New Age Islam
Fri Apr 16 2021, 10:34 PM

Urdu Section ( 2 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ulema and Orthodoxy علماء اور راسخ العقیدگی

 

 

ڈاکٹر مبارک علی 

‘‘ شریعت  تلوار کی چھاؤں میں ترقی  کرتی ہے ’’ اس نے علماء کو سلطان وقت کی حمایت کرنے اور ان کے ساتھ اقتدار میں شریک ہونے پر تیار  کیا، کیونکہ ایک مرتبہ علماء کو یہ احساس ہوگیا کہ  وہ شریعت  کو معاشرہ  میں اخلاقی و ذہنی  طور پر متاثر کر کے نافذ نہیں کر سکتے  تو ان کے لئے صرف  ایک ہی  صورت تھی کہ حکومت  کے ساتھ تعاون کریں اور قوت  و طاقت  کے ذریعہ مسلمانوں کے معاشرہ میں اس کا نفاذ کریں ۔اس لئے ہندوستان میں ان کی کوششیں  رہیں کہ  وہ حکومت  اور اس کے انتظامی  اداروں  پر قبضہ کریں، اور مذہب کے دباؤ کے تحت حکمران کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ حکومت  کے عہدوں پر ایسے  افراد کا تقرر نہ کرے جو مذہبی نہ ہوں ، بد عقیدہ ہوں  اور عقلیت  کے پرستار ہوں ، بلکہ یہ عہد ے صرف ان لوگوں  کو دیئے جائیں  جو مذہبی امور میں  ماہر ہوں عالم و فاضل ہوں اور زندگی  کے ہر شعبہ میں مذہب کا نفاذ چاہتے ہوں ، چنانچہ التمش کو نصیحت کرتے ہوئے ایک بزرگ عالم مبارک  غزنوی  نے کہا تھا کہ :

‘‘ دین پناہی  سے متعلق  جس میں بادشاہی کی نجات یہ ہے کہ وہ دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم  کے احکام شرعی  کے نفاذ کی ذمہ داری  متقی  عبادت گزار ، دین  دار اور خدا ترس لوگوں کے سپرد کریں اور ناخدا ترس ، ناحق شناس ، حیلہ باز، لالچی، فریبی اور اہل معاملہ کو حکومت  شرع کی مسند اور طریقت  کی سرکردگی ، منصب افتا ء اور علوم دین کی تدریس  لوگو ں کے سپرد کئے جانے کو روانہ  رکھیں ’’۔

(1) اس لئے خصوصیت سے ایسے عہدے جن کا تعلق  مذہبی امور سے ہوتا تھا، وہ ان علماء کو ملتے تھے ان میں قاضی  ، صدر  الصدور محتسب اور شیخ الاسلام  کے عہدے قابل ذکر ہیں ۔ اس حیثیت  سے یہ حکمران طبقوں  کا ایک حصہ بن جاتے تھے اور ان کی کوشش ہوتی تھی  کہ یہ اپنے  اثر و رسوخ  کو حکومتی  معاملات  میں زیادہ  سے زیادہ  استعمال کریں ۔ جب بھی حکمرانوں  کو اپنے عمل اور پالیسی  کو جائز ٹھہراناہوتا تھا  تو ان سے فتوے طلب کئے جاتے تھے ، جو یہ حکمرانوں کی مرضی  کے مطابق دیا کرتے تھے ۔

 علماء کے نزدیک جس شخص نے دو باتوں کو پورا کرلیا حکمران  ہوسکتا تھا ، اول ا س کے پاس  فوجی طاقت ہو، کہ وہ اس کے بل بوتے پر اپنے احکامات  کو تسلیم کرائے ، دوم اگر لوگ اس کے ہاتھ  پر اقتدار کے حصول  کے بعد بیعت کرلیتے تھے تو پھر وہ جائز حکمران ہوتا تھا ۔بیعت کرنے والوں میں بھی صرف علماء اور اہل حل و عقد کاہونا کافی ہے ۔ اس کے بعد جب وہ جائز حکمران ہوگیا ، تو اب امت پر فرض ہے کہ وہ اس کی اطاعت کریں ۔ اس اطاعت کے بدلے  میں حکمران امت کے سامنے  جوابدہ نہیں ہے، کیونکہ یہ جوابدہی  صرف خدا  کے سامنے  ہے ۔ اس نظریہ  کے تحت  ہر اس غاصب کو جائز حکمران تسلیم  کیا جاتا رہا ، جس  نے فوجی قوت و طاقت  سے اقتدار پر قبضہ  کیا ، اور جب وہ ایک مرتبہ خدا  کے سامنے جوابدہ ہوگیا تو اس نے عوام پرظلم و ستم ڈھائے اس کی پوچھ گچھ کرنے والا اس دنیا میں کوئی نہیں رہا ۔ اس کے نتیجہ  میں مسلمان معاشرے میں مطلق  العنان بادشاہوں کا عروج ہوا،  اور آمرانہ حکومتی  اداروں کی تشکیل  ہوئی ۔ مسلمان معاشرہ سلطان کے لئے  طاقت و قوت   ، دبدبہ اور شان و شوکت کا اس قدر چاہنے والا تھا کہ عہد سلاطین میں لکھی  جانے والی کتاب ‘‘ فتاویٰ قاضی خاں ’’ میں ہے اگر  لوگ ایک ایسے  شخص پر بیعت  کرلیں جس کے پاس شان و شوکت اور رعب و دبدبہ  نہیں ہے ۔ تو اسے سلطان  تسلیم نہیں  کیا جائے گا ۔ لیکن اگر  کسی کے پاس طاقت  وہیبت  ہے اور بیعت  کے بعد وہ  لوگوں پرظلم و ستم بھی کرے تو اسے معزول نہیں کیا جاسکتا  ۔

(2) طاقت کا یہ تصور ہندوستان  میں مسلمان معاشرہ  کی  ذہنیت  کی بڑی عمدگی  کے ساتھ عکاسی  کرتا ہے ۔ ایک طبقاتی  معاشرہ  میں حکمران   طبقوں  کا تحفظ  ، ان کی مراعات  سہولتیں  اور مفادات  کا تحفظ  صرف اسی وقت ہوسکتا تھا ، جب کہ حکمران طاقتور  ہو اور اس قابل  ہو کہ  عوام کے احتجاج اور بغاوت  کو کچل سکے ۔ کیونکہ  اقلیت  ، اکثریت  کو بغیر طاقت  کے خاموش  نہیں رکھ سکتی ہے اس لئے حکمران چاہے غاصب ہو اور ظلم و ستم کا عادی  ہو مگر وہ حکمران  طبقوں کے مفادات  کی غرض  سے جائز تھا ، اور اس کے خلاف  ہر قسم کی بغاوت  کو مذہب کے خلاف  بتایا جاتا تھا ۔

حکمران  کے اثر و رسوخ  کو بڑھانے  اور مستحکم  کرنے کی غرض سے علما ء  اسے حامی دین اور پشت  پناہ دین و ملت کے خطابات  دے کر اس کی شخصیت  کو معاشرہ  میں ابھارتے تھے اور اس کی وسعت سلطنت  کی جنگوں  کو جہاد  قرار دے کر اسے غازی اور مجاہد بتاتے تھے ۔ اس لئے ہندوستان  کے تمام مسلمان بادشاہ ا س زمرے میں آتے  ہیں ۔ یہ سب  ہندوستان  میں جہاد کی غرض سے آئے تھے اور ان کا مقصد  تبلیغ  اسلام تھا ۔ اس لئے ان کی سامراجی جنگوں  کو السام  کے ذریعہ اخلاقی جواز فراہم کیا ۔ اس کے نیتجہ میں ہندوستان میں اسلام کا تعلق جنگ و جدل اور غارت گری کے ساتھ مل کر اُبھرا ۔

ہندوستان میں حکومت  کے قیام کے ساتھ ہی علماء نے مذہب  کے ذریعہ اس کے استحکام  کی بنیادیں  فراہم کیں ۔ اسلام کی بر تری کا درس دیا ، ہندو مذہب کو کفر اور شرک کہا، جس کی وجہ سے ہندو مذہبی و ثقافتی  طور پر کمتر قرار پائے ، اور اس  منطق سے ان پر حکومت  کرنا، ان سے جزیہ لینا، ان کے مندر توڑنا، ان کے تہوار پر پابندی عائد کرنا ، اور ان کی مذہبی رسومات کو لہو ولعب  قرار دینا جائز ہوا ۔ اس فرق  نے ہندو اور مسلمان معاشرے کو ایک دوسرے سے بالکل جدا کردیا ، اور یہی مقصد ان علماء کا تھا، کیونکہ ان کا اثر  ورسوخ صرف اس وقت برقرار رہ سکتا تھا جب  تک علیحدگی  کے جذبات  شدید ہوں۔

(1)

 ترک فاتحین ہندوستان  میں حنفی  مسلک کو لے کر آئے تھے ۔ اس لئے یہا ں سنی علماء کا اثر رسوخ قائم ہوا اور انہوں نے مذہب کی اس تعبیر  و تاویل کو یہاں متعارف کرایا جو کہ وسط ایشا میں گیارہویں صدی میں علماء کرچکے تھے ۔ ہندوستان  میں صرف تقلید کی گئی اور کوئی اجتہادی  کام نہیں ہوا ۔ اس پورے دور میں ہندوستانی  علماء نے وسط ایشیا و ایران اور عربی ممالک کے عالموں  کی کتابوں پر یا تو حاشیے لکھے  ، یا ان کی مزید وضاحت کی ، مگر اس میں کوئی  اضافہ نہیں کیا،  یہاں  کے کسی عالم کے لئے باعث  فخر بات  یہی تھی  کہ اس نے کسی مشہور فقہی مسلک کے امام یا کسی غیر ملکی  عالم کی کتاب  پر کوئی تبصرہ لکھا ہوا ، مثلاً شاہ و جیہ الدین ( وفات  1590 ء )  ایک بڑے عالم سمجھے  جاتے تھے ان کے بارے میں  ہے کہ شاید ہی  کوئی چھوٹی یا بڑی درسی کتاب  ہو جس کی انہوں نے  شرح یا تفسیر نہ لکھی ہو ۔ علماء کی اکثریت  کسی مسئلہ پر فتویٰ دیتے ہوئے پچھلے علماء اور فقہا کی رائے کو دہرا دیتے تھے اور حالات کے مطابق کوئی نئی  بات نہیں کہتے تھے ۔ ا س کا نتیجہ  یہ ہوا کہ حنفی فقہ کا ہندوستانی میں کوئی ارتقاء نہیں ہوا ، اور یہ فرضی  حالات و تصوراتی  ماحول میں کام کرتا رہا ۔

(2)

(3) فتاویٰ عالمگیر کو فقہ کی مستند  کتابوں کی مدد سے تدوین کیا گیا مگر  اس میں ہندوستان کے سیاسی، سماجی اور معاشی  حالات  کے تحت فتوے درج نہیں  اس میں بھی محض تقلید  کی گئی اور اجتہاد  سے پرہیز کیا گیا  ا س لئے بدلتے ہوئے حالات  میں فقہ کی مدون  یہ کتابیں  ہندوستان  کے مسائل  کا کوئی حل نہیں  پیش کرسکیں ۔

(3)

وسط ایشیا و ایران  میں منگولوں سے حملوں کے بعد دوسرے لوگوں کے ساتھ علماء وفقہا  کی بڑی تعداد  ہندوستان ہجرت کر کے آئی ۔ یہ سخت  قسم کے سنی العقیدہ  تھے اور ان میں مذہبی رواداری  نام کو نہیں تھی ہندوستان کے سیاسی حالات سے بالکل  نا واقف تھے اور مسائل کو وسط ایشیا و ایران کے نقطہ نظر سے دیکھتے تھے ۔ مہاجر ہونے کی حیثیت  سے ان میں عدم تحفظ کا بھی شدید احساس تھا، اس لئے ان کی خواہش تھی کہ ہندوستان میں مذہبی حکومت  مضبوط  بنیادوں  پر ہوتا  کہ  انہیں ہندو اکثریت  سے کوئی خطرہ نہیں رہے اور وہ دوبارہ سے اس تباہی  سے دو چار نہ ہوں جو منگول  حملوں  کے بعد وسط ایشیا و ایران  میں آئی تھی ۔ اس لئے وہ ہندوؤں  کو کمزور  اور ذلیل و خوار  رکھنا چاہتے تھے  تاکہ وہ کبھی بھی حکومت  کے خلاف بغاوت کا سوچ بھی نہ سکیں ۔

سنی علماء کا موقف تھاکہ صرف چار فقہی مسلکوں  کی تقلید کی جائے تاکہ ہندوستان کے مسلمانوں میں اتحاد بر قرار رہے اگر ان مسلکوں  کی تقلید نہ کی گئی اور دوسرے مسلک بھی ظاہر ہوئے تو اتحاد  پارہ پارہ ہوجائے گا ۔ اس لئے ہندوستان کے مسلمان  معاشرہ پر امام غزالی  اور امام تیمیہ  کے افکار کا اثر ہوا، امام غزالی  اجتہاد  کے مخالف ہیں اور امام تیمیہ  غیر اسلامی  عناصر  کے خلاف، اسلام کی پاکیزگی کے داعی  ہیں ۔ اس لئے ان دونوں کے افکار کے لئے ہندوستان  کی فضا  اس تھی، جہاں  اس کی تقلید  کی گئی ۔

اکبر کے زمانہ  میں گجرات  کی فتح کے بعد ہندوستانی علماء  سمندر  کے راستے سے بھی  حجاز جانے لگے اور جو علماء وہاں سے تعلیم  حاصل کرکے واپس آئے انہوں نے ہندوستان  کی فضا  کو مزید تنگ  نظر بنایا ۔ ہندوستان کے معاشرے میں یہ خیال یقین  کی حد تک  بیٹھا ہوا تھا کہ مذہبی  تعلیمات اور مذہبی امور کی حقیقی  تعلیم صرف ہندوستان  سے باہر سمر قند ، بخارا، کوفہ، دمشق و بغداد اور مکہ مدینہ میں حاصل ہوسکتی ہے، کیونکہ و سط ایشیا، ایران، عراق و شام و حجاز  کی فضا ایسی  ہے جہاں  اسلامی علوم پروان چڑھ سکتے ہیں ۔ اسلامی  تعلیمات  کو فروغ ہندوستان  کے مشرکانہ  اور کافرانہ ماحول  میں ممکن نہں ۔ اس لئے ہندوستان  میں صرف  ان علماء کو مستند مانا جاتا تھا جو  ان  ملکوں سےعلم کی سند  لے آئے تھے ۔ ہندوستانی  علماء کے اعتماد  کی کمی اس سے بھی نظر آتی ہے کہ  وہ  اکثر ہندوستانی معاملات کے بارے میں فتویٰ حجاز کے علماء سے منگواتے تھے ، وہ  بھی ان  کی مرضی  کے مطابق  فتویٰ بھیجنے میں دیر نہیں کرتے تھے، حجاز کے علماء کے فتویٰ  ہندوستانی علماء کے مقابلہ  میں زیادہ  وقیع اور مستند  مانے جاتے تھے ۔

اجتہاد کے فقدان اور تقلید کے اثرات کی وجہ سے ہندوستانی  میں راسخ العقیدگی  کی جڑیں اس قدر گہری  ہوگئیں  کہ انہوں نے اس کے خلاف  کسی فرقہ ، مسلک اور تحریک  کو برداشت نہیں کیا اور انہیں  سختی  کے ساتھ ختم کردیا ۔ نئے خیالات  و افکار  کو ختم کرنے  کے سلسلہ میں انہوں نے جو طریقے  اختیار  کئے ان میں قتل کرانا، کتابیں  جلانا، قید و بند  ، ایذائیں  ، ملازمتوں سے محروم  کرنا، او رمالی  طور پر ان کے ذرائع آمدنی  بند کرنا تھے، راسخ العقیدگی سے علیحدہ ہٹ کر جو بھی فرقے تھے ان کے بارے میں اس قسم کی باتیں پھیلائی جاتی تھی کہ ان فرقوں کے ماننے والوں میں آزاد جنسی  تعلقات  ہوتے ہیں اس لئے ایسے  فرقوں کو ‘‘ اباحیہ ’’  کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔

ان فرقوں کو اس بات کی قطعی  آزادی نہ تھی کہ وہ اپنے عقائد کی تبلیغ کرسکیں، یا ان کے بارے میں  آزادی  سے بحث و مباحثہ  کرسکیں، یا ان کی اشاعت  کرسکیں ، اس لئے یہ فرقے  اس بات پر مجبور ہوئے کہ اپنے عقائد  کو خفیہ رکھیں  اور خفیہ اجتماعات کریں اس نے ان علماء کو یہ موقع دیا  کہ ان کے بارے میں قسم قسم کی افواہیں  پھیلائیں تاکہ لوگ ان سے بدظن  ہوں اور ان کے قریب نہ جائیں ۔ چونکہ تقلید  پرست علما ء نئے پیدا ہونے والے مسائل  کا حل پیش  کرنے سے قاصر تھے، اس لئے مذہب  اور شریعت  میں اس راسخ العقیدگی  کے خلاف مختلف تحریکیں پیدا ہوئیں  جنہوں نے روایتی  مذہب سے علیحدہ ہوکر مسائل کا حل پیش کیا، مگر ایسی  تمام  تحریکوں  اور جماعتوں کی سختی سے مخالفت کی گئی،  اور انہیں قرامطی ، الحادی  زندقہ ، مانی و مزدک کے پیروکار  کہہ کر سختی  سےکچل دیا گیا ۔ اس وجہ سے روشن خیال لوگوں کی ہمت نہیں رہی کہ  وہ اس رجعت پرستی  کے خلاف  موثر جد و جہد کرسکیں ۔

صوفیاء کے وحدت الوجودی طبقے  نے جب شریعت  کی سختی  اور تشدد کی جگہ  رواداری  اور آزاد خیالی کی تبلیغ  شروع کی تو علماء نے ان کے خلاف بھی سخت اقدامات  کئے اور حکومت کی مدد سے ان کے اثر کو ختم  کرنے کی کوشش کی ۔ اس پر کاری ضرب اس وقت لگی  جب تصوف اور شریعت کو ملا کر اسے بھی علماء کے تابع کردیا، اس سلسلہ  میں وحدت  الشہود کے نظریہ  نے موثر  کردار ادا کیا،  اور صوفیاء و علماء کو آپس میں ملا کر راسخ العقیدگی  کی جڑیں اور گہری کردیں ۔

(4)

اکبر مغل حکومت کی بنیاد متحدہ  قومیت  پر رکھی تھی ، مغلوں  کے ساتھ ساتھ ہندوؤں  کے طبقہ  اعلیٰ  کو بھی اقتدار  میں شریک کرلیا تھا، اور عام ہندوؤں کے ساتھ مذہبی رواداری  کا سلوک  کرتے ہوئے ان پر سے مذہبی ٹیکس ختم کردیئے  تھے ۔ اکبر  کی یہ پالیسی  تھی کہ ہندوستان  میں کسی ایک قوم یا مذہب  کی بنیادوں  پر حکومت نہ کی جائے کیونکہ  ایسی حکومت  کی بنیاد  نا پائیدار ہوگی،  جب تک  تمام  عناصر  کو اس میں شریک نہیں کیا جائے اس کی بنیادیں  مستحکم  نہیں ہوں گی ۔ اس لئے اس  نے جب ہندوؤں  کو اقتدار  میں شریک کیا، تو  متحدہ قومیت  کے لئے  فضا پہلے  سے تیار تھی،  وحدت  الوجود کے نظریہ  اور بھگتی تحریک نے ذہنوں  کو اشتراک کے لئے تیار  کررکھا تھا ۔

اس اشتراک سے سنی امراء  کو دکھ ہوا کیونکہ  وہ بلاشرکت  غیرے اقتدار پر قابض رہنا چاہتے تھے ۔ اس لئے انہوں نے  علماء کی مدد سے اس کے خلاف تحریک چلائی اور ہر اس علامت  کو مٹانا  چاہا جو اشتراک کو قائم کئے ہوئے تھی ۔ یہ مخالفت  ہندوؤں سےبڑھ کرشیعوں تک آگئی کیونکہ اکبر کے زمانہ  میں کافی  شیعہ مغل حکومت  میں شریک ہوچکے تھے ۔ مولانا عبیداللہ سندھی  اس پس منظر کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

‘‘غیر ملکی حکمران طبقوں کا سیاسی اور فکری مرکز بخارا تھا ۔  بخارا کی فقہ، بخارا کا علم کلام اور بخارا کے علماء کی کتابیں ہندوستان میں آئیں اور یہی مدرسوں  کا نصاب بنا ۔ علم فقہ کی طرح بخارا سے حکمرانوں کے گروہ بھی آتے رہے تھے ۔اکبر کے عہد تک یہ ہوتا رہا کہ جب کبھی ہندوستان میں مسلمانوں کی قوت کمزور پڑتی تو اس نواح سے تاز ہ دم مسلمان آجاتے اور اسلامی حکومت  کے لئے یہ لوگ تقویب کا باعث بنتے ۔ اکبر نے ہندوؤں کو مراعات  دیں اور ایک حد تک مذہب میں ان کا مساوی درجہ ماننے کی  بھی جرات  کی تو ان غیر ملکی اور ان کے ہم خیال مسلمانوں  میں بڑی بے چینی پھیلی ، دوسری بات یہ ہوئی  کہ اکبر کی سیاست کو چلانے میں شیعوں  کا بھی بڑا ہاتھ تھا، بخارا چونکہ سنیوں کا مرکز تھا اور یہ لوگ شیعیت  کی مخالفت  میں بڑے سرگرم بھی تھے، یہاں تک کہ بخارا  میں جو نقشبندی  طریقہ رائج تھا اس میں بھی شیعوں  کے خلاف کافی رجحان موجود ہے،شیعہ سمجھتے تھے  کہ وہ اکبری  سیاست  کی تائید کرکے دربار  سے بخاری  اور سنی اثر کم کرسکیں  گے، چنانچہ  جب اکبر  کے خلاف رد عمل شروع ہوا تو شیعوں  اور ہندوؤں پر عتاب آیا اور سنی حکمران طبقے  دونوں کے مخالف ہوگئے ’’۔

(5)

اس تحریک کے سربراہ احمد سرہندی تھے جنہیں ان کے پیروکار  مجد د الف ثانی  کے نام سے پکارتے ہیں ان کا خیال تھا کہ ہندوستان میں سنی مسلمانوں کے اتحاد  کو کمزور کرنے والی قوتوں  میں شیعہ ، مہدوی اور وحدت الوجود صوفی ہیں بیرونی  قوتوں  میں ہندو اثرات اسلامی شعار کو ختم کررہے ہیں  او رمسلمان ہندو مذہب  کے زیر اثر اسلامی شعار ادا کرنے سے قاصر  ہیں ۔ اس لئے انہوں نے کوشش کی کہ امراء  کی مدد سے اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنائیں ۔ کیو نکہ  یہ تحریک جن سیاسی حالات کے تحت  وجود میں آئی تھی اس سے سنی امراء  کے مفادات  وابستہ تھے ، اس لئے انہوں نے اس کا پورا پورا ساتھ دیا ۔ انہوں نے ایک مغل امیر شیخ فرید کو خط میں لکھا  کہ ‘‘ پس اسلام کی عزت کفر اور کافروں  کی خواری میں ہے جس نے اہل کفر کو عزیز رکھا اس  نے اہل اسلام کو خوار کیا ان کے عزیز رکھنے سے  فقط تعظیم  کرنا او ربلند بٹھانا ہی نہیں، بلکہ  اپنی مجلس میں جگہ دینا او ران کی ہم نشیبی کرنا اور ان کے ساتھ گفتگو کرنا سب اعزاز میں داخل ہے ۔ کتوں کی طرح ان کو دور رکھنا چاہئے او راگر دنیاوی  غرض ان سے متعلق  ہوں، جو ان کے بغیر حاصل نہ ہوتی ہوں تو پھر بھی بے اعتباری کے  طریق کو مد نظر رکھ کربقدر ضرورت ان کے ساتھ میل رکھنا چاہئے او رکمال اسلام تو یہ ہے کہ اس دنیاوی  غرض  سے بھی درگزر  کریں اور ان کی طرف نہ جائیں ’’۔

(6)

 وہ بار بار اپنے خطبوں میں اس بات  کا ذکر کرتے ہیں کہ کفار آزادی  سے اپنے مذہبی فرائض  بجالارہے ہیں ، نئے مندر تعمیر  کررہے ہیں  ،وہ گائے کی قربانی سے روکتے ہیں ، ان کا یہ رویہ  اس بات کی پوری پوری غمازی کرتا ہے کہ وہ صرف سنی العقیدہ جماعت کے لئے ہر قسم کی مذہبی آزادی چاہتے تھے اور دوسرے فرقوں  او رمذہبوں  کے ماننے والوں کو یہ آزادی  دینے پر تیار نہیں تھے ۔ اس سلسلہ  میں شیعوں کے بھی زبردست مخالف تھے ۔ پروفیسر مجیب نے ان کی تاریخی کردار کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کو مجدد او رامام کے جو خطاب دیئے گئے اور ان سے جو کار نامے منسوب  کئے گئے  کہ انہوں نے اکبر  کے الحاد کے خلاف جنگ لڑی  اور دربار کی رسومات کو اسلامی بنایا ، یہ سب باتیں ان کے مریدوں کی پھیلائی  ہوئی ہیں ان کا یہ  کار نامہ  ، اگر اسے کارنامہ کہا جائے تو ضرور  ہے کہ انہوں نے  سنیوں کی جانب سے شیعوں سے جنگ لڑی ، راسخ العقیدگی  کو تقویت  دی، اور ریاست  و نقشبندی  سلسلہ  کو قریب لائے ۔  انہوں نے امراء کو جو خطوط  لکھے ہیں  ان میں اکثر خطوط میں ان کا لہجہ  خوشامدی ہے ا س موقع پر بقول پروفیسر مجیب ‘‘ احساس ہوتا ہے کہ ان کی  شریعت  کے لئے کوششیں  دنیاوی  معاملات  میں تبدیل  ہوگئیں ۔

(7)

 مغل دربار کے سنی امراء اس وقت کامیاب  ہوگئے جب اورنگ زیب کو تخت  و تاج مل گیا  ا س کےبعد انہوں نے  راسخ العقیدگی  کی بنیادوں  کو مستحکم  کیا ۔ وحدت  الوجودی  صوفیاء ک خلاف تحریک  چلائی اور اس  سلسلہ میں محبّ اللہ الہ آبادی  کی کتابیں  جلاننے کا بادشاہ سے حکم دلوایا ۔

(8)

فتاوی عالمگیری  کی تدوین ہوئی، راجپوتوں   ، مرہٹوں ، سکھوں اور شیعہ  ریاستوں سے مسلسل جنگیں لڑی گئیں، اس سلسلے میں علماء نے اورنگ زیب  کے ساتھ  بھرپور تعاون کیا اسی لئے جب اسے  دارالشکوہ اور سرمد کو قتل  کرانے کی ضرورت  پیش آئی تو علماء نے  بغیر کسی تو قف کے ان کے خلاف کفر کافتویٰ دے دیا ۔ لیکن یہ راسخ العقیدگی  مغل سلطنت  کو اور مسلمان معاشرہ کو زوال پذیر  ہونے سے نہ روک سکی ۔ ان علماء  نے زہد و تقویٰ کی بجائے دنیاوی  فوائد  حاصل کرنے میں اپنا وقت گزارا ، اورنگ زیب کے قاضی القضاۃ قاضی عبدالوہاب ( وفات 1675ء) کے پاس  ایک لاکھ  اشرفیاں  اور پانچ لاکھ روپیہ نقد  نکلا ، زیور  اور جواہرات اس کے علاوہ  تھے ۔ یہی  رویہ دوسرے علما ء کا تھا جو حکومت  کی سرپرستی میں دنیاوی  فائدہ حاصل  کرنے میں مصروف  تھے اور اس وجہ سے وہ معاشرہ میں کسی قسم  کی تبدیلی کے سخت  مخالف تھے ۔

(9)

چونکہ تعلیمی  اداروں  پر علماء کا قبضہ رہا اس  لئے انہوں نے ان کی مدد  سے نہ صرف راسخ العقیدگی  کو مضبوط کیا بلکہ آزاد خیالی کے تمام  رجحانات  کو ختم  کرنے میں بھی  کام کیا ۔ ان اداروں  میں جو نصاب پڑھا یا جاتا تھا وہ مروجہ عقائد اور روایات  کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا تھا اور اس میں اس قسم  کی کوئی گنجائش  نہیں تھی کہ ذہن میں نئے  اور جدید خیالات پیدا ہوں ۔ اس لئے  وہ تمام علوم جو ذہنی  جمود کو  توڑتے اور فکر کو برانگیختہ  کرتے اور اس نصاب میں شامل  نہیں تھے ۔ خصوصیت  سے فلسفہ  کو تعلیمی  اداروں  سے بالکل  ختم کردیا تھا ۔ کیونکہ  انہیں اس بات کا ڈر  تھا کہ فلسفہ غور و فکر  اور سوچنے  کے جذبات  پیدا کرتا  ہے اور ذہن میں شک و شبہ  کو پروان چڑھاتا ہے ۔ شیخ  عبدالحق  محدث دہلوی  عقلی اور فطری علوم کی افادیت تسلیم نہیں کرتے اور فلسفیوں  کو گمراہ  سمجھتے ہیں ۔اسی قسم کے خیالات  کا اظہار  احمد سرہندی نے بار بار اپنے خطوط میں  کیا ہے :

‘‘ بعض  لوگوں نے جو علوم  فلسفہ  سے تعلق  رکھتے ہیں  اور فلسفی تسویلات  پر فریقتہ  ہیں ان کو حکماء جان کر انبیاء علیہ الصلوٰۃ  و اسلام  کے برابر سمجھتے ہیں بلکہ  ان کے جھوٹے علوم کو سچا جان کر انبیاء کی شرائع پر مقدم  سمجھتے ہیں ......غرض  ان کی او ران کے علوم کی تصدیق  سے انبیا ء  او ران کے علوم  کی تکذیب لازم  آتی ہے کیونکہ  یہ دونوں  علم ایک دوسرے کی نفیض  ہیں ۔ اب جو چاہیئے  انبیاء علیہم الصلوٰۃ و اسلام  کے مذہب کو لازم  پکڑے  اور اللہ  تعالیٰ  کے گروہ  میں شامل  ہو جائے  او رچاہے  فلسفی  بن جائے اور شیطان  کے گروہ  میں داخل ہوجائے ’’۔

(10)

 شیخ احمد سرہندی علم ریاضی  کو بھی ایک بے ہودہ علم گردانتے ہیں کہ جس  کا کوئی فائدہ نہیں حکماء اور فلسفیوں  کے بارے میں  ان کی رائے  ہے کہ :  ‘‘ یہ لوگ  بہت ہی  بے خود بے وقوف ہیں اور ان سے زیادہ کمینہ اور بے وقوف  و احمق وہ شخص ہے جو ان کو دانا اور عقلمند  جانتا ہے ۔ ان کے منظّم  او رمرتبہ  علوم  میں ایک ہند سہ ہے جو محض  لایعنی  او ربے ہودہ  اور لاطائل  ہے ، بھلا  مثلث  کے تینوں  زاویہ  قائم  کے ساتھ  برابر  ہونا کس  کام آئے گا ۔

(11)

امام ابن تیمیہ جن کے خیالات و افکار  کا ہندوستان پر اثر ہوا،  ان کے ایک  شاگرد امام عبدالعزیز ارد بیلی ، محمد تغلق  کے زمانہ  میں ہندوستان میں آئے  ۔ وہ بھی طبیعات  اور ریاضی  کو اخلاق  او رمذہب  کے متضاد  سمجھتے تھے ، اور ان کے خیال میں ان سے نہ تو عذاب الہٰی  سے رستگاری  ہوگی اور نہ  سعادت  و برکت ۔ اس لئے صرف وہ علوم  حاصل کرنے چاہئیں  جن سے مذہب و شریعت  کو مدد ملے ۔

(12)

فلسفیوں  کے خلاف  علماء  کا یہ ردعمل مسلمان  معاشرہ میں ابتداء  ہی سے رہا ۔ سلطان التمش  کو مشورہ دیتے ہوئے مبارک غزنوی نے کہا تھا کہ ‘‘ فلاسفہ، علوم  فلاسفہ او رمعقولات  فلاسفہ  پر اعتقاد  رکھنے والوں کو اپنی سلطنت  میں نہ رہنے  دیں اور  جس طرح  بھی ممکن ہو علوم فلاسفہ  کی تعلیم  نہ ہونے  دیں اور  بد مذہب  اور بلا عقیدہ لوگوں  کو  اہل سنت  و جماعت  کے مخالفوں  کی توہین  و تذلیل میں کوشش کرتے رہیں  ، او رکسی بددین بد مذہب اور بد عقیدہ  شخص کو حکومت میں نہ داخل ہونے دیں ’’۔

(13)

برنی سلطان محمد تغلق  کے بارے میں شکایتیں  کرتے ہوئے  اس بات پر افسوس کرتا ہے کہ اس نے چند فلسفیوں  کو دربار میں اپنے قریب کرلیا ‘‘ سعد منطقی  بد مذہب  عبید شاعر بد اعتقاد اور نجم انتشار  فلسفی کی صحبت  میں پڑ گیا ’’  محمد تغلق  مولانا علیم الدین جو فلسفہ کے بڑے عالم  تھے ان سے متاثر  ہوا اور بقول برنی ان  کی وجہ  سے سلطان مذہب  سنت و الجماعت  سے بد اعتقاد ہوگیا ، وہ سلطان  کی تمام  کمزوریوں  اور ا س کے عہد  میں ہونے والی تمام  خرابیوں  کی ذمہ داری  فلسفہ  و معقولات  کو دیتا ہے ۔

(14)

علما ء نے فنون لطیفہ کی مخالفت  کرتے ہوئے رقص، موسیقی ، مصوری اور سنگ  تراشی  کی مخالفت  کی اس لئے معاشرہ  میں ان لوگوں کو جوان  فنون کے ماہر تھے ، انہیں سماجی طور پر اعلیٰ اور بلند مقام نہیں  ملا، اور خود وہ لوگ  جو ان فنون  سے متعلق  تھے وہ خود  کو کمتر اور مجرم  سمجھتے تھے اور احساس  گناہ  ان کے اندر ہی  اندر پرورش  پاتا تھا، اس لئے  ہمارے معاشرے میں موسیقار ، رقاص او رمصور، مراثی  اور بھانڈ سوانگ بھر نے والوں  سے آگے بڑھ کر قابل  احترام  نہیں بن  سکے، فنون  لطیفہ طبقہ  اعلیٰ  میں محدود  رہا اور یہ عوامی  سطح پر مقبول  نہیں ہو سکا ۔ اس کا نتیجہ  یہ ہوا کہ فنون لطیفہ  کے اثر  سے جو انسانی جذبات  میں نکھار  پیدا ہوتا ہے اس سے ہمارا  معاشرہ  محروم  رہا ،  طاؤس   و رباب کو محض عیش و عشرت  فسق و فجور او رلہو و لعب  کی علامت  سمجھا گیا اور اصل طاقت  شمشیر  و سناں  میں ٹھہری ۔

عربی  زبان  کو علماء نے مذہبی  زبان کی حیثیت  سے برقرار  رکھا اور اپنی قابلیت  کااظہار  تحریر و تقریر  کے ذریعہ اسی  زبان  میں کرتے تھے، ان کی کتابیں  ، رسائل ،  اور فتویٰ  عربی  میں ہوتے تھے یا پھر فارسی کو ثانوی  درجہ دیا گیا مگر مقامی زبانوں  میں نہ علوم پڑھائے جاتے تھے اور نہ ہی  علما ء  کو ان زبانوں  میں دسترس  حاصل تھی ۔ شاہ ولی  اللہ اپنی  وصیت  میں لکھتے  ہیں کہ :

‘‘ ہم  میں سے خوش قسمت  وہ ہے جو عربی زبان  کی صرف و نحو اور اس کی کتب ادب سے مناسبت  پیدا کرے ، حدیث و قرآن میں اسے درک حاصل ہو۔ فارسی و ہندی  کتابیں علم شعر،  معقولات ، اس سلسلہ  کی جو دوسری  چیزیں  پیدا ہوگئی  ہیں ان میں مشغول ہونا اور تاریخ بادشاہوں کی سر گزشتوں  اور صحابہ رضی اللہ عنہ  کے باہمی نزاعات کا مطالعہ کرنا گمراہی  در گمراہی ہے’’۔

(15)

ہندوستان کے مسلمان معاشرے  میں علماء کی ان کوششوں سے اور حکومت کے اثر روسوخ  کی وجہ سے تمام علوم  کو محدود کرکے رکھ دیا، فلسفہ ، ریاضی، تاریخ  اور سائنس کی تعلیمات  کو مذہب کے لئے خطرناک سمجھتے  ہوئے ان کو ابھرنے  نہیں دیا او رمذہبی علوم  میں بھی  محض تقلید پر زور دیا گیا اور ہر نئی چیز  کے خلاف سخت اقدامات  اٹھائے گئے اس کا نتیجہ  یہ ہوا کہ  ہندوستانی  علماء  نے کوئی  تخلیقی کام نہیں کیا ، یہاں کوئی  بڑا مجہتد ، محدث اور عالم پیدا نہیں  ہوا اور وہ تمام  مذہبی روایات  جو وسط  ایشیا  و ایران و عرب ملکوں سے یہاں  آئی تھیں ۔ انہیں بغیر  کسی تبدیلی  ورد و بدل  کے یہاں  رہنے دیا ۔ ہندوستان کے علماء  نے خود کو یہاں کے معاشرہ  اس کے مسائل  اور اس کی ضروریات  سے بے خبر  رکھا  اور دوسری قوموں  سے علیحدہ  انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں  کو ایک علیحدہ  خول  میں مقید کر دیا جو وقت کے ساتھ ساتھ  دن بدن  سکڑتاچلا گیا اور بالآخر  تنگ  نظری تعصب اور فرقہ پرستی  نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے روبہ زوال کردیا ۔

(16)

سیاسی زوال کے ساتھ ہی راسخ العقیدگی  بھی کمزور ہوگئی ۔ یہاں تک کہ شاہ ولی اللہ کے زمانہ میں علماء ایک ہاری  ہوئی جنگ لڑرہے تھے ۔ مذہب  کے نام پر  بار بار جوش  دلانے پر بھی  مسلمانوں   میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی تھی ، کیونکہ ایک طویل  دور تقلید  کے عمل نے  ان کی ذہبی صلاحیتوں  کو ختم کردیا تھا، ان کی تخلیق  ایچ  کے راستے بند  ہوچکے تھے اور غور  و فکر کی راہیں  مسدود ہوچکی تھیں ۔ وہ ایک منجمد  او رٹھہرے ہوئے ماحول  میں رہنے  کے عادی ہوچکے تھے ۔  بوسیدگی و خستگی  ان کا مقدر بن چکی تھی،  ایسے  میں اگر  نئی  او رابھرتی  ہوئی اقوام کےہاتھوں  انہیں بار بار  شکست ہوئی تو  یہ تعجب  کی بات نہ تھی ۔

شاہ ولی اللہ معاشرہ کی سیاسی،  سماجی او رمعاشی ٹوٹ پھوٹ کا تجزیہ کرنے کے بجائے  ، حکمران طبقوں سے پھر یہ امید کرتے ہیں  کہ وہ ابتدائی  مسلمان فاتحین  کی طرح جنگ کے ذریعہ  اور قوت  و طاقت کے ذریعہ دوبارہ اپنا اقتدار قائم کرلیں گے ، شاہ ولی اللہ کی امید  وں کا مرکز بادشاہ ، امراء اور فوج  تھی وہ اس  کے ذریعہ  مسلمانوں کی طاقت  کا احیاء چاہتے تھے او رہندوؤں  کی ابھرتی  ہوئی طاقت کو کچل کر تلوار  کی  چھاؤں  میں شریعت  کے نفاذ کے خواہش مند تھے ، وہ بادشاہوں سے مخاطب  ہوکر کہتے  ہیں کہ :

‘‘ اے بادشاہو! ا س زمانہ  میں ملاء اعلیٰ  کی مرضی  یہ ہے کہ تم تلوار کھینچ لو اور  اس وقت  تک  انہیں نیام میں نہ ڈالو جب تک  اللہ مسلمانوں  او رمشرکین کے درمیان  دو ٹوک  فیصلہ  نہ کردے اور جب تک سرکش کافر اور فاسق  اپنے کمزوروں  سے جاکر نہ مل  جائیں  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وَقتلُوْ ھُمْ حَٰتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنْ لِلہِ (  تم ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سارے  کا سارا اللہ  کا ہوجائے )’’

(17)

اس کے بعد وہ فوجیوں سےمخاطب ہوتے ہیں : اے فوجیو!  اللہ نے تمہیں  جہا دکے لئے نکالا  تھا تاکہ  تم کلمہ حق کو ظاہر کرو  اور شرک اور اہل شرک کو دباؤ ۔ تم  نے رباط  الخیل ( لڑائی  کے لئے گھوڑے باندھنا) اور اسلحہ  بندی کو ایک ذریعہ معاش  بنالیا ہے اور  اس کے ذریعہ بغیر جہاد کی نیت کے او رمقصد کے تم زیادہ  سے زیادہ دولت حاصل کرتے ہو،  تم شراب او ربھنگ  پیتے ہو،  تم نے داڑھیاں منڈوا رکھی ہہیں ، مونچھیں بڑھالی  ہیں او رلوگوں  پر ظلم کرتے ہو اور جہاں سے بھی مل  جاتا ہے بے پروا ہوکر کھالیتے ہو’’۔

( 18)

 لیکن شاہ  ولی اللہ ہندوستان  میں مسلمان معاشرہ  کے تاریخی  عمل کو  نہیں سمجھ  سکے ہندوستان  میں مسلمان طبقوں  کا زوال ا س لئے ہوا کہ راسخ العقیدگی نے ان کے ذہنوں پر تالے لگا دیئے تھے او رسنی العقیدہ  جماعت  کے علاوہ  دوسرے  تمام فرقوں  کو علیحدہ  کر کے اتحاد اور قوت  کو توڑ دیا تھا ۔ یہ بے حسی  ا س لئے نہیں  تھی کہ لوگ  مذہب  سے دو رتھے بلکہ اس لئے تھی  کہ راسخ العقیدگی  ان کے مسائل  کو حل کرنے میں ناکام ہوگئی تھی او ران  کی محرومیوں میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ علماء نے عوام سے اپنا  رشتہ  توڑ کر اپنا تعلق حکمرانوں  سے رکھا تھا، ا س لئے جب حکومت  کو زوال ہوا تو اس  کے ساتھ ہی ان کا بھی زوال ہوگیا ۔

دسمبر، 2013  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ،کراچی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-mobarak-ali/ulema-and-orthodoxy--علماء-اور-راسخ-العقیدگی/d/97874

 

Loading..

Loading..