New Age Islam
Tue Dec 09 2025, 04:45 AM

Urdu Section ( 18 Nov 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Dr. Muhammad Hamidullah’s Study of Religions ڈاکٹر محمد حمیداللہ کا مطالعہ ادیان

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

18 نومبر،2025

(غیر سامی ادیان کے تناظر میں)

ڈاکٹر محمد حمیداللہ ( 1908-2002) کی علمی وتحقیقی فتوحات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ انہوں نے قرآن و ترجمہ قرآن ، قفہ و اصول فقہ، حدیث و تخریج حدیث ، قانون بین الممالک  اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ کے  متنوع اور جدید جہات سے دنیائے علم و ادب کو واقف کرایا۔ یوں تو آپ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا اس کے تمام گوشوں اور نکات کو اجاگر کردیا۔ نیز آ پ کی تحریروں میں تشنگی کا شائبہ تک پیدا نہیں ہوتا ہے۔ البتہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آ پ کی جملہ تحقیقات اور علمی کاوشیں وقیع اور جامع ہیں۔ یہی وجہ ہیکہ آ پ کو مجدد سیرت جیسے القاب و آ داب سے اصحاب علم و فضل یاد کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ آ پ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آ پ متعدد زبانوں کے ماہر تھے۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی تصنیفات وتالیفات کئی زبانوں میں دستیاب ہیں۔ انگریزی ، عربی اور اردو کے علاوہ فرنچ، جرمن، اطالوی، ترکی  جیسی زبانوں پر بھی قدرت حاصل تھی۔ یہ ایک ایسا امتیاز ہے جو عموماً علماء کے یہاں نہیں پایا جاتا ہے۔ یہی شناخت اور آپ کا منفرد و جداگا نہ تحقیقی شعور آپ کے علمی رتبہ و فضل کو بڑھاتا ہے۔ سیرت پر آ پ کی معروف کتابیں ۔ محمد رسول اللہ،( یہ کتاب اصل فرنچ میں لکھی تھی لیکن اب اس کا اردو ترجمہ محمد رسول اللہ کے نام سے ہوگیا ہے)عہد نبوی کا نظام حکمرانی، عہد نبوی کے میدان جنگ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی، الوثائق السیاسیۃ  معروف و متداول ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر حمیداللہ نے قانون بین الممالک پر نہایت اہم کتاب تصنیف کی اور پہلی مرتبہ قانون بین الممالک جیسی اصطلاح سے دنیا کو متعارف کرایا۔ گویا آپ کی علمی و فکری جہات  کے شعبے گونا گوں ہیں۔ آ پ کی تحریروں کی خصوصیت یہ ہیکہ زبان سلیس، سادہ، استعمال کرتے ہیں۔ لیکن تحریریں قاری کے دل و دماغ کو پوری طرح متوجہ کر لیتی ہیں۔ کتاب و تحریر کا ہر ہر لفظ تحقیق و تفتیش سے مملو نظر آ تا ہے۔ جس موضوع کو اٹھا کر دیکھ لیجیے وہ اپنے آ پ میں ایک دستاویز و سند کی حیثیت رکھتاہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی تقابل ادیان خصوصا غیر سامی ادیان کے متعلق افکار کا مطالعہ مقصود ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ کی تحقیقات میں تقابل ادیان پر مستقل کوئی کتاب نہیں ہے۔ لیکن آ پ نے متعدد کتب میں تقابل ادیان کے متعلق جگہ جگہ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ مثلآ خطبات بھاول پور، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی، introduction of Islam , تراجم قرآن وغیرہ میں کچھ بحثیں ملتی ہیں۔ اسی طرح جن حضرات نے ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی سیرت و سوانح پر گفتگو کی ہے انہوں نے بھی ڈاکٹر حمیداللہ کے مطالعہ ادیان کے گوشے کو تشنہ چھوڑا ہے۔ اس پر ایک مضمون راقم کی نظر سے گزرا ہے۔" ڈاکٹر محمد حمیداللہ کا مطالعہ ادیان ومذاہب۔"

تقابل ادیان  کی طرف متوجہ ہونے کے اسباب

اگر آ پ کی کتب اور جملہ تحریروں کو بغور دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی تحریری کاوشوں میں تقابل ادیان پر بڑی مفید بحثیں ملتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ مطالعہ ادیان کی طرف آ پ کی توجہ کیسے مبذول ہوئی۔؟ اس بابت یہ کہنا صحیح ہے کہ ایک تو آ پ متعدد زبانوں کے ماہر تھے اس بناء پر دیگر تہذیبوں اور ان کا مذہبی ودینی لٹریچر نظر سے گزرا ہو گا اس لیے تقابل ادیان پر آ پ نے اپنی کتابوں میں اظہار خیال کیا ہے۔ اسی طرح آ پ مغربی تہذیب سے ایک زمانے تک وابستہ رہے۔ ان کی تہذیب ان کے عقائد و نظریات اور دین و مذہب کو جاننے کی کوشش کی۔ چنانچہ پروفیسر عبد القیوم قریشی نے خطبات بھاول پور کے تعارف میں ( واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب کی یہ کتاب 2001 میں ادارہ تحقیقات اسلامی ،اسلام آباد سے شائع ہوئی ہے۔ اسی پر پروفیسر موصوف نے انتہائی اہم تعارف لکھا ہے۔) ڈاکٹر حمیداللہ کی تقابل ادیان میں دلچسپیوں کے محرکات و اسباب پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے۔" ڈاکٹر صاحب السنہ شرقیہ یعنی اردو فارسی، عربی اور ترکی کے علاوہ انگریزی ، فرانسیسی، جرمن اطالوی وغیرہ زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے آ پ کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔

چنانچہ مختلف اقوام وادیان کے تاریخی اور تقابلی مطالعے کی بدولت آ پ کے مقالات اور تصانیف کا علمی و تحقیقی مرتبہ نہایت بلند ہے۔ تبلیغ اسلام کے سلسلے میں آ پ کو اسی لسانی مہارت سے بڑی مددملی۔ "(  خطبات بھاول پور صفحہ 15) ڈاکٹر  محمد عبداللہ اپنے ایک مقالے میں" ڈاکٹر محمد حمیداللہ  کا مطالعہ ادیان ومذاہب " میں تحریر کرتے ہیں۔ " مغرب کے مسیحی پس منظر کے پیش نظر ڈاکٹر محمد حمیداللہ اپنی تصنیفات کے ذریعے اسلام اور دیگر مذاھب بالخصوص مسیحیت کا تقابلی جائزہ پیش کرتے رہے۔ فرانس کے بعض اشاعتی اداروں نے مختلف دینیاتی و مذہبی مسائل پر ایسی کتب شائع کی ہیں جن میں مختلف مذاہب کے علماء کی تحریریں ہیں کہ جن میں مصنفین نے اپنے مذہب کا موقف پیش کیا ہے۔ شامل کی گئی ہیں ۔ محمد حمیداللہ ایسی متعدد کتب کے شریک مصنف ہیں ۔ ایسی ہی ایک کتاب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر شائع ہوئی ہے تین ابواب پر مشتمل اس کتاب کا ایک باب ڈاکٹر صاحب کے قلم سے نکلا ہے۔ جبکہ بقیہ دو ابواب یہودی اور عیسائی علماء کے ہیں۔ اس باب میں انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت ورسالت اور ان کی دعوت تعلیمات کو اسلامی ماخذ کی روشنی میں اجاگر کیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر صاحب اپنی علالت سے قبل مسیحی اور اسلامی ماخذ کی روشنی میں حضرت  عیسی علیہ السلام کے حالات بھی تصنیف کررہے تھے۔ نیز ڈاکٹر صاحب دعوت اسلام کے سلسلے میں دیگر مذاہب خصوصا مسیحیت کے تقابلی مطالعہ پر بڑا زور دیتے تھے۔ " اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر حمیداللہ  کےاندر تقابل ادیان  کے جو محرکات آ ئے  وہ ان کی مغربی تہذیب میں رہائش اور متعدد زبانوں کے ماہر ہونے کی وجہ سے۔ چونکہ راقم کو ڈاکٹر حمیداللہ کے غیر سامی ادیان کا مطالعہ پیش کرنا ہے۔

مذاہب عالم کے مصلحین

اگر ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی تحریروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے مطالعہ ادیان کے حوالے سے نہایت دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں ۔ چنانچہ وہ اپنی معروف کتاب " introduction of Islam"  (واضح رہے کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ سید خالد جاوید مشہدی نے کیا ہے۔ اور یہ لاہور سے 2013 میں شائع ہوچکا ہے۔)  میں مذاہب عالم کے مصلحین کے متعلق رقم طراز ہیں۔

" انسانی تاریخ میں ایسی شخصیات کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی زندگی اپنی قوموں کی سماجی اور مذہبی اصلاح کے لیے وقف کردی۔ ایسے افراد ہر دور اور ہر ملک میں موجود رہے ہیں۔ ہندوستان میں ویدوں کے تخلیق کار تھے وہاں گوتم بدھ بھی تھا۔ چین میں اس شخصیت کا نام کنفیوشس جبکہ ایران میں اویستا تھا۔ سر زمین بابل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کو جنم دیا جن کا شمار دنیا کے عظیم ترین مصلحین میں ہوتا ہے۔ اہل یہود اپنے پیغمبروں اور مصلحوں کی ایک طویل لڑی پر بجا طور پر نازاں ہیں ان میں موسی ، سیموئیل ، داؤ د ، سلیمان اور عیسی علیہ السلام کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں" ( اسلام کیاہے؟ صفحہ 17) البتہ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان انبیاء پر نازل ہونے والے صحیفے اور کتب پوری طرح مسخ ہوچکی ہیں ۔

ہندومت کی کتب

ڈاکٹر محمد حمید اللہ اپنی کتاب خطبات بہاولپور میں ہندومت کی کتب کے متعلق نہایت دلچسپ بات لکھتے ہیں:

" مجوسیوں کا مذہب زرتشت کی لائی ہوئی کتاب اوستا پر مبنی ہے۔ اوستا کے بارے میں کچھ معلومات ہیں۔ زرتشت کی کتاب اس وقت کی  ژند، زبان میں تھی کچھ عرصہ کے بعد ایران پر دوسری قوموں کا غلبہ ہوا اور نئے فاتحین کی زبان وہاں رائج ہوئی ۔ پرانی زبان متروک ہوگئی نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں مٹھی بھر عالم اور متخصصین کے سوا ژند زبان جاننے والا کوئی نہ رہا۔ اس لیے زرتشتی مذہب کے علماء نے نئی زبان پاژند میں اس کتاب کا خلاصہ اور شرح لکھی ۔ آ ج کل ہمارے پاس اس نسخے کا صرف دسواں حصہ موجود ہے۔  باقی غائب ہوچکا ہے۔ اس دسویں حصے میں بھی کچھ چیزیں عبادات کے متعلق ہیں اور کچھ دیگر احکام ہیں ۔ بہر حال دنیا کی ایک اہم کتاب کو اوستا کے نام سے جانتے ہیں لیکن وہ مکمل حالت میں ہم تک نہیں پہنچ سکی ۔( خطبات بھاول پور ،صفحہ 2)اس کے بعد ہندو مت کی کتب کے متعلق لکھتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی کچھ دینی کتابیں پائی جاتی ہیں اور ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ خدا کی طرف سے الہام شدہ ہیں ۔ ان مقدس کتابوں میں وید ، پران ، اپنشد اور دوسری کتابیں شامل ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سب کتابیں ایک ہی نبی پر نازل ہوئی ہیں ۔ ممکن ہے متعدد نبیوں پر نازل ہوئی ہوں۔ بشر طیکہ وہ نبی ہوں۔ ان میں خصوصاً پرا ن نامی کتابوں میں کچھ دلچسپ اشارے ملتے ہیں پران وہی لفظ ہے جو اردو میں پرانا قدیم ہے۔ اس کی طرف قرآن مجید میں ایک عجیب وغریب اشارہ ملتا ہے۔ وانہ لفی زبر الاولین۔  اس چیز کا پرانے لوگوں کی کتابوں میں ذکر ہے۔  میں نہیں جانتا کہ اس کا پران سے کوئی تعلق ہے یا نہیں ؟ بہر حال دس پران ہیں ان میں بھی آ خری نبی کے بارے میں پیشین گوئی موجود ہے" (ایضاً صفحہ 3)

شواہد کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر حمیداللہ نے ہندومت کا بڑی بارک بینی سے مطالعہ کیا تھا تبھی اس نتیجہ پر پہنچے ہیں۔ دوسری بات یہ ہیکہ ہندوؤں کا صرف ویدوں کے متعلق یہ دعویٰ ہے کہ وہ الہامی ہیں۔ بقیہ کتابوں پر ان کا اس طرح کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ کا یہ کہنا کہ ویدکے علاوہ اپنشد اور پران کے متعلق بھی ہندؤوں  کا دعویٰ الہامی ہونے کا ہے۔ میں سمجھتا ہوں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کا یہ درست خیال نہیں ہے۔ البتہ یہ ان کا اپنا نظریہ ہے۔ اس سےاختلاف کی پوری گنجائش ہے۔  ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے دیگر مذاھب کی کتب کے متعلق روادارانہ اور معتدل رویہ اپنایا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں۔ " اگر میں کسی یہودی یا کسی عیسائی کو یہ کہوں کہ تیرا مذہب جھوٹا ہے ، تیری نجات کا واحد ذریعہ یہ ہیکہ تو اسلام قبول کرے، تیرے پاس جو کتابیں ہیں وہ لغو اور جلادینے کے قابل ہیں ، تو اسے دکھ ہوگا اور غالباً وہ جوش غضب سے اس قدر مغلوب ہو جائے گا کہ اسلام کی حقانیت کے بارے میں میری کوئی بات سننے یا ماننے کے لئے تیار نہ ہوگا ۔ اس کے بر خلاف اگر اسے یہ کہوں کہ تمہارا دین بھی سچا ہے، تہمارے ہاں کی کتاب بھی سچی ہے، وہ اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی کتاب ہے اور وہی اللہ جس نے تمہیں یہ کتاب دی اس نے ایک آ خری کتاب بھی بھیجی ہے، تم اس کو پڑھو اور غور کرکے دیکھو کہ اس میں کیا بیان ہوا ہے، وہ نسبتاً زیادہ خوش دلی کے ساتھ پڑھنے اور غور کر نے کے لیے تیار ہوگا ۔ اسی طرح اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لانے کا جو حکم دیا گیا ہے، اس میں بھی وہی فراخ دلی، وسیع القلبی، تحمل رواداری کا پہلو نظر آ تاہے۔"( ایضاً صفحہ 161-162)یقینا موصوف کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ آ ج ہمارے رویہ میں اعتدال و میانہ روی سے زیادہ ترشی، تلخی اور مصلحت و موقع شناسی یکایک مفقود ہو چکی ہے۔ جبکہ وقت اور حالات کا تقاضا یہ ہیکہ ہم فراخ دلی اور وسیع القلبی کا عملی مظاہرہ کریں۔

ڈاکٹر حمید اللہ کے افکار کی افادیت

مذکورہ مباحث کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے مطالعہ ادیان کے حوالے سے جو معلومات فراہم کی ہیں ان میں اعتدال اور بلا کا توازن پایا جاتا ہے۔ یقینا ان سے قومی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے مذکورہ بالا افکار علمی نقطئہ نظر سے اہم ہیں،وہیں ان کی افادیت و معنویت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ غیر سامی ادیان پر حمیداللہ کی جو آ راء پیش کی گئی ہیں وہ اہل علم و فکر اور مطالعہ ادیان کے ماہرین کو کئی اعتبار سے غور و فکر کے پہلو فراہم کرتی ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ محمد حمیداللہ کے ان علمی نکات کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور معاشرے میں اس کی افادیت کو بیان کیا جائے۔ ہوسکتا ہے ان آ راء پر کسی کو اتفاق نہ ہو مگر علمی سنجیدگی اور روایت کو فروغ دینے کے لیے ایک بار پھر سنجیدہ بحث کرنے کی ضرورت ہے۔

-------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/dr.-muhammad-hamidullah-study-religions/d/137677

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..