New Age Islam
Thu Mar 05 2026, 06:48 AM

Urdu Section ( 5 Sept 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Question Islamists Must Ask Themselves: Why All Islamic Political Experiments Fail, Shia As Much As Sunni? ایک سوال جو اسلام پسندوں کو خود سے پوچھنا چاہیے: تمام اسلامی سیاسی تجربات کیوں ناکام ہیں؟

 ڈاکٹر محمد غطریف، نیو ایج اسلام

 28 دسمبر 2022

 دور جدید کا انسان اپنی انفرادی آزادیوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتا، اور جمود و تعطل کا شکار اسلامی فکر اسے یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں۔

 اہم نکات:

 -----

 1. ایک سیاسی نظریے والا اسلام اخلاقی، روحانی اسلام سے کم موثر ہے۔

 2. جرات مندانہ اور موثر اجتہاد کے بغیر، "اسلام ہی حل ہے" جیسے بلند و بانگ دعوے جدید دور میں کام نہیں آنے والے۔

 3. ایران کی نیم جمہوری تھیوکریسی نے عالم اسلام میں سب سے کم مذہبی معاشرہ پیدا کیا ہے۔

 -----

 ایران ایک بار پھر غلط وجوہات کی بنا پر عالمی سطح پر سرخیوں میں ہے۔ اپریل 1979 میں اپنے نام نہاد اسلامی انقلاب کے آغاز کے بعد سے ہی، جب شاہ مخالف مظاہرین نے ملک کی ظالم پولیس اور فوج کو زیر کیا اور شاہ کو معزول کیا، ایران مسلسل میڈیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

 انقلاب کے نتیجے میں آیت اللہ خمینی اور ان کے ولایت فقیہ کے نظریے کو ملک میں اقتدار حاصل ہوا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ تاہم، 30 سال سے زائد عرصے کے بعد، اب نصف آبادی (خواتین) سڑکوں پر نکل آئی ہیں، اپنے حجاب اتار رہی ہیں، انہیں پھاڑ رہی ہیں یا آگ میں جلا رہی ہیں، اور نعرے لگا رہی ہیں: "ہم آزادی چاہتے ہیں، "ہم بنیادی انسانی حقوق چاہتے ہیں۔ اب ہمیں پیچھے مڑ کر دیکھنا ہوگا کہ کیا غلط ہوا؟ عام لوگ، لڑکے، لڑکیاں، طالب علم اور خاص طور پر لڑکیاں اور خواتین، اتنے غصے میں کیوں ہیں؟

 اخلاقی پولیس کی حراست میں ایک باہمت اور فعال 22 سالہ کرد ایرانی خاتون مہسا امینی کے بہیمانہ قتل کے بعد، تہران اور ملک کے دیگر شہروں میں خواتین کے مظاہروں میں یکبارگی اضافہ دیکھنے کو ملا، جہاں ان کی انقلابی گارڈ اور اخلاقی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ ان کا نعرہ تھا "آمریت مردہ باد" اور "خواتین، زندگی، آزادی کے لیے"۔ گزشتہ تین مہینوں کے دوران ہونے والے یہ بڑے پیمانے پر احتجاجات اور ان کو دبانے کے لیے استعمال کی جانے والی تکنیک مجھے اسی طرح کے کئی واقعات کی یاد دلاتی ہے جن کے بارے میں آذر نفیسی نے اپنی معروف تصنیف "ریڈنگ لولیتا ان تہران" میں درج کیا ہے، جس کا مطالعہ میں نے کچھ عرصہ پہلے ہی کیا تھا۔ واضح رہے کہ ایرانی نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی کی کتاب "ان ٹل وی آر فری" پڑھتے ہوئے بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے عوام میں اس متعصب اور جابر مذہبی حکومت کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑک رہی ہے جو کسی بھی وقت شعلہ جوالہ بن کر پھٹ سکتی ہے۔

 عبادی، جو حکومت کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں خود اس آزمائش سے گزر چکے ہیں، انہوں نے اپنی کتاب میں لوگوں کے دکھوں کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔

 مزید برآں، اسلامی جمہوریہ حکومت سے اس شدید غم و غصہ، رنجش اور غصے کے علاوہ، خاص طور پر نوجوان نسل میں، ایک حیران کن اور انکشاف کرنے والا سروے سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی صرف 32 فیصد آبادی ہی بطور مذہب کے اسلام سے اور ریولیوشنری

 فورسز سے مطمئن ہے۔ "تمام ایرانیوں میں سے نصف کا کہنا ہے کہ ہم نے اسلام کو بطور مذہب کے چھوڑ دیا ہے، جب کہ دو تہائی کا خیال ہے کہ اسلامی قانون کو ان کے قانونی نظام سے خارج کر دینا چاہیے۔"

یہ بہت حیران کن ہے اور یقیناً کچھ لوگوں کے لیے چونکانے والا بھی ہوگا کہ ایران کی نیم جمہوریہ تھیوکریسی نے مسلم دنیا میں سب سے کم مذہبی معاشرہ پیدا کیا ہے، جیسا کہ جون 2020 میں Gamaan.org کے ایک سروے سے ظاہر ہوتا ہے۔ en.qantara.de/content/protests-in-iran-rethinking-sharia-and-democracy.

 اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے ایرانی اب کی نسبت میں زیادہ مذہبی تھے۔ یہ زیادہ حیرت کی بات ہے کہ انقلاب سے تین دہائیاں قبل، زیادہ تر نوجوان جو کہ ایرانی انقلاب کے پیچھے اصل آلہ کار تھے، آیت اللہ خمینی کے پیروکار تھے اور اسلامی انقلاب کے مرد و خواتین سپاہی تھے، انقلاب کے بعد اس کے برعکس ہو گئے۔ یہی وہ سپاہی تھے جنہوں نے رضاکارانہ طور پر عراق کے حملے کا مقابلہ کیا اور اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے آٹھ سال طویل ایران و عراق جنگ لڑی۔ تو اب ان کے بچوں کو اپنی ہی بنائی ہوئی اس انقلابی حکومت میں کیا خرابی دکھائی دینے لگی؟ اب اسی ایرانی معاشرے میں ایسا کیا ہو گیا کہ وہ اپنی حکومت اور اپنے مذہبی پیشواؤں سے سب سے زیادہ غیر مطمئن ہیں؟ اور ان کا اضطراب نہ صرف اسلامی جمہوریہ کے حوالے سے ہے بلکہ بہت سے معاملات میں خود اسلام کے حوالے سے وہ اضطراب کا شکار ہیں؟

 ایران شیعہ اسلام کی تجربہ گاہ ہے جہاں ان کے مذہبی اور سیاسی نظریات آزمائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی، سنی اسلام پسندوں کی طرح، وہ بھی بعض اوقات اقتدار کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مصر اور تیونس میں عرب بہاریہ کے نتیجے میں اخوان کو سیاسی اقتدار حاصل ہوا۔ تیونس میں اسلام پسند مفکر، شیخ رشید غنوچی نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے عصر حاضر کی مجبوریوں اور جدید زندگی کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی اتفاق رائے کے ساتھ ایک قومی سیکولر آئین کو اپنانے کو ترجیح دی۔ مزید برآں، اس عمل میں انہوں نے اپنی قوم کو افراتفری اور اختلاف و انتشار کا شکار ہونے سے بچا لیا، جو وہاں کے اسلام پسندوں اور لیفٹسٹ دھڑوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے پیدا ہو سکتے تھے۔ تاہم، مصر میں اخوان المسلمین اقتدار میں آگئی، اور ان کا لیڈر، صدر محمد مرسی اتنے عقلمند اور خوش قسمت نہیں تھے کہ وہ عوام کے غصے سے بچ سکتے، جب انہوں نے آئین میں ترمیم کر کے تمام سیاسی طاقت صدر مملکت کو عطا کرنے کی کوشش کی۔ مصری عوام جنہوں نے تیونس کے انقلاب کے نتیجے میں حسنی مبارک کی حکومت کا بہادری سے مقابلہ کیا اور بالآخر انہیں تخت سے ہٹا دیا وہ ایک بار پھر اخوان حکومت کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں قاہرہ کی سڑکوں پر نکل آئے۔ نتیجہ افسوسناک تھا، فوج نے مداخلت کی، اور مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اخوان پر پابندی لگا دی گئی، مرسی سمیت دیگر رہنماؤں کو قید کر دیا گیا، جس میں ان کی موت ہو گئی، اور ہزاروں بے گناہوں کو فوج نے بے دردی سے قتل کر دیا۔

طالبان نے ایک سال قبل کابل کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ شروع میں انہوں نے کچھ الگ دکھائی دینے کی کوشش کی، لیکن جونہی انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم اور ملازمت کے بنیادی حقوق سے محروم کیا، ان کا اصل چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔ کیونکہ دنیا نے ابھی تک انہیں تسلیم نہیں کیا ہے، اور وہاں خوراک اور طبی سہولیات اور ضروری اشیاء کی زبردست قلت ہے۔ اقوام متحدہ نے بارہا عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر جلد کچھ نہ کیا گیا تو افغانستان میں لاکھوں لوگ بھوک سے مر سکتے ہیں۔

 پاکستان جو کہ اس نعرے یعنی پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الااللہ، کے ساتھ معرض وجود میں آیا۔ اس کے باوجود اپنے وجود کے ستر سال سے زائد عرصے بعد بھی اسلام پسند قومی اسمبلی میں 5-4 سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں کر سکے۔ واضح ہے کہ پاکستان کی اکثریت اسلام پسندوں کے سیاسی ایجنڈے سے متفق نہیں ہے۔

 سیاسی اسلام کا ظہور 20ویں صدی کے آغاز میں اس دعوے کے ساتھ ہوا کہ سرمایہ داری، سوشلزم، کمیونزم وغیرہ دنیا کو کچھ نہیں دے سکتے۔ تمام انسانیت کے معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کا واحد حل صرف اسلام ہے۔ لہذا، اسے ہر جگہ نافذ کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ تاہم، مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جو سیاسی اسلام کے نظریہ سازوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، خاص طور پر مسلمانوں کے سامنے، جیسا کہ اسلام پسندوں کی حالیہ سیاسی ناکامیوں سے ظاہر ہے۔

 ایران، افغانستان، تیونس، مصر وغیرہ کی مثالیں دیتے ہوئے میں اسلامی تحریکوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج کے مسائل مختلف ہیں۔ علم کا صحیح استعمال مسلمانوں کے عالمی سطح پر تسلط کے لیے نہیں بلکہ عام انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ہونا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنی قیادت میں ایک نئے دور کا آغاز کریں۔ کیا صرف اسلام کو دنیا میں متعارف کروانا کافی نہیں؟

 امت کو اس بات پر کیوں گمراہ کیا جا رہا ہے کہ اگر مسلمانوں نے اپنے آنے والے اقتدار کے تصور کو حقائق سے مزین و مؤید نہ کیا تو ایک دن مسلمان ہی دنیا پر حکومت کریں گے؟ اگر کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو کیا یہ قدیم زمانے کی طرف واپسی ہوگی؟ میں پوچھتا ہوں کہ ہم نتائج کے بجائے طریقوں پر زیادہ توجہ کیوں دیتے ہیں۔ کیا افسوس کی بات نہیں کہ پوری امت میں ایک رجحان ہے۔

مسلمانوں سے بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے نہ سوچیں، کیونکہ ان کے پیش رووں نے سب کچھ سوچ لیا ہے؟ تو اب ہم ان کی آنکھوں سے دیکھیں گے اور ان کے دماغ سے سوچیں گے؟ یہ ماضی پر مبنی نقطہ نظر کافی مہلک ہے۔

 ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے تمام اسلامی کالجوں، اداروں اور مراکز میں ماضی کے علم پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور نئے علم کی تخلیق پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ میں حیران کیوں ہوں؟ کیا یہ اچھا نہیں کہ ہم صرف امت مسلمہ کے بجائے تمام لوگوں کا خیال کریں؟ اس وقت تک ہماری اس دنیا میں کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔

 ایسے اقتباسات اور حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں جن کی تشریحات ساتویں صدی کی ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ چودہ صدیوں کے بعد بھی اب تک ان کی اہمیت و افادیت برقرار ہے۔ مثال کے طور پر، مسلم معاشروں میں یہ فکر رائج ہے کہ مرد عورتوں پر حاکم ہیں اور عورتیں ان کی رعایا۔ اس کی دلیل الرجال قوامون على النساء (شوہر) اپنی بیویوں کے محافظ اور سرپرست ہیں (النساء: 43)، جیسی نصوص ہیں۔ حالانکہ ان کا ایک مخصوص پس منظر ہے۔

 آج کی دنیا میں تیز رفتار سائنسی ٹیکنالوجی اور تہذیبی ترقی نے عورت کا مکمل طور پر مرد کے کنٹرول میں رہنا ناممکن بنا دیا ہے۔ آج عورت ہر میدان میں آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اس کے جذبے کو دبایا نہیں جا سکتا۔

 موجودہ دور کے لوگوں کی نفسیات اور حالات کو سمجھنے کے لیے سیاسی، سماجی اور معاشی ہر سطح پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ آج کا انسان ایسا انسان ہے جو اپنی آزادیوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور جمود و تعطل کا شکار مسلم فکر اسے یہ آزادی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ لہٰذا، ایک نئے انسان دوست نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔

 جب تک یہ نہیں ہو جاتا اور ہم اپنی ماضی کی نظریاتی، قانونی اور فقہی میراث کا جائزہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے، ایک ناکام سیاسی تجربہ ہی ہمارا مقدر رہے گا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا، جیسا کہ گزشتہ دو ہزار سال کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے۔

 English Article: A Question Islamists Must Ask Themselves: Why All Islamic Political Experiments Fail, Shia As Much As Sunni?

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/islamists-islamic-political-experiments-siha-sunni/d/130605

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..