New Age Islam
Fri Apr 16 2021, 11:05 PM

Urdu Section ( 21 March 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Do Politicians Forget Mewat When They Talk of Martyrs? شہیدوں پر سیاست کرنے والوں کو میوات کیوں نظر نہیں آتا؟

 

 

 

ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی

22 مارچ، 2016

قومی راجدھانی دہلی سے تقریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہریانہ کے علاقہ میوات کی سنہری تاریخ، شہادتوں کے قصے، میواتوں کے کارنامے اور عہد حاضر میں ان کی بے قدری او ربے وقتی کی داستان سن کر نہ جانے کیوں بار بار دل کررہا تھا کہ کم از کم ایک مرتبہ ضرور میوات کا دورہ کیا جانا چاہئے ۔ میوات مسلم اکثریت علاقہ ہے جہاں کے لوگ آج بھی اپنی تہذیب اور دیرینہ روایات کے ساتھ جیتے ہیں ۔ میں شکر گزار ہوں ای ٹی وی اردو کے نیشنل بیوروچیف جناب خورشید ربانی کا جنہوں نے مجھے میوات جانے کا موقع فراہم کرایا۔ میوات میں گزشتہ 15 مارچ کو شہید راجا حسن خاں میواتی کے 489 ویں یو م شہادت کے موقع پر نواب شمس الدین پارک فیروز پور جھرکا میوات میں ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں شرکت کے لئے خورشید ربانی کی جانب سے مجھے خصوصی طور پر دعوت دی گئی تھی ۔ اس جلسہ میں بطو ر مہمان خصوصی رکن پارلیمنٹ محمد ادیب اور آل انڈیا تنظیم انصاف کے جنرل سکریٹری عمیق جامعی کو بھی مدعو کیا گیا تھا ۔ شہید راجا حسن خاں میواتی کا نام بہت سنتا تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کی قیادت میں 1527ء کو 12 ہزار جوانوں نے ملک کےلئے جنگ کرتےہوئے شہادت دی ہے۔

 دراصل بات صرف یہ نہیں ہے کہ راجا حسن خاں میواتی نے اتنے جوانوں کے ساتھ شہادت دی بلکہ بات یہ ہے کہ ملک پر حملہ کرنے والے مغل بادشاہ بابر کے خلاف اور رانا سانگھا کی حمایت میں جنگ کی تھی ۔ 1526ء میں پانی پت کی جنگ فتح کرنے کے بعد جہاں ایک طرف بابر کے حوصلے بلند تھے وہیں دوسری جانب رانا سانگھا کی فوج کے حوصلے پست ہورہے تھے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بابر کو معلوم ہوا کہ رانا سانگھا کی فوج میں راجا حسن خاں میواتی ایک طاقتور سپاہ سالار ہے تو بابر نے راجا حسن خاں کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ آنے کی دعوت دی کہ ہم تو دینی بھائی ہیں اس لئے تم کو ہمارے ساتھ آنا چاہئے۔ یہ بہت اچھا موقع تھا کہ راجا حسن خاں میواتی بابر کے ساتھ چلے جاتے اور حکومت کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ بابر کو جواب دیا کہ ہم دینی بھائی بعد میں ہیں پہلے ہم تو قومی بھائی ہیں ، پہلے حب الوطن ہیں، پہلے بردران وطن ہیں ۔ تھوڑی دیر کےلیے مجھے بہت فخر ہوا کہ جو لوگ ملک کے مسلمانوں سےحب الوطنی کا ثبوت مانگتے ہیں کم از کم انہیں راجا حسن خاں میواتی کی تاریخ ضرور پڑھنی چاہئے ۔ ممکن ہے کہ کچھ مسلم بھائیوں کو یہ بات بری لگ رہی ہو کہ راجا خاں میواتی بابر کے خلاف کیوں لڑے، لیکن یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے کہ کرگل میں اللہ اکبر کے نعرے کےساتھ مسلم فوجی دستے نے پاکستان کے خلاف جنگ کی اور جنگ جیتی بھی ۔ یہ بالکل ایسی بات ہے کہ جیسے ویر عبدالحمید نے پاکستان کی فوج میں داخل ہوکر ایک ساتھ 12 ٹینکر تباہ کردیے او رہندوستان کو فتح نصیب ہوئی ۔

اس قسم کی نہ جانے کتنی مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔ ہریانہ میں گزشتہ دنوں جاٹ ریزرویشن کے نام پر جو تحریک چلائی گئی اور تحریک کے نام پر جولوٹ پاٹ ، توڑ پھوڑ ، اجتماعی آبروریزی ، قتل و غارتگری ہوئی ہے اس نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا تھا ۔ آپ سب کو معلوم ہے کہ دو دن میں 40 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ جس ملک میں 50 کروڑ لوگ آج بھی خط افلاس کےنیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہوں، وہاں دو دن میں یوں ہی 40 ہزار کروڑ روپے تباہ کردیئے جائیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ملک میں لا اینڈ آرڈر کی کیا صورت ہے؟ اچھے دنوں کا وعدہ کرنے والی بی جے پی کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟ کیا ہریانہ حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز ہے؟ کیا وزیر اعلیٰ کھٹر کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفیٰ نہیں ہونا چاہئے؟ لیکن جب بےشرمی شباب پر ہواور اخلاق کاخون ہو جائے تو پھر یہی ہوتا ہے جو ہریانہ میں ہورہا ہے۔ معمولی سے احتجاجی مظاہرے میں اتر پردیش کی پولیس نے ڈاسنہ میں 7 مسلم نوجوانوں کے سینوں پر گولیاں ماری تھیں ، لیکن ہریانہ میں ننگا ناچ ہوتا رہا، ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو فسادی گھسیٹ گھسیٹ کھیتوں میں لے گئے اور اجتماعی آبروریزی کی ، لیکن پولیس اور ملٹری فورس خاموش تماشائی بنے رہے ، کیونکہ انہیں اوپر سے آرڈر نہیں تھا۔ خیر راقم الحروف محمد ادیب اور عمیق جامعی کے ساتھ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے میوات کی طرف بڑھ رہا تھا۔

عمیق جامعی ان دنوں کافی سرخیوں میں ہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ جب جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کو غدار وطن کے الزام میں گرفتار کرکے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا جارہا تھا کہ عمیق جامعی بھی کورٹ پہنچے تھے، تاکہ حکومت کی زیادتیوں کے خلاف نعرے بازی کی جائے اور اپنا احتجاج درج کرایا جائے۔ یہ بے چارے ہندوستان زندہ باد ، فرقہ پرستی مردہ باد کے نعرے لگارہے تھے لیکن نام نہاد حب الوطنی میں اندھے ہوچکے بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کو یہ سنائی دیا کہ عمیق جامعی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں ، لہٰذا وہ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کے ساتھ کچھ نام نہاد لیڈر اس غریب پر حملہ آور ہوگئے ۔ پھر کیا تھا موقع پر موجود میڈیا نے اس معاملے کو اٹھا لیا اور اٹھا یا اس لئے بھی کہ خود میڈیا پر نام نہاد دیش بھگتوں نے حملہ کردیا تھا ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عمیق جامعی اس واقعہ سےکافی سرخیوں میں تھے۔ چنانچہ میوات پہنچنے پر عمیق جامعی کابطور خاص زور دار استقبال ہوا تھا ۔ میوات میں داخل ہوتے ہی یہاں کی سنہری تاریخ کے ساتھ خستہ حالی کی تصویر ابھر رہی تھی ۔ میوات کے سلسلہ میں راقم الحروف نے پہلے بھی کئی اسٹوریاں قلم بند کی ہیں لیکن میوات جانے کے بعد وہاں کی جو تصویر نظر آئی اس نے دل میں درد پیدا کردیا، ذہن کو جھنجھوڑ دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس مقام کی سنہری تاریخ ہو وہاں کی تصویر اتنی بد صورت کیوں ہے؟ میوات وکاس سبھا کی جانب سے منعقدہ جلسے میں جو مطالبات کیے گئے تھے ان کے ذکر سے اندازہ ہوجائے گا کہ یہاں کی صورت حال کیا ہے۔ میوات کے علاقہ کی سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں ۔

 اس علاقہ میں تمام تر وعدوں کے باوجود آج ریلوے لائن نہیں بچھائی گئی ۔ یہاں اب تک کوئی یونیورسٹی قائم نہیں ہوسکی۔ یہاں آج بھی اچھے کالج کا فقدان ہے ۔ میوات کے کسان و مزدور کی حالت دلتوں سےبھی بد تر ہے۔ یہاں کے لوگوں کا درد ہے کہ وعدہ کرنے کے باوجود میوات میں کوئی ترقیاتی کام ایمانداری سےنہیں کیے جاتے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ مسلم اکثریت علاقہ ہے۔ یہ بہت اچھا موقع ہے کہ میں ایک اور واقعہ کا ذکر کرتا چلوں۔ میوات کی ہی رہنے والی مارشل آرٹس چمپئن محترمہ رضیہ خان ہے۔ ابھی حال ہی میں اس نے ایران کو شکست دیکر گولڈ میڈل حاصل کیا ہے اور اس قسم کے نہ جانے کتنے ایوارڈ حاصل کر چکی ہے، لیکن اس پر ہریانہ او ر مرکزی حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس اور بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگانے والی بی جے پی حکومت کو شاید رضیہ نظر نہیں آرہی ۔ ہریانہ میں جب کانگریس کی حکومت تھی اس وقت بھی اس کھلاڑی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی او راس سے وعدہ کرنے کے باوجود کانگریس حکومت نے اسے سرکاری نوکری تک نہیں دی تھی جس کے سبب وہ اس فکر میں رہتی ہے اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس خاتون کھلاڑی کو آج تک حکومت کی طرف سے نہ تو کوئی کوچ فراہم کرایا گیا اور نہ ہی اسٹیڈیم دیا گیا۔ یہ زیادتی اور تعصب کیوں ہے؟ کیا اس کے ساتھ اس لیے یہ تعصب برتا جارہا ہے کہ وہ ایک مسلم کھلاڑی ہے ؟ یا پھر اس لیے کہ وہ ایک غریب گھرانے سےتعلق رکھتی ہے ؟ رضیہ خان کے حوصلے بلند ہیں اور اس نے عہد کررکھا ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن اپنی محنت سےہریانہ اور میوات کانام روشن کرے گی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میواتیوں میں آج بھی وہ جذبہ اور وہ جنون باقی ہے جو راجا حسن خاں میواتی کےدور میں تھا، سب کچھ بدل گیا، لیکن میوات نہیں بدلا ، میوات کی تہذیب نہیں بدلی، یہاں کے لوگ نہیں بدلے ۔ وہی پرانے انداز کا لباس ، 6 میٹر لمبی دھوتی کی پگڑی ، ہاتھ میں چھڑی ، دروازے پر حقہ اور رہن سہن سب کچھ منفرد ۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ان کو وقت کے لحاظ سےکوئی سہولت فراہم نہ کرائی جائے؟ انہیں دور جدید کی سہولیات سےمحروم رکھا جائے؟ یہ نہایت افسوس کامقام ہے۔ میں شہیدوں پر سیاست کرنے والی حکومت اور پارٹیوں سےکہوں گا کہ وہ ضرور میوات پر توجہ دیں و رنہ یہی سمجھا جائے گا کہ ویہ بھی محض جملے بازی ہے اس کے سوائے کچھ بھی نہیں ۔

22 مارچ ، 2016 بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-mumtaz-alam-rizvi/why-do-politicians-forget-mewat-when-they-talk-of-martyrs?--شہیدوں-پر-سیاست-کرنے-والوں-کو-میوات-کیوں-نظر-نہیں-آتا؟/d/106727

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..