New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 07:59 AM

Urdu Section ( 31 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

Shaikh ul Islam's Peace Curriculum ‘شیخ الاسلام کا‘امن نصاب

 

 

 

ڈاکٹر مرتضی مغل

31 جولائی ، 2015

دہشت گردی اب کسی ایک ملک یا قوم کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ ایک بین الاقوامی اشو بن چکا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے عفریت سے بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ افواج پاکستان کو دہشت گردوں کے خاتمے کا جو ٹاسک دیا گیا تھا ، وہ بڑی حد تک پورا ہوچکا ہے۔ فوجی نوعیت کی فتوحات قابل ذکر ہیں۔ ضرب عضب کے تین اہداف مقرر کئے گئے تھے ۔ پہلا ہدف ان دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کے ٹھکانے ختم کرنے تھے جو علانیہ طور پر ریاست اور ملک کے خلاف بر سرپیکار تھے ۔ الحمد اللہ ہماری عسکری قوت نے ‘‘ نا قابل شکست ’’ سمجھے جانے والے ان گروہوں کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہ بلوچستان کے علیحدگی لشکر تھے یا اسلام کا نام استعمال کرکے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے ، دونوں قسم کے گروہ اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں جو چند بچے ہیں وہ بھی فرار کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ ہمارے بہادر فوجی ان کی آخری پناہ گاہوں تک جا پہنچے ہیں۔ دوسرا ہدف فرقہ وارانہ تنظیموں کی وارداتوں پر قابو پانا تھا ۔ مقام شکر ہے کہ ان کے وجود کو نیست و نابود کردیا گیا ہے۔ اب ان کے اندر ہتھیار اٹھانے کی ہمت نہیں رہی اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو مضبوط گرفت میں لیا جا چکا ہے ۔ ملک میں ٹارگٹ کلنک کے اکاد کا واقعات تو ہوتے ہیں لیکن ایسی انتہا پسند تنظیموں کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے۔ تیسرا اور اہم ترین ہدف دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور معاون لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کرناتھا ، اس حوالے سےکراچی میں جو آپریشن ہورہا ہے ،اس کے ذریعے بڑے بڑے نامی گرامی لوگوں کو پکڑا جا چکاہے ۔ چونکہ کرپشن انڈسٹری کے ذریعے ہی ان شدت پسند گروہوں کو مالی مدد فراہم کی جاتی تھی ، اس لئے مالی بد عنوانی کے ذرائع پر آہنی ہاتھ ڈالا گیا ہے ۔ قوم کو یقین ہے کہ کراچی میں آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر ہی ختم ہوگا۔

سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیاعسکری فتوحات دہشت گردانہ سوچ کو ختم کرپائیں گی ۔ ایساہونا ممکن نہیں ہوتا ۔جب تک عمومی سوچ تبدیل نہیں ہوتی اور انتہا پسندی مذہبی مفکرین کے ساتھ ڈائیلاگ نہیں ہوتا ، تب تک دہشت گردی کے مآخذ ختم نہیں ہوسکتے ۔ طالبان فکر کے حامل گروہوں کو اس وقت بزور قوت دبا دیا گیا ہے لیکن ان کےاندر کے دہشت گرد پر ہم فتح حاصل نہیں کرسکے ۔ کہا جارہاہے کہ بہت سےطالبان نے ‘‘داعش ’’ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ داعش کی فکر ہر گز مقامی نہیں ہے۔ یہ تنظیم کسی ردّ عمل کےنتیجے میں سامنے نہیں آئی بلکہ اس کا ایک خاص فلسفہ ہے اور اس کے چاہنے والے امریکہ اور یورپ میں بکثرت موجود ہیں ، لیکن اس تنظیم نے پاکستان اور افغانستان جیسے غیر عرب ممالک میں بھی اپنے اثرات ظاہر کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔ یہ ایک خالص نظریاتی جنگ ہے۔‘‘ داعش ’’ کے غیر انسانی کارروائیوں کو دیکھا جائے، تو تاریخ اسلام بلکہ انسانی تاریخ میں ایسی بہیمانہ سرگرمیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے اس ابھرتے ہوئے خطرے سے نپٹنے کاکوئی بندوبست نہیں کیا ۔ یہ طالبان نہیں ہیں بلکہ طالبان سے دس گناہ خطرناک لوگ ہیں او ر ان کے نزدیک ہم تمام پاکستانی واجب القتل ہیں ۔

بوکو حرام کی کارروائیوں کی جھلک دیکھ کر انسان لرز اٹھتا ہے ۔ اسی طرح داعش جس طرح قتل عام کرتی ہے، اس سےبھی لرزہ طاری ہوجاتا ہے ۔ عالمی نیٹ ورک کی حامل اس تنظیم کو پاکستانی نوجوانوں کے ذہن متاثر کرنے کےلئے کسی مدرسے سےبڑا ہتھیار ہے۔ یورپ سے لڑکیاں ان داعشیوں کے ساتھ نکاح کےلئے شام اور عراق کا خطرناک سفر طے کرتی ہیں۔ یورپ کی آزاد زندگی ان کو روک نہیں سکتی ۔ یہ وہ حالات ہیں جن کا فکری انداز میں مقابلہ کیاجانا ضروری ہے۔ سچ یہ ہے کہ ان کے فکری توڑ کےلئے کوئی کام نہیں ہوا۔ ادارہ منہاج القرآن نے کچھ کام کیا لیکن ڈاکٹر طاہر القادری دھرنا سیاست اور ایسے اُلجھے کہ پورا سال ضائع ہوگیا ۔ شیخ الاسلام نے چھ سو صفحات پر مشتمل ایک فتویٰ تحریرکیا تھاجس میں امن کاایک مکمل نصاب بھی دیا گیا تھا ۔ کاش کہ اس نصاب کو ہر یونیورسٹی کالج اور اسکول میں متعارف کروا یا جاتا ۔

اسے پاکستانی قوم کی خوش قسمتی کہیے کہ ڈاکٹر صاحب نے ہمت کر کے دوبارہ سے اس کام کو آگے بڑھانے کا اعلان کردیا ہے۔ڈاکٹر صاحب کے قریبی رفیق کار اور شعلہ بیان مقرر جناب عمر ریاض عباسی نے گزشتہ روز مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے انتیس جولائی کو ‘‘دہشت گردی کے خلاف امن کے اسلامی نصاب ’’ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ قبلہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی سیاست سے اختلاف کیاجاسکتاہے لیکن ان کی قومی سو چ اور دینی فکر قابل غور ہوتا ہے۔ امن کے لئے اس نظریاتی پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن کا خواہاں ہے۔ مسلم امت کو بغیر کسی تیاری کے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں جھونک دیا گیا ہے جس کا انجام مسلمانوں کےلئے تباہی لارہاہے۔ امت مسلم کو اس عذاب سےنجات دلانے کے لئے ڈاکٹر صاحب کے اس صالح عمل میں ہماری قلمی کاوشیں حاضر رہیں گی ۔ کیونکہ قرآن پاک کا حکم ہے : ‘‘ نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو ’’۔

31 جولائی، 2015 بشکریہ : روز نامہ آزادی ، پاکستان

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-murtaza-mughal/shaikh-ul-islam-s-peace-curriculum--‘شیخ-الاسلام-کا‘امن-نصاب/d/104113

 

Loading..

Loading..