New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 09:41 AM

Urdu Section ( 18 May 2015, NewAgeIslam.Com)

Terrorism: Critical Analysis of a Few Articles دہشت گردی چند مضامین کا تنقیدی جائزہ

 

 

 

 

 

 

 

 

ڈاکٹر محمد فاروق خان

ہمیشہ کی طرح ماہنامہ الشریعہ کے نومبر دسمبر کے شمارے میں بڑے اہم مضامین شائع ہوئے ہیں ۔ بالخصوص جناب محمد مشتاق احمد اسسٹنٹ پروفیسر اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور حافظ محمد زبیر ریسرچ ایسوسی ایٹ قرآن اکیڈمی لاہور کے مضامین انتہائی قیمتی اور غور و فکر کے مستحق ہیں ۔ لیکن ان دونوں مضامین پر صرف تبصرہ کرنے سے پہلے میں محترم رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کے انٹر ویو پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں جو صفحہ نمبر 5 پر شائع ہوا ہے ۔ مولانا خود کش حملوں کے بارے میں فرماتے ہیں : ‘‘ خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ استعمال کرتی آرہی ہیں ۔ یہ ہتھیارجاپانیوں نےبھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعمال کیا تھا اور 1965 ء کی جنگ نے پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محافظ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں  کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہو تو جائز ہے ، لیکن پرُامن ماحول میں اس کا استعمال ناجائز ہوگا ’’ مولانا کے اس نقطہ نظر سے مجھے بصد ادب احترام اختلاف ہے۔ حسن بن صباح کسی مظلوم گروہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ اسی طرح دوسرے جنگ عظیم میں جاپان بھی کوئی مظلوم قو م نہیں تھی ۔ جاپانیوں نے اپنے پائلٹوں کے ذریعے دشمن کے بحری جہازوں پر جو خود کش حملے کئے تھے ، اُس کااصل نقصان بدرجہ آخر جاپانیوں ہی کو پہنچا ۔ وہ اس طرح کہ اُن کے پاس پائلٹوں کی قلت ہوگئی اور یوں وہ اس اعتبار سے کمزور ہوکر رہ گئے ۔ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ برطانیہ نے بھی کبھی خود کش حملہ کیا ہو۔ جہاں تک 1965ء کی جنگ کا تعلق ہے، چونڈہ کے محاذ پر اُس وقت موجود جنگی کمانڈر اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی سپاہی کو خود کش حملے کا آرڈ ر دیا ہو۔ میرے نزدیک جس طرح حالت جنگ میں معصوم لوگوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا ممنوع ہے ، اسی طرح خود کش کے حملے بھی ممنوع ہیں ۔قرآن و حدیث نے اس ضمن میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا ۔ اگر کسی بھی معاملے میں خود کش حملوں کے جواز کا فتویٰ دیا جائے تو پھر یہ معاملہ کہیں پر بھی نہیں رُکے گا، بلکہ ہر گروہ اپنے آپ کو حالت جنگ میں تصور کر کے اپنے مخالف کے خلاف اس بدترین ہتھیار کا استعمال کرے گا۔ پاکستان کے اندر خود کش حملوں کے جاری رہنے میں ایک عامل علماء کی طرف سے اسی طرح کا استثنا دینا ہے ۔

مولانا نے مزید فرمایا کہ انہیں عسکریت پسندوں کے اس موقف سے اتفاق ہے کہ ملک بھر میں اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں شرعی نظام نافذ کیا جائے ۔مولانا کی یہ بات علی الا طلاق صحیح نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قانون بہت حد تک اسلام کے مطابق ہے۔ اصل مسئلہ جلد اور سستے انصاف کا ہے جو بہر حال اسلام کا نہیں بلکہ طریق کار کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ عسکریت پسند شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں ۔ آج تک کسی عسکریت پسند تنظیم نے عورتوں کے حق وراثت کے متعلق عملاً کچھ نہیں کہا یا کیا ۔ یہ سب تنظیمیں عورتوں کی تعلیم کی سخت مخالف ہیں ۔ ان کے خیال میں دین کے اُس حصے کو بھی لوگوں پر جبراً نافذ کرنا ضروری ہے جس حصے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک جبراً کسی نے نافذ نہیں کیا ۔ کیا عسکریت پسندوں کے اس فہم شریعت سےمولانا کو اتفاق ہے؟

مولانا نے یہ بھی کہا کہ ‘‘ امریکہ اسرائیل اور بھارت اس میں ملوث ہو کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ نیز بہت سے جرائم پیشہ لوگ بھی اپنی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اس تحریک میں شامل ہوگئے ہیں’’۔میرے خیال میں یہ دونوں باتیں صحیح نہیں ہے ۔ دراصل یہ بات عسکریت پسندوں کے جرائم کی پرد ہ پوشی کے لیے کی جارہی ہے ۔ قبائلی علاقوں میں عرب، اُزبک ، چیچن اور دوسری  قومیتوں کے حامل مسلح جنگجو تو یقیناً موجود ہیں لیکن بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک کی عملی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ۔ اس ضمن میں دیے جانے والے شواہد سطحی ہیں ۔ مثلاً یہ کہا جاتاہے کہ ایسے مسلح جنگجو بھی موجود ہے جن کا بعد از مرگ معائنہ کیا گیا تو وہ غیر مختون تھے ، اس کامطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بھارت سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس ضمن میں اصل حقیقت یہ ہے کہ وزیرستان میں آج سے 20 برس قبل ختنے کا رواج نہیں تھا ۔ آج بھی وہاں صرف  50فیصد بچوں کے ختنے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ یہ سب وہی لوگ ہیں نہ کہ بھارتی ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بھارتی سپاہی یہاں کی زبان پر مکمل عبور حاصل کرلے، اور پھر اپنا گھر بار چھوڑ کر ، صرف اور صرف بھارتی مفاد کی خاطر اپنے آپ کو خود کشی یا جنگ میں مرنے کے لیے پیش کردے ۔ یہ بھی واضح ہے کہ عسکریت پسند باقاعدہ اپنی زبان سے اسکولوں اور ہسپتالوں کو جلانے او رلوگوں کے قتل کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہیں، چنانچہ ان جرائم کو کیسے اور کے سر تھوپا جائے؟ البتہ یہ بات یقیناً صحیح ہے کہ جب ہم اپنے ہاتھوں حالات کو آخری حد تک بگاڑ دیتے ہیں تو دوسرے ممالک بھی اس گرم تندور میں اپنی روٹی پکانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔

مولانا نے یہ بھی کہا کہ ‘‘قبائلی علاقوں کامسئلہ فوجی آپریشن کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ’’ ۔ مذاکرات کی اہمیت سے بھلا کس کو انکار ہے، لیکن اگر مولانا کا مطلب یہ ہے ، جس طرح کہ کچھ مذہبی سیاسی لیڈر مطالبہ کررہے ہیں ، کہ ان علاقوں سے فوری طور پر فوج کو نکالا جائے، تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ چند ہفتوں کے اندر اندر سوات سمیت سارے قبائلی بیلٹ پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ہوجائے گا اور یو ں ایک نیا ملک وجود میں آجائے گا۔ کیا مولانا کی نظر اس ناگریز نیتجے پر ہے؟

اس کے بعد مجھے آداب القتال سے متعلق جناب مشتاق احمد صاحب کے مضمون کا جائزہ لینا ہے ۔ اس مضمون پر جناب مشتاق صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ یہ نہایت عرق ریزی اور وقت نظر سے تحریر کیا گیا ہے ۔اس مضمون میں صفحہ 46،145 پر امام سرخسی کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کسی ملک کےکچھ مسلح گرہ کسی دوسرے ملک میں کارروائی کریں لیکن انہیں حکومت نےباقاعدہ اجازت نہ دی ہو تو قانوناً پوزیشن یہ ہے کہ جب حکومت نے باوجود علم کے انہیں جانے دیا تو یہ اُس کی جانب سے خاموش تائید ہے جو صریح اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ ایسے مسلح گروہوں کی کارروائی جائز ہے’’پروفیسر مشتاق صاحب سرخسی کے اس تجزئے سےاتفاق کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کی روشنی میں جہادی تنظیموں کی صحیح حیثیت با آسانی متعین ہوجاتی ہے ۔ گویا اُن کے نزدیک پاکستانی سرزمین کو استعمال کر کے اگر کوئی گروہ دوسرے ممالک میں مسلح کاروائیاں کرتا ہے تو یہ جائز ہے کہ کیونکہ اسے حکومت کی خاموش تائید حاصل ہے ۔

اس راقم کے نزدیک یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے امام سرخسی نے جس وقت یہ بات تحریر کی تھی اُس وقت بین الاقوامی قانون آج کی طرح مدون نہیں ہوا تھا ۔ آج کے زمانے میں یہ بات ضروری ہے کہ ایک ملک اپنے شہریوں کی جانب سے کسی دوسرے ملک میں کی جانے والی مسلح کارروائی کی باقاعدہ ذمہ داری لے یا اُس سےانکار کرے ۔ اگر کوئی ملک علانیہ کہتا ہے کہ وہ دوسرے ملک کے ساتھ برسرِ جنگ نہیں ہے اور وہ اپنے کسی بھی مسلح گروہ کو دوسرے ملک میں فوجی کارروائی کے لئے نہ تو بھیج رہا ہے اور اس کی اجازت دے رہا ہے ، اور دوسری طرف یہی ملک عملاً یہ کام کررہا ہوتا ہے تو یہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ دھوکہ دہی ہے ۔ اسی ریاست کی طرف سے کسی دوسری ریاست میں صرف اُس وقت کوئی مسلح گروہ بھیجنے کا جواز موجود ہے جب دونوں ممالک کے درمیان امن کا معاہدہ نہ ہو، اور یہ ملک اپنے مسلح افراد کی پوری ذمہ داری قبول کرے۔ اگر اس کے برعکس کوئی مسلمان ریاست اعلان کرے کہ وہ نہ تو کسی مسلح گروہ کی سر پرستی کررہا ہے، نہ اُس کو سر حد پار کرنے کی اجازت دے رہاہے او رنہ ہی اُن کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہے تو اس صورت میں اسلامی تعلیمات کی رو سے اس حکومت کے پاس کسی دوسری حکومت کے خلاف اس طرح کی کارروائی جواز موجود نہیں ہے۔ اسی طرح کسی شہری کے پاس بھی کسی دوسرے ملک کے خلاف کسی کارروائی کا جواز موجود نہیں ہے۔

پروفیسر مشتاق صاحب نے 46،47 پر اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ ‘‘ اگر کبھی اسلامی ملک پر حملے کے نیتجے میں وہاں کی حکومت کا عملاً خاتمہ ہوجائے اور ابھی جنگ جاری ہو تو دفاع کا فریضہ ادا کرنے کے لیے اسی جگہ نظم حکومت قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلک مزاحمت کرنے والے آپس میں کسی کو امیر چُن کر اُس کی اطاعت کا اقرار کریں تو یہ حکومت کا بدل ہو جائے گا’’۔

میرے نزدیک اس نقطہ نظر پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ یہاں بھی اگر چند ایک چیزیں موجود ہوں تو جنگ جاری رکھی جاسکتی ہے ، ورنہ نہیں ۔ وہ شرائط یہ ہیں کہ ساری مزاحمتی قوت ایک لیڈر کے تحت منظّم ہو، ایک ایسا خطہ زمین موجود ہو جس میں مزاحمتی قوت امن و امان قائم کر سکے اور قانون کا نفاذ کرسکے، رائے عامہ اُس کی پشت پر ہو او رلڑائی جیتنے کی پوری طاقت موجود ہو۔ اگر ان میں سے ایک بھی شرط پوری نہ ہو تو مسلح مزاحمت صحیح نہیں۔ میرے نزدیک یہ سب شرائط قرآن و سنت میں موجود ہیں ۔ واضح رہے کہ مسلسل تجربے نے سب جنگی ماہرین کو بھی اسی نتیجے تک پہنچنے پر مجبور کردیا ہے۔

اپنے مضمون میں آگے صفحہ 56 پر پروفیسر مشتاق رقم طراز ہیں کہ اگر چار شرائط پوری کردی جائے تو اسلامی شریعت کی رو سے خود کش حملہ جائز ہے ۔ اگر چہ یہ چار شرائط ایسی ہیں کہ آج کا کوئی بھی خود کش حملہ ان پر پورا نہیں اترتا ۔ گویا ان چار شرائط کو مان کر بھی خود کش حملہ عملاً نا ممکن ہوجاتاہے ، تاہم میری عاجز انہ رائے میں اصل الاصول یہ ہے کہ خود کش کسی صورت میں بھی جائز نہیں ۔ قرآن و حدیث نےاس معاملے میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا اور عقلِ عام سے بھی اس ضمن میں کوئی استثنا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ گویا یہ طریقہ جنگ، اگر اسے کوئی طریقہ جنگ کہا جائے، تو مکمل طور پر ممنوع ہے۔

اب مجھے حافظ محمد زبیر صاحب کے مضمون پر تبصرہ کرنا ہے ۔ اس مضمون کے صفحہ نمبر 82پر ان کا موقف ہے کہ ‘‘ وزیر ستان کا جہاد ایک دفاعی جہاد تھا جو کہ حکومت پاکستان نے قبائیلوں پر مسلط کیا تھا ’’ ۔ میرے نزدیک یہ موقف نظر ثانی کا محتاج ہے۔ ریاست پاکستان کی آئینی ، سرکاری اور بیان کردہ پوزیشن یہ کہ پاکستان کے اندر کسی کو بھی مسلح تنظیم کھڑی کرنے کی اجازت نہیں ، پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ، کسی غیر ملکی باشندے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ قانونی طور پر اجازت نامہ لیے بغیر پاکستان کی سرزمین میں داخل ہو اور پاکستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرے ۔ یہ ریاست پاکستان کا وہ عہد نامہ ہے جو اُس نے بین الاقوامی طور پر کیاہے۔ اب اگر ریاست پاکستان خود اپنے عہد نامہ کی خلاف ورزی کرتی ہے تو یہ غلط ہے، اور اگر کوئی فرد یا کوئی گروہ اس غلطی میں حکومت پاکستان کا ساتھی بنتا ہے تو یہ بھی شریعت کی رو سے غلط ہے۔ دینی اعتبار سے وزیر ستان کے باشندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ریاست پاکستان کی بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی بسر کریں ۔ آئین کی رو سے پاکستانی فوج کو ملک کی سلامتی اور دفاع کے لئے قبائلی علاقوں میں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ یہ بھی واضح رہے کہ فوج نے کبھی بھی وہاں کے رسم و رواج میں کوئی مداخلت کی ۔ چنانچہ یہ کہنا کہ وزیر ستان کے لوگوں کو حکومت پاکستان کے خلاف دفاعی  جہاد کا حق تھا ( اور ہے، کیونکہ یہ لڑائی تو جاری ہے) ، صحیح موقف نہیں ہے۔

حافظ صاحب نے تحریک طالبان کے اس بیان کے حوالے سے کہ ‘‘ ہم پاکستان میں سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں نہیں کریں گے’’ ، اُن کی بہت تعریف و توصیف کی ہے ۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہ محض ایک بیان تھا جس پر ایک دن کے لیے بھی عمل نہیں ہوا۔ اسکولوں کو نذر آتش کرنا، سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنا اور باقی کاروائیاں بدستور جاری ہے ۔ پرواضح بات یہ ہے کہ ریاست پاکستان کے اندر رہنے والے کسی بھی انسان یا گروہ کو کسی بھی بہانے کو جواز بنا کر کسی علاقے پر قبضہ کرنے یا کسی مسلح کارروائی کی کوئی اجازت نہیں ۔

آگے صفحہ نمبر 83 پر حافظ صاحب نے یہ تجزیہ پیش کیا ہے کہ ‘‘ اس طالبان تحریک کو امریکہ  نے کھڑا کیا ہے’’ ۔ میرے نزدیک امریکہ نے عراق اور افغانستان میں بڑے مظالم کیے ہیں لیکن اس کا مطلب بھی نہیں کہ ہم اپنی ہر غلطی کو بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن ہوجائیں اور بلاوجہ امریکہ کو مطعون کرنے لگیں ۔ میرے نزدیک تحریک طالبان پاکستان  کا موقف اور طریقہ کار سراسر غلط ہے ، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس تحریک سے تعلق رکھنے والے تمام افراد انتہائی مخلص ، پرُ عزم او راپنے مقصد کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار رہنے والے لوگ ہیں ۔ یہ لوگوں کے ذہن و شعور سے اُٹھی ہوئی ایک اندرونی (Indigenous) تنظیم ہے ۔ ذہن سازی کا یہ عمل جنرل ضیاء الحق کے دور میں شروع ہوا تھا اور اس کو ابھی تک مسلسل پروان چڑھا یا جارہاہے ۔ ذہن سازی کا یہ عمل ہمارے ملک ہی کے بعض مذہبی اور سیاسی گروہ او ر ہمارے کچھ دوسرے ‘مہربان’ انجام دے رہے ہیں ۔

آگے صفحہ 85 پر حافظ صاحب رقم طراز ہیں کہ ‘‘ سیکورٹی فورسز کے جن اہلکار وں نے وزیرستان میں قبائیلیوں پر حملہ کیا ہے تو قبائیلیوں کے لیے اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانا اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنا جائز ہے’’۔یہ صورت حال کی انتہائی غلط تصویر ہے ۔ حملہ تو کسی دوسرے ملک پر کیا جاتا ہے ۔ قبائلی علاقے تو اس ملک کا ایک حصہ ہیں جہاں افواج کو نقل و حرکت کرنے کی مکمل آزادی ہے ۔ افواج پاکستان نے کبھی بھی   کسی عام قبائلی کے گھر بار پر قبضہ نہیں کیا ۔ انہوں نے صرف اُن جگہوں کی تلاشی  لینی چاہی جہاں رپورٹس کے مطابق غیر ملکی جنگجو بستے تھے اور یا ایسے مسلح گروہ موجود تھے جو عام لوگوں پر اپنی حکومت مسلط کررہے تھے اور یا پھر سرحد پار کر کے کاروائیاں کررہے تھے ۔ آخر اس میں کون ساعمل غلط ہے؟ میں پوچھتا ہوں آج اگر سیکورٹی فورسز لاہور یا پنڈی کے اندر کسی جگہ کامحاصرہ کرلیں او رلوگوں سے کہیں کہ ہم آپ کے گھروں کی تلاشی لینا چاہتے ہیں تو آپ لوگوں کو کیا مشورہ دیں گے؟ کیا آپ اُن کو یہ مشورہ دیں گے سیکورٹی فورسز سے لڑیں؟ کیا یہ مشورہ صحیح ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ اس کے برعکس آپ اُن کو یہ مشورہ دیں گے کہ پرُامن طور پر تلاشی دیں، اگر سیکورٹی فورسز کوئی زیادتی کریں تو اُس پر عملی طور پر صبر کریں اور پرُ امن احتجاج اور فریاد کا راستہ اختیار کریں۔ جو مشورہ ہمارے لیے صحیح ہے، وہی وزیرستان کے لوگوں کے لیےبھی صحیح ہے۔

آگے صفحہ 91 پر حافظ صاحب نے تحریر کیا ہے کہ ‘‘ ہم عراق میں ہونے والے قتال کے خلاف نہیں ’’۔ حقیقت یہ ہے کہ عراق جنگ کے متعلق بھی ہمارے ہاں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ۔ عراق پر امریکی حملہ صریحاً ایک جرم تھا ۔ وہاں کی صورت حال کو پرامن طو رپر بھی کنٹرول کیا جاسکتا تھا ۔ وہاں کی اب تک موجود سب قتل و غارت گری میں امریکہ پوری طرح ذمہ دار ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عراق کی 60 فیصد شیعہ آبادی کا غالب ترین حصہ عراق کی موجودہ حکومت کے ساتھ ہے ۔ 20 فیصد کُرد آبادی پوری طرح موجودہ حکومت کے ساتھ ہے۔ تلخ تجربات کے بعد اب اہل سنت کی ایک معقول تعداد بھی موجود حکومت کے ساتھ ہوگئی ہے ۔ عراق کے اندر 90 فیصد خود کش حملے امریکی افواج کے خلاف نہیں بلکہ اہل تشیع کے خلاف ہوئے ۔

آگے صفحہ 92 پر حافظ صاحب کا نقطہ نظر ہے کہ ‘‘ ہمارے  نزدیک کشمیر کا جہاد فرض ہے’’۔ آگے یہ بتاتے ہیں کہ یہ جہاد اصلاً پاکستانی افواج کی ذمہ داری ہے ۔ میرے نزدیک اُن کی دوسری بات صحیح ہے او رپہلی بات میں کچھ تفصیل کی گنجائش ہے ۔ اگر کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح اقدام کرنا پڑے تو یقیناً وہ اصلاً افواج پاکستان ہی کا فرض ہے ، تاہم موجودہ حالات میں مقبوضہ کشمیر کو بزور باز وآزاد کرنا ریاست پاکستان پر فرض نہیں ہے ۔ اُس کی پہلی وجہ یہ کہ سورہ انفال آیت 66 کے مطابق مظلوم مسلمانوں کے لیے جہاد صرف اُسی وقت فرض بنتا ہے جب دشمن ریاست کے طاقت دُگنے سے زیادہ نہ ہو اور عملاً جنگ کا نتیجہ ہمارے حق میں نکل سکتا ہو ۔ ہم جانتےہیں کہ بھارت کے پاس ہم سے کم از کم تین گنا زیادہ طاقت ہے ۔ اگر کبھی دونوں ریاستوں کے درمیان میں بھر پور جنگ چھڑ جائے تو پاکستان کے پاس صرف 40 دن کی لڑائی  کا سامان موجود ہے، جب بھارت کے پاس ایک سو دن کی لڑائی کا سامان موجود ہے۔ گویا  خواہی نخواہی 40 دن بعد ہمیں پہلے کی طرح ایک دفعہ پھر جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس لڑائی سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا اور پاکستان کی معیشت مکمل طور پر بیٹھ جائے گی ۔ دوسری وجہ یہ کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں جمہوریت سے فائدہ اٹھا کر مسلمان اپنے لیے بے شمار حقوق لے سکتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کشمیری مسلمان ایک جھنڈے تلے پوری طرح متحد ہوجائیں، جیسا کہ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کی سربراہی میں ہوا، اور جمہوری جدو جہد میں پر امن طور پر حصہ لیں تو وہ چند ہی برس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان سے بہتر مسلمان ریاست بنادیں گے ۔ اُس صورت میں مقبوضہ کشمیر کو اتنی داخلی خود مختاری بھی مل جائے گی جس کا ہمارے صوبے تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ تیسری تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر 1988ء سےپہلے مقبوضہ کشمیر کے اندر کچھ سیاسی قیدی تو ضرور موجود تھے لیکن بلحاظ مجموعی امن و سکون تھا ۔ جب وہاں عسکری جد وجہد شروع ہوئی تو اس کے نتیجے میں بھارتی افواج کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوا اور اُن کے مظالم بھی بڑھتے گئے ۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی تحریک آزادی صرف اُس وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب عوام ایک تنظیم اور ایک لیڈر تلے متحد ہوں ۔ ایسے اتحاد کے نیتجے میں عدم تشدد پر مبنی جد وجہد کو قدرت کی طرف سے بڑی برکت عطا کی جاتی ہے ۔ اور اگر یہ شرط پوری نہ ہو تو پھر کسی بھی قوم کو کسی بھی صورت میں آزادی نہیں مل سکتی ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے اندر 30سے زیادہ سیاسی تنظیمیں کام کررہی ہیں جن کے ہاں اصل جھگڑا قیادت کا ہے ۔ یہی حال وہاں کی عسکری تنظیموں کا ہے ۔ چنانچہ اس صورت میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

آگے صفحہ 99 پر حافظ صاحب لکھتے ہیں ‘‘ ہم اس کے قائل ہیں کہ ریاست کےبغیر بھی قتال ہوسکتا ہے بشرط یہ کہ اس سے دشمن کو کوئی بڑا نقصان پہنچ رہا ہو ’’۔ میرے نزدیک حافظ صاحب کا یہ نقطہ نظر صحیح نہیں ۔ کسی خطہ ارضی میں اجتماعی نظم قائم کیے بغیر قتال کا تصور ممکن نہیں ہے۔اگر ایسا قتال شروع کیا گیا تو یہ اپنے اندرونی حرکیات ( Dyanamics) کے تحت خود بخود ایک سے زیادہ امیروں کے ماتحت ہوجائے گا او راس کے نتیجے میں وہی فساد رونما ہوگا جس سے حافظ صاحب احتراز کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ریاست کے بغیر قتال کا حق تو اللہ نے اپنے کسی پیغمبر کوبھی نہیں دیا چہ جائیکہ کسی عام مسلمان کے لیے اس حق کو تسلیم کیا جائے ۔ اسی لیے بہت سے پیغمبروں کی پوری زندگی میں قتال کا مرحلہ کبھی نہیں آیا ۔ ایسی صورت میں صبر و حکمت سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ صبر کی تلقین قرآن مجید میں ایک سو سے زیادہ مرتبہ آئی ہے ۔

آگے صفحات 102،103 میں حافظ صاحب نے قتال کی غرض و غایت بیان کی ہے ۔ انہو ں نے سورہ بقرہ اور سورہ انفال کے حوالے سے یہ بات بالکل ٹھیک لکھی ہے کہ فتنے سے مرُاد وہ ظلم ہے جو اہل ایمان کے لیے آزمائش بن جائے ۔ تاہم اُن کی یہ بات کہ ‘‘ ریاست حکومت کے انتظامی اُمور میں مشرکین کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے اور قتال اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ تمام کافر و مشرک اُس دنیا وی نظام میں اللہ کے مطیع و فرمانبردار نہیں بن جاتے یعنی جب تک اللہ کے دین کا غلبہ تمام ادیان باطلہ پر نہیں ہوجاتا اُس وقت قتال جاری رہے گا’’ صحیح نہیں ۔ اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے حافظ صاحب نے سورہ توبہ کی آیات 29 اور 33 کا حوالہ دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی یہ بات بہت زیادہ نظرثانی کی محتاج ہے ۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو اس کا عملاً مطلب یہ ہے کہ اسلام دُہرے معیار پر یقین رکھتا ہے ۔ اپنے لیے تو وہ آزادی مانگتا ہے اور دوسروں کو آزادی اور اختیار کا حق دینے کےلئے تیار نہیں ۔ اس کا یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ جب تک دنیا میں کوئی ایک بھی غیر مسلم ریاست موجو دہے ، ہم عملاً حالت جنگ میں رہیں گے اور اُس وقت تک چین سےنہیں بیٹھیں گے جب تک پوری دنیا پر ہماری حکومت قائم نہیں ہوجاتی ۔ اس کا یہ بھی مطلب نکلتاہے کہ مسلمانوں کے نزدیک بنیادی انسانی حقوق، قومی حق خودار ادیت ، جمہوریت اور پرُامن بقائے باہمی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ مسلمان ان سب اصولوں کو محض وقتی طور پر باامر مجبوری صرف اس وجہ سے مانتے ہیں کہ ابھی اُن کے پاس غیر مسلم حکومتوں کو ختم کرنے کے لیے مطلوبہ طاقت نہیں ہے ۔ گویا اصل الاصول یہی ہے کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھیس ۔

اگر واقعتاً یہی ہمارےدین کا نقطہ نظر ہے تو پھر اگر دنیا کے تمام غیر مسلم اسلام کے وجود ہی کو اپنے لیے ایک حقیقی خطرہ تصور کریں اور مسلمانوں کو اپنی ہر حکومت کےلیے ایک امکانی اور واضح (Potential) دشمن سمجھیں تو کیا اُن کی یہ سوچ صحیح نہیں ہوگی ؟ چنانچہ اگر وہ یہ کہیں کہ مسلمانوں کا تو اصل مقصد ہی یہی ہے کہ اگر ان کو طاقت مل گئی تو یہ ہماری حکومتوں کی نیست و نابود کردیں گے ۔ چنانچہ اس سے پہلے کہ مسلمان مطلوبہ طاقت حاصل کریں ہمیں چاہیے کہ ہم ان کو دبا کر رکھیں ، محکوم بنا کر رکھیں اور ان کو ترقی نہ کرنے دیں ۔ اگر غیر مسلموں نے علی الاعلان یہ لائحہ عمل اختیار کرلیا تو ہم کس اخلاقی اصول کی بنیاد پر اُن کی دلیل کا جواب دے سکیں گے؟ گویا حافظ صاحب کا یہ نقطہ  نظر اسلام کی اخلاقی پوزیشن کی حد و درجہ کمزور کردیتا ہے ۔ اس سے اسلام ایک دعوتی دین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک جارح دین کی حیثیت سے سامنے آتا ہے ۔ اس نقطہ نظر کو اختیار کرنے کے بعد مسلمانوں کو کہیں بھی اپنی محکومیت کے خلاف اقوام عالم کے سامنے دُہائی دینے اور فریاد کا حق   نہیں پہنچتا  ، اس لیے کہ اُن کا اپنا ایجنڈا بھی تو ساری دنیا کو محکوم بنانے کا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر حافظ صاحب کے اس نقطہ نظر کو تسلیم کرلیا جائے تو قرآن مجید میں بین الاقوامی معاہدات پر پابندی کے جو احکام سورہ انفال آیت 72 میں دیئے گئے ہیں، یا یہ ہدایت جو سورہ نساء آیت 90 اور سورہ انفال آیات 61،62 میں بیان کی گئی ہے کہ دشمن کی صلح کی پیشکش قبول کی جائے، کے پھر کوئی معنی ہی نہیں رہتے ۔اسی طرح جو ہدایت سورہ ممتحنہ آیت 8 اور سورہ نساء آیت 90 میں دی گئی ہے کہ پرُامن اور غیر جانبدار گروہوں اور قوموں کے خلاف فوج کشی جائز نہیں ، بھی بالکل غیر متعلق ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح سورہ مائدہ آیت 8 کے بھی کوئی معنی نہیں رہتے جن میں تمام اقوام سے انصاف برتنے کی بات کی گئی ہے اور دشمن قوم کے معاملے میں بھی انصاف ہی کی تلقین کی گئی ہے ۔

اصل بات یہ ہے کہ سورہ توبہ میں اُس عذاب کے بارے میں حکم دیا گیا ہے جو ہر رسول کے دشمنوں پر اتمام حجت کے بعد ان کو اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے جیسا کہ قومِ نوح، قوم فرعون ، ثمود اور اسی طرح کےبہت سے اقوام کے معاملے میں ہوا ۔ چنانچہ اس سورہ میں سرزمین عرب کے باقی ماندہ  مشرکین کے لیے یہ اعلان کردیا گیا کہ ان کو مزید چار مہینے تک مہلت ہے ۔ اس مہلت کے دوران میں اُن کو اجازت تھی کہ وہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ اس کے بعد اپنی آزادانہ رائے سے یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر جنگ کے لیے تیار ہوجائیں اور یا پھر یہ علاقہ چھوڑ جائیں اس لیے کہ اس علاقے کو قیامت تک کے لئے توحید کا مرکز بننا ہے ۔ اسی سورہ میں سرزمین عرب کے یہود و نصاریٰ کے لیے یہ سزا رکھی گئی کہ وہ ایک شہری کی حیثیت سے یہاں رہ سکتےہیں مگر ریاست کے انتظام میں اُن کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ آگے چل کر اسی سورہ  میں اُس وقت کے منافقین کے لیے بھی سزا کااعلان کیا گیا ۔ گویا یہ دراصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف سے بحیثیت رسول کاتمام حجت کے بعد کی سزا ہے جس کا تعلق خالصتاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔ اب یہ تمام واقعہ ہمارے لیے قیامت تک رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔ جہاں تک عام مسلمان ریاستوں کا تعلق ہے، اُن کے لیے وہی سب قوانین ہیں جو قرآن مجید میں مختلف جگہوں پر بیان کیے گئے ہیں اور جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ۔ اُس میں بنیادی قانون یہ ہے کہ اگر کوئی جمہوری غیر مسلم ریاست کسی دوسری مسلمان ریاست کے خلاف معاندانہ کارروائی نہیں کرتی تو اُسے بھی دنیا میں اپنی مرضی کے مطابق زندہ رہنے کا حق ہے جیسا حق کسی مسلمان ریاست کو ہے ۔

پروفیسر مشتاق احمد اور حافظ محمد زبیر کے مضامین میں بہت قیمتی نکات موجود ہیں جن سے راقم الحروف کو اتفاق ہے۔ ان دونوں مضامین پر راقم اُن کی تحسین کرتا ہے ۔ درج بالا تبصرہ خالصتاً خیر خواہی کے جذبے سےکیا گیا تاکہ ان ایشوز کی مزید تنقیح ہو سکے ۔

بشکریہ : ماہنامہ الشریعہ

URL: http://newageislam.com/urdu-section/dr-muhammad-farooq/terrorism--critical-analysis-of-a-few-articles--دہشت-گردی-چند-مضامین-کا-تنقیدی-جائزہ/d/103036

 

Loading..

Loading..