New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 07:38 AM

Urdu Section ( 3 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part 5 (روحانیوں کے عالمی پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دین حصہ (5

 

 

ڈاکٹر راشد شاز ۔ دہلی

ان کے بارے میں یہاں بڑی اچھی رائے پائی جاتی ہے ، مریدین زیادہ تر سنت پر عامل ہیں، اکثر کی داڑھیاں  ہیں اور زیادہ تر لوگ ٹخنوں سے اوپر شلوار پہنتے ہیں ، مشواک کا استعمال بھی عام ہے ، عورتیں  مردوں سے الگ برقع میں رہتی ہیں اور غیر محرموں سے مصافحے کا رواج بھی نہیں  دکھتا ۔ یہاں تک تو بات ٹھیک لگتی ہے اب دیکھئے  آگے کیا ہوتا ہے ۔

تم ہر بات کو شک سے شروع کرتے ہو یہ رویہ ٹھیک نہیں ۔ ہاشم  نے تنبیہ کہا ۔  سچے اہل اللہ اپنے کشف کے ذریعہ لوگوں کے شک کا پتہ لگا لیتے ہیں اور جن لوگوں کے دل شکوک کی آماجگاہ  ہوتے ہیں  شیخ ان پر توجہ فرماتے ہیں ۔ یہ اہل دل کا پرانا اصول ہےکہ جب تک سالک میں طلب خالص نہ ہو اس کی طرف نظر عنایت نہیں کی جاتی ۔ شک کی سرزمین پر یقین  کا پودا برگ وبار نہیں لاتا ۔ اگر تم شیخ کی توجہ چاہتے ہو تو تمہیں اپنے دل کو شکوک و شبہات  اور اس  قسم کے شیطانی وسوسوں سے پاک کرنا ہوگا ۔

لیکن یہ بات تو معلوم  کرنی ہی ہوگی کہ اگر حق نقشبندی  طریقے کے ساتھ ہے تو وہ کون  سا نقشبندی  طریقہ ہے ، شیخ  ناظم قبرصی کا یا حضرت محمود  آفندی کا؟ مصطفیٰ اوغلو نے معاملے  کو اور خراب کرنے کی کوشش کی ۔

ویسے کیا ضرورت ہے کہ میں کسی سے بیعت کرو؟

ہائیں ........... ہاشم کی زبان  سے اچانک نکلا ۔ آپ کو پتہ  نہیں کہ جس کا کوئی شیخ نہیں ہوتا شیطان اس کا شیخ بن جاتا ہے ۔ یہ آپ کہاں سے لے آئے ؟ مصطفیٰ اوغلو زیر لب مسکرائے ۔

جی! آپ کو معلوم  نہیں یہ حدیث ہے ۔

حدیث میں ؟

جی ہاں ! اور ایک حدیث میں تو یہاں  تک آیا ہے کہ جس مسلمان کی گردن بیعت سے خالی رہی  اور وہ اسی حالت میں مرا تو ایسے شخص کی موت جاہلیت  کی موت ہوگی۔

لیکن اسلام میں بیعت تو صرف خلیفۂ وقت کے لیے ہے ۔ یہ ہماشما کو بیعت لینے کا اختیار کہاں سے حاصل ہوگیا ۔ مصطفیٰ اوغلو نے اپنے سوال کی دھار کچھ اور تیز کردی ۔

دیکھئے  میں زیادہ تو نہیں جانتا لیکن  اتنا ضرور جانتا ہوں کہ سادات کو ہم مسلمانوں کی روحانی تربیت کا فریضہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونپا ہے اور یہ بیعت  کا سلسلہ کوئی نئی بات تو ہے نہیں ۔ پیر انِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانی سے لے کر داتا گنج بخش ، معین الدین چشتی ،مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ اور جتنے بھی بڑے بڑے نام ہیں وہ کسی نہ کسی شیخ سے بیعت رہے ہیں ۔ بیعت  کے بغیر  آپ کی حیثیت  اس کٹی پتنگ کی ہوتی ہے جسے شریر بچے لاوارث سمجھ کر لوٹ لیتے ہیں، ہاشم نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا ۔

اور ا س میں حصول فیض کا بھی تو فائدہ ہے ۔ ساجد جواب تک خاموشی سے یہ سب کچھ سن رہے تھے اور جس کے انداز سے لگتا تھا کہ وہ ان مسائل سے نابلد ہیں، اس نے بھی مداخلت ضروری سمجھی ۔

فیض ؟ فیض تو پیر کی ذات کو پہنچتا  ہے ، مریدوں کے نذرانوں سے ، مصطفیٰ اوغلو نے شرارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔ دیکھئے بزرگوں کی شان میں ایسی جسارت آمیز باتیں  نہیں  کہنی چاہییں ۔ ہاشم نےاحتجاج کیا ۔

انہیں ہمارے نذرانوں کے ضرورت نہیں ۔ خدا نے ان کے لیے مشرق  ومغرب اور شمال و جنوب مسخّر کر رکھا ہے کہ شیخ ناظم کی توجہ سے بہت سے لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں ۔ صرف ان کی زندگیاں  سنت کے مطابق نہیں ہوئیں  بلکہ شیخ کی دعاؤں اور فیض کے سبب ان کے مالی حالات بھی بہتر ہوگئے ۔ میرے ایک دوست ہیں طالب حسین  وہ بھی شیخ  کے مریدوں  میں سے ہیں ۔ ان کی فیملی کو کراچی سے کینیڈا منتقل ہونا تھا ۔دو سال سے کاغذی کارروائی  معلّق تھی ۔ ہر بار آخری  مرحلے میں کوئی نہ کوئی مسئلہ آکر پھنس جاتا تھا ۔انہوں نے شیخ سے دعاؤں کی درخواست کی اور شیخ نے  انہیں  ایک مہینہ کے اندر کام ہو جانے کی بشارت سنائی ۔ ابھی تیسرا ہی دن تھا کہ ہائی کمیشن سے کلئیرنس کا فون آگیا ۔ دعاؤں کی قبولیت کی ایسی مثالیں تو دسیوں  ہیں ۔ جو لوگ سلوک کے راستے  میں آگے چل نکلتے ہیں ان کے لیے صرف شیخ  کی طرف توجہ کرنا کافی ہوتا ہے، آپ دنیا  کے کسی بھی حصے میں بیٹھ کر اپنے شیخ  سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ ہاں اگر شیخ  کے پاس بھی موبائل  ہو ، مصطفیٰ اوغلو نے پھر شرارت آمیز مداخلت کی ۔

معاف کیجئے گا آپ ان امور سے بالکل ہی نا بلد  معلوم ہوتے ہیں ۔ اہل دل کے ہاں رابطہ ایک اصطلاح ہے اور یہ اس زمانے سے ہے جب موبائل ٹکنالوجی وجود میں نہیں آئی تھی ۔مرید جب اپنے شیخ کی طرف عالم مراقبہ میں توجہ کرتا ہے یا یہ  کہئے کہ تصور شیخ کو وہ جس قدر مہمیز کرتاہے اسی قدر سرعت  اور شدت کے ساتھ شیخ کو بھی اپنے مرید کی پریشانی  کا علم ہوجاتا ہے اور وہ فی الفور اس کی مدد کے لیے آموجود ہوتاہے ۔ جی ہاں بنفس نفیس ، فلش اور بلڈ میں ۔ اور یہ شیخ  اپنے شیوخ کے ذریعے او رکبھی براہِ راست  بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رابطے  میں ہوتا ہے بلکہ ذات  باری تعالیٰ سے بھی براہِ راست اس کا رابطہ ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل اللہ کو دنیا  کی کوئی طاقت  زیر نہیں  کر پاتی ۔ مرید بظاہر ایک عام سا انسان  ہے لیکن  وہ اپنے شیخ  کے رابطے  میں ہونے کے سبب قطب وقت اور تمام بزرگوں  سے جڑا ہوتاہے ۔ پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر گویا  وہ خدائی  مدد کا مستحق  ہوجاتا ہے اسی لیے تو ہمارے شاعر مشرق نے کہا ہے ۔

ہاتھ میں اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ

غالب وکار آفریں کار کشا کار ساز

خیر شاعر مشرق کو چھوڑ یئے میں اردو زبان سے واقف نہیں  اس لیے شاعر کو Appreciate  نہیں کر سکتا ۔ یہ بتائیے  کہ یہ قطب صاحب جن کے دم سے دنیا کا نظام قائم ہے یا جو اس دنیا کو چلا رہے ہیں تو وہ کہاں پائے جاتے ہیں اور وہ دنیا کو اتنی  خراب حالت میں کیوں چلا رہےہیں ؟ مصطفیٰ اوغلو سے ہاشم کی یہ ایمان بھری باتیں برداشت  نہ ہوسکیں ۔

دیکھئے اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو میں گفتگو کو آگے بڑھاؤں اور نہ دینی معاملات میں تمسخر مناسب نہیں ۔

مصطفیٰ اوغلو پر نتبیہ کار گررہی ۔انہو ں نے پہلو بدلا او رکمال معذرت سے کہنے لگے معاف کیجئے گا میرا مقصد خدا کی کار کردگی  پر اعتراض کرنا نہیں ۔ میں تو صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ قطب اور ابدال کی موجودگی کاپتہ ہمیں  کہاں سے چلا ؟

ان ہی بزرگوں سے جن کی کوششوں سے ہم اور آپ مسلمان ہیں ۔ انہوں نے ہی ہمیں اس امر پر مطلع کیا ہے ۔ کیاآپ نے ابن عربی کا نام نہیں سنا، ساری دنیا انہیں  اکبر کے نام سے جانتی  ہے ، انہوں نے ہمیں اس بات پر مطلع کیا ہے کہ دنیا کا نظام چلانے کے لیے خدانے روحانیوں  کی جو ٹیم  تشکیل دی ہے اس میں قطب  سب سے اونچے  مقام پر ہے ، جس  کی ماتحتی  میں دوائمہ  ، چار اوتاد، سات ابدال ، بارہ نقبا ء اور آٹھ نجباء کام کررہے ہیں ۔ علی الہجویری  نے تین سو اخیار، چالیس ابدال ، سات ابرار ، چار اوتاد اور تین نقباء کو قطب  کی نگرانی میں متحرک  بتایا ہے ۔

ان دونوں  حضرات  کی معلومات  کا ماخذ  کیا ہے؟  مصطفیٰ اوغلو ( جنہوں نے اب عالموں کی سی سنجیدگی اختیار کرلی تھی ) نے کمال متانت سے پوچھا ۔

اب آپ حضرات پر بھی اعتراض کرنے لگے ۔ یہ تو اسلام کے اساطین ہیں، صاحب کشف و کرامات بزرگ ہیں، ان کے فرمودات کواگر دین سے نکال دیا جائے تو باقی کیا رہ جائے گا ؟ خرافات کے علاوہ سب کچھ ، مصطفیٰ اوغلو پھر پرانے رنگ میں آگئے ۔

معاف کیجئے گا آپ مجھے کچھ دہریہ سے لگتےہیں ۔ آپ کے دل بزرگو ں کے احترام سے با لکل  خالی ہیں ۔ آپ یا تو دہریہ ہیں یا وہابی  اور میں دونوں ہی سے بحث  کو فضول جانتا ہوں ۔ ہاشم کو طیش میں آتے دیکھ کر میں نے مداخلت  ضروری سمجھا ۔

دیکھئے یہ نہ تو دہریہ ہے او ر نہ ہی وہابی ۔ ان کی کار میں صوفی نغموں کی سی ڈیز ( CD’s) سن سن کر میں تنگ آگیا ہوں او رپھر ہمارا مقصد تو سمجھنا سمجھانا ، ایک دوسرے سے استفادہ اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹنا ہے ۔ اہل اللہ کو تو ویسے بھی  غصہ زیب  نہیں دیتا ۔ دہریے اور وہابی ہی تو  آپ کی دعوت کے مستحق ہیں ۔

میری باتوں سے ہاشم کا غصہ کچھ ٹھنڈا تو ہوا لیکن وہ پھر سے یہ قضیہ لے بیٹھے کہ شبہات کی زمین  میں ایمان  کا بیج برگ وبار نہیں لاتا ۔ کہنے لگے : شیخ الحدیث مولانا ذکریا نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کو گمراہ کرنا چاہتا ہے تو وہ اس  کا دل اولیا ء اللہ کے لیے بغض سے بھر دیتا ہے ۔ مولانا رشید احمد گنگوہی نے لکھا ہے کہ جو لوگ اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ان کا خاتمہ  ایمان پر نہیں ہوتا ،  اگر تم ان کی قبریں  کھول کر دیکھو گے تو پاؤگے  کہ ان کا رخ قبلہ سے موڑ دیا گیا ہے ۔

معاف کیجئے گا ! آپ غلط سمجھے ۔ مصطفیٰ اوغلو نے پھر معاملات کو درست کرنے کی کوشش کی ۔ میرا مقصد اولیا ء اللہ کی توہین نہیں  میں  تو خود اولیاء اللہ کا معتقد ہوں ۔ بھلا خدا جسے اپنا ولی کہے اس کے خلاف کوئی مسلمان کیسے  سر اٹھا سکتا ہے لیکن یہ توپتہ  چلے کہ ہم جس آدمی کو ولی سمجھتے بیٹھے ہیں وہ واقعی  ولی اللہ کہلانے کا مستحق  ہے، آخر ولی کی پہچان کیسے ہوگی ؟

ولی کی پہچان کے لئے ولی ہونا ضروری  ہے کہ ولی  کو پہچان سکتا ہے، ہاشم  نے وضاحت کی ۔

پھر عام لوگوں پر یہ عقیدہ کیسے کھلے گا کہ ایک ولی نے دوسرے ولی کی بابت جو کچھ کہا ہے وہ صحیح  ہے؟ مصطفیٰ نے معصومیت سے پوچھا ۔

جی اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ یا تو اولیا ء اللہ کی باتوں پر ایمان  لائیں  یا پھر خود اس راستے پر چل کر ولایت  کے منصب پر سرفراز ہوں۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ جب تک میں پچھلوں کی ولایت  کا اقرار نہ کروں خود میری اپنی  ولایت  مستحکم  نہیں ہوسکتی ۔ اپنے آپ کو ولی کہلانے کے لئے یہ لازم  ہے کہ میں پچھلوں کی ولایت  کا اقرار کروں ۔ یہ تو کچھ وہی  صورت حال لگتی ہے  جب کہانی  کے بادشاہ کو برہنہ دیکھ کر بھی دربار کے تمام لوگ صرف اس خیال سے بادشاہ کے لباس کی تعریف کرتے رہے مبادا ان کی حماقت  کا پول نہ کھل جائے کہ شاطروں  نےیہ پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ باشاہ کا یہ نفیس  لباس  صرف عقلمند وں کا نظر آئے گا ، بے وقوف اس کی دید سے محروم رہیں گے ۔ ہے نا یہ کچھ ایسی ہی بات ؟ کیا آپ کو ایسا لگتا ؟ مصطفیٰ  اوغلو نے  ہاشم  کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

آپ بھی کیسی باتیں  کرتے ہیں ۔ اولیاء اللہ کی شان  میں تو قرآن  مجید میں بھی آیتیں موجود ہیں ۔ ہاشم  نے مصطفیٰ اوغلو کو لاجواب کر نے کی کوشش کی ۔ کیا  آپ کی نظر سے یہ آیت  نہیں گزری ۔ اِنّ اَوْلِیآء اللہِ لَا خَوْف عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْز نُوْنَ ۔ کہ اللہ کے ولیوں کے لیے نہ کوئی خوف  ہے اور نہ غم۔

بھلا اس بات سے کسے انکار ہے ۔ اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ ولی ہے کون؟ آپ قرآن مجید میں ولی کی تعریف کیوں نہیں  تلاش کرتے؟ ولا اور براء پر ہمارے یہاں بڑی  تفصیلی  بحث موجود ہے اور یہ بات قرآن کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور جنہو ں نے اس کے دین کی سر بلندی  کے لیے اپنا سب کچھ  داؤ پر لگا دیا دراصل یہی لوگ اللہ والے ہیں ، اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان کے لیے خوف و غم کاکوئی موقع نہ ہوگا ۔ دنیا  میں دو طرح  کے لوگ پائے جاتے ہیں،  وہ جو خدا کے باغی، انسانیت کے دشمن  اور امن و سکون کو برباد کرتےہیں یہ لوگ ولی الشیطان  کے لیے کام کرنے والے لوگ اور اس کے بر عکس  جو لوگ خدا شناس زندگی  جیتےہیں ، دنیا کو فتنہ و فساد سے پاک کرنے کے لیے سر گرم ہیں، بری باتوں سے روکتے اور بھلائی کاحکم دیتے ہیں ، یہ لوگ ولی اللہ یا اللہ کی پارٹی  کے لوگ ہیں ۔ اس گروہ میں ہم تمام مسلمان شامل ہیں ۔ یہ ایک عمومی اصطلاح ہے جو تمام اہل ایمان  پر محیط ہے ۔ تمام انبیا ء کے سچے پیروکار اس بشارت کے مستحق ہیں ۔

ہاشم بڑے غور سے مصطفیٰ اوغلو کی باتیں سن رہے تھے ۔ ولید اور ساجد بھی محو حیرت تھے ایسا لگتا تھا  جیسے انہوں نے یہ بات پہلی بار سنی  ہو، اس طرح پہلے انہیں کبھی  سوچنے کاموقع نہ ملا ہو ۔

لیکن اولیاء اللہ کی روحوں سے فیض بھی تو پہنچا ہے؟ ہاشم کا انداز اب مخالفانہ کے بجائے طالب علمانہ تھا ۔

بھئی یہ سب ایک گورکھ دھندا ہے ۔ پہلے تو یہ مانیے  کہ فلاں بزرگ فلاں قبر میں جلوہ افروز ہیں جو اپنے مریدوں  کی حاجات سنتے ، ان کے لیے دعائیں کرتے ، ان کی سفارشیں خدا  کے حضور پہنچاتے ہیں اور پھر قبر  کی طرف توجہ  کر کےبیٹھ جائیے ، قبر  پر چلّہ کشی کیجئے  اور پھر جب وہ مردہ بزرگ آپ کو بذریعہ کشف کسی علاقے کی روحانی سلطنت عطاء کردے تو وہاں  جاکر بیعت  و ارشاد کا سلسلہ جاری فرما دیجئے ۔ حالانکہ جن قبروں سے آپ فیض و برکت کا ظہور سمجھتے ہیں ان کی حقیقت خاک کے ایک ڈھیر سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔ قرآن تو صاف الفاظ میں  کہتا ہے ۔إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ (27:80) اور وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ (35:22) یعنی تو مردوں کونہیں سنا سکتا مزاروں کے مجاوروں  نے شب و روز ان قبروں سے فیض و برکت کے ظہور کا پروپیگنڈہ کرر کھا ہے۔

ہاشم خاموشی کے ساتھ یہ باتیں سن رہے تھے ۔ وہ درمیان  میں کچھ بولنا چاہتے اور پھر خاموش ہوجاتے ۔ کہنے لگے تو کیا کشف و الہام کے یہ تمام دعویدار نا قابل اعتبار ہیں ؟ کیا حصولِ فیض  و برکت کی تمام کہانیاں جھوٹی ہیں؟

کہہ کر خاموش ہوگئے ۔ محفل  شاید یہیں بر خاست ہوجاتی جب ہی ولید نے قہوہ کی اگلی پیالیوں  کا آرڈر دیا اور میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا : آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ تو با لکل  ہی خاموش ہوگئے ۔

میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں  جاننے اور سمجھنے  کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اگر ہماری اپروچ طالب علمانہ  ہو اور ہم تمام تعصّات سے اوپر اٹھ کر حقیقت  کے متلاشی بن جائیں تو کام آسان ہوجاتا ہے ۔ اللہ نے ہم میں سے ہر شخص کو سوچنے کی صلاحیت  دی ہے اور وہ ہماری سمجھ  کے مطابق ہی ہم سے حساب لے گا۔معاملہ تب خراب ہوتا ہے جب ہم غور و فکر کے دروازے بند کر لیتے ہیں ۔ اب یہ دیکھئے کہ تصوف کے علمبردار وں نے کس عیاری کے ساتھ غور و فکر پر پابندی عائد کر رکھی ہے ۔ یہ کہنا  کہ خدا جب کسی شخص کو گمراہی  میں مبتلا کرناچاہتا ہے تو ا س کے دل میں اولیا  ء اللہ کی مخالفت کا عنصر ڈال دیتاہے یا یہ بات کہ جس کے دل میں اولیاء اللہ کی محبت  نہیں ہوتی اس کا خاتمہ  بالخیر نہیں ہوتا، قبر کے اندر اس کی لاش قبلہ رخ سے مور دی جاتی ہے، دراصل ہم سے یہ چاہتی کہ ہم ان مکروہ پروپیگنڈوں پر بلا چون و چرا ایمان  لے آئیں ۔ ایک بات اور غور کرنے کی ہے جیسا کہ بھائی  ہاشم  نے اپنی گفتگو میں قطب اور ان کے معاونین اخیار، اوتاد، ابدال وغیرہ  کا ذکر  کیا تو ہمیں  یہ بھی معلوم ہونا چاہئے  کہ ابن عربی اور علی ہجویری نے قطب اور ان کےحواریوں  کی جو تفصیل  دی ہے ان  کی تفصیلات میں با ہم بڑا تضاد  پایا جاتا ہے ۔ ان دونوں میں سچا کون ہے ۔ جب ہم حق  کی تلاش میں نکلتے ہیں اور ہمارے  دل و دماغ دعائے محمد ی اللھم ارنی الاشیاء کماھی یعنی  اے اللہ مجھے چیزوں کو ویسا دکھا جیسی  کہ وہ ہیں، سے معمور ہوتے ہیں تو صحیح  سمت میں ہمارا سفر شروع ہوجاتا ہے ۔ ہمارا کام اپنی سی جد وجہد کرنا ہے ۔ طلب اگر خالص  ہو اور دل تعصب  و عناد سے پاک ہو تو ہم یقیناً  حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔

لیکن یہ باتیں  تو مسلّمات میں سے ہیں ، بزرگوں اور صوفیاء کا اسلام میں شروع سے ایک مقام رہا ہے ۔ بڑے پیر صاحب غوث اعظم کو ایک دنیا مانتی ہے، ہاشم نے اپنی الجھن کو ایک نئے انداز  سے پیش کیا ۔

دنیا مانتی ہے، اس لیے تو اسلام کی اصل روشنی  ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئی ہے ۔ وہی  عبدالقادر جیلانی نا! جنہیں پیرانِ پیر دست گیر بھی کہتےہیں ، مصطفیٰ اوغلو نے سوال کو اچکنے کی کوشش کی۔ بھئی  ان کی تو بڑی کرامتیں ہیں، آپ نے تو صرف چالیس اشرفیوں  والی کہانی پڑھی ہوگی میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ ان کی پیدائش  کے وقت والدہ دردِ زہ میں مبتلا ہوئیں اور حضرت پیدا ہو کر نہ دیتے تھے ، ان کے والد اس صورت حال سے سخت پریشان ہوئے، وہ اس وقت اپنے عہد کے کسی مشہور بزرگ کے پاس گئے جنہوں نے فرمایا کہ وہ ولیوں کا سردار ہے اس طرح باہر نہ آئے گا ، انہوں نے اپنے عمامہ کا ایک ٹکڑا پھاڑکر دیا اور فرمایا اسے لے جا کر اپنی بیوی کو دے دو تاکہ  وہ اسے نگل لے ۔ بیوی نے ایسا ہی کیا اور تب قطب الاقطاب غوث اعظم لنگوٹ باندھے ہوئے باہر آگئے ۔

واقعی؟ ولید نے کسی قدر حیرت کااظہار کیا ۔ لگتا ہے یہ آپ  نے کچھ زیادہ کردیا ۔

 نہیں میں  نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا ۔۔ یہ تو معمولی  کرامات ہیں جو ان  اولیاء اللہ سے سرزد ہوتی رہی ہیں اور کیوں نہ ہوں عبدالقادر جیلانی تو ماشاءاللہ  سے صاحب وحی بھی ہیں ۔ کیا  آپ کو ایک آیت قدسی  سناؤں  جو غوث اعظم  پر نازل ہوئی ۔

آیت ؟ کیسی  باتیں کرتے ہیں، ہاشم نے حیرت سے پوچھا؟

جی ہاں یہ بڑا گہرا سمندر ہے اس کے اسرار ور موز آسانی سے نہیں کھلتے ۔ ابھی  تو آپ کو ایسی ایسی  باتوں کا پتہ لگے گا کہ عقل دنگ رہ جائے گی ۔ سنئے کیا فرمایا  اللہ تعالیٰ نے غوث اعظم سے ۔ یہ کہتے ہوئے مصطفیٰ اوغلو نے اپنی آنکھیں نیم بند کرلیں، تلاوت کے انداز میں با ادب سنبھل کر بیٹھ گے اور پھر حجود ترک لہجہ  میں کچھ  اس طرح گویا ہوئے:

قال یا غوث الاعظم ان لی عبادا سوی الانبیاء والمرسلین لا یطلع علی احوالھم احمد من اھل الجنہ ولا احمد امن اھل النار لا ملک مقرب ولا رضوان و ما خلقتھم للجنہ و لا للنار و لاللثواب و لا للعقاب و لاللحوار ولا للقصور فطوبیٰ لمن آمن بھم وان لم یعرفھم یا غوث الآ عظم وانت منھم و من علا ماتھم فی الدنیا اجسا مھم محترقۃ من قلّت الطعام و الشراب و نفوسھم محترقہ عن الخطرات وا رواحھم محترقہ عن اللحظات و ھم اصحاب البقا ء المحتر قین  بنور اللقاء

تلاوت ختم ہوئی تو ساجد نے مطالبہ کیا کہ ذرا ترجمہ  بھی فرمادیں تو  اچھا رہے گا ۔ ترجمہ  تو راشد شاز صاحب  سے سنیئے  مصطفیٰ اوغلو نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا  ۔ ہمارے  دوست شاز صاحب  ایک  اسلامی اسکالر ہیں، یہ آپ  کو لفظاً لفظاً ترجمہ  بتائیں گے ۔

راشد شاز ! Hey! Are you the same guy of Future Islam?

ہاشم نے حیرت آمیز تجسس سے پوچھا ۔

جی ہاں آپ نے بالکل صحیح پہچانا ۔ مصطفیٰ  اوغلو نے تائید کی ۔

I have seen some of your stuff.

بہر حال یہ تو قع نہ تھی  کہ اس طرح اچانک آپ سے ملاقات ہوجائے گی؟

کیا تم ان سے واقف ہو؟ ساجد نے حیرت سے پوچھا ۔

ہاں میں نے ان کی کچھ چیزیں انٹر نیٹ  پر دیکھی ہیں ۔ ہاشم نے وضاحت کی اور کینیڈا  میں ہمارے ایک دوست  ہیں جو ان کے بڑے قائل ہیں انہوں نے انکی کچھ  کتابیں  ہندوستان سے منگوائی ہیں، کہتے ہیں بڑی مشکل  اردو میں  ہے تمہاری  سمجھ  میں نہیں آئے گی۔ لیکن اب میں اپنے دوست سے کہہ سکوں گا کہ میں ان سے استنبول میں مل کر آیا ہوں اور یقیناً بہت خوش ہوں گے۔

گفتگو کا رخ بدلتے دیکھ کر میں نے مصطفیٰ اوغلو سے تاد یباً کہا! تم نے پھر وہی حرکت کی ۔ وہ اشارہ سمجھ  گئے ۔ بولے: جب موسیٰ سے خضر کی مطلوبہ احتیاط نہ برتی  جاسکی تو مجھ سے کہاکہ بڑی  اہم باتیں  ہورہی تھیں آئیے  انہیں  جاری رکھیں ۔

مصطفیٰ اوغلو آیت غوثیہ پڑھتے گئے اور میں اس کا ترجمہ  کرتا گیا :

فرمایا : اے غوث الاعظم ! ہمارے بعض بندے ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ مرسلین ۔ جن کے احوال  سے نہ اہل دنیا  واقف  ہیں نہ اہل  آخرت، نہ اہل جنت میں سے کوئی اور نہ  اہل نار میں سے کوئی ، ان کے بارے  میں کچھ جانتا ہے ۔ نہ کوئی مقرب فرشتہ رضوان کو ان کے بارے میں  کچھ معلوم ہے ۔ انہیں  ہم نے نہ جنت  کے واسطے پیداکیا  ہے اور نہ ہی دوزخ  کے لیے ۔ نہ ثواب  کے لیے  اور نہ عذاب کے لیے ۔ نہ حور کے لیے اور نہ قصور کے لیے ۔ سو مسرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو ان پر ایمان  لائیں خواہ  انہیں ان کی معرفت  حاصل ہو یا نہ ہو ۔ اے غوث اعظم تم ان ہی لوگوں  میں سے ہو ۔ ان کی پہچان  یہ ہے کہ ان کے جسم کم کھانے پینے کی کمی کے سبب جھلسے  ہوئے ہوں گے ۔ ان کے نفس  کی لذتیں  اور خواہشات  جل بھن گئی ہوں گی  اور ان کے دل  خطرات  سے حفاظت  کے سبب  اور ان کی روحیں  لذتوں  سے روک تھام کے سبب جھلسی ہوئی  ہوں گی ۔ جان لو کہ یہی لوگ اہل بقیٰ میں سے ہیں جن کے وجود نور لقا کے سبب جل بھن گئے ہیں ۔

ترجمہ ختم ہوا تو ان تینوں  نوجوانوں  پر سکتہ  سا طاری  تھا ۔ لحن داؤد ی میں مصطفیٰ اوغلو کی تلاوت  نے انہیں  پہلی بار قرآن کے علاوہ  کسی اور وحی سے آگاہ  کیا تھا ۔

کیا غوثِ اعظم کی وحی  کا کوئی مجموعہ  بازار میں مل جاتاہے ؟ ہاشم نے جانناچاہا ۔


 

بازار میں چاہے نہ ملے لائبریری میں تو مل ہی جائے گا ۔ اس کےبہت سے نام ہیں، رسالہ غوث الاعظم ، فتوحات ربّانی الہا مات غوث الاعظم اور اس قسم کے مختلف  ناموں  سے چھٹی  صدی ہجری سے یہ رسالہ  علماء و مشائخ میں متداول رہا ہے، مصطفیٰ اوغلو نے وضاحت کی ۔

تو کیا ہمارے علمائے کرام کو ان باتوں کی خبر  نہیں ۔ ڈاکٹر شاز آپ بھی تو کچھ بولئے ۔ یہ تو بڑا نازک مسئلہ  ہے ۔ ہم  تو یہ سمجھتے رہے ہیں  کہ صرف غلام احمد قادیانی  جیسے لوگ اس جرم میں ملوث ہیں جنہیں علمائے اسلام نے دین بدر  کردیا ہے ۔ اب برادر مصطفیٰ نے یہ بتا یا  کہ ابن  عربی سے لے کر شاہ ولی اللہ تک بڑے بڑے نام خدا سے راست رابطے  کے دعویدار  ہیں ۔ ان باتوں  کو ہم نے کسی انگیز  کر رکھا ہے خدارا اس  مسئلہ  پر کچھ روشنی  ڈالئے ۔

ہاشم ذہنی  طور پر بڑے مضطراب لگ رہے تھے ۔ مجھے ان کے جذبۂ صادق  پر والہانہ  پیار آیا ۔ میں نے ان کے شانے کو تھپتھپاتے ہوئے  کہا ! برادرِ عزیز میری  یا کسی اور کی تلاش کردہ حقیقت  پر آنکھیں بند کر کے ایمان مت لائیے جب  تک آپ خود حقیقت کی تلاش میں نہیں  نکلتے آپ کے اندر حق کے سلسلے میں اعتماد کی کیفیت  پیدا نہیں  ہو سکتی ۔ اب تک ہماری گمراہی کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم بڑے ناموں کے پیچھے چلنے کے عادی ہیں ۔ہم یہ سوچتے ہیں کہ جب بڑے بڑے علما ء کسی بات کی صداقت  پر گواہی دےرہے ہیں تو یقیناً یہ حق ہوگا کہ اتنے سارے لوگ احمق  اور گمراہ تو نہیں ہوسکتے اور خاص طور پر جب ان ناموں کے گرد تقدس کا ہالہ بھی قائم ہو ۔ اگر ان باتوں  پر اعتبار کرنے کے بجائے آپ نے میری  رائے کو فتویٰ کے طور پر قبول کر لیا تو پھر آپ آراء الرجال کے ان ہی دائرہ  میں گھومتے رہیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ خود ان سوالات کو حل کرنے کی کوشش کریں ۔ میری رائے ایک شخص کی رائے ہے آپ اسے بھی عقل  کی میزان پر وحی کی روشنی  میں پرکھئے ۔ رہا آپ کا یہ استعجاب کہ دین اسلام میں اتنے جسارت آمیز  اور خلاف قرآن دعووں کو اب تک کیونکر انگیز کیا جاتا رہا ہے تو یہ ایک ایسا راز ہے جسے سمجھنے  کے لیے اسلامی  تاریخ  سے گہری واقفیت ، گروہی اور سیاسی رقابتوں کے معروضی اور تفصیلی  مطالعہ  کے علاوہ قرآن مجید کے غیر فرقہ وارانہ اور چشم کشا  مطالعہ کی ضرورت ہے ۔ سرِ دست صرف اتنا سمجھئے کہ روحانیوں کی ان ہفوات کو جنہوں نے ختم نبوت  کا کھلے عام مذاق اڑایا ہے کبھی شطحیات کبھی تفردات او رکبھی علم باطن  کے حوالے سے سند عطا ء کرنے کی کشش کی گئی ہے حالانکہ قرآن مجید کا ایک معمولی  طالب علم  بھی یہ سمجھے بغیر نہیں رہ پاتا کہ  فتوحات اور فصوص میں  ابن عربی  نے قرآن  کی باطنی تشریح  کے ذریعے ظاہری  معانی کو شکست دینے کی کوشش کی ہے ۔ جس طرح ان حضرات نے کشف و الہام کے کثرت سے دعوے کیے ہیں، ملائے اعلیٰ سےاپنی  واقفیت کی خبردی ہے ، ان تمام  ہفوات  کے لیے کم از کم اس دین  میں کوئی گنجائش  نہیں ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری  رسول اور قرآن مجید کو آخری وحی کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ لیکن ہمارے علما ء کا حال یہ ہے کہ کچھ تو عوامی عتاب  کے ڈر سے او رکچھ علم و جرأت کی کمی  کے سبب  وہ یہ کہہ  کر ان خرافات  پر پردہ ڈالتے رہے ہیں کہ یہ بڑوں  کی باتیں  ہیں جن پر لب  کشائی ہمیں  زیب  نہیں دیتی ۔ وہ برملا  کہتے ہیں  کہ خطائے  بزرگان گرفتن  خطا است  ۔ نتیجہ یہ ہے کہ تیسری  چوتھی صدی  کے ہنگامی  حالات  میں فکری التباسات کی جو آندھی  اٹھی وہ آگے چل کر التباسات کی دھند میں اضافہ  ہی کرتی رہی ۔ فاطمی  اور عباسی  خلفاء کی باہم رقابتوں  نے زیر زمین  صوفی تحریک  کےلیے راہ ہموار کی ۔ ہر آنے والا صوفی پچھلے صوفی کے کندھوں  پرکھڑا ہوکر اپنا قد بلند  کرتارہا ۔ اس نے پچھلو کے الہامی  دعووں  کا ابطال و انکار کرنے کے بجائے خود ان ہی بنیادوں  پر اپنے دعوے کی اساس مستحکم  کی ۔ نتیجہ  یہ ہوا کہ چھوٹے بڑے، عالم فاضل اور جاہل غافل سبھوں کی تالیفات و ملفوظات  کشف و الہام کے دعوو ں سے بھر گئیں ۔ پھر آگے جو اسلام چلا وہ ابن عربی اور عبدالقادر جیلانی کا لایا ہوا اسلام تھا جسے علی ہجویری  ، مودود چشتی ، احمد رفائی ،احمد سر ہندی، شاہ ولی اللہ ، گنگوہی ، نانوتوی ، مولوی  ذکریا اور ان جیسے سینکڑوں لوگوں کے کشف و الہام  نے رنگ و روغن  فراہم کیا تھا ۔ نیتجہ  یہ ہوا کہ محمد رسول اللہ کا دین خالص  پیچھے رہ گیا ۔

رات کافی ہوگئی  تھی لیکن ان نوجوانوں  کے چہروں  پر تھکن  کے کوئی  آثار نہ تھے ۔ بڑی  توجہ  بلکہ بخشش  اور اضطراب  کے ساتھ میری باتیں  سن رہے تھے۔ ولید کبھی خلا میں  گھورتا او رکبھی میز پر پڑی کافی  کی خالی پیالی  پر اس کی نگاہیں  جم جاتیں ۔ ساجد عالم  حیرت  میں دکھائی  دیتا اور ہاشم کی بابت  تو نہ پوچھئے ایسا لگتا تھا جیسے اس کے پیروں  تلے زمین نکل چکی  ہو ۔ الوداعی  مصافحہ  کرتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ  چوم لینے  کی کوشش  کی او رکل  کی ملاقات  کے وعدے  کے ساتھ ہماری کار ہوٹل  کی طرف چل پڑی ۔

فروری ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-rashid-saz/eleven-days-in-the-spiritual-city-of-istanbul-part-5--(روحانیوں-کے-عالمی-پایۂ-تخت-استنبول-میں-گیارہ-دین--حصہ-(5/d/87351

 

Loading..

Loading..