New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 05:50 AM

Urdu Section ( 19 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Contemporary relevance of Sir Syed Ahmad's Movement- Part - 2 (سرسید احمد کی عصری معنویت (آخری قسط

 

 

ڈاکٹر مشتاق احمد

18 اکتوبر، 2014

اس اقتباس میں ‘‘ ہم وطنو’’ اور ‘‘ قوم کے بچوں’’ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں کہا گیا ہے ۔ مگر کیا کیجئے جب ذہن کسی تعصب و تحفظ کا شکار ہوجاتاہے تو اس کی سوچ کادائرہ بھی محدود ہوجاتا ہے اور ویسے  ہی محدود ذہنیت کے لوگ سر سید جیسے رہنما ئے قوم کے افکار و اعمال کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں مگر وقت  انصاف پسند ہوتا ہے وہ  کسی نا انصافی کو کب قبول  کرتا ہے ۔ آج ہندوستان ہی نہیں پوری  دنیا کے بڑے سے بڑے دانشور اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر سر سید اس وقت  ملک میں تعلیمی و سماجی تحریک کا آغاز نہیں کرتے تو آج ہندوستان تعلیمی شعبے میں سو سال اور پیچھے ہوتا۔ سر سید کے تصور تعلیم پر جب کبھی گفتگو ہوتی ہے تو بعض مبصرین یہ کہتے ہیں کہ سر سید کی تحریک تعلیمِ نسواں کی روح سے عاری نظر آتی ہے ۔ میرے خیال میں اس طرح کی رائے قائم کر لینا سر سید کی مکمل تعلیمی و سماجی تحریک کا سر سری مطالعہ اور اس وقت کے ہندوستان کے سماجی  و سیاسی حالات ، مذہبی معاملات و مسائل اور معاشرتی حقائق سے عدم  واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اگر سر سید کی اصلاح  و تعلیمی   تحریک کا سنجیدگی سے مطالعہ  کیا جائے تو یہ حقیقت  خود بخود عیاں ہو جائے گی کہ سر سید کا ماننا تھا کہ عورت کی اصلاح  اور تعلیم کے بغیر نہ گھر کا نظام درست ہوسکتا ہے او رنہ انسانی معاشرے کا توازن  بر قرار رہ سکتا ہے ۔ ہاں! یہ سچ ہے کہ سر سید نے لڑکیوں کی تعلیم کے مقابلے  لڑکوں کی تعلیم  کو اولیت دی اور ایسا  انہوں نے کیوں کر کیا اس کی وضاحت بھی کی تھی ۔ ‘‘ خاتونانِ پنجاب ’’ کے استقبالیہ میں انہوں نے اپنا موقف یوں بیان کیا تھا :

‘‘ میں نے تمہارے لڑکوں کی تعلیم پر جو کوشش کی ہے اسے تم یہ نہ سمجھو کہ میں اپنی پیاری  بیٹیوں کو بھول گیا ہوں ۔ بلکہ میرا یقین ہے کہ لڑکوں کی تعلیم  پر کوشش کرنا لڑکیوں کی تعلیم  کی جڑ ہے۔ پس جو خدمت میں تمہارے لڑکوں کے لئے کرتا ہوں  لڑکوں او رلڑکیوں دونوں کیلئے ہیں ’’۔

( سرسید احمد خاں کا سفر نامہ ٔ پنجاب ۔ سید اقبال علی، ص : 144)

پھر ایک دوسری جگہ تعلیم نسواں کی اہمیت کا اعتراف یوں کرتے ہیں :

‘‘ کوئی دنیا کی تاریخ اس وقت  تک نہیں مل سکی کہ جس خاندان کے مردوں نے تعلیم  پائی ہو، مردوں کے اخلاق درست ہوگئے ہوں، مردوں نے علم و فضل  حاصل کرلئے ہو ں اور عورتیں تعلیم سے محروم رہی ہوں ۔ہماری منشا  یہی  ہے کہ یہ تعلیم ہم دلارہے ہیں لڑکوں کی نہیں  ہے بلکہ لڑکیوں کی ہے جن  کے وہ باپ ہوں گے۔ ہم کو ولی ہونے کا دعویٰ نہیں ہے پیشنگوئی  نہیں کرسکتے بلکہ ہم کو پچھلے واقعات دیکھ کر نصیحت لینی چاہئے ۔ اس وقت ہم تمام یوروپ کی اور تعلیم یافتہ ملکوں کی ہسٹری دیکھتے ہیں او رپاتے ہیں کہ جب مرد لائق  ہوجاتے ہیں، عورتیں لائق ہوجاتی ہیں ۔ جب تک مرد لائق نہ ہو عورتیں بھی لائق نہیں ہو سکتیں ،،۔ ( خطبات سر سید ۔ جلد دوم ، مرتب اسمٰعیل پانی پتی ۔ص :27) اس دور عالمیت ( گلوبلائزیشن) میں اس بات کی پرُ زور وکالت کی جارہی ہے کہ آج طلبا  و طالبات کو ایسی  تعلیم دی جانی چاہئے جو روزگار دلانے میں معاون ہوسکے ۔ یعنی عصری تقاضوں کو پورا کرنے والی  جدید تکنیکی اور ووکیشنل تعلیم کی اہمیت بتائی جارہی ہے۔ اس میں کوئی  شک نہیں  ہے کہ اگر ہم عصری تقاضوں کو پورا کرنے والی تعلیم سے اپنے بچوں کو آراستہ نہیں کریں گے تو ان کے لئے روزگار کے نئے راستے ہموار نہیں ہوسکیں گے۔ سر سید احمد نےبھی تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ اگر ہم صرف ڈگری حاصل کرنے کےلئے تعلیم حاصل کرتے ہیں تو بے سود ہے۔  انہوں نے ایسی تعلیم کی وکالت کی تھی جو حسبِ احتیاجِ وقت ہو یعنی عصری تقاضوں کو پورا کرتی ہو۔ انہوں نے کہا تھا کہ :

‘‘ جو تعلیم حسبِ احتیاجِ وقت نہ ہو، وہ غیر مفید ہوتی ہے اور جیسا کہ ایک عقل مند کا قول ہے کہ اگر حسبِ احتیاج لوگوں کی تعلیم و تربیت نہ ہوتو اس کا نتیجہ  ہوتا ہے کہ لوگ اول مفلس اور محتاج اور پھر نالائق او رکاہل، اور پھر ذلیل و خوار اور پھر چور و بدمعاش ہوجاتےہیں ’’ ( مقالات سرسید حصہ ہشتم ۔ ص :29)

جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ گلوبلائزیشن نےپوری دنیا  کو ایک بازار بنا  دیا ہے ۔ آج دنیا کا ہر ایک ملک دوسرے ملک میں بازار کی تلاش میں ہے۔  یہ عالمی بازار کا تصور گذشتہ دو دہائی کے اقتصادی انقلابات کی دین ہے ۔ لیکن دانشور سرسید نے آج سے 135  سال قبل ہی اس عالمیت کا تصور پیش کیا تھا:

‘‘ سمندر کے اندر ہمارا کوئی حصہ ہے، غیر ملکوں سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں ہے ۔ ہم کو چاہئے کہ دوسرے ملک میں آرتھ او رکمپنیاں قائم کریں ۔ جس سے اعلیٰ درجے کے تاجر ہوں، ملک کی پیداوار ، قدرتی چیزیں جو زمین میں گڑی پڑی ہیں ان سے فائدہ اٹھاویں ۔ اس طریقے سے کہ اپنے ملک میں اپنے ہی  بھائی کا رویپہ لے کر فائدہ اٹھاویں ، ملک میں ترقی نہیں ہوسکتی ۔ روپئے کو کبھی اس تھیلی میں اور کبھی اس تھیلی میں ڈالنے سے روپیہ بڑھ نہیں جاتا ۔ جب تک کہ باہر سے لاکر اس میں روپیہ نہ ڈالا جائے ۔ جب تم ایسا کروگے اس وقت بے شک جس طرح ہمارے ملک کا روپیہ دوسرے ملک میں جاتا ہے ہم بھی دوسرے ملک کا روپیہ اپنے ملک میں کھینچ لاویں گے ’’۔ ( مقالاتِ سر سید حصہ ہشتم ۔ص :131)

آج ہندوستان کے ماہرین زراعت اس مسئلہ پر اکثر فکر مندی کااظہار کرتےہیں کہ ملک میں زراعت کے لائق زمین کی کمی نہیں  ہے لیکن پیداوار میں اضافہ نہیں ہوپارہا ہے۔ ہمارے سائنسداں کا کہنا ہے کہ ہم جدید ترین ٹکنا لوجی کو اپنا زراعت کے طریقہ کار میں اصلاح  کرسکتے ہیں اور اپنی پیداوار بڑھا سکتے ہیں ۔ موجودہ مرکزی حکومت ‘‘ ہرت کرانتی ’’ پروگرام کے تحت زراعت کے قدیم طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی کوشش کررہی ہے ۔ سرسید جنہیں ہم اور آپ  صرف ایک سماجی مصلح اور سیاسی مفکر سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے اس مسئلہ پر تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے غور وفکر کیا تھا اور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ :

‘‘ یہ بات سچ ہے کہ ہندوستان کی زمین کثرت پیداوار ی ملکوں میں مشہور ہے لیکن اگر اس عمدہ زمین میں کاشت کاری  قاعدے سے ہوتو او رزیادہ ترقی ممکن ہے ۔ بہت سی اجناس ہندوستان کی پیدوار کی ایسی ہیں  جو او رملکوں کی اجناس کے مقابلے  میں ناقص او ربری ہیں ۔ اگر یہاں کے کاشت کار علم فلاحت کی تمام شاخوں سے واقف ہوں تو بلا شبہ یہاں کی اجناس پیداوار بھی او رملکوں کی اجناس پر سبقت لے جاوے ورنہ ان کی مثال تو ضرور ہوجاوے’’

واضح ہوکہ یہ اقتباس ‘‘ سائنٹیفک سوسائٹی ’’ جس کی داغ بیل سرسید غازی پور میں 15 اگست 1863 میں ڈالی تھی اس کے روئداد نمبر 6 سے ماخوذ ہے ۔ سرسید نے اپنے دوست Smith Eldars  کو ایک خط لندن بھیجا تھا اور اس میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ایک ایسی کتاب لکھوائی جائے جو زراعت کے جدید طریقوں پر مبنی ہو۔ سر سید کا ذکر ہو اور ان کی لسانی خدمات پر تبصرہ نہ ہوتو کہانی ادھوری رہ جائے گی ۔ یوں تو زندگی کاکوئی ایسا شعبہ  نہیں جو سرسید کے کارناموں سے اچھوتا ہو۔ لیکن  انہوں نے اردو زبان و ادب کو جو نیا آہنگ اور نیا عزم سفر بخشا اس کی مثال نہیں ملتی ۔ سرسید نے اس اردو زبان  کو صرف ادب، تاریخ او رمذہب کے مضامین تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اس زبان کو مکمل حیات آئینہ بنادیا ۔ انہوں نے اپنے اردو مضامین کے ذریعے ہمیں مغرب کے افکار و نظریات سے آشنا کرایا ۔ ‘‘ تہذیب الاخلاق ’’ نے نہ صرف اردو میں صحافت کی مستحکم بنیاد ڈالی بلکہ آنے والی صدی میں اردو صحافت کا جو معیار بلند ہوا وہ ‘‘تہذیب الاخلاق ’’ کی دین ہے ۔ انہوں نے اپنے  اسلوب سے اردو نثر کی دنیا ہی نہیں بدل ڈالی بلکہ   اردو شاعری کے جہاں تاریک کو بھی منور کیا ۔ اگر سر سید نے اردو شاعری کی طرف توجہ نہ کی ہوتی دنیائے ادب حالی کے ‘‘ مقدمہ شعر و شاعری ’’ سے محروم رہ جاتی اور ظاہر ہے کہ اگر ‘‘مقدمہ گل سےبلبل کے پرَ باندھتے ’’ رہتے ۔ انہوں نے اردو زبان کو آسان اور عام فہم بنانے کے لئے نہ صرف خود مختلف موضوعات پر مضامین لکھے بلکہ  اپنے رفقاء کو بھی اس علمی فریضہ کو انجام دینے کے لئے تیار کیا ۔  نتیجہ  یہ ہواکہ دیکھتے ہی دیکھتے مذہب، سیاست، تاریخ، فلسفہ، علم کلام ، تبصرہ اور تنقید وغیرہ  کی زبان اتنی عام فہم ہوگئی کہ اب معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی ان مضامین میں دلچسپی  لینے لگا ۔ پروفیسر خلیق  احمد نظامی نے بجا ہی لکھا ہے :

‘‘ ان کے فیضِ صحبت سےکتنے ہی سنگ ریزے  افقِ علم پر آفتاب  بن کر چمک اٹھے ۔ ان میں ‘‘ آدم گری ’’ کا حوصلہ بھی تھا اور ‘‘ شیشہ گری’’ کی صلاحیت بھی ۔’’

غرض کہ سر سید نےاپنے افکار و نظریات کی روشنی سے انسانی زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جسے  منور نہ کیا ہو۔ انیسویں  صدی کا کوئی دوسرا مصلح  و  مفکر ان  کے عرفان و آگہی  اور دانشوری کی برابری کا دعویٰ نہیں کرسکتا ۔ آج پوری دنیا میں سر سید کی فکر کا سنجیدہ  مطالعہ  ہورہا ہے اور اب سرسید صرف ہندوستانی قوموں کے رہنما ہی  نہیں رہ گئے ہیں بلکہ پوری انسانیت  کے خیر خواہ  تسلیم کئے جاچکے ہیں ۔ اس لئے سر سید کے افکار و نظریات کو کسی خاص عہد کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔ راقم الحروف نے جو دلائل پیش کئے ہیں اس سے یہ حقیقت  واضح ہوجاتی ہے کہ سر سید کے  سو ڈیڑھ سو سال پہلے کے خیالات آج کے عصری تقاضوں کو پورا کرتے ہیں  اور آنے والی صدیوں میں بھی ان کے فکری سرمایے کی اہمیت و معنویت بر قرار رہے گی ۔ پروفیسر عتیق احمد صدیقی نے ایک دہائی  قبل اپنے  ایک مضمون لکھا تھا :

‘‘ مسلمانانِ ہند کی گذشتہ سوا سو سال کی کتاب ِ زندگی کا کوئی ورق ایسا نہ ہوگا جس پر سرسید کے گہرے اثرات کی مہر ثبت نہ ہو۔ مذہب، سیاست، معاشرت، تہذیب و تمدن، تعلیم غرض زندگی  کے ڈانڈے سے سرسید  اور ان کی اصلاحی تحریک سے جاکر نہ مل جاتے ہوں ۔’’

( معمارِ قوم سر سید احمد خاں ۔ تہذیب الاخلاق ، اکتوبر 1999، ص :22)

میری خواہش  تھی کہ سر سید کے پیغام ابدی  پر بالخصوص عصری معنویت کے حوالے سے کچھ اور گفتگو کروں لیکن طوالت اس کی  اجازت نہیں دیتا ۔ بس اپنی  گفتگو شاعرِ عرفان وآگہی   مرزا غالب کے اس شعر پر ختم کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ۔

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے

سفینہ چاہئے اس بحرِ بیکراں کے لئے

18 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-mushtaq-ahmad/contemporary-relevance-of-sir-syed-ahmad-s-movement--part---2--(سرسید-احمد-کی-عصری-معنویت-(آخری--قسط/d/99604

 

Loading..

Loading..