New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 08:29 AM

Urdu Section ( 26 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Politics of Shari'ah in India ہندوستان میں شریعت کی سیاست


راشد شاز

ہندوستانی مسلمان بی جے پی کے دام اشتعال میں پھنستے جارہے ہیں۔ ایک عجیب مخمصہ ہے ، ایک طرف وزیر اعظم مودی ہیں اور دوسری طرف جبّہ و دستار کے حاملین اہل شرع۔ گویا آگے کنواں پیچھے کھائی ، نہ جائے ماندن پائے رفتن ۔ اور الذ کر کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر دیکھنا چاہتا ہے اور ثانی الذ کر اس بات پر اصرار ہے کہ اس کی تعبیر کردہ شریعت پر ایمان لائے بغیر ان پر نجات کے تمام دروازے بندہیں ۔ مسلمانوں کے تئیں مودی اور ان کی جماعت کے زعفرانی ایجنڈے کی حقیقت تو ہر خاص و عام پر عیاں ہے البتہ جبہ و دستار کے حاملین کی طرف سے ایمان و شریعت کے پردے میں جس کفر بو اح کی دعوت دی جارہی ہے اس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ مباداآنے والے دنوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی اجتماعی قوت اصل قرآنی ایجنڈے کے بجائے فارق العقل نعرے بازی اور غل غپاڑ ے کی نذر ہوجائے۔

ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اتر پردیش کے انتخابی ماحول میں اچانک طلاق ثلاثہ کے مسئلہ نے اس قدر اہمیت کیوں اختیار کرلی ہے۔ یکساں سول کو ڈ کے سلسلے میں 7اکتوبر کو جاری کردہ لاء کمیشن کا سوال نامہ یقیناًاس حقیقت کا علامیہ ہے کہ حکمراں جماعت حسا جذباتی مسائل پر پولرائیزیشن کی سیاست کرنا چاہتی ہے لیکن ہم مسلمانوں کو آناً فاناً خم ٹھونک کر دعوت مبارزت دینے کی آخر کیا ضرورت پیش آگئی ؟ہم یا تو خالی الدماغی کے شکار ہیں کہ بڑی آسانی سے بی جے پی کے بچھائے ہوئے جال میں پھنستے جارہے ہیں یا پھر کوئی معشوق ہے اس پر دۂ زنگاری میں ۔

بظاہر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اگر عین اسی وقت سڑکوں پر طلاق ثلاثہ کی اسلامی لڑائی نہ لڑی گئی تو مسلمانوں کی ایمانی زندگی تباہ ہوجائے گی۔ کچھ اسی عجلت کا اظہار یونیفارم سول کوڈ سے متعلق دیئے گئے مجاہدانہ بیانات میں بھی نظر آتا ہے۔ حالانکہ اغیار کی طرف سے یہ دونوں مسائل اس سے پہلے بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں ۔ رہی طلاق ثلاثہ کی بات تو اسے 2002 میں شمیم آرا بنام ریاست اتر پردیش کے مقدمہ میں ہائی کورٹ پہلے بھی بر حق تسلیم کرنے سے انکار کر چکا ہے ۔ کور ٹ کا اصرار ہے کہ مروجہ طلاق ثلاثہ کے بجائے قرآنی طریقہ طلاق کواختیار کیا جائے۔ کچھ اسی قسم کی باتیں دگدو پٹھان بنام رحیم بی کے فیصلہ میں بھی کہی گئی ہیں جہاں فاضل جج نے وقوع طلاق کے لیے کسی معقول سبب کے پائے جانے اور فریقین کے لئے تحکیم کے مرحلے سے گزرنے کو لازم قرار دیا ہے او راس بارے میں اسلامی قوانین کی متداول کتابوں سے متعددشواہد پیش کیے ہیں ۔ اس بارے میں دہلی کے ایک مسلم جج بدر دُرّیز احمد کا فیصلہ بھی غیر معروف نہیں ہے جس میں انہوں نے ایک مجلس کی تین طلاق کو طلاق مغلظہ ماننے سے صاف انکار کرد یا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس تمام عرصے میں اہل شریعت کہا ں سوئے تھے اور پھر اچانک الیکشن سے عین پہلے انہیں سڑکوں پر آنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟

دوسری طرف سائرہ بانوں کا دائر کردہ پی آئی ایل جوطلاق ثلاثہ، نکا ح حلالہ اور تعدد از دواج کے خاتمے کی اپیل پر مشتمل ہے،اس کے پس منظر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ملک میں 2005سے ہی ڈومسٹک وائلنس ایکٹ نافذ چلا آتا ہے جو کسی بھی قسم کی جسمانی ،ذہنی تشدد او رمالی حق تلفی کے ازالے کے لئے عورت کو غیر معمولی اختیار دیتا ہے۔ اس قانون کی اثر آفرینی کا علم یہ ہے کہ بہت سے لوگ اسے ایک مرد مخالف قانون کی حیثیت سے دیکھتے ہیں ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک ایسے مؤثر قانون کا سہارا لینے کے بجائے ، جس میں سبک اور سستے انصاف کے امکانات موجود ہیں ، سائرہ بانو نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کرنا کیوں ضروری سمجھا؟

یہ ہے وہ پس منظر جہاں مسلمان بمقابل بی جے پی کی معرکہ آرائی کے لئے، شریعت کے نام پر ، ہانکے پکارے جنگ کا بگل بجایا جارہا ہے ۔ بے چارے مسلمان کریں تو کیا کریں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ اگر انہوں نے شرعی حقوق کے تحفظ کی تحریک نہ چلائی تو ان کا رہا سہا پرسنل لاء بھی جاتا رہے گا۔ دوسری طرف ان کے اہل نظر سے یہ بات بھی مخفی نہیں کہ وہ جس پرسنل لاء کے تحفظ کی تحریک چلارہے ہیں اس کے بعض مقبول عام تعبیرات کاتو شرع اسلامی سے کوئی علاقہ نہیں ۔

پہلی بات تو یہ سمجھ لینے کی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق غیر اسلامی اور غیر قرآنی ہے۔ روایتی علماء بھی اسے بدعت اور گناہ پر محمول کرتے ہیں، پھر کوئی وجہ نہیں کہ مسلم مردوں کے لیے گناہ کے اس دروازے کو کھلا رکھنے پر اصرار کیا جائے۔ یہ خیال غلط ہے کہ ایک مجلس کے تین طلاق کے برحق ہونے پر اہل علم کا اجماع چلا آتا ہے ۔ عہد صحابہ اور عہد تابعین میں ایسے اہل علم کی کمی نہ تھی جو ایک مجلس کی متعدد طلاقوں کو صرف ایک طلاق تسلیم کرتے تھے ۔ ان ہی آثار و آراء کی بنیاد پر ابن تیمیہ او ران سے شاگردوں نے اپنے تعبیری دو اوین مرتب کئے ہیں ۔ البتہ جن لوگوں کا مبلغ علم فقہ حنفی کی چند کتابوں تک محدود ہے وہ ہمارے تعبیری مصادر میں پائی جانے والی اس بو قلمونی پر آگاہ نہیں ۔ ہمارے لیے اس بات کی چنداں اہمیت نہیں کہ کسی عالم یا فقیہہ نے کیا کہا ہے، جب طلاق کے طریقۂ کار پر خدا کا حتمی ،مبین او رمبرہن قول موجود ہے تو پھر کسی مفتی سے فتویٰ طلب کرنے کی گنجائش ہی کہاں رہ جاتی ہے؟

مروجہ نکاح حلالہ خالصتاً فریسیت کی ایجاد ہے۔ اگر طلاق کا عمل قرآنی طریقۂ کار کے مطابق تحکیم کے مرحلے سے گزرتے ہوئے کہ کم از کم تین طہر ( تین ماہ) کی مدت میں انجام پائے تو مروجہ نکاح حلالہ کی نوبت آئے گی او رنہ ہی مسلم معاشرہ کو ان ’ نیک آدمیوں‘ کی ضرورت رہے گی جو اپنی حلالہ خدمات کے سبب اہل حاجت کے لئے مرکز توجہ بنے رہتے ہیں ۔ حلالہ کرنے اور کروانے والے پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ۔پھر لوگ اس ادارے کی بقاء کے لئے خم ٹھونک کر میدان میں آگئے ہیں انہیں اپنی شرعی پوزیشن معلوم کرلینی چاہیے ۔ رہی تعدد ازدواج کی بات تو یہ عدل کی شرط کے ساتھ ایک ایسی گنجائش ہے جس کا راستہ شرع نے کھلا رکھا ہے ، البتہ معمول کی زندگی وانکحوالا یامی منکم کے تابع سمجھی جاتی ہے۔

گویا تین طلاق ، نکاح حلالہ، اور تعدد ازواج کے جن ارکان ثلاثہ کو آج علمائے شرع نے دین و ایمان کا مسئلہ بنا رکھا ہے ان میں سے اول الذ کردو کی شناخت تو ہر خاص و عام پر عیاں ہے۔ تین طلاق بدعت ہے، گناہ ہے، قرآن کے طریقے کے یکسر خلاف ہے او رمروجہ نکاح حلالہ کرنے اور کروانے والے پر رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے لعنت بھیجی ہے ۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان دوقبیح افعال کے بر اقرار رکھنے پر اصرار کیا جائے۔ حق تو یہ ہے کہ عدالت کی مداخلت سے کہیں پہلے ہمیں خود اپنے ہاتھوں سے اس خلاف شرع رسم و خط تنسیخ پھیر دینا چاہئے تھا ۔ لیکن جو لوگ برطانوی راج کے شریعت اپلیکیشن ایکٹ کو منزل من اللہ سمجھتے ہوں او رجن کی فہم شریعت دنشاہ فردونجی کی پرنسپلز آف مسلم لاء کی اسیر رہی ہو انہیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہوسکتا ۔

تین طلاق کی معصیت او رمروجہ حلالہ کی شناعت سے بچنے کے لیے اب تک خدا ترس مسلمان اہل حدیث علماء سے رجوع کا مشورہ دیتے تھے ۔ ان پر یہ بات واضح تھی کہ اس بارے میں اہل حدیث علماء کا موقف اسلام کی اصل روح سے ہم آہنگ اورعدل و قسط کا ضامن ہے۔ تحفظ شریعت کے اس نئے ہنگامے میں ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ قرآنی احکام پر عمل کرنے کی یہ گنجائش بھی جاتی رہی ۔ کتاب و سنت سے راست اکتساب کے دعویدار بھی آج شرعی سیاست کی یلغارکے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔

چو کفراز کعبہ بر خیز د کجا ماندمسلمانی؟

اب صورتحال یہ ہے کہ مسلمانوں کے علماء اور ان کی ملی ادارے پوری قوت کے ساتھ قرآن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق خلاف قرآن سہی ، بدعت سہی، گناہ سہی لیکن اصلی شریعت تو یہی ہے۔ ہمارے علماء اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کرسکتے کہ آج ہم انٹر نیٹ کے عہد میں جی رہے ہیں جہاں تعبیری و تفسیری ادب اور فقہی و قانونی نظائر کا کلی سرمایہ ہر خاص و عام کی دسترس میں ہے۔ اب صرف یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا کہ ہمارافقہی فہم ہی اصل اسلام ہے۔ فریق مخالف خود آپ کے متداول تعبیر ی ادب سے آپ کے موقف کی کمزوری پر بڑی آسانی سے وقیع شواہد فراہم کرسکتا ہے ، جیسا کہ ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلوں میں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں بعض غیر مسلم جج صاحبان نے مروجہ طلاق ثلاثہ کی شناعت پر کلام کرتے ہوئے سائل کو صحیح قرآنی طریقہ ، طلاق پر مطلع کیا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ان حساس مسائل پر کلام کرتے ہوئے غیر مسلم جج تو بار بارقرآن سے دلائل پیش کرتا ہے اس کے برعکس ہمارے علماء اپنے دفاع میں دستور کا سہارا لیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ معاملہ مذہبی آزادی سے متعلق ہے جس کی ضمانت ہمیں دستور ہند نے دی ہے۔ بورڈ نے اپنے حلف نامے میں طلاق ثلاثہ کی حمایت میں جو دلیلیں دی ہیں وہ بھی قرآنی حوالے سے یکسر خالی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اگر طلاق ثلاثہ کی سہولت پر روک لگائی گئی تو اندیشہ ہے کہ مسلمان مرد اپنی بیویوں کو زندہ ہی جلا ڈالیں ۔ یہ تو کچھ ایسی ہی بات ہوئی جیسے کوئی یہ کہے کہ مجرم کو اگر زنا سے روکاگیا تو اندیشہ ہے کہ وہ قتل کے درپے ہوجائے۔ مسلم مردوں کی یہ خونخوار تصویر مودّہ اور رحمہ پر قائم ہونے والے معاشرے کی تصویر ہر گز نہیں ہے۔ یہ یقیناًنبی رحمت کے وارثین کی تصویر نہیں ۔ بورڈ کوچاہیے کہ سڑکوں پر عوامی تحریک چلانے سے پہلے ڈھنگ کا کوئی وکیل ہی مقرر کرلے۔

ادھر دہلی میں بورڈ کے ’ جواں سال‘ سیکریٹری جنرل نے جو پریس کانفرنس کی ہے اس میں بھی انہوں نے اپنے موقف کی صلابت پر قرآن و حدیث سے کوئی استشہاد فراہم کرنے کے بجائے صرف یہ کہنے پہ اکتفا کیا ہے کہ ان کے پاس ایسے اعداد و شمارموجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ طلاق کا تناسب مسلمانوں میں دوسری اقوام کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ انہوں نے شکایت آمیز لہجہ میں کہا کہ میڈیا خواہ مخواہ سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ دین و شرع کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں کے دل و دماغ امت مختار کی غیرمعمولی عظمت سے کیوں خالی ہیں۔ غیر اقوام کابھلا ہم سے کیا مقابلہ؟ کیا دوسروں کی غلط کاریاں ہمارے گناہوں کے بوجھ کو کم کرسکتی ہیں؟

مجھے اندیشہ ہے کہ اگر بر وقت اس غلغلہ انگیز قومی لڑائی کے غبارے سے ہوا نہ نکالی گئی تو مسلمان بی جے پی کے بچھائے ہوئے جال میں بری طرح پھنس جائیں گے۔ ان کی تعمیر و ترقی اور تعلیم و تعلم کے تمام ملی منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اس ملک میں تحفظ شریعت کی سیاست بہت ہوچکی ۔ ہمارے اصحاب شرع کو جاننا چاہیے کہ شریعت تحفظ کے لیے نہیں بلکہ نفاذ کے لیے ناز ل کی گئی ہے۔ محض خالی خولی طلسم آمیز ناموں سے شریعت کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے ۔ نہ کسی غیر اسلامی نظام کے اندر امارت شرعیہ کا قیام ممکن ہے او رنہ ہی قوت نافذہ سے تہی دست کوئی شخص امیر شریعت ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ جو لوگ ان مغالطہ آمیز اصطلاحوں کے ذریعہ اس ملک میں کار بار شریعت کی علمبردار ی کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں نہ تو مسلمانوں کی ملی زندگی کا کوئی شعور ہے اور نہ ہی ان کے دل و دماغ شریعت کی اصل عظمت پر آگاہ ہیں۔

صورتحال کی نزاکت اس بات کی طالب ہے کہ مسلمانوں کے اہل نظر ، غیر سیاسی علماء و دانشور ، ملی تنظیمیں اور تمام ہی قسم کے پرنسل لاء بورڈ خواہ وہ شیعہ ہوں یا دیوبند ی، عورتوں کے ہوں یا بریلوی کے یہ سب از سرنو ایک اجتماعی غور و فکر کا ڈول ڈالیں۔ تاریکی جب گہری ہوجائے اور ایسا محسوس ہو کہ ہمارا ملی قافلہ بے سمتی کا شکار ہوگیا ہے تو لازم ہے کہ محض شوقِ سفر پر اصرارکے بجائے ہم پھر سے وحی ربانی کی تجلیوں سے اپنی راہوں کو منور کرلیں۔ کاش کہ مسلمانوں کے اہل فکر طلاق ثلاثہ او رنکاح حلالہ پر اصرار کرنے او راسے ملی وقار کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس کی درستگی کے لیے خود آتے او رکورٹ پر یہ واضح کرسکتے کہ کتاب کو سنت کی روشنی میں ان دو مسائل کی درستگی کے لیے تو ہم تیار ہیں البتہ تعدد ازواج کی جو گنجائش شرع نے مخصوص حالات کے لیے رکھی ہے اس کی حکمت ہم سے کہیں بڑھ کر خالق کائنات جانتا ہے ۔ اس میں کسی قسم کی ترمیم و تنسیخ ہم بندوں کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔ گویا فہمِ شرع پر تو ہزار گفتگو ہوسکتی ہے البتہ نفسِ شرع پر کلام ممکن نہیں ۔

دسمبر، 2016 بشکریہ: ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/dr-rashid-saaz/politics-of-shari-ah-in-india--ہندوستان-میں-شریعت-کی-سیاست/d/109851

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..