New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 01:18 PM

Urdu Section ( 17 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Contemporary relevance of Sir Syed Ahmad's Movement- Part - 1 (سرسید احمد کی عصری معنویت ( قسط اوّل

 

 

ڈاکٹر مشتاق احمد

17 اکتوبر، 2014

تاریخ ہند کے اوراق شاہد ہیں کہ یہاں ہر عہد میں ایسے ایسے مذہبی   ، سماجی اور سیاسی مصلح و مفکر پیدا ہوئے ہیں جن کے افکار و نظریات سے نہ صرف ملک کی جغرافیائی تصویر بدلی ہے بلکہ اقوام کی تقدیر بھی بدلی ہے۔ ویسے ہی عظیم مصلح و مفکر کی فہرست میں سر سید احمد خاں کو امتیاز ی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے افکار و نظریات نے ایک عہد کو متاثر کیا ہے اور ان کے حکیمانہ خیالات نے ہماری تاریک راہوں کو روشن کی ہیں ۔ ان کی زندگی اور خدمات کا سرسری مطالعہ بھی اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ ان کی ہمہ جہت شخصیت کی نشو و نما میں جو قوتیں ایک مستقل  محرک کے طور پر کام کرتی رہی ہیں ان میں سب سے اہم ہندوستانی قوم کی تعلیمی ، سماجی اور سیاسی مسائل سے مستقل وابستگی رہی ہے۔  خواہ دہلی کی زندگی ہو کہ مراد آباد کے ایام ،بجنور اور غازی پور کی صبح و شام ہو کہ علی گڑھ کے روز شب ، ان کی فکر کا محور اور مرکز صرف ہندوستانی قوم کی زندگی رہی ہے ۔ اس تمہید کے بعد میں یہ بات واضح کردینا چاہتاہوں کہ سر سید احمد خاں کی شخصیت اور خیال و نظریات کے موضوع پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اب اس میں کوئی نئے پہلوؤں کی گنجائش  باقی نہیں ۔ کیونکہ پیش پا افتادہ مضامین کے انبار سے استفاعہ کرکے مضامین کے اعداد و شمار میں اضافہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن کوئی  نئی بات یا پھر چونکا نے والی بات مشکل  سے کہی جاسکتی ہے۔ لیکن میں نے یہ کوشش کی ہے کہ اپنے  عنوان کے تقاضوں کو پورا کروں اور آپ اہل فکر و نظر کو یقین دلاؤں  کہ راقم الحروف نے سر سید احمد جیسی بحرِ ذخار شخصیت کا صرف ساحل سے نظارہ ہی نہیں کیا ہے بلکہ ان کی فکر و نظر کے بحرِ بیکراں میں غوطہ زن ہو کر گوبرِ آبدار حاصل کرنے کی سعیٔ پیہم بھی کی ہے۔ میں اپنی کوششوں میں کہا ں تک کامیاب ہوسکا ہوں اس کا فیصلہ تو آپ اہل فکر و نظر حضرات ہی کریں گے ۔

عہد حاضر جسے عہد عالمیت ( گلو بلائزیشن ) قرار دیا گیا ہے اور جس میں  پوری دنیا ایک بازار بن  چکی ہے۔ انسان کی زندگی کے تصورات اور معنی  بدل گئے ہیں ۔ انسان کے افکار و نظریات کو بھی سائنسی  جدید دریافتوں کے میزان پر پرکھا جارہا ہے۔ ہر وہ شئے جو آج ہماری ضروریات میں شامل ہے وہ نئی صبح کے ساتھ بیکار ثابت ہورہی ہے کیونکہ کل کوئی نئی دریافت یا  ایجاد ا س کو بے معنی کر سکتی ہے ۔ ایسے  دورِ انقلاب میں یہ سوال بھی  ذہن میں بارہا اٹھتا ہے کہ کیا 21 ویں صدی و سائنس و ٹکنالوجی کی صدی ہے اس میں ہمارے سماجی، مذہبی، تعلیمی اور سیاسی دانشورو مفکر کے افکار و نظریات کی اہمیت و معنویت کیا ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ آج لمحہ بہ لمحہ  بدلتے ہوئے حالات میں ان کے افکار و نظریات بے معنی  ہوچکے ہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ دورِ حاضر میں ہمارے سامنے جو مسائل کھڑے ہیں اس کا مقابلہ ہم اٹھارہویں  یا انیسویں  صدی کے مصلح و مفکر کے اصولِ زیست سے نہیں کرسکتے ۔ لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے  کہ آج بھی ہمارے ان مصلح و مفکر کے فکری سرمائے ہمارے لئے اتنے ہی اہمیت کے حامل ہیں جتنے ان کے عہد میں تھے ۔ جہاں تک سر سید احمد خاں کے فکری اثاثے کی معنویت کا سوال  ہے تو ان کو ہم کسی خاص عہد سے منسوب نہیں کرسکتے ۔ سرسید احمد افقِ انیسویں  صدی کے وہ تابناک ستارہ ہیں جس کی تابناکی میں علم و حکمت ، شعور و آگہی ، بصیرت و بصارت اور دور اندیش اور دانشوری نے کسی خاص طبقے یا خطے کی زندگی میں ہی انقلاب برپا نہیں کیا بلکہ ایک عہد کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ سرسید احمد جیسے ایک عظیم مصلح و مفکر  کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے علمی  و فکری کارناموں پر اس مختصر مقالے میں تفصیلی گفتگو ممکن نہیں لیکن  اس حقیقت کے نقوش تو ابھارے ہی جاسکتے ہیں کہ سر سید احمد کے فکری سرمایے میں وہ قوت آج بھی ہے جس کے سہارے نہ صرف ہم اپنی سوچ کے دائرے کو وسیع کرسکتے ہیں بلکہ اس عہدِ حاضر یعنی گلو بلائزیشن کے ہر چیلنج کا مقابلہ بھی کرسکتے ہیں ۔ہم اس حقیقت ابدی و ازلی سے بخوبی واقف ہیں کہ ہر دانشور ، مصلح اور مفکر اپنے عہد کی پیداوار ہوتا ہے اور عمرانی فلسفہ کی قبولِ عام سچائی ہے کہ ہر عہد بے شمار مسائل ، رجحانات ، تحریکات اور اصلاحات کا حامل ہوتا ہے ۔ہر شخص کی نگاہ ان تغیرات زمانہ تک رسائی حاصل نہیں کر پاتی ۔ ان تبدیلیوں کو ایک بیدار اور احساس انسان ہی  محسو س کرسکتا ہے جیسا کہ تین (Tain) نے اپنی کتاب ‘‘Philosophy of Art’’ میں لکھا ہے کہ: ‘‘ فن کوئی ایسی شئے نہیں جو اپنے ماحول سے منقطع او ربے نیاز ہو۔ لہٰذا اسے سمجھنے کے لئے ہمیں  اس عہد کے ذہنی او رمعاشرتی حالات و محرکات کا لازمی طور پر مطالعہ کرنا ہوگا جو اس کی تخلیق کا باعث ہوئی ۔’’

سرسید اپنے عہد کے نبض شناس تھے ۔ انہوں نے گہری نظر سے اس وقت کے ہندوستان کے سماجی اور سیاسی حالات کا جائزہ لیا تھا ۔ چونکہ ان کا درد مند دل حب الوطنی کے جذبے سے کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اس لئے وہ اپنے معاشرے کا علاج ایک طبیب کی طرح کرنا چاہتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت  جو سیاسی  حالات تھے اس نازک وقت میں سر سید کوئی بڑی  سیاسی تحریک نہیں چلا سکتے تھے کیونکہ ایک طرف وہ انگریزوں کے خلاف کھل کر آنے کو تیار نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کے سر سید اپنے حکیمانہ فکری بصیرت سے کام لے کر اس مرض کا علاج کرناچاہتے تھے جس میں مبتلا ہوکر ہندوستانی قوم نا امیدی و مایوسی  اور احساس کمتری کے سمندر  میں ڈوبتی جارہی تھی ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ 1857 کی پہلی جنگ آزادی میں ہماری  ناکامیوں نے انگریزوں کے حوصلے بڑھا دیئے تھے اور اب انگریزی حکومت کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا تھا ۔ اب انگریز طرح طرح کی سازشوں اور حکمت عملیوں کے ذریعہ ہندوستانیوں کا استحصال کرنے لگے تھے بالخصوص ہندو او رمسلمانوں کے درمیان مذہب کی دیوار کھڑی کر کے ہماری اتحادی قوت کو کمزور کرنے لگے تھے ۔ سرسید احمد کی دور اندیش نگاہ اس حقیقت سے آگاہ ہوچکی تھی کہ اب انگریز مذہب کے نام پر ہم ہندوستانیوں کو تقسیم کر کے اپنا سامراج مستحکم  کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے سوچا کہ اگر اسی وقت ہم وطنوں کے دلوں میں حب الوطنی کی چنگاری کو جگایا نہیں گیا تو ہندوستانی قوم تباہ و برباد ہوجائے گی ۔ ظاہر ہے اس وقت حالات اتنے مشکل تھے کہ حب الوطنی کی چنگاری کو یکبارگی  ہوا دے کر شعلہ نہیں بنایا جاسکتا تھا ۔ بس  ایک ہی راستہ تھا کہ انگریزوں سے دوستی بھی  قائم رکھی جائے اور اپنے  ہم وطنوں کو ذہنی  طور پر بیدار کیا  جائے ۔ جیسا کہ سر سید نے خود ہی کہا ہے کہ :

‘‘ غدر کے بعد نہ مجھ کو اپنا گھر لٹنے کا رنج تھا، مال و اسباب کے تلف ہونے کا کچھ رنج تھا ، اپنی قوم کی بربادی  کا اور ہندوستانیوں  کے ہاتھ  سے جو کچھ انگریزوں پر گزرا اس کا رنج تھا ۔ میں اس وقت  ہر گز نہیں  سمجھتا تھا کہ قوم پھر پنپے گی او رعزت پائے گی اور جو حال اس وقت قوم کا تھا وہ مجھ سے دیکھا نہیں  جاتا تھا ۔ چند روز میں اس خیال او راس غم میں رہا ۔ آپ یقین کیجئے کہ اس غم نے مجھے بڈھا کردیا ۔’’

بلاشبہ یہ ملک و قوم کا غم ہی تھا کہ سر سید 1857 کے بعد انگریزی حکومت کے قریب ہوئے اور ان کے سیاسی  تصورات میں قدرے تبدیلی واقع ہوئی ۔لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ انگریزوں کی قربت کا وجہ سے سر سید کے تصورِ وطن، تصورِ قوم یا حب الوطنی  میں  کوئی  کمی واقع ہوئی ہو۔ سچائی یہ ہے کہ انگریزوں سے دوستی کے پیچھے بھی  قومی مفاد پوشیدہ تھے ۔ ‘‘ اسبابِ بغاوت ہند ’’ کے اوراق شواہد پیش کرتے ہیں کہ 1857 کے بعد سر سید کے افکار و نظریات کے محور او رمرکز کیا تھے ۔ سر سید نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ اہل علم لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں انگریزوں کی سازشوں سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے جگہ بہ جگہ جلسوں سے بھی خطاب کیا او رلوگوں کو اپنی فکر سے آگاہ کیا ۔ اکثر جلسوں میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہی  ہوا میں سانس لیتے ہیں، ایک ہی  گنگا جمنا کا پانی پیتے ہیں اور ایک ہی زمین کی  پیداوار کھاتے ہیں ۔ خدا کی بنائی ہوئی دنیا کے ایک ہی خطہ یعنی ہندوستان میں جیتے او رمرتے ہیں پھر ہم دونوں کے درمیان یہ دوریاں کیوں کر ہیں؟  ہمارے درمیان نفرت کیوں ہے؟ سرسید کے اس طرح کے سوالوں نے ہندوستان کے دانشور طبقے کو سوچنے پر مجبور کیا او ردیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی جماعت تیار ہوئی  جو انگریزوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کی مہم  میں لگ گئی ۔ یہاں میں سر سید کی اس تاریخی تقریر کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہتاہوں جو انہوں نے 27 جنوری 1883 کو پٹنہ کے ایک جلسے میں کی تھی :

I have always said that our land of India is like a newly-wedded bride whose two beautiful and luscious eyes are the Hindus and the Musalmans; If the two exist in mutual concord the birde will remain for ever resplendent and becoming, while if they make up their mind to see in different directions the bride is bound to become squinted and even partially bline’’

( Satyyid Ahmad Khan : by K.A. Nizami-Edition, 1966, P 144)

چند محدود ذہن اور تنگ نظر لوگ سر سید احمد پر یہ الزام تراشتے ہیں کہ انہوں نے صرف مسلمانوں کی سماجی اور تعلیمی بد حالی کا رونا رویا ہے اور انہیں  کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے جد و جہد کی اور ان کے مخاطب صرف مسلمان رہے ہیں ۔ ان کی تقاریر او رمضامین اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ ان کی فکر  و نظر کا محور کبھی بھی صرف مسلمان نہیں رہے ۔ ان کی سانسوں میں اس وقت کا ہندوستان بستا تھا اور وہ اپنے  ملک و قوم کی دردناک صورتحال کو دیکھ کر مضطرب تھے اور اس درد مندی نے ان کی تقریر وں اور تحریروں میں سوز و گداز بھر دیا تھا ۔ ایک مثال دیکھئے :

‘‘ پس اے میرے پیارے نوجوان ہم  وطنو اور میری قوم کے بچو اپنی قوم  کی بھلائی پر کوشش کرو تاکہ آخر وقت میں اس بڈھے  کی طرح نہ پچھتاؤ ۔ ہمارا زمانہ تو اخیر ہے اب خدا سے یہ دعاء ہے کہ کوئی نوجوان اٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی کی کوشش کرے’’۔ ( انتخاب مضامین  سرسید: ص ۔88۔89)

(جاری ہے)

17 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-mushtaq-ahmad/contemporary-relevance-of-sir-syed-ahmad-s-movement--part---1--(سرسید-احمد-کی-عصری-معنویت-(-قسط-اوّل/d/99584

 

Loading..

Loading..