New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 01:22 AM

Urdu Section ( 1 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part 4 (روحانیوں کے عالمی پائیہ تخت استنبول میں گیارہ دن حصہ (4

 

 

 

ڈاکٹر راشد شاز ۔ دہلی

استنبول میں سلطان محمد فاتح کا علاقہ اپنے اسرار و رموز سےجلد پردہ نہیں اٹھاتا ۔ یہا ں زیادہ تر وہ لوگ آتے ہیں جو سِّر الاسردار کی تلاش میں کسی زندہ باکرامت شیخ کے متلاشی  ہوتے ہیں اور جنہیں رقص و سماع کی محفلیں  کچھ زیادہ متاثر نہیں  کرتیں ۔شمالی  دروازے سے چار شنبہ بازار کی طرف آئیے اور اسمٰعیل آغا مسجد کی سمت چل پڑئیے ۔ دفعتاً آپ کو محسوس ہوگا کہ لوگوں کے چہرے بشر ے اور ان کے لباس  و آہنگ  تبدیل ہوتے جارہے ہیں ۔ گول پگڑی نما ٹوپیاں   ، چہرے پر داڑھیوں کی بہار، لمبے مشرقی لباس ، ہاتھوں میں تسبیحیں ، جو بسا اوقات سڑک چلتے  میں بھی گردش میں رہتی ہے ۔ یہ سمجھنے میں دیر نہیں  لگتی کہ یہیں کہیں قریب میں دعوت و تبلیغ یا درس و ارشاد کا کوئی مرکز پایا جاتا ہے ۔ نقشبندی صوفیوں  کے مرکز کی حیثیت سے اسمٰعیل آغا مسجد کو وہی حیثیت حاصل ہے جو نظام الدین ( دہلی) میں مولانا الیاس کی صوفی تحریک ایمان کے مرکز کی حیثیت  سے بنگلے والی مسجد کو حاصل ہے ۔ زائرین کی ویسی ہی بھیڑ ۔ جتنے لوگ آرہے ہیں اس سے کہیں  زیادہ مسلسل باہر جارہے ہیں لیکن مسجد میں زائرین کی چہل پہل کم نہیں ہوتی ۔ استنبول  کی دوسری مشہور مسجدوں کے مقابلے میں یہاں کا ماحول بالکل مختلف  ہے ۔ کوئی خاموش ذکر میں مشغول ہے تو کوئی کسی کو مراقبہ او رمجاہد ہ کی اہمیت  سمجھا رہا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے گروہوں  میں لوگ ایک دوسرے سے بلا تکلیف باتیں کررہے ہیں ۔ ایک طرح کی Common feeling  نے ، ایسا لگتا ہے مسجد پر سایا کر رکھا ہو ۔ کچھ لوگ خدمت کے لئے مستعد ہیں جو دور دراز سے آنے  والوں  کو ضروری معلومات اور دورانِ قیام ان کی سہولتوں کے لیے ہدایات  دے رہے ہیں ۔

عصر کی نماز میں ابھی کچھ وقت باقی تھا، سوچا کیوں نہ شیخ محمود کے بارے میں پتا کیا جائے ۔ میں نے ایک پگڑی زدہ نوجوان سے پوچھا کیا وہ شیخ محمود  آفندی سے واقف ہے ۔ شیخ کا نام سن کر اس کا چہرہ بشاشت سے کھل اٹھا ۔ اچھا تو آپ شیخ محمود سے ملنا چاہتے ہیں ، کہاں سے تشریف لائے ہیں؟

ہندوستان سے ۔

ہند .....و ..و..وستان ! اس نے ہندوستان کے واؤ کو کچھ دیر کھینچتے ہوئے استفہا میہ انداز سے ، میری طرف دیکھا ۔ پھر بتایا کہ شیخ ان دنوں خرابی صحت کے سبب ادھر کم ہی آتے ہیں ۔ وہ آج کل استنبول کے ایشیائی  حصہ میں اپنی رہائش گاہ میں زیادہ وقت گزارتے ہیں ۔ ہاں اگر ہفتہ دس دن آپ کا استنبول  میں قیام  کا ارادہ ہوتو اس بات کا امکان  ہے کہ آپ کو حصولِ  برکت کا کوئی موقع ہاتھ آجائے ۔ آج کل بہت سے لوگوں کو شیخ سے مصافحہ کئے بغیر ہی واپس  جانا پڑتا ہے ۔ میرے لائق کوئی خدمت  ہوتو بتائیں ۔ میں شیخ  کا ایک ادنیٰ مرید ہوں ۔ ویسے  معاف کیجئے  گا اگر آپ برانہ مانیں  تو یہ بتاتے چلیں  کہ کیا آپ  بھی نقشبندی  ہیں ، شیخ محمود سے پہلے بھی ملے ہیں یا استنبول کا آپ کا پہلا سفر ہے ۔

میں نے اس سوال کو ٹالنے کی کوشش کی ۔ پوچھا شیخ سے حصول برکت کا آسان طریقہ کیا ہے؟

کہنے لگا عمومی مجلسوں میں صحبت کا حصول کچھ مشکل  نہیں لیکن جب تک قلب ونظر کی پوری آمادگی نہ ہو دوچار مجلسوں میں شرکت سے بات نہیں بنتی  ۔ ہمارے دلوں پر مادیت کا زنگ لگ چکا ہے جب تک اسے رگڑ رگڑ کے پوری طرح صاف نہ کیا جائے، روحانیت کا پینٹ پائیدار نہیں ہوسکتا ۔ بہت سے لوگ صرف آتے اور جاتے ہیں ۔ اصل فائدہ  تو انہیں ہوتا ہے جو اس راہ میں مدتوں لگاتے ہیں ۔ شیخ کا کام ہمارے دلوں کے زنگ کو دھونا اور اس پر روحانیت کی قلعی چڑھانا ہے ۔ جب تک کہ ہم اپنے اندرون میں اس تبدیلی کے لئے آمادہ نہیں ہوتے او راپنے  دل و دماغ کو شیخ  کے ہاتھوں میں نہیں دیتے  ہم روحانی ارتقا ء کی بلندیوں تک نہیں  پہنچ سکتے ۔ شیخ کے ہاتھوں پر بیعت  کرنا گویا انہیں اس بات  کا اختیار  دینا ہے کہ وہ آپ کی آخرت کے ضامن بن جائیں ۔

آخرت کے ضامن؟ میں سمجھا نہیں ۔ میں نے نوجوان کو ٹٹولنے کی کوشش کی جو بڑی مستعدی کے ساتھ مجھے  ایک روحانی گاہک سمجھ کر اپنے شیخ  کی بیعت  کے لیے قائل  کررہا تھا ۔

میرے معترضانہ لہجہ سے وہ کچھ چونکا ۔ کہنے لگا معاف کیجئے گا ! آخرت کے ضامن سے میری مراد یہ ہے کہ شیخ کی حیثیت  ایک کشتی کی مانند ہے ۔ روحانیت کی متلاشی تو مختلف راستوں اور طریقوں سے سفر کرتے ہیں لیکن اگر آپ نے شیخ کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دے دیا تو یہ سمجھئے کہ آپ شیخ کی کشتی پر سوار ہوگئے ۔ اب اگر آپ کشتی پر سوتے بھی رہے تو آپ کا سفر جاری رہے گا ۔ بیعت  میں یہی فائدہ ہے ۔

اور ان کا کیا بنے گا جن کے ہاتھ کی بیعت سے خالی رہ گئے ؟ میں نے قدرے معصومیت سے پوچھا ۔

شاید وہ اس سوال کے لیے تیار نہ تھا، کہنے لگا :اسے نہ تو آخرت میں شیخ کی معیت حاصل ہوگی نہ ہی سلسلہ ذہب کے شیوخ سے اسے کوئی  مدد مل سکے گی۔ یوں سمجھئے کہ وہ سفینۂ نجات پر سوار سے رہ گیا ۔

تو کیا آپ کی نظر میں وہ تمام لوگ جو شیخ محمود کے نقشبندی سلسلہ سے وابستہ نہیں وہ روز آخرت رحمت الہٰی  سے محروم رہیں گے  ؟ میں نے اسے مزید کریدنے کی کوشش کی ۔

جی میں یہ تو نہیں کہتا ، اس بارے میں آپ  ہمارے اکابرین سے بات کر سکتے ہیں البتہ  مجھے اتنا  ضرور یقین ہے کہ مسلمانوں کے بہتّر فرقوں میں نقشبندیہ ناجیہ ہے ۔ اگر آپ نقشبندی  سلسلے کے شیوخ  کی سنہری  کڑی پر غور کریں تو آپ  کے لیے اس حقیقت کو تسلیم  کرنا آسان ہو جائے گا ۔ بہت سے اصحاب کشف بزرگوں نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ رسول اللہ نےخود انہیں  نقشبندی سلسلے کی حقانیت  پرمطلع فرمایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے حق کا اس بات پر اجماع  ہے کہ مہدی علیہ السلام کا ظہور سلسلۂ نقشبندی  یہ سے ہوگا ۔ وہ لوگوں کو نقشبندی طریقہ پر مجتمع کریں گے ۔ بالآخر حق کو فتح حاصل ہوگی اور  نقشبندی  مسلمانوں کا ہر طرف بول بالا ہوجائے گا ۔ نوجوان نے وضاحت کی۔

اور مسیح موعود کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا وہ بھی نقشبندی شیخ کی امامت میں اپنے فرائض انجام دیں گے ۔ اس سے پہلے  کہ ہماری گفتگو کسی واقعی مناقشے کا رنگ اختیار کرتی مسجد میں اقامت صلوٰۃ کی آواز سے یہ سلسلہ درہم برہم ہوگیا ۔

نماز کے بعدوہی نوجوان  ایک ادھیڑ عمر شخص کو ساتھ لیے میرے پاس آیا ۔ ان سے ملیں یہ ہیں شیخ محمود ، آپ ان سے  شیخ محمود آفندی اور ان کے سلسلہ ذہب کے بارے میں جو کچھ پوچھنا چاہیں پوچھ سکتے ہیں ۔ اور اگر کوئی  ذاتی الجھن آپ کو درپیش ہو یا اپنے روحانی سفر میں کوئی دشواری  محسوس کرتے ہیں تو اس بارے میں بھی ان سے بلا تکلیف بات کر سکتے ہیں جب تک میں  آپ کے لیے قہوہ کا انتظام کرتا ہوں ۔

شیخ محمود  کی پگڑی نما ٹوپی عام مریدوں سے قدرے مختلف تھی ۔ تری  انداز کی شلوار او رقمیض کے اوپر   انہوں نے آسمانی رنگ کا ایک لمبا چغہ بھی پہن رکھا تھا ، چہرہ داڑھی سے بھرا ہوا محدب چشمے کے ساتھ ان کی سنجیدگی او رمنزل سلوک میں ان کی اعلیٰ پوزیشن  کاپتہ دیتا تھا ۔ گرمجوشی کے ساتھ ہاتھ دبایا اور چند ثانیے ہاتھوں میں ہاتھ لیے بیٹھے رہے ۔ ہندوستان سے میری آمد پر مسرت کا اظہار کرتے رہے اور اپنے خاص ترکی لہجہ میں لفظ ہندوووستان کو کچھ اس طرح ادا کیا جیسے انہیں اس نام سے ایک خاص تعلق  خاطر ہو ۔فرمایا ! ہندوووستان میں مجدد الف ثانی کی سرزمین  ہے ۔ اللہ کے ہاں ان  کا بڑا رتبہ ہے ۔ انہیں  دوسرے الفیہ کا مجد د بنا کر بھیجا گیا ۔ نقشبندی  سلسلۂ ذہب میں ان کا بڑا مقام ہے ۔

لیکن شیخ احمد  سرہندی کی اس تارریخی دینی حیثیت  پر کم ہی  لوگوں کا اتفاق ہے ۔ کیا  غیر نقشبندی  مسلمان بھی انہیں  اسی  احترام کا حقدار سمجھتے ہیں ؟ میں نے طالب علمانہ معصومیت کے ساتھ  سوال کیا ۔

جی ہاں ! کیوں نہیں ! ساری دنیا انہیں مجدد الف ثانی کہتی ہے ۔ قرآن و حدیث میں ان کی آمد کی پیش گوئی موجود ہے ، ان کے مجدد برحق ہونے کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے ۔

جی کیا فرمایا ! قرآن و حدیث میں ؟ کیا قرآن کی کوئی آیت مبارکہ مجدد صاحب کی شان میں نازل ہوئی ہے؟

میری حیرت کو دو آتشہ کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا : ایک دو نہیں دسیوں  اور حدیثیں  تو بے شمار ہیں ۔

ان کے اس جواب  پر میرا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ اپنی بے توفیقی او رکم فہمی  پر جھنجھلاہٹ بھی ہوئی کہ آخر قرآن  مجید  کی یہ آیات  میری نگاہوں سے کیسے اوجھل  رہ گئیں ۔ انہوں نے اپنا لہجہ اور آہنگ بدلا، گردن کو ہلکی سی جنبش دی اور پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ کے بعد عجمی قاریوں کے سے انداز میں قرآن  کی اس آیت  ولا رطب ولا یا بس الاّ فِی کتاب مبین سے اپنے دعوے کو مضبوط کیا ۔ پھر سورۃ واقعہ سے ثلۃ من الاولین وقلیل من الاّ خرین والی آیت پڑھی ۔ ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا ۔ فرمایا : آپ تو عربی زبان سے واقف ہوں گے ۔ ہندوستانی علماء ویسے بھی ذہین ہوتے ہیں ، بات کو جلد پا جاتے ہیں ۔ حضرت شاہ عبدالقادر اور شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے قلیل من الآخرین  سے  آپ کی ذات اور کے خلفاء مراد لیے ہیں ۔ رسول اللہ کی مشہور حدیث  اِنّ اللہ یبعث فی ھذہ الامۃ علی رأس کل مأۃِ سنۃ من یجد دلھا امر دینھا ۔ بھی آپ کی آمد پر مطلع کرتی ہے ۔ اور روضۂ قیومہ  میں خاص ایک حدیث  آپ کے لیے ہی  وارد ہوئی ہے ۔ فرمایا !

یبعت رَجْل علیٰ اَحَدَ عَشَرَ مِا ئَۃِ سَنَۃٍ ھْوَنُوْر عَظیم اِسْمْہ اِسْمیْ بَینَ الّسلطا نَیْنَ وَ یَدْ خْلُ الجَنّۃَ اُلُوْ فا ؤ۔ یعنی گیارہویں صدی کی ابتدا ء میں دو جابر بادشاہوں کے درمیان ایک شخص بھیجا جائے گا وہ میرا ہم نام اور نوعظیم ہوگا اور ہزاروں آدمیوں کو اپنے ساتھ جنت میں لے جائے گا ۔

شیخ محمود مسلسل نص پر نص پیش کیے جارہے تھے او رمیری  بے چینی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا تھا ۔ میں نے سوچا تعبیر  و تشریح  کے اختلافی  دنگل  میں یقیناً  انہیں ید طولیٰ  حاصل ہوگا سو کیوں نہ ان سے کچھ  مبتد یا نہ قسم کےاصول سوال کیے جائیں ۔

میں نے پوچھا کیا قرآن مجید  کے وہ شارخین  جنہوں نے قلیل من الآ خرین سے احمد سر ہندی اور ان کا ظائفہ مراد لیا ہے کہیں خو د بھی تو نقشبندی  نہیں تھے ؟

 میرے اس سوال پرو ہ کچھ  جزبز ہوئے ۔ بولے: اس سے کیا ہوتا ہے اور بڑے پائے کے لوگ تھے، ان کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کا انداز اب مد افعانہ ہوگیا ۔

میں کسی کو چیلنج نہیں کر رہا ہوں بلکہ صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ایک نقشبندی مفسر قرآن میں ایک نقشبندی شیخ کا بیان پڑھے تو یہ دراصل اس کے ذاتی رجحانات اور تعصّبات کا آئینہ دار ہے ۔ کسی فریق کی گواہی  خود اس کے اپنے حق  میں حجت نہیں ہوسکتی ۔

میری یہ بات شیخ محمود کی طبع نازک پر شاید گراں گزری ۔ انہوں نے خوش خلفی  کا دامن تو ہاتھ سے نہ چھوڑا کہ مسکراہٹ اب بھی ان کے لبوں پر ہویدا تھا ، البتہ ان کی گفتگو کا انداز اب دلائل کے بجائے ترغیب و ترہیب اورنصح  و خیر خواہی  کا ہوگیا ۔ فرمایا ! یہ فیضانِ نظر کی باتیں ہیں ،  یہاں  دلوں کی دنیا بدلی جاتی ہے، علمی دلائل سے تو اللہ کا وجود بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ جس طر ح اللہ انسان کا ایک ذاتی  تجربہ ہے اسی طرح اللہ سے رابطہ بھی دل والوں  کی باتیں ہیں ۔ انہیں برتے بغیر نہیں  سمجھا جاسکتا ۔ یہ  سمجھ کے کرنے کا کام نہیں بلکہ  کر کے سمجھنے کی باتیں ہیں ۔

شیخ محمود نےاپنے ترکش سےوہ آخری تیر بھی  داغ ہی دیا جو عقلی اور علمی دلائل سے بچنے  کے لیے بزرگان کشف اور ان کے تلامذہ ایک عرصہ  سے بڑی کامیابی  کے ساتھ  استعمال  کرتے آئے ہیں ۔

پھر فرمایا ! اللہ نے انسان کو رابطہ جس قدر مضبوط ہوگا اس کی روحانی زندگی اسی قدر ابدی مسرتوں کی آماجگاہ  بنتی جائے گی ۔ ہم کچھ اور نہیں کرتے ہم تو صرف لوگوں کو راستہ پر لگا دیتے ہیں ۔ اب یہ سب کچھ ان کے مجاہدے پر منحصر ہے کہ وہ اس راستے  میں کتنی  تیزی کے ساتھ منزلیں  طے کرتے ہیں ۔ ہمارے شیخ محمود آفندی  اور ان کے شیخ ، جن کا سلسلہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک جا پہنچا ہے، نے خود بڑی بڑی مشقتیں اٹھائیں  تب کہیں  جاکر انہیں  اللہ کے ہاں یہ رتبۂ عظیم ملا ۔  یہ کہتے ہوئے اچانک ان کا لہجہ تبدیل ہوا ۔ کچھ دھونسیا نے کے انداز میں فرمایا : آپ جانتے ہیں شیخ محمود آفندی کون ہیں؟ ان کی عظمت سے شاید آپ واقف نہیں ۔ ہر سال لاکھوں لوگ صرف شیخ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے استنبول کا سفر کرتے ہیں ۔ ہمارے شیخ کی نسلیں اسلام کی خدمت میں لگی رہیں ۔ ان کے دادا اسمٰعیل آغا جن کے نام سے یہ مسجد موسوم ہے عثمانی خلافت میں شیخ الاسلام کے منصب پر فائز تھے ۔ علامہ زاہد الکوثری کا نام تو آپ نے سنا ہوگا ! جی ہاں وہی علامہ کوثری جنہیں غوث ثانی بھی کہتے ہیں ۔ آپ ا س سرزمین پر ان کے آخری  شاگرد ہیں ۔ یہ ہماری خوش بختی  ہے کہ ہمیں شیخ  محمود سے فیض حاصل ہے۔

شیخ محمود کا یہ مونولاک جاری ہی تھا کہ میں نےقطع کلامی کے لئے معذرت چاہی ۔ سوچا اس سے پہلے کہ شیخ  میری طرف سے بالکل ہی نا امید ہوجائیں کیوں نہ دنیائے تصوف کے بعض اسرار ور موز خودان کی زبان  سے سنے جائیں ۔

یہ تو بتائیے اگر کوئی تو دار داس سلسلہ ذہب سے فیض کشید  کرنا چاہے تو اسے سب سے پہلے کیا کرنا ہوگا ؟

ویری سمپل ! جس طرح کوئی شخص کلمہ پڑھ کر فی الفور مسلمان ہونا جاتا ہے اسی طرح بیعت  شیخ کے ذریعہ آپ فی الفور اس سلسلۂ ذہب کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ ا س کے بعد مرید  کا کام ختم اور شیخ  کا کام شروع ہوجاتا ہے ۔ شیخ اس کے قلب کو مجلّیٰ اور مصفّیٰ کرتا اور اسے اس کی استطاعت کے مطابق اور ادتفویض کرتا ہے ۔ دیکھئے اصل ہدف تو اللہ کے  ساتھ رابطہ ہے لیکن یہ چیز رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطہ کے بغیر حاصل  نہیں ہوسکتی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطہ کے لیے ضروری  ہے کہ اس کے متعین کردہ روحانی  خلفاء سے آپ کا روحانی رابطہ ہو۔ گویا شیخ کی محبت  اللہ کی محبت اور اس کی اتباع ہے ۔ایک بار آپ اس رابطہ میں جڑ گئے تو یہ بھی ممکن ہے کہ آپ سے لوگوں کے جوڑنے کاکام لیا جائے ۔ میں پچھلے پچیس برسوں سے شیخ کے رابطے میں ہوں ۔ مختلف جگہوں  پر ان کی نیا بت کا فریضہ  بھی انجام دے چکا ہوں ۔ شیخ مجھ سے خاص التفات برتتے ہیں ۔ جب میں پچھلی  زندگی  کا جائزہ لیتا ہوں تو میری زبان سے کلمۂ شکر جاری ہوجاتا ہے کہ اللہ نے مجھے سنت  پر چلنے  کی توفیق  دی ، میں نے پندرہ  سال سے بغیر وضو کے قدم باہر نہیں نکالا ، پچیس  سال پہلے  جب اس سلسلے  میں داخل ہوا تھا تب سے مغربی لباس کو جسم سے نہیں لگایا، پاجامے کبھی ٹخنے سے نیچے نہیں  ہوئے، آپ ہماری  جیب میں مسواک بھی دیکھ  رہے ہیں ۔ پابندی  سنت کی یہ سب توفیق بس  یہ سمجھئے  کہ بیعت شیخ کا کرشمہ ہے ۔ انہوں نے میرے دل کی دنیا بدل ڈالی ۔

شیخ محمود اپنی ذاتی  زندگی  کی یہ تفصیلات  بتاتے ہوئے کچھ جذباتی  سے ہوگئے ۔ ان کی زبان سے بے ساختہ  نکلا : رحمتیں نازل کر یا اللہ خواجگان نقشبند پر اور ہمیں شیخ  محمود آفندی کی والہانہ  اتباع  کی توفیق دے۔

میں نے شیخ محمود کا شکریہ ادا کیا ۔ رخصت کی اجازت  چاہی ۔ مگر وہ اتنی  آسانی سے کب ماننے  والے تھے ۔ ہندوستان  سےکوئی  مسلمان اسماعیل آغا  تک پہنچ  کر بھی نقشبندی سلسلہ  میں داخل ہونے سے رہ جائے ، یہ انہیں  گوارانہ تھا ۔ کہنے لگے : قدرت ایک خاص اسکیم کے تحت آپ کو یہاں لائی ہے ۔ کیا پتہ اسے آپ سے کوئی بڑا کام لینا مقصود ہو ۔ پرسوں شب جمعہ ہے ۔ ویسے تو شیخ  محمود ان دنوں اپنی علالت  کے سبب مہمانوں  کو بھی باریاب  نہیں کرتے ، لیکن پاکستان سے دعوتِ اسلامی کا ایک وفد ان دنوں استنبول میں ہے اور امکان ہے کہ کل شیخ محمود اسے چند لمحوں کے لئے باریابی کی اجازت دیں ۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو بھی ساتھ  لئے چلوں ۔ یہ ایک نادر موقع  ہے اور شیخ  چراغِ سحر ہیں ۔

میں نے کہا اگر گفتگو موقع نہیں اور بات صرف دست بوسی کی ہے تو یہ  سعادت تو مجھے آپ جیسے مستند خلیفہ کے توسط سے حاصل ہوہی گئی ۔ ہاں البتہ اس ہفتہ  کسی صحبت  میں شرکت ضرور کروں گا کیا پتہ دل  کی کوئی گرہ کھل ہی جائے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فون پر گفتگو

جامع اسماعیل آغا سے ساحلِ سمندر کی طرف جسے سیاحوں  کی زبان میں گولڈن ہارن اور مقامی زبان میں خلیج کہا جاتا ہے، میرے لئے ایک مانوس علاقہ ہے ۔ شاید اس کا ایک سبب یہ ہو کہ ایامِ طالبِ علمی میں جب مشاہدے کی حس کہیں تیز ہوتی ہے، استنبول کے اس حصے پر مجھے تاریخ کی خوابیدگی  کا احساس  کچھ زیادہ شدت سے محسو س ہوا ۔ مسجد  محمد فاتح سے نکل کر اس کے عقب  میں روایتی  انداز  کے بازار اور ایسے  قہوہ خانے جن پر کارواں سرائے کا گمان ہوتا ہے اور جہاں بیٹھ کر گاہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی ابھی یہاں سے کوئی کارواں  گزرا ہو ۔ یہاں  روایتی  مشرقی پیالوں میں شوربے کے ذائقے پر بھی سولہویں صدی کا گمان ہو تا ہے اور ان دنوں  کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جب غذا کا تعلق ذائقۂ کام و دہن سے گہرا  تھا اور جب کھانا کھانے کا عمل ایک انبساط انگیز  تجربہ  ہوا کہ کرتا تھا اور جس کے نیتجے  میں زبانِ حال و قال سے بے ساختہ صبر و شکر کے کلمات  نکل پڑتے تھے ۔ خلیج  کے ساحلوں پر چھوٹی چھوٹی کشتیوں تازہ مچھلیوں کے سینڈ وچ نوش فرمائیے ۔ گلاس دو گلاس سنگتر ے کے خالص جو س کا لطف لیجئے اور تازہ دم ہوکر مشاہدہ کائنات میں لگ جائیے ۔ مشرق اور خاص طور پر عالمِ اسلام میں جہاں  بھی جائیے آج بھی اکل و شرب پر ایک انبساط انگیز  تجربے کاگمان ہوتاہے ۔ ٹیکنا لوجی کی آمیزش  جہاں جتنی کم ہے یا یہ کہیے کہ اور گینک فوڈ کی سہولت جہاں جتنی  باقی رہ گئی ہے وہاں  کھانا کھانا  ایک میکا نیکی  عمل کے بجائے  آج بھی اظہار شکر کا ایک وسیلہ ہے ۔ خاص طور پر مشرق کے فرشی  دسترخوان پر جہاں  اہل خانہ اللہ کی عطا ء کردہ نعمتوں  کو اہتمام سے رکھتے اور مل بانٹ کر صرف کھانے  میں ہی شرکت نہیں کرتے بلکہ زندگی  کی مسرتوں  اور کلفتوں کو باہم شئیر کرتے ہیں ۔ اس کی صحیح  قدر وقیمت  وہ اہل مغرب  نہیں سمجھ  سکتے جہاں بر گر اور سینڈوچ کھا کر ایسا لگتا ہے جیسے اللہ نے نعمت  نہ دی ہو بس کھڑے کھڑے ٹر خادیا ہو ۔ لندن  میں ٹوٹنہم کورٹ روڈ سے گذرتے ہوئے سینڈوچ کی دکانوں  پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اکثر یہ خیال آتا ہے کہ ٹونافِش کے یہ سینڈوچ جو دو چار دنوں  سے ٹھنڈی الماریوں  میں کسی کی راہ تک رہے ہیں کھانے والوں  کا پیٹ تو بھر سکتے ہیں اس پر صبر و شکر کے وہ جذبات  طاری نہیں  کرسکتے ۔ سیلزبری  کی Simple food  کی دکانوں سے کٹے کٹائے پھلو ں کی سرد قاشیں اس لطف و انبساط سے محروم رکھتی ہیں جو درخت سے پھل توڑ کر کھانے میں محسوس ہوتا ہے کہ انسان درخت سے پھل توڑتے وقت فطری طور پر اپنے انداز اس کائنات اور اس کے خالق سےایک محسوس رشتہ دریافت کرتا ہے ۔ خیال ہو ا کیو ں نہ رات کا کھانا اسی علاقے  میں کھایا جائے جہاں  پرانے ذائقے  کی بوباس  ابھی باقی ہے ۔

مصطفیٰ اوغلوا بھی راستے میں تھے طے پایا کہ اسمٰعیل  آغا کے اسی قہوہ خانے میں ان کا انتظار کروں ۔ اس ریسٹوران پر قہوہ خانے کی تہمت خواہ مخواہ تھی کہ یہاں قہوہ سےکہیں زیادہ  مختلف  اقسام کے کھانوں  کی تیز  خوشبو آرہی تھی ۔ ایک گوشہ  میں خاموش ٹیلی ویژن چل رہا تھا اور ایک سرور آمیز صوفیانہ موسیقی  نے ماحول پر کیف طاری  کر رکھا تھا ۔ قہوہ خانہ کے باہر ملحقہ علاقے میں صاف ستھری کرسیاں  ، سفید میز پوشوں کے گرد سجی تھی ۔ اندر سےکہیں زیادہ باہر چہل پہل کا سماں تھا ۔ میں ابھی  یہ فیصلہ  نہ کر پایا تھا کہ کدھر بیٹھوں کہ باہر بیٹھے ہوئے چند نوجوانوں  کی گفتگو سےایسا لگا جیسے وہ اردو زبان میں گفتگو کررہے ہوں ۔ قدرے حیرت اور مسرت کے ساتھ نگاہیں  اٹھائیں ان میں سے ایک نوجوان بڑھ کر میری طرف آیا اور سلام کے بعد مصافحہ  کے لیے  ہاتھ بڑھایا ۔

کیا آپ شیخ  محمود کے مرید ہیں؟ اس نے جاننا چاہا ۔ ہم لوگ  شیخ محمود  کی زیارت کے لیے کینیڈا سے آئے ہیں ۔ آپ کو دیکھ کر ایسا لگا شاید آپ کا تعلق بھی پاکستان سے ہو۔

پاکستان سے تو نہیں  البتہ ہندوستان سے ضرور ہے ، میں نے وضاحت  کی ۔

ایک اور ترکی قہوہ کا آرڈر دیا گیا اور وطن سے دور ہم زبان نوجوانوں کے مشاہدے کو سمجھنے  اور ان سے استفادے کا ایک موقع ہاتھ آگیا ۔ استنبول کے اس حصّہ میں جہاں ٹوپیوں اور داڑھیوں کی کثرت  ہے باہم اعتماد اور اخوت  کی فضا پائی جاتی ہے ۔ زندگی کی برق رفتار تبدیلی کا اثر یہاں  کم محسوس  ہوتا ہے ۔ جب بھی آئیے ، جتنے دنوں بعد بھی آئیے ، استنبول کے اس حصہ کا وہی پرانا رنگ  و آہنگ  بر قرار رہتا ہے ۔ یہ علاقہ محمود آفندی  کے زیر اثر  ہے، جن کی روحانی حکومت کادائرہ بڑا وسیع  ہے ۔ جس  طرح استنبول میں مولانا کہنے سے مولانائے روم کی ذات مراد لی جاتی ہے اسی  طرح یہاں  حضرت کا لقب شیخ محمود کے عمومی  احترام و عقیدت  کا علامیہ  ہے ۔ حیضرئت ( حضرت) محمود آفندی کا نام نامی  زبان پر لاتے ہوئے مریدوں  کے چہر ے پر عقیدت  و احترام کی ایک کیفیت  پیدا ہوتی ہے ، ہاتھ سینے  کی طرف اٹھتے ہیں بالکل  اسی طرح جیسے  اہل تشیع آل محمد صلی للہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ سلام بھیجتے ہوئے  اظہار  احترام کے لیے ہاتھ سینے  تک لانے اور سر کو آگے کی طرف ہلکی سی جنبش  دیتے ہیں ۔ مریدوں  کی نظر میں حضرت کا تعلق بھی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ۔ ان کے کشف و الہام  کے قصّے عام ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اسمٰعیل آغا مسجد میں  درس وار شاد کا احیا      ء اسی الہام کے سبب ہے ۔ ایک دن انہیں یہ الہام ہوا، بلکہ  کہیے کہ حکم ہوا اور تب وہ بیعت  و ارشاد  کے ٹوٹے سلسلے کو از سرِ نومنظّم  کرنے  کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ دیکھتے  دیکھتے حضرت کے مریدوں کی تعداد لاکھوں  میں جا پہنچی  ۔ آپ  چاہے استنبول سے کتنی  ہی مسافت  پر کیوں نہ  ہوں، مشرق میں ہوں یا مغرب میں ، حضرت کی ذرا سی توجہ آپ کی داد رسی  کے لیے  کافی ہوسکتی ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ پچھلے دنو ں حضرت کے مریدوں کو یہ اطلاع ملی کے عمر کے آخری  حصے میں حضرت کی یہ خواہش ہے کہ وہ عمر ہ کے لیے جائیں ۔ کوئی  چالیس ہزار مریداان کی ہم رکابی  کے لیے تیار ہوگئے ۔ چار ٹرڈ طیاروں  کا انتظام کیا گیا، اطراف حرم کے تمام ہی اہم ہوٹلوں کی بکنگ کا پروگرام بن گیا ۔ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ واقعتاً ساتھ کتنے لوگ  گئے لیکن خود ان آنکھوں  نے مدینہ منورہ میں حضرت کے ہٹو بچو کا جو منظر دیکھا اس سے علماء و مشائخ کی غیر معمولی سماجی توقیر کے وہ تذ کرے ذہن میں پھر سے تازہ ہوگئے جو عہد سلاجقہ کے تذکروں میں پڑھ رکھے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ عہدِ سلاجقہ کے بعض قد آور علما ء جب باہر نکلتے تو ان کے ہم رکاب باوردی علماء کی ایک بڑی فوج ہوتی ۔ ہٹوبچو کے اس ہنگامے میں شیخ  پر نذرانے لٹائے جاتے، اشرفیوں کی بارش ہوتی اور عوام کالانعام دست بوسی بلکہ قدم بوسی  کے لیے ایک دوسرے پر پلے پڑتے ۔ اور اگر اژدہام  کے سبب قدم بوسی  کاموقع  نہ ملتا تو جس کے ہاتھ جو کچھ لگتا اسے ہی چوم لینے پر اکتفاکرتا ۔ بعض  لوگ شیخ  کے گھوڑے کی دم کو چوم لینا  بھی اپنی سعادت جانتے ۔ مدینہ  میں حضرت محمود آفندی کی وھیل چیئر کے گرد ہٹوبچو کا کچھ ایسا  ہی ہنگامہ  تھا ۔ شیخ  کے سینکڑوں باوردی مرید ان نے پگڑی نما سفید ٹوپی اور سفید جبّہ میں ملبوس شیخ کی  مافوق الفطری تعظیم اور روحانی عظمت  کا سکّہ بٹھانے کےلیے ہٹوبچو کاجو منظر قائم کر رکھا تھا ایسے  مناظر  تو حکمرانوں  کی آمد  پر بھی دیکھنے کو نہیں  ملتے ۔ آج حضرت کے مریدوں  میں اٹھتے بیٹھتے  ہوئے یہ سوال بار بار میرے ذہن میں آتا رہا ۔ اب  جو پاکستانی  نژاد کینیڈ ین نوجوانوں کا یہ گروہ استنبول کے اس قہوہ خانے میں  نظر آیا تو اس سوال  کی دھارا اور تیز ہوگئی ۔

ترکی قہوہ کا پہلا گھونٹ نئے پینے والوں پر قدرے شاق گزرتا ہے لیکن رفتہ رفتہ اس کی تلخی  مزہ دینے لگتی ہے ۔ قہوہ کے دو چار گھونٹ  نے جب ہم نشیبی اور بے تکلفی  کا ماحول پیدا  کردیا تو میں نے ہاشم  سے پوچھا  حضرت محمود  کی ارادت مندی کا شرف اسےکب سےحاصل ہے ؟

اس سے پہلے کہ ہاشم کچھ کہتے ولید جس کی عمر یہی کوئی بیس بائیس سال ہوگی ، اس نے مداخلت کرتے ہوئے کمال بے اعتنائی  سے کہا ابھی تو یہ ایک شیخ کی تلاش  میں ہیں ۔ کوئی  پہنچا  ہوا شیخ   اگر آپ  بھی کسی ایسے شیخ  سے واقف  ہوں تو بتائیے ۔

ارے ان باتوں پر مت جائیے ، یہ ہر بات کو مذاق بنا لیتے  ہیں ۔ ہاشم نے سنجیدگی اور متانت کے ساتھ اپنے سفر استنبول  سے کچھ اس طرح آگاہ کیا: میں ، ولید اور ساجد اور ہمارے ایک اور دوست عبدالعزیز جو اس وقت انقرہ  میں کسی رشتہ دار سے ملنے کے لیے گئے  ہوئے ہیں ہم لوگ کینیڈا  سے خاص طور پر حضرت محمود کی زیارت  کے لیے آئے ہیں ۔ وہاں  کینیڈا  میں کوئی دو سال ہوئے ہم لوگ نقشبندی  سلسلے سے منسلک  ہوئے ۔ شیخ ہشام کبّانی کو تو آپ جانتے ہو ں گے ، وہی ہشام کبانی جو شیخ ناظم حقانی نقشبندی قبرصی کے خلیفہ  ہیں ۔ ہم لوگ ان کے حلقۂ ارادت سے وابستہ رہے، بلکہ اب بھی  ہیں ۔ لیکن پچھلے دنوں کچھ واقعات  ایسے  ہوئے  جس نے ہمارا سکون  درہم برہم کردیا ۔ شیخ ہشام نے اپنے اختیارات  سے تجاوز کیا وہ شیخ  ناظم  کے بجائے  اپنی بیعت  لینے لگے ۔ اس صورت حال نے ان کے بعض رفقاء کو مخالفت پر آمادہ کردیا ۔ اب ایک دوسرے پر الزام تراشی  کا سلسلہ ہے ، ایک دوسرے  کی کرامتوں کا انکار ، کشف و کرامات کا اختیار رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعتاً کسے دیا ہے ۔  پچھلے دنوں استنبول سے کچھ لوگ ہمارے مرکز میں گئے تھے ان ہی کی زبانی شیخ محمود  کی روحانی عظمت کاعلم ہوا اور پتہ چلا کہ دنیا ابھی  اہل حق  سےخالی نہیں ۔ ہماری آمد  کو ایک ہفتہ  ہوچکا ہے ۔ چالیس  دنوں کے قیام کا ارادہ ہے ۔ مسجد اسمٰعیل  آغا میں بڑا  نورانی  اور روحانی ماحول ہے لیکن ابھی  تک ہمیں شیخ  محمود  کی زیارت  نہیں ہو سکی ہے ۔ آپ جانتے ہیں وہ ان دنوں بیمار  رہتے ہیں ۔

ولید جو ہماری ان باتوں کو کبھی بے اعتنائی اور کبھی توجہ سے سنتا تھا ، کہنے لگا میں نے آپ کو شیخ محمود کےساتھ مسجد میں گفتگو کرتے  دیکھا  تھا ۔ واقعی وہ بڑے اچھے آدمی ہیں، انہیں دین کی بڑی معلومات ہے ۔ کیا آپ حضرت کے پرانے مرید ہیں؟

نہیں ! میں بھی آپ ہی کی طرح ایک مسافر ہوں ، مجھے بھی ایک شیخ کی تلاش  ہے ۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

اسی دوران مصطفیٰ اوغلو ہم لوگوں سے آملے ۔ کہنے لگے  میں جب بھی کسی شیخ کی تلاش  میں نکلا ہر بار مجھے ایسا لگا  جیسے  وہ صاحب  کرامت شیخ  خود ہمارے اندرون میں موجود ہیں ۔ بس اسے متحرک کرنے کی ضرورت ہے ۔ باہر کے تمام شیخ فقط باہر سے شیخ ہیں ، ان کا اندرون خالی ہے کہ اگر ان کا اندرون میں موجود ہ خود کو شیخ  کے منصب پر فائز  نہیں کرسکتے ، نہ کسی  کی بیعت  لے سکتے  ہیں، نہ کسی کو مرید بنا سکتے ہیں او رنہ ہی کسی کی نجات کے ضامن  بن سکتے ہیں ۔ ان کاموں  کے لیے بڑی شقی القلبی کی ضرورت پڑتی ہے ۔

 مصطفیٰ اوغلو کے الفاظ پاکستانی نوجوانوں  کے لئے دھماکے سے کم نہ تھے ۔ خاص طور پر ہاشم پر یہ الفاظ بڑے شاق گزرے ۔ البتہ  ولید کو اپنی تشکیک کے اظہار کاموقع مل گیا جسے غالباً وہ اب تک ازراہ مروت چھپائے  بیٹھے تھے ۔ کہنے لگے  : برادر مصطفیٰ  ! کیا تم شیخ  ناظم قبرصی کو جانتے ہو، ان کے مراکز امریکہ اور کینیڈا میں ہیں اور لندن میں بھی  ان کا ایک بڑا مرکز ہے  جسے بر سہا برس پہلے برونائی کے شیخ نے ان کے لیے خریدا تھا ۔ شیخ ناظم خو د کو سلسلۂ نقشبندیہ کی چالیسویں کڑی بتاتے ہیں اور وہ چالیس کی اہمیت تو آپ جانتے ہیں ۔ چالیسویں پشت  پر ان کا شجرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  جاملتا ہے ۔ ابھی  چند سال پہلے وہ جب گھر سے نکل رہے تھے ان کے ہاں اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس  تشریف لئے آئے ۔ ان  کی کھلی آنکھیں اس منظر کی تاب نہ لاسکیں وہ غش کھا کر گر پڑے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے چار پانچ گھنٹے تک ان سے ملاقات کی اور انہیں اس امر  سے آگاہ  کیا کہ نقشبندی سلسلہ ہی فرقہ  ناجیہ  ہے اور یہ کہ مستقبل  کا مہدی  بھی اسی نقشبندی سلسلے سے ہوگا ۔ یہاں تک  تو ہم لوگ شیخ کی کشف و کرامات  پر یقین کرتے رہے لیکن پچھلے دنوں ایک عجیب  واقعہ ہوا جس کی رپورٹ الجزیرہ ٹی وی  پر بھی آئی تھی ۔ شیخ نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے فون پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی ہے ۔ ہم نوجوانوں  کے لیے یہ بات ذہبی  خلجان کا سبب بنی اور اس پر مستز اور جب ان کے اندرونی جھگڑے منظر عام پر آئے، نقشبندی  سلسلے  کے عہدے  داروں  کی باہمی لڑائیاں  جب ہمارے سامنے آئیں تو ہماری عقیدت  کا گھڑا چُو چُور ہوگیا ۔ سچ پوچھئے  تو مجھے اب ان قصے کہانیوں  پر کچھ زیادہ اعتبار نہیں رہا ۔ البتہ یہ ہمارے دوست ہاشم اور ساجد ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ کی سرزمین کبھی اللہ  والوں  سے خالی نہیں رہتی، ولی کے بغیر کائنات قائم نہیں رہ سکتی  سو ہم نے سوچا کہ اس دفعہ  چھٹیوں  میں استنبول  کی خاک چھانی جائے، میں تو شیخ ویخ کے چکر میں اب نہیں  آنے والا لیکن  ایک بار شیخ محمود سے مل لینے  میں کچھ حرج  بھی نہیں ۔ ( جاری ہے)

جنوری 2014، بشکریہ :  ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-rashid-saz/eleven-days-in-the-spiritual-city-of-istanbul-part-4--(روحانیوں-کے-عالمی-پائیہ-تخت-استنبول-میں-گیارہ-دن--حصہ-(4/d/87315

 

Loading..

Loading..