New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 09:10 AM

Urdu Section ( 10 Sept 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part- 12 (روحانیوں کے عالمی پایئہ تخت استنبول میں گیارہ دن حصہ (12

 

ڈاکٹر راشد شاز۔ دہلی

آخری مجلس بشارت کے عنوان سے ترتیب دی گئی تھی ۔ خیال تھا کہ جو سالکین ہفت مجلس کی تربیت سے گزرے ہیں اور جنہوں نے مجاہدے اور مراقبے میں صعوبتیں برداشت کی ہیں شاید ان میں سے بعض لوگوں کو بطریق مکاشفہ قبولیت کی سند سے نوازا جائے گا، ان کے کامیاب روحانی سفر پر انہیں مطلع کیا جائے گا اور انہیں مستقبل میں ممکنہ کامیابیوں کی بشارت دی جائے گی ۔ لیکن ایسا  کچھ  بھی نہ ہوا۔ شیخ طریقت کی تقریر سے پتہ چلا کہ بشارت کا یہ عنوان اس مناسبت سے تجویز کیا گیا ہے ۔ کہ طالبین  با صفا کو یہ یقین دلایا جائے کہ طلب اگر سچی ہو تو آپ کو ہر مرحلہ میں کباراولیاء کی امداد ملتی رہے گی ۔ فرمایا :

عزیزان من! بخاری نے ابوہریرہ کی روایت پر ایک حدیث قدسی نقل کی ہے ۔ یہ وہ حدیث ہے جو اہل سلوک کی مجلسوں میں کثرت سے بیان ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اولیاء اللہ کے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے ۔ میرا بندہ فرائض اور نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ۔ اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، اگر وہ مجھ سے کسی چیز کاطالب  ہو تو اسے ضرور عطاء کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ مانگے تو اسے ضرور پناہ دیتا ہوں ۔ امام فخرالدین رازی ، جن کا مفسرین میں بڑا علیٰ مقام ہے، نے اپنی تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ جب ولی کی آنکھ خدا کی آنکھ  بن گئی تو وہ فریب و بعید  کو دیکھے گی اور جب ولی کا  ہاتھ خدا کاہاتھ بن گیا تو وہ قریب و بعید میں تصرف پر قادر ہوگا ۔ یہ جو کہاجاتا ہے کہ  اتقوا فراست المومن فانہ ینظر بنور اللہ تو  یہ بھی اسی سبب ہے کہ مومن اپنی آنکھ سے بلکہ خدا کی آنکھ سے دیکھتا ہے ۔ یہ وہ درجہ ہے جو صرف کاملین کےلیے مخصوص ہے ۔ آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہ مشہور واقعہ سنا ہوگا کہ جب انہوں نے مسجد کے منبر سے خطبہ روک کر اچانک یا ساریۃ الی الجبل  کی آواز لگائی  اور یہ آواز کوئی ڈیڑھ ہزار میل دور حضرت ساریہ کے کانوں میں پہنچی ، وہ ان دشمنوں سے پیشگی ہوشیار ہوگئے جو  پہاڑ کی جانب سے حملہ کرناچاہتے تھے ، تو یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوسکا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خدا کے نور سے دیکھ رہے تھے ۔ جس کو خدا کا نور مل جاتا ہے اس کے لیے زمانی او رمکانی فاصلے بے معنی  ہوجاتےہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کاملین میں تھے جن کا ہاتھ خدا کا ہاتھ بن گیا تھا لہٰذا دریائے نیل  جب خشک ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نیل کے نام ایک پرچہ لکھا جس میں لکھا تھا کہ اے نیل تو خدا کے حکم سے جاری ہوجا ۔ دنیا جانتی ہے کہ ایسا ہی ہوا۔

عزیز دوستو! کاملین ، صدیقین کا یہ مقام جس  کسی کو حاصل ہوگیا یہ سمجھئے کہ اسے ارض و سمٰوات کی چابی مل گئی، مجد دالف ثانی نے اپنے ایک مکتوب (217، دفتر اول ، حصہ سوم) میں صاف لکھا ہے کہ تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک مبرم اور ایک غیر مبرم ۔مبرم وہ  ہوتی ہے جسے ٹالا نہیں جاسکتا ۔ لیکن  کاملین کے درجے دیکھئے کہ حضرت غوث اعظم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تقدیر مبرم کے بدل دینے کا بھی اختیار دے رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتے تھے  اور انہوں نے اپنے خاص اختیار کے ذریعہ بارہ برس کے بعد، دریا میں ڈوبی ہوئی ایک بارات بر آمد کردی تھی ۔ اولیاء اللہ  کو چونکہ خدا نے تصرفات کی قوت عطا ء فرمائی ہے اس لیے ہم ان سے مشکل گھڑی میں استمداد کے طالب ہوتے ہیں ۔ظاہری بینوں کو یہ لگتا ہے کہ ہم شرک کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ کاش کہ وہ یہ جانتے کہ ہم اولیاء اللہ کو خدا کےلطف و کرم کامظہر جان کر دراصل خدا سے ہی امداد طلب کرتے ہیں ۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے  ایاک نعبد و ایاک نستعین کی تفسیر میں لکھا ہے  کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے اس طرح مدد مانگنا کہ انسان اسے خدا کی امداد کا مظہر نہ جانے تو یہ حرام ہے اور اگر توجہ اللہ کی طرف ہو اور اس مخلوق کو خدا کی امداد کامظہر جانتے ہوئے ظاہری  طور پر اس سے مدد مانگے تو دل معرفت سے دور نہیں اور یہ شریعت میں جائز ہے۔ عبدالحق محدث دہلوی نے  اشعتہ اللمعات  میں امام غزالی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جس شیخ سے زندگی میں مدد طلب کی جاتی ہے وفات کے بعد بھی اس سے مدد طلب کی جائے گی ۔ غزالی کہتے ہیں کہ میں نے خود معروف کرخی اور عبدالقادر جیلانی کو اپنی قبروں میں اسی طرح تصرف کرتے دیکھا ہے جس طرح وہ زندگی میں کیا کرتے تھے ۔

عزیز و! مشاہدۂ حق کا مرحلہ بڑا کٹھن   ہے لیکن یہ بات نگاہوں سے اوجھل نہ ہو کہ آپ کے لئے سلوک کے اس سفر میں اولیاء اللہ کی استعانت اور خاص طور پر مشائخ نقشبند کی ارواح سے مسلسل فیض حاصل کرنے کا دروازہ کھلا ہے ۔ آپ جہاں بھی ہوں گے اپنے شیخ کو اور ان کے توسط  سے کبار شیوخ ، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد سے بھی سرفراز ہوں گے۔ حضرت مجد د صاحب فرماتے ہیں کہ ایک ولی کامل بیک وقت مقامات پرموجود ہوسکتاہے ۔ ایسا اس لیے کہ اس کے لطائف مختلف جسم اور مختلف شکل اختیار کر سکتے ہیں ۔ حضرت مجدد صاحب کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ انہیں حج میں دیکھا گیا ، کوئی کہتا وہ بغداد میں پائے گئے اور کوئی روم میں ان کی موجودگی کی خبر دیتا ۔

مجد د صاحب کہتے تھے کہ میں تو گھر  سے باہر بھی نہیں  نکلا، نہ ہی روم و بغداد کو گیا ۔ دراصل یہ پیر کی مثالی صورتیں  ہیں جو مریدوں کی مشکل کشائی کے لیے ظاہر  ہوجایا کرتی ہیں ۔ایک مکتوب (282، دفتر اول  ،حصہ پنجم) میں مجدد صاحب نےاپنی ایک مجلسِ ذکر کےحوالے سے لکھا ہے کہ ایک دن ان کی مجلس میں حضرت الیاس اور حضرت خضر حاضر ہوئے ۔ فرمایا کہ ہم   عالم ارواح میں سے ہیں ۔ اللہ نے ہمیں اجسام کی شکل میں متمثل ہونے کی قدرت عطا ء کر رکھی ہے ۔ یہی حال اولیاء اللہ کا  بھی ہے کہ ان کی روحیں متمثل ہوکر مشکل اوقات میں بندوں کی مدد کو پہنچتی رہتی ہیں ۔ تذکرۂ مشائخ نقشبندیہ میں نور بخش تو کلی نے یہ لکھا ہے کہ اویس قرنی کا خرقہ و شیخ عبدالقادر جیلانی کی معروفت سکندر کیتھلی تک پہنچا تھا اور جو شیخ کی وصیت  کے مطابق مجدد صاحب کی خدمت میں پہنچا یا جانا تھا، جب  مجدد صاحب کو پہنچا  ہے اور وہ اسے زیب تن کرنے کے بعد حرم سرا میں تشریف لے گئے تو انہوں نےدیکھا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی اپنے تمام خلفاء کے ساتھ وہاں پہنچے ہوئے ہیں ۔ کچھ دیر بعد مشائخ نقشبندیہ ، کبر ویہ اور چشتیہ بھی آپہنچے ۔ سب کا دعویٰ تھا کہ مجد د صاحب پر ان کے سلسلے کا حق ہے ۔ بالآخر مشائخ میں صلح ہوگئی اور ہر ایک نے آپ کو اپنی نسبت سے سرفراز فرمایا ۔

کہتےہیں کہ ولی کو کبھی کبھی اس بات کا خود اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کی تمثیلی شکلیں مختلف جگہوں پر ظاہر ہوکر اس کے مریدوں کی مشکل کشائی کررہی  ہیں ۔ علی حمدانی کشمیری کے بارے میں  تربیت عشاق کے مصنف نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایک ہی وقت میں چالیس آدمیوں کے گھر جاکر کھانا تناول فرمایا اور ہر جگہ بیٹھ کر ایک مختلف غزل لکھی ۔ یہ واقعات اس امر پر دال ہیں کہ صدیقین  او رکاملین کی ارواح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت عطاء کررکھی ہے۔ حضرت مجدد صاحب نےاپنے ایک مکتوب (نمبر 28، دفتر دوم، حصہ اول) میں بابا آبریز کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کا کہنا ہےکہ جب حق تعالیٰ کے ہاں حضرت آدم کی مٹی گوندھی جارہی تھی تو میں اس میں  پانی ڈال رہا تھا ۔ مجدد صاحب نے فرمایا کہ یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ جب ملائکہ  اس کام میں حصہ لینے کے مجاز ہیں تو بزرگ کی روح کو بھی اس بات کی اجازت ہوسکتی ہے۔

عزیزانِ من ! حق تک پہنچنے کے دو راستے ہیں ۔ جن میں سے ایک راستہ  ولایت کا ہے ۔مکتوب (نمبر 123، دفتر سوم، حصہ دوم) میں مجدد صاحب نےاس بات  کی وضاحت فرمادی ہے کہ ولایت کی پیشوائی پر علی رضی اللہ عنہ فائز ہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اور حسن رضی اللہ عنہ، حسین رضی اللہ عنہ، اس منصب میں ان کے شریک ہیں ۔ ولایت  کے اس راستے پرعلم لدنی ہمیں سینہ بہ سینہ مشائخ نقشبندیہ کے ذریعہ پہنچا ہے۔ سالک کو چاہئے کہ وہ اس دولت کی حفاظت کرے ۔ انشاء اللہ آپ اس راستہ میں مشائخ نقشبند کی ارواح  مبارکہ کو اپنے استمداد پر ہمیشہ مستعد پائیں گے ۔ چلتے چلاتے آخری بات گرہ میں باندھ لیجئے کہ حصولِ ولایت کا یہ راستہ آپ سے بڑے  سخت مجاہد ے کا طالب ہے ۔ شیخ علی ہجویری ، بایزید بسطانی ، شیخ ابو سعید ، معین الدین چشتی جیسے بزرگوں نے مشائخ  کی قبروں پر چلہ کشی کی ہے ۔ ان سے فیض حاصل کیا ہے جبھی وہ آج مرجع خلائق بنے ہوئے ہیں ۔ آئیے آخر میں مشائخ نقشبند کی ارواح پر دعاؤں کا نذرانہ بھیجیں ۔ تقریر کے ختم  ہوتے ہی صلوٰۃ وسلام اور ختم خواجگان کادور شروع ہوا اور پھر الفاتحہ کے اعلان کے ساتھ مجلس اپنے اختتام کو پہنچی ۔

ستمبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی 

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/dr-rashid-saz/eleven-days-in-the-spiritual-city-of-istanbul-part--12--(روحانیوں-کے-عالمی-پایئہ-تخت-استنبول-میں-گیارہ-دن-حصہ--(12/d/99009

 

Loading..

Loading..