New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 11:50 AM

Urdu Section ( 22 May 2017, NewAgeIslam.Com)

A Thesis on Triple Talaq طلاق ثلاثہ کے تعلق سے ایک تحقیقی مقالہ

 

ڈاکٹر محمد عارف ندیم قاسمی

18مئی،2017

تین طلاق او را س کے احکام کی تفصیل: یہاں قرآن کریم کے اسلوب بیان پر غور کرنے سے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے کہ طلاق دینے کا اصل شرعی طریقہ یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ طلاق تک پہنچا جائے، تیسری طلاق کا نوبت پہنچانا مناسب نہیں ۔ الفاظ آیت الطَّلاق مَرّتٰن کے بعد تیسری طلاق کو حرف اِنّ کے ساتھ فَانُ طلَّقَھَا فرماتے ہیں ۔ اس کی طرف اشارہ موجود ہے،ورنہ سیدھی تعبیر اختیار کرنے میں واضح اشارہ ہے کہ تیسری طلاق تک پہنچنا نہیں چاہئے ، یہی وجہ ہے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ او ربہت سے فقہا ء نے تیسری طلاق کو جائز ہی نہیں رکھا ، وہ اس کو طلاق بدعت کہتے ہیں، اور دوسرے فقہا ء نے تیسری طلاق کو جائز ہی نہیں رکھا ، وہ اس کو طلاقِ بدعت کہتے ہیں ، اور دوسرے فقہاء نے تین طلاق کو صرف اس شرط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے کہ الگ الگ تین طہروں میں تین طلاقیں دی جائیں، ان فقہا ء کی اصطلاح میں اس کو بھی طلاق سنت کے لفظ سے تعبیر کردیا گیا ہے، مگر اس کا یہ مطلب کسی کے نزدیک نہیں ہے کہ اس طرح تین طلاقیں دینا مسنون او رمحبوب ہے،بلکہ طلاق بدعت میں داخل نہیں ۔ قرآن سنت کے ارشادات اور تعامل صحابہ رضی اللہ عنہ و تابعین سے عد د وطلاق کے متعلق جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب طلاق دینے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہے تو طلاق کا احسن طریقہ یہ ہے کہ صرف ایک طلاق حالت طہر میں دے دے جس میں مجامعت نہ کی ہو اوریہ ایک طلاق دے کر چھوڑ دے عدّت ختم ہونے کے ساتھ رشتہ نکاح پورے ہونے دیئے جائیں تاکہ عورت آزاد ہوجائے۔

قرآن کریم کے الفاظ مذکورہ سے اس کی بھی اجازت نکلتی ہے کہ دو طلاق تک دے دی جائیں مَرَّتٰنِ کے الفاظ میں اس طرف اشادہ فرما دیا گیا ہے کہ دو طلاق بیک لفظ و بیک وقت نہ ہوں بلکہ دو طہر وں میں الگ الگ ہوں، الطَّلاقَ طَلاقان سے بھی دو طلاق کی اجازت ثابت ہو سکتی تھی ، مگر مَرَّتٰن ایک ترتیب و تراخی کی طرف مشیر ہے، جس سے مستفاد ہونا ہے کہ دو طلاقیں ہو تو الگ الگ ہوں، مثال سے یوں سمجھئے کہ کوئی شخص کسی دو روپیہ ایک دفعہ دے دے تو اس کو دو مرتبہ دینا نہیں کہتے ، الفاظ قرآن میں دو مرتبہ دینے کا مقصد یہی ہے کہ الگ الگ طہر میں دو طلاق دی جائیں ۔ ( روح المعانی) بہر حال دو طلاقوں تک قرآن حکیم کے الفاظ سے ثابت ہے،اس لئے بالاتفاق ائمہ و فقہاء یہ طلاق سنت میں داخل ہے، یعنی بدعت نہیں ، تیسری طلاق کے غیر مستحسن ہونے کی طرف تو خود اسلوب قرآن میں واضح اشارہ پایا جاتا ہے، اس کے غیر مستحسن ہونے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ۔ اور حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد سے تیسری طلاق کا مبغوض و مکروہ ہونا ثابت ہوتا ہے، امام نسائی بروایت محمود بن لبید رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ : اخبر نا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن رجل طلق امراءۃ ثلاث تطلیقات جمیعا فقام غضباناً ثم قال ایلعب بکتاب اللہ و انابین اظہر کم حق قام رجل و قال یا رسول اللہ الا اقتلہ ( نسانی کتاب الطلاق ، صفحہ 98جلد 2) ترجمہ :رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی کے متعلق خبر دی گئی جس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جاتاہے، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا او رکہنے لگا اے اللہ کے رسول کیا میں قتل نہ کردوں ؟ اس حدیث کی اسناد کو حافظ ابن قیم نے صحیح اعلیٰ شرط مسلم قرار دیا ہے،( زادالمعاد) اور جو ہرنقی میں علامہ مارودی نے اس کی مستدرک کی صحیح اور ابن کثیر نے اسناد جتید، حجر رحمۃ اللہ علیہ نے روایۃ موثقین فرمایا ہے۔ اسی بناء پر حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور بعض دوسرے ائمہ نے تین طہروں میں تین طلاقوں کو اگرچہ طلاق سنت میں داخل کہہ کر طلاق بدعت سے نکال دیا ہے ، مگر اس کے غیر مستحسن ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ شریعت اسلام نے جو طلاق کے تین درجے تین طلاقوں کی صورت میں رکھے ہیں اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان تینوں درجوں کو عبور کرنا ضروری یا بہتر بلکہ منشا ء شریعت کا تو یہ ہے کہ اوّل تو طلاق پر اقدام ہی ایک مبغوض و مکروہ فعل ہے اور عدت گذر نے دیں ، تو عدت ختم ہوتے ہی یہی ایک رشتہ زوجیت قطع کرنے کیلئے کافی ہوجائے گی اور عورت آزاد ہوکر دوسرے شخص سے نکاح کرسکے گی، یہی طریقہ طلاق احسن کہلاتا ہے۔

اس طریقے میں یہ حکمت اور فائدہ بھی ہے کہ صریح الفاظ طلاق سے ایک طلاق دینے کی صورت میں طرفین کے لئے مصالحت کی راہیں کھلی رہیں گی عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے تو صرف طلاق سے رجوع کر لینابقاء نکاح کیلئے کافی ہوگا اور عدت ختم ہوجانے کے بعد اگر چہ نکاح ٹوٹ چکے گا اور عورت آزاد ہوجائے گی مگر پھر بھی یہ گنجائش باقی رہے گی کہ اگردونوں میں مصالحت ہوجائے او رباہم نکاح کرنا چاہیں تو نکاح جدید اسی وقت ہوسکتا ہے ۔ لیکن اگر کوئی شخص احسن کے طریقے پر اکتفاء نہ کرے ، دورانِ عدت میں مزید ایک طلاق صریح اور صاف لفظوں میں دے دے تو اس نے قطع نکاح کے دو درجے طے کئے جس کی ضرورت نہ تھی اور ایسا کرنا شرعاً پسندیدہ بھی نہ تھا مگر بہر حال دو درجے طے ہوگئے ، مگر ان دو درجوں کے طے ہوجانے تک بھی بات وہیں رہی، کہ دوران عدت میں رجعت کا اختیار باقی ہے، اور عدت ختم ہوجانے کے بعد بتراضی طرفین نکاح جدید ہوسکتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ دو طلاق تک پہنچنے میں شوہر نے اپنے اختیارات کی ایک کڑی اور توڑ ڈالی او راس سرحد پر پہنچ گیا کہ اگر ایک مرتبہ بھی طلاق دے دے تو معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔ جس شخص نے یہ دو درجے طلاق کے طے کرلئے اس کے لئے آگے یہ ہدایت دی گئی فا مساک بمعروف اوتشریح ط اس میں فامساک بمعروف کے معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔ دوسرے اس میں شوہر کو یہ ہدایت دی گئی کہ اگر اس کا ارادہ اصلاح حال اور صلح و صفائی کے ساتھ زندگی گذارنے کا ہے تب رجعت پر اقدام کرے ورنہ چھوڑ دے کہ عدت گزر کر تعلق زوجیت ختم ہوجائے ۔

ایسا نہ ہو کہ بغیر ارادہ اصلاح کے محض عورت کو پریشان کرنے کے لئے رجعت کرے، اس کے بالمقابل اوتسریحبا حسان فرمایا تشریح کے معنی کھول دینے اور چھوڑ دینے کے ہیں اس سے اشارہ کردیا کہ قطع تعلق کیلئے کسی مزید طلاق یا دوسرے کسی عمل کی ضرورت نہیں، بغیر رجعت کے عدت ختم ہوجانا ہی تعلقات زوجیت ختم کرنے کیلئے کافی ہے۔ امام حدیث ابو داؤد نے بروایت ابورزین اسدی نقل کیا ہے کہ آیت کے نزول پر ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ نے الطلاق مرتن فرمایا، تیسری طلاق کا یہاں کیوں ذکر نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اوتشریح با حسان جو بعد میں مذکور ہے وہی تیسری طلاق ہے، ( روح المعانی) مطلب اس کا جمہود علماء کے نزدیک یہ ہے کہ جو کام تعلقات زوجیت کے کلی انقطاع کا تیسری طلاق سے ہوتا وہی کام اس طرز عمل سے ہوجائے گا کہ عدت کے اندر رجعت نہ کرے، اور جس طرح امساک کے ساتھ بمعروف کی قید لگاکر یہ ہدایت فرمادی کہ رجعت کرکے بیوی کو روکا جائے تو حسنِ سلوک کے ساتھ روکا جائے۔ اسی طرح تشریح کے ساتھ باحسان کی قید لگا کر یہ ہدایت دے دی کہ طلاق ایک معاملہ کا فسخ ہے،شریف انسان کا کام یہ ہے کہ جس طرح معاملہ او رمعاہدہ خوش دلی اور حسن سلوک کے ساتھ کیا جاتاہے ، بلکہ وہ بھی احسان و سلوک کے ساتھ کریں ، کہ رخصت کے وقت مطلّقہ بیوی کو کچھ تحفہ ،کپڑے وغیر دے کر رخصت کریں، جس کا ذکر قرآن کریم کی دوسری آیت میں ہے و متعوھن علی المو سع قدرہ و علی المقترقدرہ : ترجمہ : یعنی مطلّقہ بیوی کو کچھ جوڑا کپڑے دے کر رخصت کریں مالی حیثیت کے مطابق ۔ اور اگر اس پر بھی ایسا نہ کیا بلکہ تیسری طلاق دے ڈالی تو اب اس نے اپنے سارے اختیارات شریعت کی دی ہوئی آسانیاں کو نظر انداز کرکے بلاوجہ اور بلا ضرورت ختم کردیے تو اب اس کی سزا یہ ہے کہ نہ رجعت ہوسکے اور نہ بغیر دوسری شادی کے آپس میں نکاح ہوسکے ۔

اگر کسی نے غیر مستحسن یا غیر مشروع طریقہ سے تین طلاق دے دی تواس کا اثر کیا ہوگا اس کا جواب عقلی اورعرفی طور پر تویہی ہے کہ کسی فعل کا جرم و گناہ ہونا اس کے مؤثر ہونے میں کہیں بھی مانع نہیں ہوتا، قتل ناحق جرم و گناہ ہے ، مگرجس کو گولی یا تلوار مار کر قتل کیا گیا وہ توقتل ہوہی جاتا ہے اس کی موت کا انتظار نہیں کرتی کہ یہ گولی جائز طریقہ سے ماری گئی یا ناجائز طریقہ سے ، چوری کرنا بالاتفاق مذاہب جرم و گناہ ہے مگر جو مال اس طرح غائب کردیا گیا وہ تو ہاتھ سے نکل ہی جاتا ہے اسی طرح تمام معاصی اور جرائم کا یہی حال ہے کہ ان کا جرم و گناہ ہونا ان کے مؤثر ہونے میں مانع نہیں ہوتا ، اس اصول کا مقتضیٰ یہی ہے کہ شریعت کی دی ہوئی آسانیو ں کو نظر انداز کرنا اور اب لاوجہ اپنے سارے اختیارات طلاق کو ختم کرکے تین طلاق تک پہنچنا اگرچہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا سبب ہواجیسا کے سابقہ روایت میں لکھا جا چکا ہے،اور اسی لئے جمہور امت کے نزدیک یہ فعل غیر مستحسن اور بعض کے نزدیک ناجائز ہے، مگر ان سب باتوں کے باوجود جب کسی نے ایسا اقدام کرلیا تو اس کا وہی اثر ہوناچاہئے جو جائز طلاق کا ہوتا ،یعنی طلاق واقع ہوجائیں، اور رجعت کا اختیار نہیں، نکاح جدید کا اختیار بھی سلب ہوجائے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ اس پر شاہد ہے کہ اظہار غضب کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں طلاقوں کو نافذ فرمایا، جس کیابہت سے واقعات کتب حدیث میں مذکور ہیں اور جن علماء نے اس مسئلہ پر مستقل کتابیں لکھی ہیں ان کو کع جمع کردیا ہے، حال میں مولانا ابو الزاہد محمد سرفراز صاحب کی کتاب عمدۃ الاثاث میں بھی اس مسئلہ پر مکمل شائع ہوگئی ، یہاں صرف دوتین حدیثیں نقل کی جاتی ہیں۔

محمود بن لبید کی روایت جو بحوالہ نسانی پر لکھی گئی ہے اس میں تین طلاقیں بیک وقت دینے پر انتہائی ناراض کااظہار تو منقول ہے، یہاں تک کہ بعض صحابہ نے اس شخص کو مستوجب قتل سمجھا ، مگر یہ کہیں منقول نہیں کہ آپ نے اس کی طلاق کو ایک رجعی قرار دے کر بیوی کے حوالے کردی ۔ بلکہ دوسری روایت جو آگے آتی ہے جس طرح اس میں اس کی تصریح موجود ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عویمر کی بیک وقت طلاق کو باوجود ناراضی کے نافذ فرمادیا اسی طرح مذکورہ حدیث محمود بن لیبد کے متعلق قاضی ابوبکر بن عربی نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عویمر کی تین طلاق کی طرح اس کی بھی تین طلاقوں کو نافذ فرما دیا تھا ان کے الفاظ یہ ہیں:فلم یرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بل امضاہ فی حدیث عویمر العجلانی فی العان حیث امضی طلاقہ الثلاث ولم یردہ ( تہذیب سنن ابی داؤد طبع مصر صفحہ 129جلد 13از عمدۃ الاثاث) ترجمہ: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رد نہیں کیا بلکہ اسے نافذ فرمادیا ، جیسا کہ عویمر عجلانی کی لعان والی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تین طلاق کو نافذ فرمادیا تھا اور رد نہیں کیا تھا۔ دوسری حدیث صدیقہ رضی اللہ عنہ کی صحیح بخاری میں بالفاظ ذیل ہے : ان رجلاّ طلق امرانتہ ثلاثا فتزوجیت فطلق فسنل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاوّل قال لا حتی یذوق عسیلتھا کما ذاقھا الاوّل ۔( صحیح بخاری ، صفحہ 791جلد 2صحیح مسلم صفحہ 463) ترجمہ : ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس سے ہمبستر ی کر کے لطف اندوز نہ ہوجائے جس طرح پہلے شوہر نے کیا تھا ، اس وقت تک طلاق دینے سے پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی۔ الفاظ روایت سے ظاہر یہی ہے کہ یہ تینوں طلاق بیک وقت دی گئی تھیں ،شرح حدیث فتح الباری عمدۃ القاری قسطلانی وغیرہ میں روایت کا مفہوم یہی قرار دیا گیا ہے کہ بیک وقت تین طلاق دی تھیں،اور حدیث میں یہ فیصلہ مذکورہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین طلاق کو نافذ قرار دے کر یہ حکم دیا کہ جب تک شوہر ثانی سے ہمبستری اور صحبت نہ ہوجائے، تو اس کے طلاق دینے سے شوہر اوّل کے لئے حلال نہیں ہوگی۔

تیسری روایت حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کی ہے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی سے لعان کیا ، اور اس کے بعد عرض کیا ۔ فلما فرغا قال عویمر کذبت علیھا یا رسول اللہ ان امسکتھا فطلقّھا ثلاثا قبل ان یا مرہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ( صحیح بخاری مع فتح الباری ص301جلد 9صحیح مسلم ص 289جلد 1)ترجمہ: پس جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوگئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کے رسول میں اس پر جھوٹ بولنے والا ہوں اگر میں نے اس کو اپنے پاس رکھ لیا تو عویمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تین طلاقیں دے دیں قبل اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے ۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کو بروایت حضرت سہل بن سعد نقل کرکے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : فانذہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکان ماصنع عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنۃ قال سعد حضرت ھٰذا عندرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فمضت السنۃ بعد فی المتلا عنین ان یفرق بینھما ثم لا یجتمعان ابدا ( ابو داؤد صفحہ 306طبع اصح المطابع) ترجمہ:تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ فرمادیا ، اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو کچھ بھی پیش آیا وہ سنت قرار پایا سعد فرماتے ہیں کہ اس موقع پر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا پس اس کے بعد لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ طریقہ رائج ہوگیا کہ ان کے درمیان تفریق کردی جائے او رپھر وہ کبھیبھی جمع نہ ہوں۔

اس حدیث میں پوری وضاحت کے ساتھ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عویمر رضی اللہ عنہ کی بیک وقت تین طلاق کوتین ہی قرار دے کر نافذ فرمایا ہے۔ او رمحمود بن لبید کی سابقہ روایت میں بھی ابوبکر ابن عربی کی روایت کے مطابق تین طلاقوں کو نافذ کرنے کا ذکر موجود ہے ، او ربالفرض یہ بھی ہوتا تو یہ کہیں منقول نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک طلاق رجعی قرار دے کر بیوی اس کے سپرد کردی، الحاصل، مذکورہ تینوں احادیث سے یہ ثابت ہوگیا کہ اگر چہ تین طلاق بیک وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سخت ناراضی کا موجب تھیں مگر بہر حال اثر ان کا یہی ہواکہ تینوں طلاقیں واقع قرار دی گئیں ، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا واقعہ او رمتعلقہ اشکال و جواب مذکورالصدر تحریر سے یہ ثابت ہواکہ بیک وقت تین طلاق کو تین قرار دینا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تھا، مگر یہاں ایک اشکال حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ایک واقعہ سے پیدا ہوتا ہے ، جو صحیح مسلم اوراکثر کتب حدیث میں منقول ہے اس کے الفاظ یہ ہیں، عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال کان الطاق علیٰ عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر و سنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب ان الناس قال استعجلوا فی امر کانت لھم فیہ اناۃ فلو امضینا علیھم فا مصاہ علیھم ۔ ترجمہ: حضرت ابن عباس سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں طلاق کا یہ طریقہ تھا کہ تین طلاقوں کو ایک قرار دیا جاتا تھا توحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ جلدی کرنے لگے ہیں، ایک ایسے معاملے میں جس میں ان کے لئے مہلت تھی تو مناسب رہے گا ہم اس کو ان پر نافذ کردیں تو آپ نے ان پر نافذ کردیا۔ ( صحیح مسلم صفحہ 477 جلد 1)فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ اعلان فقہاء صحابہ کے مشورہ سے صحابہ تابعین کے مجمع عام میں ہوا کسی سیاس پر انکار یا ترورّد منقول نہیں اسی کے حافظ حدیث امام عبدالبرمالکی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے، زرقانی شرح مؤطا ء میں یہ الفاظ ہیں : والجمہود علیٰ وقوع الثلاث بل حکیٰ ابن عبدالبرالاجماع قائلا ان خلافہ لا یلتنفت الیہ ( زرقانی شرح مؤطا ء صفحہ 167جلد 3)ترجمہ : اور جمہور امت تین طلاقوں کے واقع ہونے پر متفق ہیں، بلکہ ابن عبدالبر نے اس پر اجماع نقل کر کے فرمایا کہ اس کے خلاف شاذ ہے جس طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔ اور شیخ الاسلام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مسلم میں فرمایا : قال الشافعی و مالک وابوحنیفہ و احمد و جماھیر العما ء من السلف رالخلف یقع الثلاث وقال طاوئس و بعض اھل الظاہر لا یقع بذلک الا وحدہ ۔ ( شرح مسلم ص 478جلد 1)ترجمہ: امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، اور سلف و خلف کے جماہیر علماء نے فرمایا کہ تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہے اور طاؤس اور بعض اہل ظاہر نے کہا کہ اس سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح معافی الآثار میں فرمایا: فخاطب عمر رضی اللہ عنہ بذٰلک الناس جیغا و فیھم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ رضی اللہ عنھم الذین قد علموا ما تقدم من ذٰلک فی زمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلم ینکر علیہ منھم منکرولم ید فعہ دافع۔ ( شرح معانی الآثار صفحہ 29جلد 2) ترجمہ: پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ لوگوں کو مخاطب فرمایا اور ان لوگوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ بھی تھے جن کو اس سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے طریقے کا علم تھا، تو ان میں سے کسی انکار کرنے والے نے انکار نہیں کیا او رکسی رد کرنے والے نے اسے رد کیا۔

مذکورہ واقعہ میں اگر چہ امت کے لئے عمل کی راہ با جماع صحابہ و تابعین مقرر رہ گئی کہ تین طلاقیں بیک وقت دینا اگرچہ غیر مستحسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا سبب ہے مگر اس کے باوجود جس نے اس غلطی کا ارتکاب کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی اور بغیر دوسرے شخص سے نکاح و طلاق کے اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ لیکن علمی اور نظری طور پر یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں ، اوّل یہ کہ سابقہ تحریر میں متعدد روایات حدیث کے حوالے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے والے پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کو نافذ فرمایا ہے، اس کو رجعت یا نکاح جدید کی اجازت نہیں دی پھر واقعہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس کلام کا کیا مطلب ہوگاکہ عہد رسالت میں او رعہد صدیقی میں دوسال تک عہد فاروقی میں تین طلاق کو ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا،فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کا فیصلہ فرمایا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر واقعہ اسی طرح تسلیم کرلیا جائے کہ عہد رسالت ، عہد صدیقی میں تین طلاق کو ایک ماناجاتا تھا ، تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس فیصلہ کو کیسے بدل دیا اور بالفرض ان سے کوئی غلطی ہوگئی تھی تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس کو کیسے تسلیم کرلیا؟ ان دونوں سوالوں کے حضرات فقہاء ومحدثین نے مختلف جوابات دیے ہیں، ان میں سے صاف او ربے تکلف جواب وہ ہے جس کو امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مسلم میں اصح کہہ کر نقل کیا ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان او راس پر صحابہ کرام کا اجماع طلاق ثلاثہ کی ایک خاص صورت کے متعلق قرار دیا جائے ، وہ یہ کہ کوئی شخص تین مرتبہ یعنی تجھ کو طلاق کو طلاق کہے یا میں نے طلاق دی طلاق دی کہے۔

یہ صورت ایسی ہے کہ اس کے دو معنی میں دو احتمال ہوتے ہیں ، ایک یہ کہنے والے نے تین طلاق دینے کی نیت سے یہ الفاظ کہے ہوں ،دوسرے یہ تین مرتبہ محض تاکید کے لئے مکرر کہا ہو۔ تین طلاق کی نیت نہ ہو اور ظاہر ہے کہ نیت کا علم کہنے والے ہی کے اقرار سے ہوسکتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں صدق و دیانت عام او رغالب تھی، اگر ایسے الفاظ کہنے کے بعد کسی نے یہ بیان کیا کہ میری نیت تین طلاق کی نہیں تھی، بلکہ محض تاکید کے لئے یہ الفاظ مکرر بولے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حلفی بیان کی تصدیق فرمادیتے او راس کو ایک ہی طلاق قرار دیتے تھے۔ اس کی تصدیق حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جس میں مذکور ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو لفظ التبۃ کے ساتھ طلاق دے دی تھی، یہ لفظ عرب کے عرف عام میں تین طلاق کے لئے بولا جاتا تھا ۔ مگر تین اس کا مفہوم صریح نہیں تھا، اور حضرت رکانہ نے کہا کہ میری نیت تو اس لفظ سے تین طلاق کی نہیں تھی بلکہ ایک طلاق دینے کا قصد تھا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قسم دی، انہوں نے اس پر حلف کرلیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی طلاق قرار دے دیا۔ یہ حدیث ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ ، دارمی میں مختلف سندوں اور مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے بعض میں یہ بھی ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھیں مگر ابوداؤد نے ترجیح اس کو دی ہے کہ دراصل رکانہ رحمۃ اللہ علیہ نے الفظ التبۃ سے طلاق دی تھی، یہ لفظ چونکہ عام طور پر تین طلاق کے لئے بولا جاتا تھا اس لئے کسی راوی نے اس کو تین طلاق سے تعبیر کردیا ہے۔ بہر حال اس حدیث سے یہ بات باتفاق ثابت ہے کہ حضرت رکانہ کی طلاق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اس وقت قرار دیا جب انہوں نے حلف کے ساتھ بیان دیا کہ میری نیت تین طلاق کی نہیں تھی، اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے تین طلاق کے الفاظ صریح اور صاف نہیں کہے تھے ورنہ پھر تین کی نیت نہ کرنے کا کوئی احتمال نہ رہتا ۔

اس واقعہ نے یہ بات واضح کردی کہ جن الفاظ میں یہ احتمال ہو کہ تین کی نیت کی ہے یا ایک ہی کی تاکید کی ہے ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلفی بیان پر ایک قرار دیا، کیونکہ زمانہ صدق و دیانت کا تھا کہ احتمال بہت بعید تھا کہ کوئی شخص جھوٹی قسم کھالے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ابتدائی عہد میں دو سال تک یہی طریقہ جاری رہا پھر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں یہ محسو س کیا کہ اب صدق دیانت کا معیار گھٹ رہا ہے، اور آئندہ حدیث کی پیشن گوئی کے مطابق او رگھٹ جائے گا دوسری طرف ایسے واقعات کی کثرت ہوگئی کہ تین مرتبہ الفاظ طلاق کہنے والے اپنی نیت صرف ایک طلاق کی بیان کرنے لگے تو یہ محسوس کیاگیا کہ اگر آئندہ اسی طرح طلاق دینے والے کے بیان کی تصدیق کرکے ایک طلاق قرار دی جاتی رہی تو بعید نہیں کہ لوگ شریعت کی دی ہوئی اس سہولت کو بے جا استعمال کرنے لگیں، او ربیوی کو واپس لینے کے لئے جھوٹ کہہ دیں کہ نیت ایک ہی کی تھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی فراست اور انتظام دین میں دور بینی کو سبھی صحابہ رضی اللہ عنہ نے درست سمجھ کر اتفاق کیا، یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج شناش تھے، انہوں نے سمجھا کہ اگر ہمارے اس دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہوتے تو یقیناًوہ بھی اب دلوں کی مخفی نیت اور صاحب معاملہ کے بیان پر مدار رکھ کر فیصلہ نہ فرماتے، اس لئے قانون یہ بنادیا کہ اب جو شخص تین مرتبہ لفظ طلاق کا تکرار کرے گا اس کی تین ہی طلاقیں قرار دی جائیں گی ا س کی یہ بات نہ سنی جائے گی کہ اس نے نیت صرف ایک طلاق کی تھی ۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے مذکور الصدر واقعہ میں جو الفاظ منقول ہیں وہ بھی اسی مضمون کی شہادت دیتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ان الناس قد استعجلوافی امر کانت لھم فیہ اناۃ فلو ا مضینا علیھم ۔ ترجمہ: لوگ جلدی کرنے لگے ہیں ایک ایسے معاملہ میں جس میں ان کے لئے مہلت تھی تو مناسب رہے گا کہ ہم اس کو ان پر نافذ کردیں۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اس فرمان او راس پر صحابہ کرام کے اجماع کی یہ تو جیہہ جو بیان کی گئی ہے اس کی تصدیق روایات حدیث سے بھی ہوتی ہے او راس سے ان دونوں سوالوں کا خود بخود حل نکل آتا ہے کہ روایات حدیث میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین طلاق کو تین ہی قرار دے کر نافذ کرنا متعدد واقعات سے ثابت ہے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہفرمانا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ عہد رسالت میں بھی تین ہی قرار دی جاتی تھیں ایک قرار دینے کاتعلق ایسی طلاق سے ہے۔

جس میں ثلاث کی تصریح نہ ہو یا تین طلاق دینے کا اقرار نہ ہوں۔ او ریہ سوال بھی ختم ہوجاتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کوایک قرار دیا تھا تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کیوں کی، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس سے اتفاق کیسے کر لیا کیونکہ اس صورت میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی سہولت کے بے جااستعمال سے روکا ہے۔ معاذ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلہ کے خلاف یہاں کوئی شائبہ نہیں ، اس طرح اشکالات رفع ہوگئے و الحمداللہ اسی جگہ مسئلہ طلاق ثلاثہ کی مکمل بحث اور اس کی تفصیلات کا احاطہ مقصود نہیں ، وہ شرح حدیث میں بہت مفصّل ہے اور بہت سے علما ء نے اس کو مفصّل رسالوں میں بھی واضح کردیاہے ، سمجھنے کے لئے اتنا کافی ہے واللہ الموافق والمعین ۔

18مئی،2017 بشکریہ : روز نامہ اخبار مشرق ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-mohammad-arif-nadeem-qasmia/a-thesis-on-triple-talaq--طلاق-ثلاثہ-کے-تعلق-سے-ایک-تحقیقی-مقالہ/d/111241

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..