New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 11:19 AM

Urdu Section ( 11 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part- 8 (روحانیوں کے عالمی پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دن حصہ ( 8

 

ڈاکٹر راشد شاز ، دہلی

ایک دن اپنے جھروکے  سے باسفورس کی آہستہ خرام لہروں کو دیکھ رہا تھا ۔ یہی کوئی سہ پہر کا وقت ہوگا ۔ ہلکی بارش کےسبب افق دھلا دھلا سالگتا تھا ۔ رفتہ رفتہ سورج  کے غروب  نے بادلوں کو دھند میں اپنی سنہری  شعاؤں  کو ا س طرح  پیوست کیا جسے دیکھ کر نہ جانے کیوں اہل کشف کی وہ داستانیں  یاد آگئیں  جب  ان کے شب  گزیدہ  عبادت  کے سبب  تاریک کٹیا  سے نور کی ایک شاہراہ  آسمان کو جاتی  ہوئی معلوم ہوتی ہے ۔

 کیا پتہ دور ‘‘ اولوداغ’’  کی پہاڑیوں  پر کوئی روحانی مراقبہ کیے بیٹھا  ہو ۔مصطفیٰ اوغلو  نے گذشتہ  کئی دنوں سے مسلسل  یہ امید رکھی تھی  کہ وہ عنقریب  کیشش  داغ ( اولوداغ) یعنی جبل الراہب  کے حوالے  سے کوئی بڑی  خبرلانے  والے ہیں ۔ کہتے ہیں  کہ ان پہاڑیو ں پر ، جو از منہ قدیم سے عیسائی  راہبوں  کا مسکن  رہا ہے، آج بھی  رجال  الغیب  کے پر اسرار  قدموں  کی چاپ سنائی دیتی ہے ۔  ویسے تو اولوداغ آج سیاحوں  کے لیے موسم سرما کے تفریحی  مقام کی حیثیت  سے معروف  ہے جہاں  چکنی  پھسلتی برف  پر سکیٹنگ کا لطف  لینے کے لیے دور دور سے لوگ آتے  ہیں لیکن اہل دل  کے لیے یہ  ایک خفیہ پر اسرار مقام ہے  جہا ں گاہے بگاہے  قطب  الاقطاب اور جبل قاسیون  کے چالیس ابدال  اپنی سالانہ  مجلس  کے لیے جمع  ہوتے ہیں ۔ ان مجالس  میں ہماشا  کا تو گزر نہیں  ہوتا البتہ  کبھی کبھی  باسفورس  کی لہروں  پر ان روحانیوں  کا کوئی منور سفینہ جذب  و سرمستی  کی موسیقی  اور ہاؤ ہوُ کے نغمے  سے معمور دور سے گزرتا دکھائی دے جاتا ہے ۔

بعض کہتے ہیں کہ  یہ بھی محض  ایک ہلوسہ  ہے ۔ البتہ  ہوجا عثمان  کا کہنا ہے کہ انہوں نے  اس نورانی  سفینے  کو ایک بار بچشم خود دیکھا  ہے ۔ میں ابھی  ان ہی خیالات میں کھویا  تھا کہ دیکھیں  مصطفیٰ  اوغلو  آج کیا خبر  لاتے ہیں ۔  اسی دوران ٹیلیفون کی گھنٹی  بجی ۔  دوسری  طرف ولید اور ساجد  بول رہے تھے ۔ کہنے لگے  کہ ہم لوگ  سلطان احمد کے علاقے  میں آئے تھے ۔ خیال ہوا کہ اگر آپ ہوٹل  میں موجود ہوں  اور علیک سلیک  کی گنجائش ہوتو حاضری  دے ڈالیں ۔ جلدی  مصطفیٰ اوغلو بھی تشریف لے آئے  ۔ آج  کچھ زمانہ  پر جوش نہ تھے شاید  ابھی ان کے ہاتھ  وہ بڑی  خبرنہ لگی  تھی جس  کی تسلی بشارت وہ کئی دنوں سے  مجھے دے رہے تھے ۔ انہیں کچھ  بجھا بجھا سا دیکھ کر میں نے پوچھا  ؟ لگتا ہے کہ جبل قاسیون  کے راہبوں  کی ابھی استنبول  میں آمد نہیں ہوئی ہے ۔ فرمایا  14 ستمبر  آنے میں  اب چند دن  باقی ہیں کچھ  اور صبر کیجئے البتہ آج  کی شب روحانیوں کی ایک مجلس  میں آپ کی  دعوت  کا انتظام ہو گیا ہے ۔ چاہیں تو ولید  اور ساجد  کو بھی لے لیں ۔ باسفورس  پر سفننۂ  نور میں  محفل  سماع کے ساتھ ڈنر کا خیال  کچھ غیر دلچسپ بھی نہیں ۔

مختلف کانفرنسوں  میں شرکت  کے لیے جب  بھی  میں استنبول  آیا کسی نہ کسی بہانے  سے با سفورس  پر عشائیہ کی تقریب  پیدا ہوگئی ۔ البتہ آج کے عشائیہ  کا رنگ  و آہنگ  بالکل  جداگانہ تھا ۔ سفینے  کے نصف دائرے والے ہا ل میں  چاروں طرف دیواروں  کے کنارے کرسیاں لگی تھیں ۔ ایک کنارے جہاں اسٹیج  کا منظر تھا سماع  زن اپنی  گردنیں  خم کیے  ہوئے والہانہ سپرد گی  کا احسا س دلارہے تھے ۔  حاضرین میں ایک  قابل ذکر تعداد  ان جبہ دوستارے  کے حاملین  کی تھی  جن کے بلند کلاہی  اور طویل  و سفید  ریش  کے سبب ان پر اہل  سلوک  کے شیوخ کا گمان ہوتا تھا ۔ حاضرین میں مردو زن  دونوں تھے البتہ ان میں  عرب نژاد  مغربیوں  کی کثرت تھی ۔  گاہے سفید فارم مغربی  بھی دکھائی  دے جاتے تھے ۔ جلد ہی یہ عقد ہ کھلا  کہ اہل  سلوک  کے وہ خواص  جو جراحی، نقشبندی ، مولوی ، قادری اور مختلف  سلاسل  سے تعلق  رکھتے ہیں  اور جن  کے مراکز امریکہ  اور یورپ  میں قائم ہیں وہ اپنے  سلسلے  کی خانقاہوں کی زیارت کے لیے استنبول  کا رخ  کرتے رہتے ہیں  ۔ ادھر  چند سالوں سے باسفورس  کی لہروں پر متحرک عشائیوں  میں رواتی بیلے ڈانسر  کے بالمقابل مولوی رقص کا  عنصر  بھی شامل ہوگیا ہے ۔ البتہ ایسے  عشائیے  کم ہوتے ہیں اور ان کا اہتمام مقامی  خانقاہوں  کے تعاون  سے گاہے بہ گاہے  روحانی سیاحوں  کی آمد  پر ہوا کرتا ہے ۔

سفینہ نے ساحل کو خیر باد کہا ۔ تھوڑی  دیرکچھ  ہلچل کی سی کیفیت رہی ۔ بلوری جام  میں مختلف رنگوں کی مشروبار کی ٹرے لیے پھرنے والی خادماؤں  کے قدم تھمے  ، حاضرین نےاپنی متعین  سنبھا لیں اور ایک نوجوان ، جو چہرے  بشرے  سے مقامی ترک لگتا تھا ، بز بان عربی مہمانوں  کے استقبال کے لیے  اسٹیج  پر سامنےآیا ۔  سماع زنوں  نے اپنی خمیدہ  گردنوں کو سیدھا  کیا اور دف کی دھمال پر بلند آہنگ  موسیقی  کے ساتھ  عرفت  الھودی  کا معرف انگیز نغمہ بلند ہوا۔

عرفت الھودیٰ  مذعرفت الھواک ...... واغلقت قلبی  عمّن  عداک

وہی لَے  ،وہی طرب، وہی جذب، وہی مستی ۔ ایسا لگا جیسے  یہ نغمہ پہلے بھی  کہیں سنا ہو ۔ کہنے  والا کہہ رہا تھا :

وقمت  انا جیک یا من تری             خفا یا القلوب  و لسنا نراک

احبک  حبین ۔ حب الھوی             وحبا لانک اھل لذاک

دف کی تھاپ  مسلسل  بلند ہورہی تھی ۔ سامعین  کے دل رقصاں تھے ۔ بعضے  جسم  کی جنبش  سے اس امر کا پتہ  دے رہے تھے ۔

فا ما الذی ھو حب الھویٰ ....... فشغلنی  بذکراک عمن سواک

او رجب مغنی  اس شعر پر پہنچا :

وامالذی انت اھل لہ ..... فکشفک لی الحجب  حتی اراک

فلا الحمد فی ذاوکاذاک لی ..... ولکن  الحمد فی ذاو ذاک

 تو ایسا لگا جیسے ضبط دیدار کے سارے بند ٹوٹ  گئے ہوں ۔ کچھ تو متحرک  سفینہ کا ہچکولا ، کچھ طرف انگیز  موسیقی  کی دھمک  اور اس پر سامعین  کی سرمستی  اور پھر عین  بیچ  سماع  زن کا محوِ رقص  ہوجانا ۔  رنگ برنگی بدلتی  روشنیوں کے ہالے، سمٹتے  اور بڑھتے دائرے ،چند  ثانیے  کے لیے ایسا لگا گویا ہم استنبول  کے ساحل  پر نہ ہو ں ، مراکش کے کسی زاویہ  میں مجلس  نشین  ہوں یا پھر  صدیوں  پہلے  ابن عرب کے اندلس  میں ہوں،  دیدار  کے طالب، مشاہدہ  کے شوقین۔

عرفت الھویٰ کا طرب انگیز  نغمہ  شاید ایک  طرح کا ابتدائیہ تھا یا سامعین کو  Warm-up کرنے کی کوشش تھی کہ اصل  باقاعدہ  پروگرام  تو اس  کے بعد شروع ہوا ۔

ایک بزرگ  ،جو صورت شکل سے شیخ الطائفہ  یا میر مجلس  لگتے تھے ، روشن بار عب  چہرہ، طویل سفید ریش ، بلند  کلاہ ، جس کے مرکز میں نقشبندی  کلاہوں  کی طرح ہلکا  سا ابھار ، جبہ مراکشی  طرز  کا ، البتہ   خلعت  روایتی  صوفیوں  کی سی پہن  رکھی تھی ، اسٹیج  پروار ہوئے ۔ آتے ہی  نغمگیں لَے میں  صلوۃ وسلام  کا ورد فرمایا اور  کچھ سیاسی  لیڈروں  کی طرح حاضرین  کی طرف  ہاتھ اٹھا تےہوئے بشارت دی :لوگو! الحاد و مادیت  کی اس دنیا میں ، جہاں  ہر طرف سنّت کی پامالی  اور خدانا شناسی کے مظاہر عام ہیں،  آپ لوگوں  کواس سفینۂ  نور کی سواری مبارک  ہو۔ فرمایا : آپ جس سفینہ پر سوار ہیں اس کی حیثیت  سفینۂ نوح  کی ہے جو آگیا وہ بچ گیا ، اس کے علاوہ ااو رکوئی   جائے پناہ نہیں ۔ آئیے  آج اس  راز سے پردہ اٹھادوں ، ان باتوں  کو بیان کردو جن کے سننے   کی تاب شاید سفینہ   سے باہر رہ جانے والوں کو نہ ہو ۔ صلوٰۃ  و سلام  ہو اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم   پر جس نے ہمیں  اپنی ولایت کے لیے منتخب  کیا ۔ یہ کہتے ہوئے ایک بار پھر  انہوں نے  نغمگیں لَے میں صلوۃ و سلام  سے حاضرین کے قلوب  کو گرمایا ۔ پھر فرمایا ۔ لوگو!  ہم اہل سنت و الجماعت   چار خلفاء کے قائل  ہیں،  چار آئمہ   کو لائق  اتباع سمجھتے ہیں ۔ سوجان لو جس طرح  فقہ ظاہری  میں ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، شافعی رحمۃ اللہ علیہ ، اور ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  کی پیروی لازم ہے اسی طرح فقہ  باطن  میں نقشبندی  ، سہر وردی ، قادری اور چشتی  سلسلے کی بیعت  کو ہمارے  لیے لازم  کیا گیا ہے ۔ جو لوگ فقہ باطن  کی اہمیت  سے واقف  نہیں اور جو صرف  ظاہری  طور پر مسلمان بنے رہنے  کو کافی سمجھتے ہیں وہ سخت  غلطی  پر ہیں ۔ ان کا دین  ناقص  او رنامکمل  ہے ۔ یہ سینۂ کائنات  کا وہ راز ہے جس سے ارباب  اہل دل کے علاوہ  او رکوئی آگاہ نہیں ۔

خواتین و حضرات ! آپ لوگوں  نےحضرت اویس قرنی کا نام سنا ہوگا، جی ہاں وہی اویس قرنی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سےبالمشا فہ ملاقات  کےبغیر  صحابیت  کے درجہ  پر فائز کیے  ، جو اپنی  ضعیف  ماں کی خدمت  کے سبب  بارگاہِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  میں حاضر ہونے سے قاصر رہے ، جنہیں  اللہ نے مستجاب  الدعوات  بنایا اور جو خلفت  کی نگاہوں  سے اس لیے پوشیدہ  رہتے مبادالوگ اپنی  جائز اور ناجائز  خواہشات کو لے کر ان  سے دعاؤں  کے طالب   نہ ہوں  کہ جب ان  کے ہاتھ اللہ کے حضور اٹھ  جاتے تو دعاؤں  کا قبول ہونا یقینی ہوتا ۔ 

جب سنئے اویس قرنی  کی ہم اہل کشف کے ہاں اتنی اہمیت   کیوں ہے ۔ جن لوگوں نے جامی کی  شواھد النبوۃ  اور عطار کی  تذکرۃ الاولیاء  پڑھی ہوگی  وہ اس حقیقت  سے یقیناً  واقف ہوں گے کہ رسول اللہ خود اویس قرنی سے ملاقات  کے مشتاق تھے ۔ وقت وصال   آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی خلعتِ مبارک عمر رضی اللہ عنہ او رعلی رضی اللہ عنہ  کو اس وصیت  کے ساتھ سونپی  تھی کہ  وہ اسے اویس  قرنی کی خدمت میں یہ خلعت  پہنچا دی ۔ امت  کے حق  میں دعائے مغفرت  کی درخواست  کی ۔ جس  کے جواب  میں حضرت اویس  نے بارگاہِ ایزدی میں اپنے ہاتھ اٹھا دیئے ۔ اللہ کے حضور کچھ اس طرح سر بسجود  ہوئے اور اتنی دیر  تک ہوئے کے عمر رضی اللہ عنہ  او رعلی رضی اللہ عنہ  کو یہ شبہ ہوا کہ شاید آپ کی روح  قفس  عنصری سے پرواز  کر چکی ہے ۔ قریب جاکر دیکھنے  کی کوشش کی جس سے اویس  قرنی  کی عبادت  میں خلل  واقع ہوگیا ۔ آپ نے سجدے سے سر اٹھایا ۔ فرمایا ! میں تو اللہ سے آج یہ ضد لگائے  بیٹھا تھا کہ جب تک تو محمد مصطفیٰ کی وصیت کی لاج نہیں  رکھے گا، تمام امت محمدیہ  کو بخشنے  کا وعدہ نہ  کرے گا، میں سجدے  سے سر اٹھاؤں گا اور نہ ہی  تیرے محبو  کے جبۂ  مبارک  کوپہنوں گا۔

خدائے بزرگ  و بر تر نے پھر بھی مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قبیلہ  بنی ربیعہ اور قبیلہ  بنی مضر کی بھیڑ بکریوں  کے بالوں کی تعداد  کےبرابر امت محمدیہ  کے گنہگاروں  کو بخش دے گا ۔ یہ سن کر عمر فاروق او رعلی مرتضیٰ  نے خوشی  سے نعرہ تکبیر  بلند کیا ۔ ولایت کے مقابلے  میں ، جو اللہ  نے اویس قرنی  کو عطاء کی ، اور جس کی توثیق  کے لیے خلعتِ ولایت  عمر رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ  ان کی خدمت میں  لے کر آئے ، اس ولایت کے مقابلے  میں انہیں خلافت بڑی ہیج  نظر آئی ۔ بعض روایتوں  میں  ہے کہ ولایت  کے مقابلے میں جب خلافت کی بے توقیری  عمر فاروق پر واضح ہوگئی تو انہوں نے  بددل ہوکر خلافت چھوڑ نے کا ارادہ کر لیا ۔ لیکن پھر اویس  قرنی کےاصرار پر اور اس خیال سے غیاب خلافت  کے سبب خلق  گمراہ ہوجائے گی آپ  نےاس بار کو سنبھالے رکھا ۔

یہ ہے وہ عظیم  امانت  جس کے ہم  امین ہیں ۔ اویس قرنی  کی یہ خلعتِ ولایت  سینہ بہ سینہ ، نسل بہ نسل  مختلف طروق  اور سلسلوں سے ہوتے ہوئے ہم تک پہنچی ہے ۔ یہ ایک بڑا اعزاز  ہے جو اللہ نے ہمیں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے سبب عطا کیا ہے ۔ لوگو!  بات طویل ہوجائے گی مگر  ایک واقعہ سنا ئے بغیر  رہا بھی نہیں  جاتا ۔ کہتے ہیں کہ  عمر رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ  کو اس بات پر حیرت   ہوئی کہ اویس قرنی  کےمنھ میں  کوئی دانت نہیں ۔ پوچھنے پر پتہ لگا کہ جب انہیں معرکۂ  احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ  مبارک کے شہادت  کی خبر ملی تو وہ سخت بے چین ہوئے ۔انہیں  یہ بات گوارا  نہ ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تو دانت  ٹوٹے ہوں  اور ان کے دانتوں  پر اس کا اثر بھی دکھائی نہ دے ۔ اتباع  رسول صلی اللہ علیہ وسلم   میں پیرویٔ سنت  کے خیال  سے انہوں نے اپنے  دو دانت  توڑ ڈالے ۔  پھر یہ خیال  آیا کیا پتہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کون سے دانت شہید  ہوئے ہوں اور میں نے کون سا دانت  توڑ لیا ہو، سو اس خیال سے انہوں نے  جب تک اپنے سارے دانت نہ توڑ ڈالے انہیں اپنی اتباع سنت پر مکمل  شرح  صدر نہ ہوا ۔

کہتے ہیں  کہ اس قصۂ عشق  کو سب کر عمر رضی اللہ عنہ  او ر علی رضی اللہ عنہ  کی آنکھوں  سے آنسو جاری ہوگئے ۔ انہیں اپنی  جاں نثاری اور اتباع  رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیچ  نظر آئی ۔ لوگو!  یہ ہے وہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس پر بظاہر دیوانگی  اور جنون کاگمان ہوتا ہے ۔ لیکن اس  کے بغیر خلعتِ  ولایت  ملتی بھی نہیں ۔ جو ہمارے صلوۃ و سلام  کے ہنگامے ہیں، جنہیں  ظاہر پرست غلو سے تعبیر  کرتے ہیں  اور جسے  سن کر وہابیوں کا اسلام جاتا رہتا ہے، یا رسول اللہ شیئاً للہ  کی یہی وہ وارفتگی  ہے جو ہمیں  خلعتِ ولایت  کا سزا وار بناتی ہے ۔

ولایت وہ چیز ہے جس کے آگے دنیا کا جاہ اقتدار  ، وقت  کی خلافت  ہیچ ہے ۔ جسے ولایت  کا ادراک  ہوجائے وہ کبھی خلافت  کے لیے تگ  و دو نہیں کرسکتا ۔ آپ کو شاید  یاد ہوکہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ  کے بعد جب لوگ  حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ وہ معصبِ خلافت قبول کرلیں تو انہوں نے  صاف کہا  کہ انہیں خلیفہ  بننے  کے بجائے  وزیر و مشیر کی حیثیت سے مشورہ دینا زیادہ پسند ہے ۔ مبارک ہو کہ آپ وہ خوش بخت لوگ ہیں جنہیں  اللہ نے  کاروانِ  ولایت  کے لیے  منتخب  کیا ۔ عشق و سرمستی  کی راہ پر ڈالا ۔ یہاں  فنافی  الشیخ  ہونا، فنافی الرسول ہونا دراصل  بقا ء  کی ضمانت  ہے۔ آئیے  ایک بار پھر  سرور وسرمستی  کے ساتھ عالم وجد میں  آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم  پر صلوٰۃ  و سلام بھیجیں  جن کے ہاتھوں میں ولایت  کی یہ امانت تھمائی گئی ہے ۔ یہ کہتے ہوئے شیخ الطائفہ نے آل محمدپر صلوٰۃ  کا نغمہ  کچھ اس انداز سے چھیڑا  کہ شیخ  حبوّش کی یاد تازہ ہوگئی ۔

چند سال پہلے شیخ حبوّش  اپنے طائفے  کے ساتھ لندن  تشریف لائے تھے ۔ غالباً 2005 کی بات ہے ۔ لند ن انڈر گراؤنڈ  میں بم دھماکوں کا واقعہ ابھی  تازہ تھا  ۔ اسلام اور مسلمان  شبہات کے دائرے میں تھے ۔ ان دہی دنوں  رمضان  کی راتوں  میں شیخ حبوش نے  یا ایا الحسن حیاک  کانعرہ بلندکیا اور ایسا محسوس  ہواجیسے لندن کے خوفزدہ  ماحول میں ابوالحسن کے متبعین  کی سہمی  ٹھٹھری  زندگی  کو پھر سے توانائی  مل گئی  ہو، زندگی کا پہیہ تمام مخالفتوں  کو عبور کرتاہوا آگے کی طرف چل پڑا ہو ۔ خاص طور پر شیخ  حبوش کی سحر انگیز آواز  میں جب قصیدہ  آگے بڑھا اور دف کی وجد آفریں تھاپ  پرانہوں نے سبحانک  یا دائم ۔ سبحانک علّام الغیوب ، سبحانک یا مفرج  القلوب ۔ سبحانک من لھم  فی کل شئی آیۃ کی صدا بلند کی اور اس  کے ساتھ ہی سماع زن کا رقص شروع ہوا، تو حاضرین  پر وہ کیفیت  طاری ہوئی  کہ  انہیں  اس بات کا اندازہ ہی نہ ہوسکا  کہ کب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے شفاعت طلبی  کامطالبہ استعانت اور مدد تک جا پہنچا ۔ مدد مدد  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدائے سحر  انگیز میں سماج زن رقص کرتے رہے ۔ شیخ حبوش  کی نغمہ سرائی جاری رہی ۔ ایسا لگا جیسے  وقتی  طور پر حاضرین ایک ایسی پناہ گاہ میں   جا پہنچے ہیں جہاں  ڈر اور خوف  کا کوئی گزر نہیں  ۔ اہل  دل کہتے  ہیں کہ  لاخوف علیھم و لاھم یحزنون کا الہٰی  وعدہ جب صوفیانہ  مجلسوں  میں اتناسچا سچا لگتا ہے تو پھر آخرت  میں اولیاء اللہ  کے لیے کیا کچھ نہ ہوگا ۔ میں جب  بھی ان نغموں کوسنتا  ہوں شاعری او رموسیقی  کی اثر انگیز  ی پر مجھے حیرت ہوتی ہے ۔ اچھے اچھوں  کے حواس  معطل  اور عقل ماؤف  ہوجاتی ہے ۔ کتنی  مسمرائزنگ قوت ہے  اس نغمۂ  طرف انگیز میں ۔ بظاہر  دین ہے،  عشق رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کا والہانہ اظہار ہے  اور بباطن  نغمہ  کی مذہبی  زبان میں دین کی نفی  کا مکمل  اہتمام ۔

شیخ الطائفہ جو بظاہر اپنی عالمانہ  ، صوفیانہ تقریر کے سبب شیخ طریقت معلوم ہوتے تھے اب انہوں نے تقریر کے بعد مغنّیوں کے اسے انداز  میں صلوٰۃ  وسلام  کانغمہ  بلند  کیا تو پتہ  چلا کہ  یہ تقریر تو محض  تمہید  تھی اصل نغمہ  کی ۔ انہوں نے شیخ حبوش کی طرح  ابوالحسن  کو آواز دینے کے بجائے خاص  مطوّل لَے میں فرمایا :

نادیت للبعض روحی لحیم عطشا نہ ۔

قاصد حمی بغداد

لیتو بکأس الحال اروانی

کرمال جّدک یا باز حَوِّلو علینا النظر

 و اناالمحسوب جیلانی

للہ پھر اللہ یا اللہ  کی آواز  کچھ دیر تک کورس میں گونجتی رہی ۔ پھر اصل نغمہ کچھ اس طرح شروع ہوا ۔

أخذت العھد فی اول زمانی ۔۔  لقیت العھد غالی یا اخوانی

دخلت حما رضا ھم بالا مال ۔۔ ونلت منایی من طیب  الوصال

وفیی دیوانھم شیخی  الرفاعی ۔۔ وشیخی القادری الباز الجیلانی

فقیل یا فقیر من ھم مشایخک ۔۔ فقال الباز  الأ شھب و الرفاعی

دفعتاً مغنیوں نے نغمہ  کی لَے تبدیل  کی ۔ بربط پر

یا شمش الا حسانِ یا قطب  العرفان ۔ یا عبدالقادر یا غوثی ! یا بشریٰ جیلان

 کے نغمے گائے جانے لگے ۔

شیخی عالی الجاہ ۔۔ غوثاہ یا غوثاہ

انتم للملھوف غوث ۔۔ انتم  اھل اللہ

کی صدا پر مغنیوں  کا جذب  اور بربط کی لَے  دونوں  تیز ہوگئیں ۔ سامعین  پر ایک طرح  کی جذب و سرمستی  چھاتی جارہی  تھی ۔ جو ں جوں سرمستی میں اضافہ  ہوتا ۔ مردہ شیوخ  سے حاجت  روائی  کی طلب  تیز ہوتی جاتی :

ادر کنا شیخی یا رفاعی ۔۔ یا شیخ العرجاء

یا أھل الامداد۔۔ جودوابا اسیاد

نظرۃ منکم أھل الھمۃ ۔۔ قل عندی الزاد

یا أحباب اللہ ۔۔ انتم  أھل الجاہ

أھو ا کم والشوق الیکم ۔۔ فی قلبی واللہ

بالآخر  یا عبدالقادر یار فاعی یا بشری جیلان کی تکرار پرنغمہ اپنے اختتام کو پہنچا  ۔ ایک  کے بعد دوسرے نغمے کی باری آتی رہی ۔ کبھی ترکی زبان  میں دھمال  ڈالی گئی فارسی میں منقبت  سماعی ہوئی البتہ غالب حصہ عربی قصیدوں  کارہا ۔ شاید  اس کی وجہ یہ رہی  کہ مہمانوں  میں عرب نژاد  امریکیوں   کی کثرت تھی بعضوں نے مراکشی انداز  کے جبّے بھی زیب تن   کررکھے تھے ۔  مغنیوں  نے جس انہماک سے نغمے گائے ، سامعین نے اس سے کہیں زیادہ جذب  و سرمستی  کی کیفیت  میں اسے قبول  کیا ۔ بالآخر  اللہ یا اللہ کی دھمال پر اچانک  دف کی آواز ٹھہر گئی ۔ سماع زنوں  نے خمیدہ  گردنوں  سے الوداعی  سلام کیا ۔ تالیوں  کے زبردست  شور میں  رنگین  روشنیوں کے بدلتے ہالے  اچانک  غائب ہوگئے ۔ نیم تاریک  ، پر اسرار ماحول ٹیوب لائٹ  کی سفید  بے کیف روشنی  میں اچانک  غائب ہوگیا ۔ ایسا لگا جیسے ہم لوگ کسی خواب  سےاچانک  بیدار ہوگئے ہوں ۔

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا ۔

دیکھتے دیکھتے  حاضرین  اپنی اپنی نششتوں سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ کارندوں  نے گول میز  کے گرد کرسیوں  کی ترتیب بدلی اور چشم زون  میں مجلس  سماع مجلس طعام  میں بدلتی نظر آئی ۔اب تک دورانِ سماع سفینہ  کے بیرونی حصے سے کباب  کی خوشبو گاہے بگاہے  اندر آجایا کرتی تھی  ۔ اب  کباب  کی باقاعدہ سجی سجائی  پلیٹیں  اندر آرہی تھیں ۔ مصطفیٰ  اوغلو  نے سفینہ  کے عرشے پر نسبتاً  کھلی فضا  میں ایک  میز کی طرف اشارہ کیا اور ہم چاروں  نے اس پر اپنا قبضہ  جمالیا ۔ ایک ادھیڑ عمر ایرانی جوڑے  نے میز  کے گرد دوخالی  کرسیوں  کو استفہا میہ نگاہوں  سے دیکھا ۔ ہم نے بخوشی انہیں اپنی  میز پر شرکت  کی اجازت  دے دی ۔ اظہار گرمجوشی  میں یہ بھی  پوچھ ڈالا کہ مجلس  کیسی رہی ۔ کہنے  لگے مغنّیوں کے فن  اور سماع زنوں  کے رقص  میں بظاہر  تو کوئی  کمی  نہ تھی لیکن جذب و سرمستی  کا وہ ارتکاز نہ تھا جو فِض  ( فاس) کی مجلسوں  کا خاصہ  ہوا کرتا ہے۔

فض؟  تو کیا آپ  مراکش  کے رہنے والے ہیں میں نے جاننا  چاہا ۔

نہیں رہنے والا  تو شیراز  کاہوں ۔ میرا نام جعفر ہے اور میرے  ساتھ  میری اہلیہ  فاطمہ  ہیں ۔ ہم لوگ لاس اینجلز میں کوئی  بیس سال سے  مقیم ہیں ۔ مراکش ، شام، مصر، سوڈان وغیرہ  ممالک میں کثرت  سے آنا جانا رہا ہے ۔

تو کیا آپ عربی زبان سے بخوبی واقف ہیں ؟  فرمایا : اگر میں ایران میں ہوتا تو علماء  کے لباس  میں آیت اللہ کہلاتا  ۔ رقم  کے مدرسہ  سے فارغ  ہوں اور ایام  طالب علمی  میں مصر اور مراکش  میں دن گزارے ہیں ۔

پھر تو آپ  آیت اللہ جعفر شیرازی  ہوئے ۔مصطفیٰ  اوغلو نے خوش اخلاقی  کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی طرف مصافحہ  کے لیے  ہاتھ بڑھایا ۔ فرمایا آیت اللہ  نہ کہو صرف جعفر ۔ اور یہ  شیرازی  تو میں نے اس خیال سے لگا رکھا ہےکہ کبھی کبھی  شعر موزوں کر لیا کرتا ہوں ۔

جعفر شیرازی قم سے فارغ التحصیل  ایک آیت اللہ اور وہ اہل  سنت و الجماعت  کے سفینۂ  نوح  پر سوار ۔ میرے ذہن  میں اچانک  کئی ایک سوال آئے ۔ پوچھا  ابھی دورانِ مجلس آپ  نے جن چار سلسلہ طریقت کی بابت  سنا کیا ان میں سے کسی سے آپ  کی کوئی  باقاعدہ  وابستگی  ہے ۔ فرمایا ! تصوف  اور عرفان  کی روایت ہم اہل تشیع  کے ہاں  بڑی قدیم او ربڑی  گہری ہے اور سچ  بتاؤں  تو واقعہ  یہ ہے کہ اس وادی  میں شیعہ سنّی  سب ہی برابر ہیں ۔ ہماری نگاہ سے  دیکھئے  تو یہ سب کچھ  علی کے جلووں  کی کار فرمائی  ہے ۔ تفصیلات  کی باریک بینی  میں نہ جائیے  ۔ علی  سے وفاداری  کے بغیر  عرفان بے معنی ہے ۔

صوفی  با صفا منم دم  ہمہ دم علی علیہ اسلام علی علیہ اسلام

ولید اور ساجد  جواب تک  جعفر شیرازی  کی بات  بڑے غور سے سن رہے تھے کہنے  لگے جی ہاں  ہمارے ہاں  پاکستان میں بھی علی رضی اللہ عنہ  دے دم دم اندر ........ کے بغیر عرس کی تقریب اور سماع  کی کوئی مجلس  مکمل نہیں ہوتی۔

عالم عرب  ہو یا بر صغیر ہندوپاک  یہاں مجالس  عرفان کے نام پر جو کچھ  بھی پایا جاتا ہے اس کی ابتدائی  نشو و نما تو قدیم فارس  میں ہوئی ۔ پرانا فارس  جس میں ایران  کے علاوہ  وسط  ایشیا کا بڑا حصہ  شامل تھا ۔ تمام با کمال  اہل دل شعراء اسی علاقے  سے اٹھے ۔ انہوں نے  عرب و عجم  ، مشرق و مغرب ہر طرف اپنے اثرات  ڈالے ۔ اب یہ اور بات ہے کہ کسی  خاص زمانے میں یہ فن  کسی خاص سر زمین میں کمال  کو پہنچ  جائے جیسا  کہ پچھلے  کئی سفروں  میں مجھے مراکش  میں محسوس  ہوا ۔ لیکن  آج بھی وسط ایشیا  کی زبانوں  میں قدیم  شعراء کی منقبت  سنئیے  تو روح  پر وجد  کی کیفیت  طاری ہو جاتی ہے۔ جعفر شیرازی  نے اپنی رائے  ظاہر کی ۔

تو کیا آپ کو کبھی  وکالۃ الغوری  کے صوفی رقص  میں شرکت کاموقع بھی ملا ہے ۔ میں نے ان کے وسیع تجربے  کے پیش نظر  جاننا چاہا ۔

بولے : قاہرہ  کی بات کررہے ہیں؟  وکالۃ الغوری ! بالکل  بے کیف  پھُس پھُساہے ۔ وہاں  طبلوں  کی دھمال  بھی ہے، ہاؤ ہوکے  ہنگامے  بھی  ہیں مگر یہ آپ  کے اندرون کو بیدار  نہیں کرتے ، یہ سب  کچھ ایک  بے مزہ میکانیکی  عمل معلوم ہوتا ہے ۔ ہاں فِض  کی بات اور  ہے یا مجموعہ  ابو شعر کو لیجئے ۔جب  نغمہ زن  روتا  ہے تو سامعین کا پورا وجود مجسم  آہ  بکا بن جاتا ہے ۔ آنسو تھم کر نہیں  دیتے ۔ حبّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کےایسے مظاہرسے و کالۃ  الغور  کو دور کی بھی نسبت نہیں ۔ اس کے برعکس  ناصر خسرو کی شاعری  کو کسی  روشن ضمیر  نغمہ زن  کی زبانی سنئے  تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ  کی آلودہ  روح مسلسل  مصفّیٰ  او ر مجلّیٰ ہوتی جارہی ہو۔

جعفر  شیرازی تو بحر  تصوف کے غواص نکلے ۔ ہندو پاک سے لے کر مراکش  تک او رملائشیا سے لے کر مغرب  تک کا شاید ہی کوئی معروف  صوفی مغنی ہو جس  سے ان کی واقفیت  نہ ہو ۔ میری حیرت  کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے صابری  بر ادران  کے خاص  انداز میں بھردے جھولی  میری یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم   ، کی چند  لائینں  سنا ڈالیں ۔ اگر ایرانی   لہجہ  کی چھاپ ان کے انداز تکلم  پر نمایاں  نہ ہوتی تو   یہ  ماننا  مشکل  ہوتا کہ  اردو زبان سے ان کی واقفیت  بس واجبی  سی ہے ۔

میں نے پوچھا  کہ مختلف  ملکوں کے روحانی سفر،  مجالس  سماع  میں شرکت  ، اہل  دل سے قربت  میں ان کی اس قدر دلچسپی  کاآخر  سبب کیا ہے؟ کیا واقعی  وہ  سمجھتے ہیں  کہ اسلام  کا یہ روحانی قالب  ہی اس کا اصل  الاصل ہے؟

میرے اس سوال پر جعفر شیرازی  کچھ سنبھل  سے گئے ۔ فرمایا بعض  لوگ حبِّ کلام  کے رسیا  ہوتے ہیں ۔ بولنا بلاتکان  بولنا انہیں  مسرت دیتا ہے ۔ بولنے  کے مقابلے  میں سننا  ایک ریاضت  چاہتا ہے ۔ کثرتِ کلام  سے دل  کی آنکھیں  ویران  ہوجاتی ہیں  جب کہ کثرت  سماع  سے دل کی دنیا روشن  اور منور ہوجاتی ہے ۔ اور جب آپ  کے کان ایک بار نغمہ معرفت  کے رسیا  ہوجائیں  تو پھر  عرفان سےکم تر  کوئی چیز نگاہوں میں جچتی  ہی نہیں ۔ پھر سماع  جذب و سرمستی  کا سامان بھی ہے ۔  الفاظ  پر نہ  جایئے  کہ مغنی  کیا کہتا ہے ۔ کون سی بات  خلافِ  شرع ہے اور کون سی  بات خلافِ  عقل ۔ اہل  سماع جب اپنی منزل  ارتکا ز پر  جا پہنچتے ہیں تو انہیں الفاظ  و معانی منتقل  نہیں ہوتے  بلکہ صرف  جذب و سرمستی  کی سرور  آمیز کیفیت  منتقل  ہوتی ہے ۔ یہی وہ چیز ہے  جو مجھے  ملکوں  مختلف  مجالس  میں لئے پھرتی ہے ۔اور ہاں ایک راز کی بات بتاؤں ، یہ کہتے ہوئے  ان کی آنکھوں  میں ایک خاص قسم  کی چمک  پیدا ہوئی ، چہرے  پر معنی  خیز مسکراہٹ  طاری ہوئی ۔ فرمایا!  یہ سب بنیادی طور پر ہے تو علی علیہ السلام  کا ہی جلوہ  ۔ یہ علی علیہ السلام کا جادو ہے جو آج سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ذرا دیکھئے  تو سہی نقشبندیوں  نےاپنے سلسلے  سے علی علیہ السلام کو ہٹا کر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ   کو رکھ دیا لیکن اہل بیت  کے بغیر  ان کا کام نہ نکل سکتا تھا جو جعفر صادق  سے انہیں  اپنا رشتہ  جوڑنا پڑا ۔  او ریہ جو ابھی آپ  نے اویس قرنی کا قصہ سنا  یہ سب خیالی  باتیں ہیں ۔ یہ ایک تخیلی  اور اسطوری کردار ہے جو علی علیہ السلام  کی عظمت  کم کرنے  کے لیے تشکیل  دیا گیا لیکن  بالآخر نتیجہ  کیا نکلا ۔  علی علیہ السلام علی علیہ السلام    ہی رہے ۔  آج بھی  امت پر علوی  ساوات  کی روحانی  حکومت قائم ہے ۔ خود سنیوں کا کوئی خطبہ  جمعہ پنجتن  کے ذکر خیر  کے بغیر مکمل  نہیں ہوتا ۔  سچ پوچھو تو اسلام علی علیہ السلام ہے اور علی علیہ السلام ۔

ساجد جو اس پورے تماشے میں بظاہر  گم سم سے بیٹھے  تھے واپسی  میں کہنے لگے  ایک بات سمجھ  میں نہیں آتی بلکہ  بہت سی  باتیں سمجھ میں نہیں آئیں ۔

شاید اسی لیے تم پرحال کی  کیفیت  زیادہ طاری رہی، میں نے اسے چھیڑ نے کی کوشش کی ۔ کہ تصوف کا سرالاسراریہ ہے کہ جو جتناکم سمجھتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ محفوظ ہوتا ہے ۔

بولے ! نہیں  یہ بات نہیں  ہے ۔ دراصل  مجھے آج ایک بڑا  جذباتی دھچکا پہنچا ہے ۔ اب تک تو میں  یہ سمجھتا آیا تھا کہ داتا میرے  داتا کہنے  والے یا غوث اعظم  دستگیر  کا نعرہ بلند  کرنے والے  یا سخی  شہباز  سے مدد کے طالبین  نا سمجھ  اور نا خواندہ  پاکستانی مسلمان ہیں اور یہ سب کچھ  ان کی جہالت  اور اسلام  سے دور   کے سبب ہے ۔ لیکن آج  یہ جان کر حیرت  ہوئی کہ یا غوثاہ  کہنے والے  یا رفاعی  اور عبدالقادر سے مدد طلب کرنے والے لوگوں کی عالم عرب میں بھی کمی  نہیں ۔ جب عرب عجم  ہر جگہ  المدد  یا رسول اللہ یا عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ  کی صدا بلند  ہورہی ہے   تو پھر اسلام  بچا کہاں؟  آج پہلی بار یہ بات مجھ پر منکشف  ہوئی کہ ‘ داتا میرے داتا’ کی صدا سے  صرف لاہور کا داتا دربار نہیں گونج رہا  ہے بلکہ پورا عالم  اسلام ،بجز چند مستثنیات  ، خدائے واحد  کو چھوڑ کر مردہ پرستی  کے کارِ لا یعنی  میں مبتلا  ہے ۔ میری  سمجھ میں  یہ بات نہیں  آتی کہ پھر  اسلام بچا کہاں؟                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                          ساجد کا یہ  رد عمل  گو کہ فطری  تھا لیکن مجھے اندازہ نہ تھا کہ سفینۂ  نور کے طرب انگیز  ہنگامے  میں بظاگم سم بیٹھے  اس نوجوان کے دل میں خیالات  کا یہ طوفان  بپا تھا ۔  میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا تمہارا کہنا بالکل  درست ہے ۔ ہم مسلمانوں نےبھی عملی  طور پر اللہ کو ا سکے کار منصبی  سے معطل کر رکھا ہے ۔ جس طرح ہندوؤں  نے برہما  کو تخلیق  کائنات  کے بعد لمبی چھٹی  پر بھیج رکھا ہے اور ان کے  ہاں مختلف  دیوی دیوتا لوگوں  کی داد رسی  کررہے ہیں اسی  طرح مسلمانوں  میں غوثِ اعظم  کو صنم  اکبر کی حیثیت  حاصل ہوگئی ہے  جو اپنے  مختلف  چیلوں  اور ولیوں  کے توسط  سےکچھ  اس شان  سے ہماری  داد رسائی  کا فریضہ  انجام دےرہے ہیں  کہ تمام  ولیوں  کی گردنیں  ان کے  قدم مبارک  کے نیچے  آگئی ہیں ۔

‘ لیکن  یہ جال تو بہت بڑا  ہے’، ساجد نے اپنا  اضطراب ظاہر کیا۔

ہاں! اور تمہیں  یہ معلوم  کرکے  مزید  حیرت ہوگی  کہ عام طور پر جن لوگوں  کے بارے میں  یہ شہرہ  ہے کہ  وہ تصوف  کے مخالفین میں ہے ہیں وہ بھی اس جال  سے باہر نہیں ۔ ابنِ تیمیہ  سے تو تم واقف  ہو جنہیں  سلفیٰ تحریک نے تصوف  مخالف  باور کر ارکھا ہے ۔ وہ بھی اسی صوفی سلسلے  کے توسیعہ  میں ، خرقۂ  ولایت   کے حاملین  میں سے ہیں ، مصطفیٰ  اوغلو نے اپنی معلومات  سے جلتی آگ پر تیل جھڑکنے کی ابنِ  تیمیہ ؟  تو کیا وہ  بھی  کسی سلسلے  میں بیعت  تھے؟  ساجداب سراپا حیرت تھا -                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                 

وہی  خرقۂ ولایت،  جس کا آج  سفینے  پر تذکرہ  رہا، عبدالقادر جیلانی سےابو عمر  بن قدامہ اور ان  کے فرزند ابن عربی  عمر بن  قدامہ  کے سلسلے  سے ابن تیمیہ  کو پہنچا، اور انہوں نے آگے اسے اپنے شاگردِ خاص  ابن  قیم الجوزیہ  کو منتقل  کیا جو مدارج  السالکین ( شرح  صوفی  تصنیف  منازل  السائرین )  کے مولف  کی حثییت  سے معروف ہیں ۔ بداء العلقہ بلبس  الخرقہ (مولف : یوسف بن عبدالہادی) میں ابن تیمیہ  کا یہ اعتراف  او راس کے تفصیلی  شواہد  موجود ہیں  کہ انہیں مختلف  صوفی سلسلوں بشمول  سلسلۂ قادریہ سے نسبت  حاصل تھی ۔

ساجد کے لیے یہ سب کچھ  ایک انکشاف  سے کم نہ تھا ۔ کہنے لگا: آج سے پہلے  مجھے اس بات کا اندازہ  تھا کہ  روحانیوں  نے اتنے بڑے  پیمانے  پر اپنا  جال پھیلارکھا ہے جس میں بڑی  سے بڑی مکھی  آکر چند لمحوں  میں اپنا  دم خم  کھودیتی ہے ۔ اب  میں سوچتا ہوں  تو حیرت  ہوتی ہے کہ  پوری دنیا  میں لاکھوں  لوگ بے شمار  قبروں کی مجاورت کے کام میں مشغول  ہیں ۔ قوالیوں  کی مجلسیں  منعقد ہورہی ہیں ، دھمال ڈالے  جارہے ہیں ، عرس اور زیارتوں  کا سلسلہ جاری ہے۔  سماع اور  نغموں  کا فن  عروج  پر ہے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ  اتنے بڑے پیمانے  پر مسلمانوں  کی توانائی اور ان کا پیسہ  آخر کس کام میں ضائع  ہورہا ہے ۔

ساجد کے بیان  کے ساتھ ہی  اس کا اضطراب  بڑھتا جاتا تھا ۔ وہ عمر کے جس مرحلے  میں تھا  اس  کےلیےاپنے  جذبات  پر قابو  رکھنا مشکل  تھا ۔ سفینہ ٔنور کا  سفر اس کے لیے  ایک عجیب  تجربہ تھا ، ایک چشم  کشا تجربہ ۔ اور بقول  مصطفیٰ  اوغلو  ا س تجربہ  میں دراصل اس کے باطن  کا فیوز اڑ گیا تھا ۔

مئی ، 2014  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/dr-rashid-saz/eleven-days-in-the-spiritual-city-of-istanbul-part--8--(روحانیوں--کے-عالمی--پایۂ-تخت-استنبول-میں-گیارہ-دن--حصہ-(-8/d/98061

 

Loading..

Loading..