشی  میں بند آنکھوں  سےبھی یہی  دعا کرتارہا کہ اللھم ارفی الاشیاء کماھی  ، تبھی  شیخ طریقت  نے اللھم صلی علی  کی صدا بلند کی ۔ سالکین  کی زبان سے صلوٰۃ  و سلام  کے کلمات جاری  ہوگئے ۔ ادھر اسکرین پر مولانا رومی کی Iconic تصویر طلوع ہوئی ۔ قونیہ  کے چند  مناظر  بدلے  اور پھر مثنوی  کا پہلا شعر اسکرین پر آکر  رک گیا ۔ شیخ طریقت  نے بڑی خوش الحانی کے ساتھ  مثنوی  کے ابتدائی اشعار  کچھ اس طرح پڑھے کہ پیر علاء الدین  کے درس  مثنوی  کی یاد تازہ ہوگئی ۔ فرمایا لوگو! ہم خواجگانِ نقشبندکے غلام لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے نہیں  متعین  ہیں ۔ تعلیم و تعلم  کے لئے تو یونیور سٹیاں  قائم ہیں ، جابجاء کالج کھلے ہیں، تحقیقی ادارے  کام کررہےہیں  ہمار ا کام صرف آپ کو اپنے  آپ سے آگاہ  کروانا  ہے ۔ایسی ترکیب بتانی  ہے کہ آپ کے اندر پوشیدہ غیر مرئی  قوتیں  بیدار ہوجائیں جسے مشائخ  کی زبان میں لطائف  کی بیدار ی کہا جاتا ہے۔اگر صرف لطیفۂ قلب بیدار ہوجائے تو آپ  کے اندر لوگوں  کے خیالات پڑھ لینے کی ، ان کے دل کا حال جان لینے  کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے لیکن یہ تو کشف کا صرف ایک  درجہ ہے۔ اب جس کے ساتوں لطائف  جاری ہوجائیں   اس کی بلندی  اور عظمت  کاکیا کہنا ۔ البتہ اس راستے پر کوئی قدم  آگے بڑھانے  سے پہلے ہمیں  یہ معلوم ہونا چاہئے  کہ ہم ہیں کون ۔ اگرہم تمام حجابات  کو ہٹا کر فرش سے عرش تک دیکھنے  کی کوشش  کررہے ہیں  اور اگر ہم یہ سمجھتے ہیں  کہ ہمارے  لیے طویل  مسافت  لمحوں میں طے  کرنا،بسیط فضاؤں میں اڑنا سطحِ آپ پر چلنا  اور وہ سب کچھ کرنا ممکن ہے جسے عام آدمی   کی عقل گوارا نہیں کرتی تو اس  کابنیادی جواز ہے کیا؟ رومی کہتےہیں کہ بانسری سے سنو وہ کیا قصہ سناتی ہے۔ کہتی ہے کہ جب سے مجھے جنگل سے کاٹ کر جدا کیا گیا  ہے میرے نالے سن کر مردوزن  روتے ہیں ۔ جو کوئی  اپنی اصل سے دور ہوجاتاہے وہ اپنے  ایام و صل  کو پھر سے تلاش کرتا ہے ۔ لوگو ! ہمارا حال بھی اسی بانسری کا ہے ۔ روحِ انسانی  بھی اصلاً ایک نورانی مخلوق ہے ۔ جب  سے ہمیں  اصل  سے کاٹ کر اس دنیا  میں بھیجا گیا ہے ہمارا  اندرون ہجر و فراق کے سبب شکستہ  ہے۔ ہم وصل  محبوب یعنی اپنی  اصل  سے ملنے  کے لیے بے قرار ہیں ۔ ہماری  یہ دکھی روحیں  جب کسی ولی  کا مل  کےساتھ بیعت کا رشتہ قائم  کرتی اور اللہ  کی طرف متوجہ کرتی ہیں تو ان پر وصل الہٰی  اور فیضان الہٰی کی بارش شروع  ہوجاتی ہے حتیٰ  کہ انہیں عالم  ارواح کی تمام کیفیات محسوس  ہونے لگتی ہیں ۔ ایسے لوگوں  کو خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ ، روح ہوں یا جسم ، زمان و مکاں پر تصرف  حاصل  ہوجاتاہے ۔ وہ پلک جھپکتے  ہی طے الارض  کا معرکہ  سر کر لیتےہیں ۔ اس سفر کی پہلی منزل  تصور شیخ  ہے۔ اہل  طریقت  کی وساطت کے بغیر یہ سب کچھ  ممکن نہیں ۔ یہ کہتے ہوئے شیخ  نے صلواعلی النبی  کانعرہ مستانہ  بلند کیا ۔ سالکین کی زبانیں  ایک بار پھر صلوٰۃ  و سلام سے تر ہوگئیں ۔

فرمایا: عزیز ان من! آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ  کو حصولِ  مقصد  کے لیے سب سے اقرب  اور سب سے  مختصر راستے کی آگاہی دی جارہی ہے۔ہمارے  مجدد الف ثانی نے اپنے مکتوبات میں فرمایا ہے کہ  طریقۂ نقشبندیہ سب طریقوں سے اقرب ہے کہ یہاں وسیلہ  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی ذات ہے جو تمام پیغمبروں  کے بعد افضل البشر ہیں ۔ ہمارے خواجگان نقشبند نے خدا سے  دعا کی تھی  کہ انہیں  ایسا طریقہ  عطاء کیا جائے  جو اقرب  بھی ہو  اور موصل بھی ۔ جس کے جواب میں آپ  پر اللہ تعالیٰ  نے یہ الہام  فرمایا کہ تم سلوک پر  جذبہ کومقدم رکھو ۔ تصوف  کے دوسرے طریقے طالبین کو پہلے بڑی  مشقتوں اور ریاضتوں  میں ڈالتےہیں  جیسے اربعین کی بیداری  یعنی  چالیس دن مسلسل  روز و شب  جاگتے  رہنا یا مسلسل بھوکا رہنا  ۔ دوسرے طریقوں میں نفس کو پہلے  مصفیٰ کیا جاتاہے لیکن ہمارے  ہاں مرید پہلے دن سے ہی اسمِ ِذات  کے وظیفے کے ذریعہ اور شیخ کی توجہ کے سبب  ، فناء اور بقاء کی صفت  سے متصف  ہوجاتا ہے ۔ حضرت مجدد نے حضرات  القدس میں فرمایا ہےکہ انہیں کشف  سے یہ معلوم  ہواکہ  اسم ذات کو جذبہ  سے زیادہ مناسبت  ہے اس لیے ہم تقشبندیوں کے ہاں روز اول  سے ہی اسم ذات  کی تکرار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ نفی  واثبات کا نمبر  بعد میں آتا ہے ۔ ہمارے  ہاں سلوک  کی منزل  تیزی  کے ساتھ طے ہونے  کاسبب  یہ ہے کہ تصور شیخ کے سبب  مریدکو اپنے شیخ کی ریاضت  سے بھی حصہ  ملنے لگتا ہے ۔ حضرت مجد د صاحب  نے ہمیں  یہ بھی بتایا  ہے کہ بعض  اوقات  سلسلہ کے دوسرے شیوخ یعنی فیض رساں  ہستیوں  کی روحیں  سالک کے پاس حاضر ہوکر اعانت  فرماتی ہیں۔ اسی منہج تربیت  کاکمال ہے کہ بعض سالکین کی تربیت ایسی روحوں  کے ذریعہ ہوتی ہیں  جو صدیوں پہلے وصال  کر چکی ہیں۔

سید احمد بریلوی  کے بارےمیں  کہا جاتاہے  ، جیسا صراط مستقیم میں شاہ اسمٰعیل  شہید دہلوی نے لکھا ہے،  کہ ان کی روحانی تربیت کے سلسلے  میں غوث الثقلین  اور خواجہ بہاء الدین نقشبندی  کی روحوں کے درمیان کوئی ایک مہینہ  تک اس بات پر نزاع برپا رہا کہ  کون انہیں روحانی تربیت کے لئے اپنی کفالت  میں لے۔ بالآخر  ایک مہینہ  کی چپقلش کے بعد اس بات پر مصالحت  ہوگئی کہ دونوں مشترکہ  طور پر یہ خدمات  انجام  دیں گے ۔ سو ایک دن  دونوں حضرات کی روحیں  ان پر جلوہ گر ہوئیں  اور وہ بیک  وقت دونوں  سلسلوں  کی نسبتوں  سے سرفراز ہوگئے ۔ یہ جو آپ تصوف کی دنیا میں  سنتے ہیں  کہ فلاں کو نسبت فاروقی ہے اور فلاں کو نسبت صدیقی  یا فلاں  کو دو سلسلوں  کی نسبت سے سرفراز کیا گیا ہے تو اس  کایہی مطلب ہوتا ہے کہ  ان حضرات کو قدماء کی روحوں  نے اپنی توجہ اور عنایت سے نوازا ہوا ہے ۔ اب ذرا غور  کیجئے  سلسلہ نقشبند سے  وابستہ ہوکر آپ  کتنے اعلی پائے کے شیوخ او رکتنی  قوی روحوں  کی فی الفور مدد کے مستحق  ہوجاتے ہیں ۔

ہمارے یکے از نقشبندی اکابر امداد اللہ مہاجر مکی نے رسالہ  مکیہ  میں صراحت  کے ساتھ لکھا ہے کہ مرید کو جانناچاہئے کہ شیخ کی  روح کسی خاص جگہ  محدود نہیں  ہے ۔ روحانی دنیا میں  قرب اور بُعد بے معنی  الفاظ ہیں جہاں  مرید ہوگا وہاں شیخ  بھی ہوگا ۔ مریدکو شہود حاصل ہو یا نہ ہو شیخ کو اور ان کے اکابر کو شیوخ  کی ارواح  کو تو شہود حاصل ہوتا ہی ہے ۔ پھر یہ عین  ممکن ہے کہ شیخ اپنے  مرید کی مدد کے لیے فی الفور حاضر ہوجائے ۔ شیخ امداد اللہ نے یہ بھی ہدایت  کی ہے کہ مرید ہر وقت  شیخ کو یاد رکھے اس طرح ربطِ قلب پیدا ہوجائے گا ۔ اس کی ذات  سے ہر دم استفادہ ہوتا رہے گا ۔ اور اسے جب کوئی  الجھن  پیش آئے گی تو شیخ کو اپنے قلب  میں حاضر مان کر بزبان  حال سوال کرے گا اور اس طرح شیخ  کی روح باذن خداوندی  ا س کو ان الجھنوں کا حل القاء کردے گی ۔ البتہ  اس کے لیے ربط دوام  شرط ہے ۔ اور ہاں عزیز و! یہ بھی جان لو ، مجد د الف ثانی نے ہمیں خبر دی ہ کہ بزرگوں  کی روحوں  سے جب  بھی مدد طلب  کی جائے  دستگیری  کے لیے فی الفور پہنچ  جاتی ہیں۔

تصوف کی دنیا  میں روحوں  سے فیض لینے کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے البتہ اس  کےمراحل  ہیں سب  سے پہلے  آپ کاشیخ  جس پر  آپ کو کامل یقین  ہوناچاہئے ۔ یہ سمجھئے کہ آپ نے اپنے آپ  کو مکمل  طور پر اس کے حوالے کردیا ہے ۔ آپ شیخ  کے چشم و ابرو کے  اشارے کو سمجھنے  لگے ہیں ۔ اس کے ہر حکم کو بجالانے کے لیے اپنے  اندروالہانہ  آمادگی  پاتے ہیں ۔ اٹھتے  بیٹھتے آپ کا شیخ  آپ کی  نگاہوں میں مستحضر رہتا ہے ۔ اس درجہ کی آمادگی  جب تک حاصل  نہیں ہو یہ سمجھئے  کہ آپ نے ابھی اس  راہ میں پہلا قدم  نہیں رکھا ۔

دوسرامرحلہ  کبار شیوخ کی ارواح  سے فیض حاصل کرنے کاہے ۔ کشف قبور کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت  نفل پڑھ  کر صاحب قبر کی روح  کو ایصال  کیا جائے ۔ پھر قبر  پر اس کے چہرے  کے بالمقابل  بیٹھ کر مراقب  ہوا جائے ۔ اسی طرح کچھ نوافل  کی ادائیگی  کے بعد آپ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے روضۂ  مبارک  کی طرف رخ  کرکے بیٹھ جائیں اور بند  آنکھوں سے مراقبہ  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ربط  قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کا تصو ر  پختہ  ہوگا تو آپ کو کشف  کے ذریعہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت حاصل ہوگی پھر آپ  ان کے حضور اپنی دعاو۷ں کی درخواست  بھی رکھ سکتے ہیں اور آپ جانتےہیں کہ سرکار دوعالم  کی دعا خدا کے حضور ضرور قبول ہوتی  ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم  کی زیارت ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے کلام  کا شرف حاصل  کرنا، دعاؤں  کی درخواست  کرنا، کوئی عام شرف نہیں ۔ اس کے لیے مجاہد ےکی ضرورت  ہوگی لیکن  آپ گھبرائیں نہیں ، ہمت نہ ہاریں ، خواجگان نقشبندی  کی روحیں  آپ کو اس راہ پر آگے بڑھانے کے لئے ہمہ وقت مستعد  ہیں ۔ اس راہ میں بالآخر  وہ مرحلہ آکر رہے گا جب آپ عین  عالم بیداری  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زیارت  سے سرفراز ہوں گے۔

عبدالوہاب  شارانی  نے لکھا ہے کہ سلف میں بعض  ایسے بزرگ  گزرے ہیں جو کثرت  درود  کے سبب جب چاہتے تھے عالم بیداری  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زیارت  کرلیا کرتے تھے ۔ تربیت  عشاق  میں لکھا ہے  کہ بعض اولیاء  اللہ اس  درجہ کو پہنچے  ہوتے ہیں کہ وہ پوری  کائنات کو اس طرح دیکھ سکتے ہیں  جیسے کوئی  ہتھیلی  پر تل  دیکھ لیتا ہے اور جسے  چاہیں  اسے دکھا بھی دیتے ہیں ۔ مجھے  امید ہے کہ  خواجۂ خواجگان کی دعاؤں  اور استعانت  سے آپ تمام  طالبین  جو اس راہ  میں نکلے  ہیں ضرور منزل مقصود  کو پہنچیں گے ۔

شیخ طریقت  کی اس پر جوش  اور ہمت افزاء تقریر  کے بعد دوسری  مجلس  اپنے اختتام  کو پہنچی ۔ برقی روشنیاں مدھم کردی  گئیں ۔ نیم تاریک ہال میں  ایک بار پھر  سالکین تصو ر شیخ  کی مشق  مشغول ہوگئے ۔

جون ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ،کراچی

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/dr-rashid-saz/eleven-days-in-the-spiritual-city-of-istanbul-part--9--(روحانیوں-کے-عالمی-پایۂ-تخت-استنبول-میں-گیارہ-دن-حصہ-(9/d/98186

 

Loading..

Loading..