New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 11:12 PM

Urdu Section ( 27 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part- 10 (روحانیوں کے عالمی پایئہ تخت استنبول میں گیا رہ دن حصہ (10

 

 

ڈاکٹر راشد شاز۔ دہلی

تیسری مجلس  کے پیر  طریقت  روایتی  معلمین  کے انداز  میں اپنے ہاتھوں میں کچھ قدیم مجلد  کتابیں  اور نوٹس  لے کر طلوح ہوئے ۔ کتابوں میں جا بجا رنگین  کاغذوں  کے ٹکڑے غالباً حوالے  کے خیال سے لگائے گئے تھے ۔ حلیہ وہی نقشبندی شیوخ  کا، سفید لمبی  داڑھی ،ترکی قمیض پر سبز رنگ کا جبّہ ، ایک ہاتھ میں  کتابیں  اور کاغذات  اور دوسرے  ہاتھ میں نفیس  خوبصورت چھڑی جسے دیکھ کر عصائے پیری سے کہیں زیادہ تنبیہ  الغافلین کا خیال  آتا ہو۔ صلوٰۃ و سلام  کے بعد اپنی چھڑی  ہاتھ میں لے کر حاضرین کو متوجہ  کرتے ہوئے کہا ۔ عزیزان من ! میری  چھڑی کے سنہرے دستے پر ایک شعر نقش ہے میں چاہتاہوں  کہ آج گفتگو اسی شعر سے شروع کروں۔

اے نقشبند  عالم نقش  مرابہ بند

نقشم چناں  بہ بند کہ گوئیند نقشبند

دوستوں ! ایک بار خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی  عبدالقادر جیلانی کی قبرمبارک  پر تشریف لے گئے اور ان کی قبر پر انگلی رکھ کر فرما دیا کہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی خدارا  میری دست گیری کریں، میرا نقش باندھ دیں  ۔ ا س کے جواب  میں حضرت جیلانی  نے آپ کو یہ القاء فرمایا کہ  آپ لوگوں کے قلب  پر اللہ کا نقش  باندھ دیا کریں تاکہ  ماسواء اللہ کانقش ان کے دلوں سے محو ہوجائے اور آپ اہل  یقین میں نقشبند  کی حیثیت  سےجانے جائیں ۔ دوستوں ! یہ بزرگوں کی ان ہی ارواح  کا فیض ہے کہ آج  سلسلہ نقشبند کو تمام  سلسلوں  پر تفوق حاصل ہے۔  ہم تصور شیخ اور کشف قبر کے ذریعہ جو کام مہینوں اور سالوں میں کر لیتے ہیں ،دوسرے سلسلوں میں حضور ی کی  وہ کیفیت  زندگیاں  گزارنے  کے بعد بھی حاصل  نہیں ہوتی ۔ دراصل انسان کا  وجود ایک ایسا بند ڈبہ ہے جس کے ایک سرے پر ایک باریک سراخ ہو جس  پر حواس خمسہ کا نمائشی  بٹن  لگا دیا گیا  ہو ۔ یہ آپ کے ارد گرد چلتے پھرتے  انسان نظر آتے ہیں ، یہ سب بند ڈبے ہیں ، سر بہ مہر  لفافے  ہیں  ، انہیں کیا پتہ  کہ اشیاء کی حقیقت کیا ہے۔ بندڈبوں  کی مہر توڑنا  اور ان کی مخفی  قوتوں  کے بٹن آن  کرنے کاکام اللہ  تعالیٰ  نےاولیاء اللہ کو سونپا ہے ۔ یہ علم  لدنی ہے جو کسی کتاب میں لکھا گیا  او رنہ ہی ورق  اس کے لکھے جانے کا متحمل  ہوسکتا ہے ۔ اس کی حقیقت پر وہی  لوگ مطلع ہوسکتے ہیں  جن کے لطائف بیدار ہوں ، جو خود بند ڈبہ ہوں بلکہ  ان  کی اخفی  قوتیں  بہ تمام و کمال بیدار اور فعال  ہوں ۔

ذرا غور کرو اگر کسی کا صرف لطیفہ  قلبی بیدار  ہوجاتا ہے تو و ہ دوسروں  کے خیالات  پڑھ لیتا ہے ۔ اس کے ارادوں  سے آگاہ  ہوجاتاہے ۔ آپ لوگ راہِ سلوک کے مسافر ہیں ۔ آپ کو یہ جاننا چاہئے کہ یہ بند ڈبّہ جسے بعض  لوگ انسان کہتےہیں، ایک ہفت  پہل یا ہفت  ابعاد  کی لطیف روحانی شئے ہے جس کے سات دروازے ساتھ سمتوں  میں کھلتے ہیں ۔ پہلا  لطیفۂ  قالبی یعنی جسم ہے۔ دوسرا لطیفہ انفس یعنی نفس  ہے ۔ تیسرا قلبی  ہے جس کا ابھی میں تذکرہ کرچکا ہوں۔ چوتھا لطیفہ ٔ روحی  ہے ۔ اور پانچویں کو لطیفہ سرّی کا نام دیا جاتا ہے ۔ چھٹا لطیفہ خفی اور ساتواں لطیفہ اخفاء سے موسوم  ہے۔ یہ وجود کی ابعاد بھی ہیں اور جہتیں بھی ۔ بلکہ سچ پوچھئے تو ایک نورانی شے کو ، جو اپنے خالق سے جد ا ہوکر دوبارہ اس کے وصل کے لئے تڑپ رہی ہے، اس کی کیفیت  اور سریت کا الفاظ  میں بیان کیا  جاناممکن  نہیں ۔ اس لیے کہتے ہیں  کہ منازل  سلوک بیان کی نہیں  برتنے کی باتیں ہیں ۔آپ حضرات  جب تصور شیخ میں مراقبہ  زن ہوتے ہیں تو ہر شخص کا تجربہ ایک دوسرے  سے اتنا  مختلف  ہوتا ہے جسے سلوک کے کسی ڈسپلن  کے تابع  نہیں کیا جاسکتا ۔ خواجگانِ نقشبندی کےسامنے وقتاً فوقتاً مریدوں کی طرف سے مختلف مسائل  پیش کیے گئے  ۔ ہمارے کبار شیوخ  نے مختلف  حالات  میں مختلف  حل تجویز   کیے ۔ ظاہر  بین مسلمانوں  کو یہ سب کچھ عجیب  لگتا ہے ۔ا س لیے کہ ان کا ڈبہ بند ہے، ان کے لطائف  منجمد  ہیں ۔ بھلا وہ ان حقائق کوکیسے  سمجھ سکتے ہیں ۔ اب دیکھئے میں اس نکتہ کو ایک مثال سے واضح کرتا ہوں ۔ حضرت مجد د الف ثانی کو کسی خواجہ محمد اشرف نے اپنی ایک  ذہنی الجھن  کا ذکر  کرتےہوئے لکھا کہ میرا  تصور شیخ  اس حدتک غالب  آچکا ہے کہ میں نماز  میں بھی اپنے  شیخ کے تصور  کو اپنا مسجود  جانتا اور دیکھتا ہوں ۔ اگر نفی  بھی  کروں تو منتفی نہیں ہوتا ۔

شیخ نے اس کے جواب  میں لکھا ، جیسا  کہ مکتوب نمبر 30 ، دفتر دوم، حصہ اول میں منقول  ہے کہ تصور  شیخ کی نفی  کی قطعی  ضرورت  نہیں ، یہ وہ دولت  ہے جو طالبان حق کی تمنا اور آرزو ہے، ہزاروں  میں ایک کوملتی ہے۔ پریشان ہونے کی  بات بھی کیا ہے۔ وہ شیخ  مسجود الیہ ہے، مسجودلہ تو نہیں ۔ یعنی  اس کی حیثیت  اس شخص  کی ہے جس کی طرف سجدہ  کیا جائے  نہ کہ  جس کو سجدہ کیا جائے ۔ اگر محرابوں اور مسجدوں کی طرف سجدہ کرنے سے نماز میں خرابی واقع نہیں ہوتی تو مرشد کامل کی طرف سجدہ کرنے سے ایسا  کیونکر ہوسکتاہے ۔ بظاہر  یہ ایک باریک فرق  معلوم ہوگا لیکن بند ڈبے  والے اس  امر پر آگاہ  نہیں ہوسکتے ۔ یہ کہتے  ہوئے شیخ  طریقت نے اپنے کاغذوں کی ترتیب بدلی  فرمایا کہ جو حضرات  چاہیں وہ اپنی سہولت  کے لیے ان حوالہ جاتی کتب  کے نام نوٹ کرسکتے ہیں ۔ یہ وہ کتابیں  ہیں جن پر ہماری شریعت  طریقت  کامدار ہے۔

پھرفرمایا : شیخ کی محبت، اس کا دل میں بسانافی نفسہ فیض  کاباعث  ہے۔ اس کی طرف توجہ کرتے ہی سمجھوکامیابی ککا دروازہ کھل جاتا ہے جیسا کہ مکتوب  نمبر 360، حصہ چہارم، دفتر اول  میں حضرت مجد صاحب  نے فرمایا ہے۔ اگر کوئی  عقیدت  مند توجہ الیٰ الشیخ میں بھی کامل  نہ ہو اور ذکر الہٰی  میں بھی اس کادل نہ لگتا  ہو تب  بھی فقط محبت کے باعث ہدایت کا نور اس کو پہنچا رہتا ہے ۔پیر کےبغیر  مجاہد کی کوئی کوشش برگ و بار  نہیں  لاسکتی ۔ اگر  ہمیں اس سلسلے کی اہمیت کا اندازہ ہوتو کوئی صحیح الداماغ آدمی  پیر کے بغیر روحانی فیوض  کے حصول کی سوچ  بھی نہیں سکتا ۔ بعض لوگ کہتے ہیں  اویسی بن  جاؤلیکن جاننا چاہئے کہ  یہ وہ منصب  ہے جو حق تعالیٰ  یا رسالت مآب  یا کبار شیوخ  کی رواح  خود عنایت  کرتی ہیں۔مجاہدے  سے یہ دولت  ہاتھ نہیں آتی ۔ یہ ایک بڑا پیچیدہ  عمل ہے  جس کی حقیقت  پر بہت  کم اہل دل مطلع  کیے گئے ہیں ۔  میں آپ کی سہولت  کے لیے  کچھ مثالوں  سے واضح  کرنے کی کوشش کرتاہوں۔ دیکھئے  یہ بات اہل  سلوک  کے درمیان معروف  ہے کہ بایزید  سنا ہوگا کہ ابوالحسن  خرقانی کو بایزید  بسطامی کی نسبت  حاصل ہے ۔ اسی طرح  بہاء الدین  نقشبندی  کی تربیت حضرت خلیل خواجہ امیر  کلال  کے ہاتھوں  ہوئی ۔ مگر  آپ کے معنوی  پری عبدالخالق  غجدوانی تھے جو گوکہ آپ کی آمد سے پہلے واصل  حق ہوچکے تھے  مگر ان کی روح  خواجہ بہاء الدین  کے باطن  پر جلوہ فگن ہوئی اور ا سطرح انہیں  اپنی راست  تربیت  میں لے لیا ۔یہ ان ہی کبار روحوں کے اتصال کانتیجہ  تھا کہ حضرت بہاء الدین کو تصوف  میں یہ اعلیٰ  مقام حاصل ہوا ۔ محض مجاہدے  اور ریاضت  سے یہ سب  کچھ حاصل نہیں ہوسکتا ۔ حضرت باقی  باللہ  نے صاحب  قبر سے  فیض حاصل  کرنے کےلیے  اپنے پیر  کو و اسطہ بنانے کی تلقین کی ہے۔ اپنے خلیفہ  تاج الدین کو وہ لکھتے ہیں  کہ ویسے تو مقصود  حق ہے۔  ہمارا حجاب  درمیان  میں نہ ہو تو  نور علیٰ  نور ہے۔ لیکن پیر  کو درمیان  میں نہ رکھنا عدم ترقی  کا باعث  بن جاتا ہے۔

عزیزان من! اگر کسی کی انگلی پکڑے بغیر راہ  سلوک پر چلنا ممکن ہوتا تو معین الدین  چشتی  جیسےشخص  کو علی ہجویری  کے مزار پر چلہ کشی کی ضرورت کیوں پیش آتی ۔ آپ  جسے بھی  شیخ  بنائیں  اس کے غیر  مشروط  اتباع  کو اپنا فریضہ  جانیں ۔ فنافی  الشیخ  کا مطلب یہی  ہے کہ  سالک اپنے  آپ کو شیخ کی ذات میں محو کردے۔ اس کا اپنا علیحدہ  کوئی وجود باقی نہ رہے۔ جس طرح آفتاب  کے سامنے کسی چیز  کا سایہ گم  ہوجاتاہے اور جب وہ اوٹ  میں چلا جائے  تو اس  کا سایہ قائم  ہوجاتا ہے ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ  فنافی اللہ  تھے اس  لیے راویوں  نے لکھا ہے کہ ان کا سایہ نہیں بنتا تھا ۔ مرید  کو بھی اسی  طرح فنافی الشیخ ہونا چاہئے  ۔ جب  آپ اس مقام  پہ آجاتے  ہیں تو آپ  دیکھیں  گے کہ بیٹھے  بٹھائے کسی مجاہدے  کے بغیر  اپنے شیخ سے اور شیخ کے شیخ سےبلکہ سلسلہ ذہب  کی تمام  ارواح  سے بیک وقت  لامتناہی  فیض  حاصل کررہے ہیں۔

ہمارے شیخ  نے ایک بار اپنا  تجربہ  بتایا کہ ایک دن جب  وہ مصروف  مراقبہ  تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص  کی روح  جو ہزاروں  میل کے فاصلے پر تھی وہ ان  سے  اس قدر  فیض لیے  جارہی تھی  کہ انہیں ایسا لگا  جسے وہ خالی ہوئے جاتے ہوں ۔ توجہ کی تو معلوم  ہوا کہ وہ ان کا ہی  ایک مرید تھا  جو اتنی دور سے انہیں خالی  کیے جارہا تھا لیکن فیض الہٰی  چونکہ لامتناہی  ہوتاہے اس لیے شیخ کادامن  کبھی خالی نہیں ہوتا وہاں  یہ بھی جان  لو کہ فیض  کا سلسلہ زندہ سے مردہ او رمردہ سے زندہ کی طرف یکساں جاری رہ سکتاہے کہ اہل دل  کی دنیا میں حیات  و موت  جیسے الفاظ  کچھ معنی  نہیں رکھتے ۔ یہ تو بند ڈبے  والوں  کی اصطلاحات  ہیں ۔ آئیے  پورے ارتکاز کے ساتھ مکاشقے  کی کوشش کریں  ۔ اللھم صلی علیٰ / محمد و علیٰ / آل محمد وسلم کے دائروی ذکر  کے ساتھ  ہی تیز  برقی روشنی  مدھم  ہوگئی اور نیم تاریک  ماحول میں حبس ِ دم  کے ذریعہ  شیخ سے اتصال  کی کوشش  تیز تر کردی گئی۔

ظہر کی اذان  کے ساتھ ہی  مکاشقے کی مشق  اپنے اختتام  کو پہنچی ۔ ان دو مجالس  سے کسی قدر اس بات کا اندازہ  ہوچلاتھاکہ  سالکین کے اس پروگرام  میں آئندہ  کیا ہونا ہے۔ خیال آیا چوتھی  مجلس مغرب  کے بعد ہوگی کیوں نہ اس دوران جرّاحی  کی خانقاہ کا ایک چکر لگا لیا جائے ۔ مصطفیٰ اوغلو انقرہ  گئےہوئے تھے ۔ ان کا اصرار تھاکہ  وہ مجھے  لے کر جراحی  کی خانقاہ  میں چلیں گے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں شیخ برہان الدین  سے بات بھی کرلی تھی لیکن میں نے سوچا  کیوں نہ  مہمان خاص  کے طو رپر جانے کے بجائے  ایک رجل فقیر  کی حیثیت  سے چیزوں کامشاہدہ کیا جائے  کہ بسا اوقات  خاص اور عام  مشاہدے میں وہی فرق  ہوا کرتاہے  جو کسی چیز  کے ظاہر اور باطن  میں ہوتاہے ، بلکہ تجربہ  تو یہ بتاتا ہے کہ کسی چیز  کے مشاہدے  کے لیے خاص اور عام دونوں جہتوں سے اس کا مطالعہ  کرناچاہئے ۔ تبھی  حقیقت  کسی قدر منکشف  ہوپاتی ہے ۔ ورنہ  خواص حقیقت  کی ایک  سطح  دیکھتے  ہیں جہاں تک عوام کی رسائی نہیں ہوتی  اور جو چیز  عوام کےحصے آتی ہے خواص  اس کے مشاہدے  سےمحروم  رہتے ہیں۔

نقشبندی   جال (19)

ایک بار کا ذکر ہے میں دہلی کی جامع مسجد  کے علاقے  میں کتب خانہ انجمن  ترقی اردو  کے سامنے  سے گزررہاتھا ۔ ان دونوں میری کتاب غلبہ اسلام  تازہ تازہ شائع ہوئی تھی ۔گزرتے ہوئے نہ جانے کیوں مجھے خیال آیا کہ رک کر پوچھنا چاہئے کہ میری کتاب  یہاں دستیاب ہے یا نہیں ۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ کتاب موجود ہے ۔ میں نے  کہا بس یہی معلوم  کرناچاہتا تھا کہ  اگر آپ کے پاس  نہ ہو تو بھجو اسکوں ۔ دکاندار نے میرے اندازے  سے بھانپ لیا ۔ پوچھا: کیا آپ ہی اس کتاب کےمصنف ہیں؟  پہلے تو میں نے  ٹالنا  چاہا پھر ان کے اصرار پر میری زبان سے بس اتنا نکلا : ‘ اتفاق سے’ ۔ میری یہ گفتگو اندر بیٹھے ہوئے ایک بزرگ بڑے انہماک سے سن رہے تھے ۔ اٹھ کھڑے ہوئے ،تیزقدموں سے میری طرف آئے  ، مصافحہ  کے لئے ہاتھ بڑھایا۔  فرمایا: اتفاق  سے نہیں بلکہ  حسن اتفاق سے ۔ جب سے میں نے یہ کتاب دیکھی ہے اللہ  سے دعا کر رہا ہوں کہ  وہ میرے لیے  اس کتاب  کےمصنف  سے ملاقات  کی کوئی سبیل پیدا  کردے۔میں بوڑھا  آدمی ہوں  میرے لیے سفر بہت مشکل ہے ۔ اللہ نے میری دعا سن لی اور اس نے خود آپ کو میرے پاس بھیج دیا یہ کہتے ہوئے ان بزرگ نے دوبارہ  احترام و محبت  سے میں میرا ہاتھ  تھام لیا ۔ دکان  کا آداھا حصہ بند کردیا گیا ۔ انہوں نے  اپنے بعض  احباب کو میر ی آمد  کی فی الفور اطلاع دی اور آناً فاناً  ہلکی پھلکی  ضیافت  کا اہتمام کر ڈالا۔ ڈھیر ساری دعاؤں او رنیک خواہشات  کے ساتھ رخصت کرتےہوئے فرمایا۔میں نے آپ کی کتاب حضرت جی کو بھی بھجوائی  ہے اور وہ  بھی آپ  سےملنے کے خواہشمند  ہیں ۔ ابھی تو آپ علی گڑھ  جارہے ہیں۔ اگلی دفعہ جب دہلی آنا ہوتو مجھے  مطلع کیجئے  گا  میں آپ کو ساتھ لے کر ان کے پاس  چلوں گا ۔ یہ بھی  14 پوائنٹ ہیں۔

چند ماہ بعد جب دوبارہ دہلی آنا ہوا تو میں حضرت جی سے ملاقات  کی خاطر بستی  حضرت نظام الدین  جاپہنچا ۔ جمعہ کا دن تھا، یہی کوئی بارہ بجے کاعمل ہوگا۔ بنگلہ  والی مسجد میں چہل پہل   کا سماں تھا ۔ میں حضرت  جی کی بابت  معلوم کرتا ہوا ایک ذمہ دار کے پاس پہنچا  ۔ کہنے لگے  : اجی  اگر آپ  حضرت جی  سےمصافحہ  کے خیال  سے آئے ہیں تو آج  اس کا موقع نہیں ۔ بہت کچھ ردوکد کےبعد جب میں نے انہیں یہ بتایا کہ حضرت جی خود مجھ سے ملنے کےخواہشمند  ہیں تو کہنے لگے :  اجی کیسی باتیں  کرتےہیں حضرت تو تمام خواہشات  سےاوپر اٹھ چکے ، انہیں  کسی چیز  کی خواہش نہیں ۔ میں نے انہیں زچ کرنے کےلیے کہا ئ کیا انہیں خدا  کے قرب  کی بھی خواہش  نہیں؟ایک نوجوان طالب علم  کی زبان سے یہ گستاخانہ  باتیں سن کر صاحب کچھ  ٹھٹکے ،کہنے لگے  اچھا  ابھی یہیں بیٹھئے ۔ تھوڑی دیر  میں نماز ہونے والی ہے۔ اس دوران اگر موقع  ہوا تو  حضرت جی تک اطلاع  پہنچا دی  جائے گی۔

جمعہ کی نماز کے فوراً بعد وہی صاحب مجھے ایک جھوٹے سے ہجرے میں لے گئے ۔ کیا دیکھتا ہوں  کہ ایک بزرگ  شخصیت کسی قدیم عربی کتاب کے مطالعہ میں مصروف  ہے۔ ہاتھ میں  پنسل  ہے جس سے وقتاً فوقتاً  وہ کتاب  کے حاشیے پرکچھ علامت بنادیتے ہیں  ۔ میں نےادب سے سلام کیا   اور اپنا تعارف کراتے ہوئے  اپنی آمد  کامقصد بتایا ۔ بزرگ  نے ایک لمحہ کو نگاہ اٹھا کر میری طرف  دیکھا اور  پھر کتاب کے مطالعہ  میں مصروف  ہوگئے ۔ میں دست بستہ کھڑا انتطار  کرتا رہا کہ ۔

دیکھئے پاتے ہیں  عشاق بتوں سے کیا فیض

پانچ سات منٹ تک کائنات اسی طرح ٹھہری رہی ۔ پھر آپ نے خادم کو آواز دی ،کچھ ہدایت فرمائی،  ایک شخص خالی بالٹی اور لوٹے میں پانی لے کر حاضر ہوا۔ تب  حضرت جی نے فرمایا : ہاتھ دھوئیے ۔ میری  سمجھ میں کچھ  بات نہ آئی کہ اچانک ہاتھ دھونے کی کیا تقریب نکل آئی ۔ لیکن  چونکہ راہ سلوک میں زیادہ سوال کرنے کی ممانعت  ہے سو میں نے یہ سوچ کر کہ بلاضرورت  ہاتھ دھونا ایک مباح عمل ہے،خشوع و خضوع کے ساتھ ہاتھ دھوئے، پھر حضرت جی نے ہاتھ دھوکر تولیے سے خشک کیے۔ بستر  سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ فرمایا: آئیے ۔ اب میں حضرت کے پیچھے پیچھے  چلا۔ پانچ، چھ  لوگوں نے حضرت  کے گرد حفاظتی  حصار سا بنا رکھا تھا ۔ انہیں میں  سے ایک  صاحب نے مجھے ٹہوکا دیا کہ آپ حضرت کے بالکل  ساتھ ساتھ  رہیں پیچھے  رہ گئے تو پھر شرف  ملاقات کا  امکان جاتا رہے گا۔زیریں  منزل سے ہوتے ہوئے  ہم لوگ پہلی  منزل  پر پہنچے  جہاں بہت سے لوگ کھانا کھارہے تھے ۔ بالائی منزل پر لوہے  کا ایک گیٹ  لگا تھا  جس کے اندر  ہر خاص  و عام کو داخلے کی اجازت  نہ تھی ۔ بعض لوگوں  نے میری  طرف شک  کی نگاہوں سے دیکھا کہ شاید گھس بیٹھیا ہے لیکن یہ دیکھا کہ حضرت  کے قدم سے قدم  ملا کر چلتا ہے اور حضرت خود اسے لیےآتے  ہیں ، کسی کو روکنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ میں بھی حضرت  جی کے ساتھ اسی آہنی  دروازے میں داخل  ہونے میں  کامیاب ہوگیا ۔

بالائی منزل پردس بارہ لوگ تھے جو غالباً حضرت جی کے منتظر تھے ۔ فرشی دستر خوان پرکھانا چنا ہوا تھا ۔ بیچ میں گدّا رکھاتھا جس پر حضرت تشریف فرما ہوگئے ۔ مجھے اپنے سامنے بٹھایا ۔ اب یہ پتہ لگا کہ ہاتھ دھونے کی یہ تقریب کسی بیعت  کے خیال سے نہیں بلکہ  دراصل کھانے کی دعوت تھی ۔ دسترخوان  پر دو تین طری کی سبزیاں اور گوشت کاسالن تھا ۔جاء بجاء چھوٹی چھوٹی  کٹوریوں  میں مرغ  کی بھنی ٹانگیں  رکھی تھیں ۔ کہیں  قریب ہی گو شے سے لانے والا گرم گرم  پھلکے لارہا تھا ۔ حضرت نےمیری  طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: کھائیے ۔ شروع کیجئے  ۔ میری توجہ کھانے پر کم اور اہل مجلس کی حرکات  و سکنات  پرکہیں زیادہ تھی ۔

کوئی پھلکے پر پھلکے صاف کیے جارہا تھا ، کسی کی توجہ مرغ کی بھنی ہوئی ٹانگوں پر تھی ۔ بعض حضرات  فربہ اندامی  کے سبب دیوہیکل  شخصیتوں کے مالک تھے، ایک صاحب کی گردن کے پچھلے حصّے پر غیر معمولی ابھار ان کے بے ڈول جسم اور غیر  متوازن  غذا  کی  چغلی  کھارہا تھا ۔ حضرت جی کی اپنی غذا متوازن او رکھانے کے انداز  میں بلا متانت  تھی ۔

مجھے نروس دیکھ کر ایک دوبار از راہ  شفقت  فرمایا : کھائیے نا  لیجئے نا، آپ تو کھاتے  ہی نہیں ۔

پھر فرمایا : ‘آپ غلبۂ اسلام کرنے چلے ہیں  اور آپ کے سر پر ٹوپی نہیں ۔ آپ کو ٹوپی  پہننا چاہئے ۔

 میں نے طالب علمانہ انکسار  کے ساتھ کہا  کہ میں اسی لیے  تو آپ جیسے اہل صفا  کی مجلس میں آیا ہوں تاکہ  آئینے  کے سامنے  اپنی کمیوں کا اندازہ ہوسکے   او ر پھر  اصلاح کا داعیہ پیدا ہو۔

پھر فرمایا : ہاں  سنئے یہ آپ  نے اپنی کتاب کے سرورق  پر تصویر کیوں بنادی ہے۔

میں نے اس  غلطی  کابھی  فی الفور  اعتراف کرلیا ۔ اب میری  امید بندھی  کہ حضرت نے مجھے  غلبۂ اسلام کے مصنف  کی حیثیت  سے پہچان  لیا ہے۔ اب وہ کتاب  کے مندرجات  پر اپنی رائے  سے نوازیں گے ۔لیکن کھانے  کے بعد حضرت نے کسی مزید گفتگو  یا اگلی  ملاقات  کاعندیہ  دیئے بغیر صرف یہ فرمایا کہ اب میرےآرام کا وقت ہے۔ میں نے سوچا شاید آرام  کے بعد ملاقات  کی کوئی باقاعدہ تقریب پیدا ہو لیکن  مصاحبین  نے بتایا  کہ حضرت  سے آپ کی تفصیلی ملاقات  تو ہوچکی  ۔ اب  اس سے زیادہ ملاقات او رکیا ہوگی۔

میں بجھے دل کے ساتھ واپس آگیا ۔تب اس بات کا اندازہ نہ تھا کہ تبلیغ دین کا یہ عالمی مشن جو بظاہر  عمومی بیداری  کی ایک مقبول عام تحریک  نظر آتا ہے دراصل مشاہدۂ حق کی صوفی تحریک کا ایک حصہ ہے جہاں عوام  کا لانعام کوبیعت  کی صعوبتوں او رمجاہدہ و مکاشفہ کی مشقتوں  کے بغیر  اس سلسلے سے جوڑے  رکھا گیا ہے ۔ ایک خالص  صوفیانہ  تحریک کو ، جس کے اکابرین  کی گردنیں نقشبندی  بیعتوں  سے بندھی  تھیں ، ایک جدید تنظیمیں  ہییت  عطاء کرنے کا نتیجہ  یہ ہوا کہ چہار دانگ علم میں  اسلام کا ایک منحرف  نقشبندی  صوفی قالب  سوادِ اعظم  کا دین  بن گیا ۔ وہی قصے کہانیاں  ، خرق عادت کے وہی واقعات  ، کشفِ  قبور کی وہی کرامتیں اور بزرگوں کے وہی  محیرالعقل  واقعات اہل تبلیغ  کے ذہن  کی تشکیل  کرتے ہیں، جنہیں  اہل تصوف کی ملفوظات  میں دیکھ کر صالح طبعتیں  ابا کرتی ہیں۔

بر صغیر ہندو پاک  میں نقشبندی  سلسلۂ تصوف  کو اس قدر غیر معمولی  کامیابی نہ ملتی  او رنہ ہی نقشبند ی  تصور دین عالمی سطح  پرجمہور مسلمانوں  میں اس قدر  مقبول  ہو پاتا اگر  اسے محض  بیعت  اور تصور شیخ کی ازکارِ رفتہ سٹرینجیی کے ذریعہ آگے بڑھا یا گیا ہوتا ۔ مولانا الیاس  اور ان کے رفقاء نقشبندی  سلسلے  سےبیعت  اور نقشبندی  تصور اسلام کے پروردہ تھے انہوں نے عوام کا لانعام کو مکاشفے او رمراقبےکی راہ  پر تو نہیں لگایا لیکن  ان کے دلوں پر اہل کشف کی برتری قائم کی او رصوفیاء کے بے سرد پا قصے کہانیوں  کو مستند دین  کے طور پر پیش  کیا ۔ نیتجہ یہ ہواکہ  غجدوانی  اور نقشبندی  کا دین تو اقصائے عالم میں پھیل  گیا جبکہ  محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کا دین خود مسلمانوں میں اجنبی  ہوکر رہ گیا۔

تبلیغی جماعت  کے مؤ سسین کی نقشبندی  شناخت  کو ذہن میں رکھئے تو فضا ئل اعمال جیسی کتابوں  کا ملفوظات  کے طو پر  پڑھنا آسان ہوجاتاہے ۔ پھر اگر ایک  نقشبندی  بزرگ  کی کتاب  میں آپ کو اس طرح  کا واقعہ  ملے،جیسا  کہ فضائل  ذکر  میں منقول ہےکہ حضرت  ممشاد  دنیوری  کے انتقال کے وقت  جب لوگوں  نے ان کے لیے جنت  کی دعاء کی تو آپ ہنس پڑے۔ فرمایا تین برس  سے جنت میرے سامنے  ظاہر ہورہی ہے لیکن  میں نے  ایک دفعہ  بھی ادھر توجہ نہیں کی۔ اسی طرح فضائل نماز میں کسی حضرت  ثابت  کے  بارے میں لکھا  ہے کہ وہ کثرتِ گریہ  کے ساتھ خدا سے دعا کیا کرتے تھے کہ اگر قبر میں نماز پڑھنے  کی اجازت  ہوسکتی ہے تو مجھے بھی ہوجائے ۔کہتے ہیں کہ دفن کرتے ہوئے لحد کی  ایک اینٹ گرگئی  تو دیکھنے  والے نے  کیا دیکھا کہ وہ کھڑے قبر میں نمازپڑھ رہےہیں۔ اسی فضائل نماز  میں اہل کشف  کی بابت  یہ بھی لکھا  ہے کہ وہ گناہوں  کے زائل  ہونے کو بھی محسوس  کرلیتےہیں۔چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب وہ وضو کا پانی گرتے ہوئے  دیکھتے تو یہ محسوس  کرلیتے کہ کون سا گناہ  اس میں دھل رہا ہے۔ فضائل  ذکر میں دوزخ  سے نجات کا یہ آسان  نسخہ  بھی بتایاگیا  ہے کہ جو شخص  ستر ہزار مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھ لے اسے دوزخ کی آگ  سے نجات  مل جاتی ہے بلکہ یہ بھی  ممکن ہے کہ آپ ستر ہزار کا یہ توشہ کسی جہنمی کو بھیج  کر اس کی نجات کا سامان کردیں۔شیخ قرطبی نے کسی صاحب کشف نوجوان کے ہاتھوں  اس نصاب  کی صداقت  کا تجربہ  بھی کیا ہے جس کی بابت مولوی زکریا نے قارئین کو مطلع فرمایا ۔ فضائل  حج میں  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے اپنی قبر  میں زندہ  ہونے پر شواہد  فراہم کیے گئے ہیں ۔ اسی طرح فضائل  حج  میں ایک نوجوان  کی بابت لکھا ہے کہ جب محدث  عبدالرزاق  مسجد نبوی میں حدیثیں   سنارہے تھے اس وقت  یہ شخص  بے اعتنائی  کے ساتھ ایک گوشہ  میں بیٹھا تھا ۔  لوگوں نے پوچھا  کہ تمام مجمع  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیثیں سن رہا ہے تم  ان کے ساتھ مجلس میں شریک کیو ں نہ ہوتے ۔ اس نوجوان  نے سر اٹھائے بغیر بڑی  بے اعتنائی سے کہا  کہ اس مجمع  میں وہ لوگ ہیں جو رزاق کے عبد سے حدیثیں  سنتے ہیں  اور یہاں  وہ ہے جو کہ  خود رزاق  سے سنتا ہے نہ  کہ اس کے عبد سے ۔ اسی فضائل  حج میں یہ بھی  لکھا ہے کہ بعض  لوگ کعبہ  کے طواف  کے لیے مکہ  جاتے ہیں  او ربعض لوگ  ایسے ہوتے ہیں  کہ خود  کعبہ ان کے طواف  کو آتا ہے۔  آگے چل کر  کسی مالک بن قاسم جبلی  کے طے الارض  کا واقعہ  لکھا ہے  جنہوں نے ایک ہفتہ  سے کچھ نہیں کھایا تھا  اور ان کے ہاتھ سے گوشت  کی خوشبو  آنے کا سبب  یہ تھا کہ  وہ مکہ  سے ستائیس سو میل  دور اپنے وطن  میں اپنی  والدہ کا کھانا کھلا کر بعجلت  آگئے تھے  تاکہ حرم میں فجر  کی نماز ادا کرسکیں۔

عام مسلمانوں  کو یہ محیر العقل  واقعات خلاف عقل او رخلاف وحی معلوم ہوسکتے ہیں  لیکن  جن لوگوں  کی نظر  ملفوظاتی ادب  اور نقشبندی  اسلام کےاصول  و مبادی پر ہے ا ن کے لیے طے الارض  ، کشف قبور اور  مشاہدۂ  حق کے یہ واقعات  چنداں  حیرت انگیز نہیں ۔ ہاں  حیرت اس پر ضروری ہے ہوتی ہے کہ کس  خوش اسلوبی  کے سا تھ نا  محسوس طریقے پر غالی نقشبندی  صوفیاء  کے منحرف  تصور دین  کو آج اسلام کے مستند قالب  کے طور پر  دیکھا جارہا ہے اور طرفہ یہ ہے کہ سادہ لوح  مسلمان  اس کی فروغ  و اشاعت  میں اپنی عاقبت کی ضمانت  پاتے ہیں۔

 نظام الدین کے تبلیغی مرکز میں کسی توسط  کے بغیر میں ایک عام طالب کی حیثیت سے گیا تھا ۔ پھربہت  کچھ تگ و دو  کے بعد حضرت  جی کے خاص لطف و کرم سے مجھے خواص  کے حلقے  میں داخلہ  مل گیا ۔ اور ایک جواں سال مصنف کی حیثیت  سے ان کی شفقتوں کا سزاوار بھی  ٹھہرا ۔اس طرح عوام  اور خواص  دونوں  کی سطح پر مرکز کی ایک جھلک  دیکھنے کو مل گئی ۔ عام سے خاص  بننے کا عمل کچھ زیادہ  مشکل  نہیں ہوتا  البتہ  اگر ایک بار  آپ خواص  میں شمار کرلیے  پھر عوامی سطح پر چیزیں جیسی  کہ ہیں  ان تک رسائی  ممکن نہیں  ہوتی ۔سو یہ سب سوچ کر میں نے جراحی کی  خانقاہ،  مصطفیٰ اوغلو کی رہنمائی  اور ان کے اہتمام  کے بغیر دیکھنے کا فیصلہ  کرلیا ۔ نظام الدین  میں خواص  اور عوام  کے دو مختلف  معیار زندگی  ، جس کا  اظہار  دو مختلف قسم کے دسترخوان سے ہوتا تھا،  پر تحریک ایمان  کا پردہ  پڑا تھا ۔ بانیان  تحریک  کی نظری شناخت  ان کی تاریخی  او رصوفیانہ پس منظر   اور ان کی کتابوں  کا اس مخصوص پس منظر  میں تحقیق و تجزیہ کا تب خیال بھی نہ آیا تھا سو ہر دو حلقے  میں چلت  پھرت  کے بعد بھی  اس وقت تحریک  کی اصل ماہیت  اور اس کی غایت  و اہداف  کا صحیح  اندازہ  نہ سکا ۔  بات یہ ہے کہ جب تک  آپ چیزوں  کو اس کے اصل  پر منظر میں نہیں دیکھتے  ، کڑی  سے کڑی  نہیں ملتی ، حقیقت پوری طرح منکشف  نہیں ہوتی۔

مجھے یاد ہے کہ وینس کے پہلے  سفر میں جب سین مارکو کے ساحل پر میری  کشتی رکی اور  میں اپنے میز بان کے ساتھ  ڈاجزپیلس سے ہوتا ہوا پیاز اسین مار کو اور پھر ریواڈ یگلی  شیوانی سے وہتاہوا ریا لٹوبرج  تک آیا تو عمارتوں  کا خالص مشرقی طرز تعمیر  دیکھ کر چند  ثانیے  کے لیے کچھ مبہوت  سا ہوگیا تھا ۔میرے لیے یہ یقین  کرنا مشکل تھا کہ  اس قدر خالص مشرقی بلکہ  اسلامی طرز  تعمیر پر مشتمل  مغرب  کا کوئی شہر  ہوسکتا ہے۔ پھر جب ہوٹل  کے بل پر مقامی رسم الحظ میں فاتووہ لکھا دیکھا تو  مزید  حیرت ہوئی کہ اہل عرب کی طرح یہاں بھی بل کو فاتورہ کہتے ہیں ۔ سیر و سفر کا سلسلہ مزید وسیع  ہوا اورمجھے یہ معلوم  کرکے ابتداً حیرت ہوئی  کہ اسپین  اور پرتگالی عیسائیوں  کی زبان  سے عربی  کے دسیوں  الفاظ  مسخ شدہ  شکلوں  میں نکلتے  ہیں ۔حتی کے پرتگالیوں  میں وعدہ  و عید کرتے ہوئے  اوشا اللہ یعنی انشا ءاللہ   کہنے کا رواج  بھی عام ہے ۔ لیکن  جب یورپ  کی اسلامی  تاریخ اور عہد وسطیٰ  کے تہذیبی  تعاملات  کا گہرائی سے مطالعہ کا موقع  ملا تو وینس  کی مشرقی  عمارتیں  اپنی تمام  تر تاریخی او رمذہبی  معنویت  کے ساتھ  خاص تاریخی  پس منظر  میں روشن روشن  ہوگئیں ۔ ابہام جاتا رہا، ایسالگا جیسے کڑیوں  سے کڑیاں مل گئی ہوں ۔ تبلیغی  مرکز کے پہلے سفر  پر آج کوئی ربع صدی گزرنے کے بعد اب  کہیں جاکر اس کی اصل  معنویت  اور اس کاغایت و اہداف  کا کسی قدر اندازہ ہوسکا ۔  جب تک نقشبندی تصوف  سے اکابرین  تبلیغ  اور اکابرین  دیوبند  کے گہرے تعلق   کا علم نہ  ہو اور خود نقشبندیت  کی اصل حقیقت  سے آپ کی آگہی  نہ  ہو فضا ئل کی کتابوں  میں خرق  عادات  واقعات پڑھ  کر اور بزرگوں کےبیانات  میں کشف و کرامات کا ذکر سن کر آپ صرف اس نوجوان  کی طرح مبہوت  ہوسکتے ہیں  جو میری طرح  تاریخی  او رتہذیبی  پس منظر  سے ناواقف  اچانک وینس  جا پہنچا تھا۔ (جاری)

جولائی، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ،کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-rashid-saz/eleven-days-in-the-spiritual-city-of-istanbul-part--10--(روحانیوں-کے-عالمی-پایئہ--تخت-استنبول-میں-گیا-رہ-دن--حصہ-(10/d/98320

 

Loading..

Loading..