New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 09:43 AM

Urdu Section ( 6 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Holy Quran: Treasurehouse Of Wisdom قرآن حکیم خزینۂ علم و حکمت

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر مرضیہ عارف

26 فروری، 2013

قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا، یہ مقدس کتاب مذہب اسلام کی اساس او ربڑی حکمت والی ہے جو 14 سوسال سے حرف بہ حرف اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے  تا قیامت اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے، اس صحیفۂ آسمانی کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی  یا فن کے ماہرین سے ان ہی کی زبان ، اصطلاحات اور امثال کی روشنی میں بات کرتی ہے، اس کا اعجاز یہ بھی ہے کہ  اجنبی زبان، کم علم اور ناواقف لوگوں کو بھی اس کےمفہوم و مقصد کو سمجھنے میں دشواری  نہیں ہوتی  اور ماہرین فن اس کتاب حکمت  کی باریکیوں  کی تحقیق و جستجو کرتے ہیں تو یہ کتاب مبین انہیں کائنات کے اسرار اور موز سمجھنے او رسائنٹفک انداز میں  اس پر غور و تدبر کی دعوت دیتی ہے، اس میں انسانی زندگی  سے متعلق  تمام پہلوؤں کا احاطہ  ہے اور وہ اخلاقی  لحاظ سے ایک بہتر  زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتی ہے۔

جزیرہ العرب کے جہالت زدہ اور تہذیب سے نا آشنا ماحول میں قرآن کریم کی جو آیات سب سے پہلے نازل ہوئیں وہ ‘‘علم و قلم’’ سےمتعلق تھیں  جن میں بتایا گیا کہ انسان کی تخلیق  ہی خدا ئے تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر نہیں کرتی اس کو قلم کا  استعمال سکھانا او ر نامعلوم کو معلوم کرنے کا سلیقہ  عطا کرنا بھی قدرت خداوندی کا بےمثال کارنامہ ہے جو خدا جمے ہوئے خون یعنی علق  میں جان ڈالتا ہے اسی نے انسان کو علم دے کر تمام مخلوقات پر شر ف بخشا  ہے، ‘‘ سورہ علق’’کی مذکورہ آیات میں حیات بخشنے اور علم عطا کرنے کا ایک ساتھ ذکر ہی اس حقیقت کو سمجھنے  کے لئے کافی ہے کہ اسلام و قرآن نے انسانی زندگی سے علم کا کتنا گہرا رشتہ قائم کیا ہے اور اسی  لئے قرآن حکیم کو سر چشمہ  ٔ ہدایت کے ساتھ خزینۂ حکمت سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔

دنیا میں  جو کچھ نعمتیں مالک حقیقی نے اپنے بندوں کو مرحمت فرمائیں ان میں مال و دولت یا عزت و وجاہت کسی  کے بارے میں اضافہ کی تمنا  کرنے کو نہیں  کہا گیا صرف علم کے تئیں یہ تلقین کی گئی کہ خدا سے مانگو ‘‘ میرے رب مجھے اور زیادہ علم فرما’’

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب تک مسلمان اس فکر انگیز کتاب ‘‘قرآن حکیم ’’ کو سرچشمہ علم و عرفان سمجھ کر پڑھتے رہے ، اس کے معنی و مفہوم پر غور و فکر کر کے اپنے علم و وجدان میں اضافہ کرتے رہے تو دنیا کے حقائق و معارف کے راز ہائے سر بستہ ان پر کھلتے چلے گئے ، صحابہ  رضی اللہ عنہ جو قرآن مجید کے اولین مخاطب تھے اور جن کی تربیت براہِ راست ایوان نبوت سے ہوئی تھی ایک ایک سورۃ پر برسوں غور و فکر کیا کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے کہ آپ ‘‘ سورۃ البقر’’ پرمسلسل آٹھ برس تدبر فرماتے رہے ، اسی لئے قرآن حکیم میں نشانیاں  اور آیات کے بیان میں تد بر کرنے والوں کے لئے ، عقل  و فہم والوں  کے لئے اور نصیحت  پکڑنے والوں کے  لیے جیسے کلمات ادا کر کے سبھی انسانوں کو غور و خوض کی دعوت دی گئی، اس کتاب مقدس کا یہ اعجاز نہیں تو اور کیا ہے کہ عصر حاضر کے جدید علوم سے متعلق  جن بنیادی اور اہم باتوں کا قرآن میں 14 سو برسوں پہلے انکشاف کیا گیا وقت کی کسوٹی پر وہ اب صحیح ثابت ہوئے او رمستقبل  میں بھی اس پر غور و فکر کرنے والوں  کے لیے بہ منشا ئے الہٰی  یہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔

امام غزالی ، علامہ سیوطی اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ  نے قرآن پاک میں حکمت ، علم کائنات اور نظم کائنات سے متعلق سات سو سے زیادہ آیات کی نشاندہی کی ہے اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  نے تو یہاں  تک فرمایا ہے کہ ایسے متعدد علوم بھی ہوسکتے  ہیں  جن تک نسل ِ انسانی کی رسائی  نہیں ہوسکی او رکتابِ الہٰی  پر تدبر کے بعد ان کا انکشاف ممکن ہے۔

شاعر مشرق علامہ اقبال کے بارے میں  کہا جاتا ہے کہ ان کے والد ماجد نے نو عمری میں اپنے بیٹے  کونصیحت کی تھی کہ قرآن حکیم کا مطالعہ یہ سمجھ کر کریں گویا یہ ان پر نازل ہوا ہے اور خدا خود ان سے ہم کلام ہے، اس نصیحت کے بعد اقبال نے کمال توجہ سے قرآن کا مطالعہ کیا تو اس کے اسرار ور موز ان پر منکشف ہونے لگے، برسوں کی غور و خوض کے بعد اقبال آخر کار اس نتیجہ  پر پہونچے کہ دنیا  کے سارے مسائل و مصائب کا علاج صرف قرآن  مجید ہے، اقبال کی اسی فکر کو جسے ایک جہاں  نے خراج تحسین  پیش کیا، بجا طور پر قرآنی فکر سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ، یہی فکر تھی جو شاعر ی کے لباس میں ایک آفاقی  پیغام بن کر آخر کار دنیا کے سامنے آئے ۔

سمجھنے اور غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ شعور آگہی کے  مسلسل سفر میں کسی طرح حائل نہیں ہوتا بلکہ  مظاہر کائنات کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے، اوٹاوہ یونیورسٹی کے فرانسیسی  پروفیسر  اور سرجن ڈاکٹر مورس بوکائلے کا تو دعویٰ ہے کہ ‘‘تخلیق  کائنات کے بارے میں آج جتنے بھی قابل فہم نظریات دنیا میں  رائج ہیں وہ سب قرآن حکیم کے بیان کئے ہوئے نظریہ  کے عین  مطابق ہیں اور یہ کہ قرآن پاک میں تسخیر  کائنات ، قدرتی تغیرات اور آسمانی مخلوق کے بارے میں  جو کچھ کہا گیا جدید سائنسی  تحقیق اسے تسلیم کرتی ہے’’ ، بوکا ئلے  نے اپنی کتاب ‘‘بائبل  ، قرآن اور سائنس’’ میں بھی  کہا ہے کہ قرآن  میں ایسی خبریں  موجود ہیں جو اس کے نزول کے وقت دستیاب نہیں تھیں  اور کچھ ایسے پہلو بھی  شامل ہیں جوچھٹی صدی مسیحی  یعنی طلوع اسلام کے وقت عوام الناس کے تصورات کے منافی تھے مثال کے طور پر روز قیامت انسانی اعمال کے حساب و کتاب کے بارے میں قرآن کے دلائل عقل کے گھوڑے دوڑانے والوں کے کبھی  گلے نہیں  اترے لیکن جدید تحقیق سے یہ واضح  ہوگیا  کہ انسان جن حرکات کا مرتکب ہوتا ہے وہ سب فضا بسیط  میں موجود رہتی  ہیں، ان کو ایک کیسٹ میں بھر کر محفوظ رکھا اور ضرورت کے وقت دیکھا یا سنا جاسکتا ہے ، سیٹلائٹ نظام کے ذریعہ ہندوستان میں انجام دیئے جانے والے کام ہزاروں  میل کے فاصلہ پر امریکہ، یوروپ اور افریقہ میں دیکھے جاسکتے ہیں تو کیا دنیا کا خالق و مالک اس پر قادر نہیں کہ وہ روز قیامت بندہ کو اس کے اعمال کا کیسٹ سناد ے جس  کو دنیا میں کراماً کاتبین (دونوں کاندھوں پر جو فرشتے ہیں) نے ٹیپ کر رکھا ہے اور بندہ  بے ساختہ  پکار اٹھے کہ مال ھذا الکتاب لا یغادر صغیرۃ ولاکبیرۃ الااحصاھا ( یہ کیسی کتاب (کیسٹ) ہے جو تمام چھوٹی بڑی  باتوں کو شمار کئے جارہی ہے) (سورہ کہف)

صدیوں پہلے قرآن حکیم نے فلکیات کے بارے میں  جو دعوے کئے تھے اور جن میں رات، دن، سورج، چاند اور ستاروں کو اللہ تعالیٰ کے حکم  سے انسانوں کےلئے مسخر کرنے کا مژدہ سنایا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ اجرامِ فلکی خلاء  میں تیر رہے ہیں اور محوگرش ہیں  ، آج سائنس نے اس کو تسلیم کرلیا ہے اور یہ بھی  مانتی  ہے کہ کسی  دن اجرام فلکی کی قوت و کشش  بگڑ جانے سے پوری دنیا برباد اور مخلوقات ہلاک ہوسکتی ہیں وہ قرآن کے الفاظ میں ‘‘روز قیامت ’’ ہوگا جس کی پیشن گوئی  اور منظر کشی سورہ ابراہیم ، سورہ انبیاء اور سورہ دخان میں کی گئی ہے۔

قرآن مجید میں سورج کو ایک روش چراغ اور چاند کو نور سے تعبیر کیا گیا ہے، سورہ الشمّس میں وضاحت کے ساتھ ارشاد باری تعالیٰ ہے  ‘‘ اور قسم ہے سورج  کی جو خوب روشن ہے اور چاند کی جو اس کے پیچھے  آتا ہے’’ یعنی روشن تو سورج ہے اور چاند کی روشنی  اس سے مستعار ہے، یہی جدید سائنس بھی کہتی ہے۔

انسان نے آج خلاء کی تسخیر کر لی اور چاند تک اس کے قدموں کی دھمک  محسوس ہورہی ہے جو دوسری اقوام کے لئے باعث حیرت ہوسکتا ہے لیکن حاملین قرآن کے لئے نہیں  کیونکہ اس کے امکانات کے بارے میں  قرآن پاک میں واضح اشارے  موجود ہیں ۔ سورہ رحمان میں انسانوں اور جنوں کے گروہوں  کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ‘‘ اگر تم زمین  و آسمان کے کناروں  سے نکل جانا چاہتے  ہوتو نکل جاؤ لیکن کسی زور کے بغیر نہیں نکل سکتے، مفسرین نے اس آیت کے لفظ ‘‘سلطان’’ کی تصریح زور ، علم اور ادراک سے  کی ہے، خلائی سائنس کے ادراک سے ہی انسان کو آج چاند تک پہونچنے کا موقع میسر آیا ہے۔

قرآن پاک کی ‘‘ سورہ فرقان’’ میں دو دریاؤں  کے مختلف  النوع پانی کے ملنے  کے باوجود اس کے ذائقہ و ہیئت کے مختلف ہونے اور ان کے درمیان ایک قومی حجاب  کا جو انکشاف کیا گیا ہے فرانسیسی  سائنس  داں کیسٹو اپنے بحری سفر کے دوران بحر احمر اور بحر روم کے سنگم میں اس کا مشاہدہ  کر کے قرآن کی حقانیت پر ایمان لاچکا ہے۔

آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت کے مطابق کسی شئے کی رفتار روشنی سے زیادہ یا اس کے برابر نہیں ہوسکتی اور اگر ایسا  ہوجائے تو اس کے لئے وقت ٹھہر جائے گا اور اس کی مادیت  اور اس کی توانائی برابر ہوجائے گی ، روشنی  کے برابر  رفتار 3 لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ  حاصل کرلینے  کے بعد کسی چیز کو لاکھوں کروڑ و کلو میٹر  کا فاصلہ طے کرنے میں چند لمحوں کا وقت لگے گا اور کیونکہ  اسلام میں روشنی یا نور کو ایک اہم مقام حاصل  ہے لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ معراج اب تعجب خیز نہیں  رہ گیا ۔

یہ اور اسی طرح  کے سینکڑوں واقعات و انکشافات ہیں  خواہ ان کا تعلق  کائنات کی پیدائش  سے ہویا فرعون کی نعش  کی قدامت  سے، علم حیات سے ہو یا علم طبعیات سے یہ  صحیفہ آسمانی ان کے بارے میں  ایک جامع  اور مکمل  تصور پیش کرتا ہے ، جو ثابت کرنے کے لئے کافی  ہے کہ قرآن حکیم کلام ِ الہٰی  ہے اور یہ کائنات کے اصولوں کو مادی  طور پر سمجھنے کا نام ہے اس لئے  سائنس کی صحیح  او رمسلمہ چیزوں اور قرآن کی تفسیر میں تضاد کاکوئی سوال ہی پیدا  نہیں ہوتا  کیونکہ مالک حقیقی کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوسکتا ۔ تضاد و غلط فہمی  حقیقت میں ہمارے  علم ناقص  کا نتیجہ  ہے۔

26 فروری، 2013  بشکریہ :روز نامہ  صحافت لکھنؤ

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-marzia-aarif--ڈاکٹر-مرضیہ-عارف/the-holy-quran--treasurehouse-of-wisdom--قرآن-حکیم-خزینۂ-علم-و-حکمت/d/10679

 

Loading..

Loading..