New Age Islam
Wed Oct 20 2021, 04:03 PM

Urdu Section ( 16 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Indian Journalism and Bihar Newspapers In 1857 میں ہندوستانی صحافت اور بہار کے اخبارات1857

ڈاکٹر محمد ذاکر حسین

16 ستمبر،2021

ہندستان میں صحافت کا جنم ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرنے ، سچ کے قیام اور پریس کی آزادی کی جنگ کے ساتھ ہوااوربلا شبہ اس کا سہرا جیمس آگاسٹ ہکی کے سر جاتا ہے۔ ہکی نے نہ صرف ہندستان میں صحافت کی بنیاد رکھی بلکہ ظلم و ناانصافی، جبر و استحصال کے خلاف بے باک، بے خوف اور بے لاگ صحافت کا آغاز بھی کیا۔ یہی اس کا بنیادی اصول بنا اور بعد کے صحافیوں نے ان اصولوں کا پورا پورا دھیان رکھا ۔ ہندستانی صحافت اپنی رفتار تیز کر ہی رہی تھی کہ ۱۸۵۷ء کی بغاوت نے دستک دے دی۔

اس پس منظر میں ہم سن ستاون کی ہندستانی صحافت کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اس کی گہرائی میں غیر ملکی حکومت کے خلاف نفرت و عداوت کے بھڑکتے ہوئے شعلے نظر آتے ہیں۔ لارڈ کیننگ نے واضح الفاظ میں اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ: ’’اس بات کو لوگ نہ تو جانتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں کہ بیتے کچھ دنوں سے دیسی اخبارات نے خبریں شائع کرنے کی آڑ میں ہندستانیوں کے دلوں میں بہادری کی حد تک بغاوت کے جذبات پیدا کر دیا ہے۔ یہ کام بڑی مستعدی، چالاکی اور عقلمندی کے ساتھ کیا گیا ہے‘‘۔  گارساں دتاسی نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ ان منحوس کارتوسوں کی تقسیم کے موقع پر ہندستانی اخبارات نے جو بے دلی اورنفرت پھیلانے میں پہلے ہی سے مستعد دِکھ رہے تھے، اپنی غیر محدود آزادی سے فائدہ اٹھایا اور ہندستانیوں کو کارتوسوں کو ہاتھ لگانے سے انکار کرنے پر آمادہ کیا اور یہ یقین دلایا کہ اس بہانے سے انگریز ہندستانیوں کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں‘‘۔ ان دونوں اقتباسات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انگریز جس طرح ہندستانیوں کو اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بنائے ہوئے تھے، اسی طرح ان کی ظالمانہ نگاہیں ہندستانی صحافت پر بھی لگی رہتی تھیں۔ یہی سبب ہے کہ 1857ء کی بغاوت پھیلتے ہی شمال مغربی علاقوں کے بیشتر اردو اخبار بند ہوگئے۔ 1853ء میں اردو اخبارات کی تعداد 35؍ تھی اور 1857ء آتے آتے صرف 12؍ اخبارات ہی رہ گئےتھے۔ ان میں سے کچھ قبل کے اخبار تھے اور کچھ نئے۔

اسی نازک ماحول میں ہندستان میں صحافت کے آغاز کے ۷۳؍ برس بعد 1853ء میں بہار میں صحافت کی ابتدا ہوئی اور اسی پرآشوب وقت میں ’نور الانوار‘، آرا (جولائی 1853ء)، ’پٹنہ ہرکارہ‘  (اپریل 1855ء)، ویکلی رپورٹ، گیا (مئی 1856ء) اور اخبار بہار ، پٹنہ ( ستمبر 1856ء) اپنے وجود کا احساس کراتے ہیں۔ نور الانوار کے مالک سید محمد ہاشم بلگرامی اور ایڈیٹر سید خورشید احمد تھے۔ اس اخبار کا ایک بھی شمارہ کسی لائبریری یا نجی ذخیرہ میں موجود نہیں ہے۔ ویکلی رپورٹ، گیا کے مالک منشی جے رام مختار تھے۔ اس کا بھی کوئی شمارہ دستیاب نہیں ہے۔ پٹنہ ہرکارہ کے مالک اور ایڈیٹر شاہ ابو تراب تھے اور اخبار بہار ، پٹنہ کے ایڈیٹر لالہ بندا پرساد حسرتی اور شاہ ولایت علی منتظم کار تھے۔ ان دونوں اخبارات کے شمارے خدا بخش لائبریری میں موجود ہیں۔ ڈاکٹر عابد رضا بیدار، سابق ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری کے عہد میں یہ دونوں اخبارات کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔ بہار کی سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کے ساتھ ساتھ یہاں کی اردو صحافت پر بھی ۱۸۵۷ء کی بغاوت کا گہرا اثر پڑا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ 1856ء سے 1858ء تک بہار سے اخبار بہار کے علاوہ ایک بھی اخبار نہیں نکل سکا۔ جولائی 1859ء میں عبد الجلیل اور سید شمس الدین کی کوششوں سے’عظیم الاخبار‘ نامی اخبار جاری ہوا۔ اس کے بعد اخبار جاری ہونے کا سلسلہ چل پڑا۔

1857ء کی عظیم بغاوت کے وقت بہار کی اردو صحافت کی عمر صرف تین چار برس ہی تھی اوروہ ابھی گھٹنوں کے بل چلنا سیکھ رہی تھی۔ ہندستانی صحافیوں نے تلخی اور بے باکی کے ساتھ حکومت پر طنز کی رفتار تیز کر دی تھی۔ اس معاملے میں دہلی، لکھنؤ اور کولکاتا کے اخبارات خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ حکومت کے وفادار انگریزی صحافیوں کو دیسی اخبارات کا یہ انداز پسند نہیں آیا اور انہوں نے سرکار سے شکایت کرنی شروع کردی۔ اس بارے میں صادق الاخبار، دہلی 20؍اپریل 1857ء کے شمارے میں لکھتا ہے ’’ انگریزی اخبارات نے لکھا ہے کہ ہندستانی اخباروں کو پریس کی آزادی نہیں دینی چاہئے کیونکہ یہ لوگ اس کی اہمیت نہیں جانتے اور کبھی ایسی آگ لگا دیتے ہیں کہ بجھائے نہیں بجھتی۔ اس لئے جس طرح اور باتوں میں انگریز اور ہندستانیوں کے لئے دو قانون ہیں، اسی طرح اس میں بھی چاہئے۔‘‘

1857ء کی بغاوت کے وقت صحافیوں کے دو گروپ سرگرم تھے۔ ایک گروپ باغی صحافیوں کا تھا۔ وہ انگریزوں کے کاموں اور ان کے ظلم و جبر اور استحصال کو اجاگر کرنا اور ان کے بُرے مقاصد سے عوام کو باخبر کرنا صحافی کی حیثیت سے اپنا فرض سمجھتے تھے اور اپنے موقف سے سمجھوتہ کرنا ان کے اصول کے خلاف تھا۔ اس کے برعکس دوسرا گروپ سرکار کا وفادار تھا۔ وہ اپنے اخباروں میں وہی خبریں پروستے تھے جو سرکار کے مفاد میں تھیں اور انگریزوں کے ظلم و استحصال پر پردہ ڈالنا ان کی زندگی کا خاص مقصد تھا۔ پٹنہ سے نکلنے والا’ اخبار بہار‘ اسی زمرہ میں آتا ہے۔ اس اخبار میں شائع کچھ خبروں کو ذیل میں نقل کیا جارہا ہے:

’’ایسی بغاوت پلٹنوں میں تو انگریزی سرکار کی ابتدا سے آج تک کبھی نہیں ہوئی۔ پتا نہیں اس بغاوت و فساد کا سبب کیا ہے۔‘‘

’’گورنمنٹ انڈیا سدا ہی دیگر مذاہب اور ذاتوں کا احترام کیا ہے اور نواب گورنر جنرل بہادر نے بھی سدا ہی اس کا دھیان رکھا ہے۔ گورنمنٹ آف انڈیا کا قطعی ایسا ارادہ نہیں ہے کہ کسی کے مذہب میں کچھ مداخلت کرے۔ اب تک کوئی بات سرکار کی جانب سے ایسی نہیں ہوئی ہے جس سے کسی کے مذہبی کاموں میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی ہو۔گورنمنٹ آف انڈیا  نے آج تک اپنے کسی شہری کے ساتھ دغا نہیں کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نواب گورنر جنرل بہادر حکم دیتے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس ایسی بے بنیاد اطلاعات پہنچا کرتی ہیں، ان لوگوں پر ضروری ہے کہ پہلے اس پر خوب غور کر لیں، اس کے بعد ہی اس خبر کو صحیح یا غلط سمجھے(19؍جولائی 1857ء)۔‘‘

’’ شہریوں کو چاہئے کہ بڑے اطمینان سے زندگی بسر کریں اور کسی قسم کے خوف و شبہ کا لحاظ نہ کریں۔اس وقت جب کہ باغی فساد برپا کرنے کے لئے اپنی تیاری کر رہے ہیں، سبھی شہری سرکار کی بھلائی و تعاون میں کوشاں رہیں۔ کیونکہ جلد ہی یہ بغاوت ختم ہوجائے گی۔ اس لئے اس شور شرابہ کے ختم ہوتے ہی جن لوگوں کی خیرخواہی سرکار کے تئیں ظاہر ہوگی وہ لوگ سرکار کی جانب سے تعریف کے حقدار ہوں گے اور سرکار میں ان کی عزت بڑھے گی۔‘‘

’’قارئین اگر غور سے دیکھیں تو ان پر ظاہر ہوسکتا ہے کہ سرکار کی جانب سے کسی قسم کا ظلم یا کسی کے مذہب میں مداخلت نہیں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ میری تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ عیسائی مذہب میں کسی شخص کو جبراً اپنے مذہب میں لانا بہت بڑا گناہ ہے۔ اس کے علاوہ جب کوئی شخص صدق دل سے اس مذہب کو اپنا لے۔ اس لئے واضح ہے کہ جو کچھ ہنگامہ ہوا وہ سپاہیوں کی نادانی کے سبب ہوا۔ ورنہ حقیقت میں کوئی بات نہیں۔‘‘

’’اور حقیقت میں ان بدذاتوں کا فساد و بغاوت لکھنے لائق بھی نہیں تھا۔ مگر اس فساد میں ایک آفیسر کی جان بیکار ضائع ہوگئی۔ اس لئے ضروری ہے کہ یہ واقعہ تفصیل سے لکھا جائے۔‘‘

مذکورہ بالا اقتباسات سے یہ واضح ہے کہ 1857ء میں بہار کی اردو صحافت کاروپ وہ نہیں تھا جو دہلی اردو اخبار ، صادق الاخبار اور دوسرے اخباروں کاتھا۔ بلاشبہ اس کا سبب ولیم ٹیلر کی جابرانہ پالیسی تھی۔ اس نے جہاں بہار کے لوگوں پر طرح طرح کی پابندیاں لگا رکھی تھیں، اخبارات بھی سخت پابندیوں کے گھیرے میں رکھے گئے تھے۔ اس کی مثال 1857 کا قانون15 ہے، جو اخبار بہار کے ۱۱؍جولائی 1857ء کے شمارہ میں شائع ہواتھا:

’’1۔ کوئی شخص بغیر اجازت نواب گورنر جنرل بہادر یا گورنمنٹ پریسیڈنسی کے چھاپہ خانہ نہیں جاری کرسکتا ہے۔

2۔ اور اگر بغیر اجازت جاری کرنا ثابت ہوا تو پانچ ہزار جرمانہ یا دو برس کی قید یا دونوں سزاؤں کا حقدار ہوگا اور چھاپہ خانہ کے سامان کو ضبط کر نواب گورنر جنرل کی اجازت سے فروخت کر دیا جائے گا۔

3۔لہذا جس شخص کی خواہش ہو، وہ صاحب مجسٹریٹ کی خدمت میں حلف نامہ کے ساتھ اپنی درخواست جمع کریں۔

4۔ مجسٹریٹ صاحب، نواب گورنر جنرل بہادر کے پاس بھیجیں گے اور وہ مناسب سمجھیں گے تو لائسنس عطا کریں گے اور ان کو اختیار ہوگا کہ جب چاہیں اس کو رد کر دیں۔

5۔اور جو شخص لائسنس کی شرطوں کے خلاف کام کرے گا وہ دفعہ ۲ کے تحت سزا کا حقدار ہوگا۔

6۔اخبار میں چھاپنے والے، اشتہار دینے والے اور جگہ کا نام، جہاں چھاپا جائے، واضح لفظوں میں درج ہوگا اور ایک اخبار ہمیشہ صاحب مجسٹریٹ بہادر کی خدمت میں بھیجا جائے گا۔ اگر ان شرائط پر عمل نہیں کیا گیا تو ایک ہزار کا جرمانہ ہوگا اور اگر جرمانہ ادا نہ ہوا تو چھ مہینے کی قید ہوگی۔

7۔اور اگر کوئی شخص منع کرنے کے بعد بھی اخبار جاری رکھے گا تو اس پر ایک ہزار روپیہ جرمانہ ہوگا یا دو برس قید یا دونوں سزا ہوگی۔

لہذا لائسنس کے اس قانون کے مطابق ضروری ہے کہ اخبار میں کوئی بات ایسی نہ لکھی جائے جس سے گورنمنٹ انڈیا یا انگلینڈ پر الزام عاید ہوتا ہو یا جس سے لوگوں کے دلوں میں ایسا بگاڑ پیدا ہوکہ وہ سرکار سے باغی ہو جائیں اور نہ کوئی بات ایسی لکھنی چاہئے کہ جس سے لوگوں کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ سرکار ہمارے مذہب میں مداخلت کررہی ہے اور نہ کوئی ایسی تحریر لکھنی چاہئے کہ جس سے سرکار اور ملک کے دوسرے حکمرانوں کے اتحاد میں کچھ فرق آجائے۔ اگر اس کے خلاف ہوگا تو وہ سزا کا حقدار ہوگا‘‘۔

ان شرائط کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انگریزی سرکار کے کاموں کی تنقید کیسے ہوتی؟ اگر کوئی ہمت بھی جٹاتا تو اخبار کا وجود ہی خطرے میں پڑجاتا؟اس کے باوجودملک کے طول و عرض میں بہت سے اصحاب لوح وقلم تھے جنھوں نے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اخبارات کی ضمانتیں ضبط کرائیں،جرمانے اداکیے،پریس ضبط کرائےاور طرح طرح کی اذیتیں جھیلیں لیکن مولوی محمدباقرپورے ہندوستان میں ایک تھے۔ان کی عظمتوں کو ہزارہا سلام ع این سعادت بزور بازو نیست۔

16 ستمبر، 2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/indian-journalism-bihar-newspapers-/d/125373

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..