New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:33 PM

Urdu Section ( 3 Aug 2015, NewAgeIslam.Com)

Ismat Chughtai: A Story Writer of Independent Thoughts عصمت چغتائی : کھلے پنکھ والی افسانہ نگار

 

 

 

ڈاکٹر پرویز شہر یار

2 اگست، 2015

عصمت چغتائی اپنے دور کی انتہائی ہنگامہ خیز افسانہ نگار رہی ہیں۔ ان کی سفاک حقیقت نگاری بالخصوص چہار دیواری کے اندر کی پردہ نشیں خواتین کی حیاتِ روز مرہ کی حقیقت بیانی سے عصمت نے اپنے قارئین کو ایک دم سے چونکا کے رکھ دیا تھا ۔ یہ حقیقت نگاری اتنی تیز اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والی تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ کوئی مرد ہے جو عورت کے نام سے عورتوں کے محرم مسائل پر ایسے فاش طریقے سے اور اتنے کھلم کھلے انداز میں لکھ رہا ہے۔ بعد میں قرہ العین حیدر ان کے اسی وصف کی وجہ سے انہیں لیڈی چنگیز خان کہا کرتی تھیں ۔

بہر کیف ، عصمت نےبہت جلدی ہی ادبی حلقوں میں اپنی ورود کا شدید احساس دلادیا تھا ۔ انہوں نے عورتوں کے حالاتِ زندگی ، علی الخصوص متوسط طبقے کی پردہ نشیں مسلم خواتین کے حالات زندگی کے سبھی پہلوؤں پر افسانے لکھے ہیں ۔ ان کی بے بسی ، جہالت، لاچاری، بیماری، نفسیاتی اور جنسی مسائل پر کھل کر لکھا اور ان کا ماننا تھا کہ مرض کو چھپانے کے بجائے اس کا بروقت علاج ضروری ہے۔ اس نظریے کے تحت انہوں نے اپنے ارد گرد کے ماحول میں جو بھی دیکھا اسے اپنے تخیل کی بنیاد پر بڑی فنکارانہ چابکدستی کے ساتھ من و عن سپر دقلم کردیا ۔ انہوں نے اپنے افسانے کے آرٹ کو فوٹو گرافی سے تشبیہہ دی ہے۔ میرے خیال سے ، وہ ایک آزاد پردندہ تھیں، ان کے پروں کو کترنے کی کوئی جرأت بھی نہیں کرسکتا تھا ، انہوں نے معاشرتی جکڑ بندیوں اور تہذیب کے فرسودہ بندھنوں کو خود اپنے شعور ادراک کے ناخنوں سے کھولا تھا ۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صحیح معنوں میں ایک کھلے پنکھ والی افسانہ نگار تھیں ۔

سید احتشام حسین نے لکھا تھاکہ عصمت چغتائی موجودہ دور کی سب سے مقبول خاتون ادیب ہیں۔ اپنی پہلی ہی دو تین کہانیوں میں انہوں نے پڑھنے والوں کو چونکا دیا اور سب نے اسے مان لیا کہ ادبی میدان میں ایک نئے فنکار کا ورود ہوا ہے، جس کے پاس کہنے کو کچھ نئی باتیں ہیں اور وہ انہیں دلچسپ طریقے سےپیش کرسکتا ہے۔ دراصل، عصمت نے جنسی حقیقت نگاری کو اپنا وسیلہ اظہار بنایا تھا اور گھریلو زندگی ان کا میدان تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی حلقوں میں عورتیں انہیں ‘ گھر کابھیدی ’ کہا کرتی تھیں ۔

پروفیسر آل احمد سرور نے عصمت چغتائی کا ذکر کرشن چندر کے بعد کیا ہے او رلکھا ہے کہ ‘‘چوٹیں’’ اور ‘‘ایک بات’’ اردو کے افسانوی ادب میں قابل قدر اضافہ کا درجہ رکھتی ہیں ۔ ان کی افسانہ نگاری کا تذکرہ کرتے ہوئے آل احمد سرور نے قدرے تفصیل سےجائزہ لیا ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ

‘‘عصمت نے ہندوستان کے متوسط طبقے او رمسلمانوں کے شریف خاندانوں کی بھول بھولیاں کو جس جرأت او ربے باکی سےبے نقاب کیا ہے۔ ان میں کوئی ان کا شریک نہیں ۔ وہ ایک باغی ذہن، ایک شوخ عورت کی طاقت لسانی، ایک فنکار کی بے لاگ اور بے رحم نظر رکھتی ہے..... انہوں نے نوجوان لڑکوں او رلڑکیوں ، بوڑھی عورتوں، زن مرید شوہروں ، جلتی بیویوں کی بڑی کامیاب مصوری کی ہے۔ ان کےیہاں ڈرامائی کیفیت ، قصہ پن، کردار نگاری، مکالموں کی نفاست اور خوبصورتی نمایا ہیں ۔ مگر انہوں نے جو گھریلو با محاورہ جاندار اور رچی ہوئی زبان استعمال کی ہے اس کی جدید افسانوی ادب میں کوئی او رنظیر نہیں ...... عصمت کے اسلوب میں ایک ایسا زور اور جوش ہے جو پڑھنے والے کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتا ۔ ان کی جگہ ہمارے افسانوی ادب میں محفوظ ہے’’۔ ( اردو میں افسانہ نگاری ، تنقید ی اشارے ،ص :36)

اکثر نفادوں نے عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری کو بیش بہا اضافہ تسلیم کیاہے۔ عصمت نے فرائد اور یونگ سےمتاثر ہوکر جنسی حقیقت نگاری پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ اس کے علاوہ ان کا اپنا منفرد اسلوب اور عورتوں کی محاوراتی زبان نے بہت جلد ہی انہیں اردو کے افسانوی ادب میں منفرد اور ممتاز مقام پر لاکھڑا کیا۔ رشید جہاں کے بعد عورتوں کی معاشرتی اور بالخصوص خانگی زندگی کا یہ پہلو اچھوتا رہ گیا تھا لیکن عصمت چغتائی نے ان موضوعا ت پر کثرت سے افسانے لکھے اور اس بات کا احساس دلایا کہ عورتوں پر مشتمل ہماری نصف آبادی کے کیا مسائل ہیں اور سیاسی، سماجی اور مذہبی ٹھیکیداروں کے دوہرے معیار زندگی اور مذہبی ریاکاری نے انہیں اپنے شکنجوں میں کس طرح جکڑ رکھا ہے جہاں ان کی محبوس اور گھٹن بھری زندگی کسمپرسی کی حالت زار سے دو چار اور بر سر پیکار رہتی ہے۔

عصمت چغتائی کی بے باک حقیقت نگاری اور سفاک جراحی سے ان کی ابتدائی دور میں بعض نقادوں کو بد ظنی بھی ہوئی ۔ تاہم ان کے بعد کے افسانوں میں انسان دوستی اور معاشرتی اصلاحی قدروں کے پیش نظر انہیں ترقی پسند افسانہ نگار تسلیم کرلیا گیا ورنہ ان کے باغیانہ رویے اور آزاد خیالی کی وجہ سے انہیں بے راہ روی کا شکار تصورکیا جاتا تھا ۔

عصمت چغتائی کے یہاں سماجی معنویت اور اجتماعی بصیرت دونوں بدرجہ احسن موجود ہے۔ انہیں پردہ نشین عورتوں کی محاوراتی زبان پر دسترس حاصل تھا۔ قلم پر ان کی گرفت غیر معمولی طور پر مضبوط تھی ۔ وہ اپنے موضوع سےایک انسانی ہمدردی رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اپنے کرداروں کے ذریعہ اپنے گردو پیش کی دنیا میں جو تعفن اور گندگی چھپائی جاتی تھی اسے یکلخت طشت ازبام کردیا جس کی وجہ سے ان کمزوریوں کا ازالہ ممکن ہوسکا ۔ وہ اس نوع کی کمزوریاں طبقہ نسواں میں زیادہ محسوس کررہی تھیں یہی سبب ہے کہ انہوں نے عورتوں کے موضوعات کو اپنے فن کا ہدف بنایا ہے۔

پروفیسر وہاب اشرفی نے اپنے مضمون ‘‘اردو افسانے کل اور آج ’’ میں عصمت کے فن کے محاسن کا تذکرہ کرتے ہوئے بجا طو رپر لکھا ہے کہ

‘‘انداز بیان کے زور اور سماجی معنویت کی افسانہ نگار عصمت چغتائی سے کون واقف نہیں ۔ یہ گھر کی بھیدی ہیں اس لیے عورتوں کے اسرار ور موز سے پردہ اٹھانے میں بڑی چابک دستی دکھاتی ہیں .......عصمت اڑوسں پڑوس کے گھروں کے روزن میں جھانکنے تاکنے میں مصروف نظر آتی ہیں۔عصمت کا فن سماج کی گندگی اور اس کا تعفن دکھانے کا فن ہے ...... عصمت کی مقصدیت ان کے فن پر اکثر غالب آجاتی ہے ۔‘لحاف’ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں لیکن ان کا سخت گیر نقاد بھی ان کی زبان کے جادواور ان کے طنز کی کاٹ کا منکر نہیں ہوسکتا ۔ پھر اپنے موضوع سےایک عام ہمدردی کا جذبہ جو ان کے یہاں پایا جاتاہے اس کی مثال بھی کم ملتی ہے’’۔ ( اردو کا افسانوی ادب، بہار اردو اکادمی، ص :92)

عصمت چغتائی کے افکار و نظریات پر رشید جہاں کے اسلوب کے اثرات بہت گہرے تھے ۔ 1938میں جب عصمت کی ملاقات رشید جہاں سےہوئی تو ان کی کرشمائی شخصیت کا ایسا اثر ہوا کہ عصمت کے ہاتھ کے طوطے اڑ گئے ۔ انہیں محسوس ہوا جیسے مٹی سےبنی رشیدہ آپا کی شخصیت نے عصمت کے سنگ مرمر کے خیالستان کو پاش پاش کرکے رکھ دیا ۔ اس کے بعد ہی سے ان کا قلب ماہئیت شروع ہوگیا ۔ ان کے بندھے پنکھ کھل گئے اور قلم کی پرواز میں تیزی اور مشاہدات میں باریک بینی اتر آئی ۔ اس کے بعد عصمت نےافسانہ نگاری میں جو گردو پیش کے ماحول کے ایک کے بعد ایک تجربے پیش کیے وہ مرد غلبہ سماج کی ریاکاری اور دہرے معیار زندگی کے ہوش اڑ انے کا سامان ایک کے بعد دیگرے فراہم کرتے چلے گئے ۔ رشید جہاں سےملاقات کا کایا پلٹ کردینے والا واقعہ خود عصمت کے الفاظ میں یہاں قارئین کی دلچسپی کےلیے منقول کیا جاتا ہے، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں :

‘‘ زندگی کے اس دور میں مجھے ایک طوفانی ہستی سےملنے کاموقع ملا جس کے وجود مجھے ہلا کررکھ دیا ۔ روشن آنکھوں او رمسکراتے شگفتہ چہرے والی رشیدہ آپا سےکون ایسا تھا کہ ایک دفعہ مل کر بھنا نہ جائے ....... 38ء میں رشیدہ آپ انگاروں والی رشیدہ آپا بن چکی تھیں ۔ اب ان کی سلگتی ہوئی باتیں پلے بھی پڑنے لگی تھیں اور پھر میرا وہ حسین ڈاکٹر ہیرو، شمعی انگلیاں ، نارنگی کے شکوفے اور قرمزی لبادے چھو ہوگئے ۔ مٹی سے بنی رشیدہ آپا نے سنگ مرمر کے سارے بت منہدم کردیے ’’۔ (محولہ نئے افسانے کی گمشدہ جہت، علی احمد فاطمی ، نیا افسانہ : مسائل اور میلانات ، پروفیسر قمر رئیس ،ص :110)

عصمت چغتائی کی اہمیت او رمقبولیت نے سید محمد عقیل جیسے ترقی پسند تنقید نگار ےسے داد و تحسین حاصل کی ہے۔ وہ ان کی مقبولیت کے عوامل و عواقب میں ان کے فن پرگرفت ، ان کی محاوراتی زبان اور حقیقت پر مبنی کردار کو مانتے ہیں لیکن وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ عورت کی معصومیت ، شرم ولحاظ ، کج فہمی اور پردہ نشینی عصمت کے افسانے میں مٹی کے گھرندوں کی طرح ٹوٹتے بکھرتے نظر آتے ہیں ۔ حتیٰ کہ عصمت نہاں خانوں میں بھی قدم رکھتی نظر آتی ہے جو اس کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

‘‘لحاف ’’ اردو ادب کی تاریخ میں ایک ایسا متنازعہ فیہ افسانہ رہا ہے جس کی حمایت اور مخالفت میں رائے قائم کرنےوالوں کی اپنی اپنی دلیلیں رہی ہیں۔ عزیز احمد، سردار جعفری ، خلیل الرحمٰن اعظمی اور پطرس بخاری جیسے ذہین اور دور اندیش نقادوں نے بھی اسے مخرب الاخلاق اور گمراہ کن افسانے کے طور پر لیا اور انہیں خوف تھا کہ اس سے ترقی پسند ادب کو بھی مطعون قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا عصمت کا یہ افسانہ ترقی پسند ادب کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ۔ لیکن امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت میں تبدریج اضافہ ہواہے ۔ اس پرچلائے گئے مقدمے تضیع اوقات ثابت ہوئے ۔ آج اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ساہتیہ اکادمی کے گولڈن جوبلی تقریب کے موقع پر بہت ہی کامیاب ڈرامے اسٹیج کیے گئے اور بیگم جان کے کردار کو جو شہرت ملی وہ اس بات کی دلیل ہےکہ اس کی معنویت آج بھی ماند نہیں پڑی ہے۔

ترقی پسند افسانے کی توسیع اور تجدید میں عصمت کے موضوعات ، اسلوب اور زبان و بیان نے ناقابل فراموش رول ادا کیا ہے۔مرد غلبہ والے سماج میں عورت کو جس طرح سےنظر انداز کیا جاتاہے ۔ اس کی عصمت نے اپنے مختلف افسانوں میں خوب خبر لی ہے اور بلکہ اپنے شاہکار افسانہ ‘‘چوتھی کاجوڑا’’ میں انہوں نے بہت ہی تیز و ترش لہجے اور اپنے پرجوش اسلوب کےساتھ تمام فنی لوازم کو غایت درجہ ذہانت اور ہنر مندی سے بروئےکار لاکر مردوں کی بے حسی کوبڑے سفاکانہ ڈھنگ سے بے نقاب کیا ہے۔

عصمت چغتائی کے کئی افسانوی مجموعے ، ڈرامے، خاکے اور ناول منظر عام پرآئے اور ان سے نہ صرف یہ کے افسانوی ادب کا دامن کشا دہ ہوا بلکہ انہوں نے اردو کےقارئین اور ناقدین کو بھی سوتے سے جھنجھوڑ کےجگادیا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عصمت چغتائی صف اول کی فکشن نگار تھیں، البتہ ان کو سب سے زیادہ شہرت ان کے افسانوں سےہی ملی ۔ لہٰذاہم دیکھتے ہیں کہ عصمت کے نمائندہ افسانوں میں :‘‘چوتھی کا جوڑا’’ ، ‘‘جڑیں’’، ‘‘ننھی کی نانی’’ ، ‘‘بچھو پھوپھی ’’، ‘‘لحاف’’، ‘‘ڈائن’’،‘‘ساس’’، ‘‘بھول بھولیاں’’، ‘‘چھوئی موئی’’، ‘‘دو ہاتھ’’، ‘‘ گیندا’’، ‘‘ کافر’’، ‘‘تل’’، ‘‘سونے کاانڈا’’ اور ‘‘پنکچر’’ وغیرہ ایسے افسانے ہیں، جنہیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور امتدادِ زمانہ کے ساتھ بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ۔

ہر چند کو عصمت کے افسانوں کے بین السطور میں موجود تانیثیت کی گونج کو محسوس کیا جاسکتا ہے ، پھر بھی انہیں تانیثی تحریک کی علمبرداری کا کبھی زعم نہیں رہا ۔ البتہ وہ آزادی نسواں کی ابتدا سے ہی قائل تھیں ۔ وہ عورتوں کو غلام گردش سے باہر کھلی فضا میں پرواز کرتاہوا دیکھنے کی ہمیشہ سےمتمنی تھیں۔ انہوں نے اس ضمن میں فرسودہ اور دقیانوسی روایات کے بے شمار بتوں کو شکست و ریخت کرکے زمیں بوس کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ماڈرن سوسائٹی میں انہیں iconoclast کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ وہ مذہبی ریاکاری کے خلاف تمام عمر آمادۂ پیکار رہیں ۔ فرسودہ رسوم او رتو ہم پرستی کے خلاف بھی کمر بستہ رہیں ۔

آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب تک ہمارے معاشرے سےجنسی استحصال اور صنفی تعصب کا خاتمہ نہیں ہوجاتا ، تب تک ان کے افسانے کی معنویت بھی برقرار رہے گی اور ان کا بیباک اور سفاک اسلوب ہمیں اپنی طرف متوجہ بھی کرتا رہے گا۔

2 اگست، 2015 بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-parvez-shaharyar/ismat-chughtai--a-story-writer-of-independent-thoughts--عصمت-چغتائی---کھلے-پنکھ-والی-افسانہ-نگار/d/104149

 

Loading..

Loading..