New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 07:31 PM

Urdu Section ( 5 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Sufi Movement Inspired Bhakti Movement in India صوفی تحریک نے ہندوستان میں بھکتی تحریک کو جنم دیا

 

 ڈاکٹر محمود اصلاحی، نیو ایج اسلام

18 مارچ، 2013

بھکتی تحریک قرون وسطی کے پورے ہندوستان میں ،  قادر مطلق وشنو کے اوتاروں ، راما اور کرشنا کی عقیدت میں، پھیل گئی جو کہ اس کا  بنیادی پیغام اور فلسفہ ہے اوریہ براہمنوادی سماج کے سطحی رواج اور رسومات اور ذات پات کے امتیازات کے خلاف بغاوت تھی ۔اس  تحریک کاقائد  رامانندتھا، جس نے سب سے پہلےرام کو سب سے بڑے رب کے  طور پر پیش کیا ۔ بعد کے سالوں میں، کبیر، روی داس، میرا بائی، چیتنیہ اور دیگر کئی کم مشہور صوفیاء  سامنے آئے اور اس تحریک کو ہندوستان میں دور دور تک پھیلا دیا ۔  راما نند کے بارے  میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 15ہویں صدی کے دوران گذرےتھے۔ اس تحریک نے  عام لوگوں کی سوچ میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کر دی، جو کہ بری طرح ذاتوں میں تقسیم تھے ، اور اچھوت، چھوٹی  ذاتوں کے خلاف ایک مقبول معمول تھا۔ بھکتی تحریک کے رہنماؤں نے سکھایا کہ یہ کسی شخص کی ذات نہیں  بلکہ اس کے اعمال تھے جو کہ اہم اور اخیر میں نتیجہ خیز تھے۔ کسی کے بھی انجام کا فیصلہ  اس کے اعمال کی بنیاد پر کیا جائےگا ،ان کی نسل، رنگ یا ذات پر نہیں ، اور کسی بھی  شخص کے اعمال اسے صرف اس کی نجات تک لے جائیں گے۔ وہ  ذات اعلی -وشنو کے چاہنے والے  تھے اور اپنی  عقیدت کے ذریعے ان کے ساتھ روحانی وصال  حاصل کرنے کی کوشش میں تھے ۔

اس تحریک نے  ان زمانوں کے لوگوں پر ایک گہرا اثر چھوڑا تھا، اور مساوات کا فلسفہ اور ذات باری کے تئیں محبت بھر ی عقیدت نے، ہندوستان بھر میں بہت سے ترجمانوں کو پیدا کر دیا  ۔ ان میں سے سب سے زیادہ بااثر کبیر تھے جو وسطی ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کا پیغام پورے ملک میں پھیل گیا تھا۔ ان کے دوہے (اشعار) انسانیت کے لئے سچی محبت  اور  خدا کے لئے عقیدت کے اصل پیغامبر تھے، اور تعصب، منافقت، اور معاشرے کی پیچیدگیوں کے خلاف باغی تھے ۔ انہوں نے ایک سادہ اور خالص زندگی گزاری، اور اپنے محبت اور عقیدت کے پیغام سے عوام الناس کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔

پوتھی پڑھ پڑھ جگ موا، بھئیا نہ پنڈت کوئے  

ڈھائی  آکھر پریم کا پڑھے سو  پنڈت ہوئے

( ضخیم کتابیں پڑھ کر کوئی پنڈت نہیں بنتا، بلکہ جو  محبت کے چار حروف کو پڑھ لے وہی پنڈت ہے )

یہ اسی نغمگی سے بھرے   پیغامات کی اپیل تھی  کہ وہ تمام پسماندہ اور اونچی ذات کے لوگ متحد ہو گئے، اور  امیر اور غریب کے درمیان کے خلا کو پر کر دیا تھا ۔ انہوں نے 1440 اور 1518 کے درمیان زندگی گذاری تھی، اور اس کے بعد ان کافرقہ کبیر پنتھ کے طور پر جانا جاتا ہے، جن کے پیروکار پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں ۔

بھکتی تحریک کے ایک اور روحانی رہنما سنت روی داس تھے اور وہ بھی 15ویں صدی کے دوران  گذرے ہیں ۔ انہوں نے بھی ایک مثالی دنیا کا تصور پیش کیا جہاں اونچ اور نیچ  امیر اور غریب کے درمیان کوئی امتیازی سلوک نہیں تھا ، تا کہ یہ دنیا ایک ایسی دنیا ہو،جہاں کوئی پریشانی اور مصیبت نہ ہو ۔ انہوں نےاپنی خیالی دنیا کا نام ‘بے غم پورہ ’ رکھا تھا، جس کا مطلب، پریشانی اور مصیبت سے آزاد دنیا ،  ہے۔ انہوں نے ایک اور لڑکی صوفی  میرا بائی کو متأثر کیا جو روی داس کو اپنا استاذ  مانتی تھی۔ انہوں نے 1498 سے 1557 تک زندگی گذاری، اور راجستھان سے تعلق رکھتے تھے۔

اگرچہ بھکتی تحریک شمال میں شروع ہوئی ، وہ  جلد ہی یو پی سے بنگال تک کے عام لوگوں کی سوچ پر چھا گئی۔ چیتنیہ دیو، مشرقی ہندوستان(بنگال، اڑیسہ، بہار اور آسام)  میں اس کے روحانی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ وہ بنگال میں نودیپ میں پیدا ہوئے ، اور پورے ہندوستان کا سفر کیا ، اور بھکتی کے پیغام کو پھیلایا ۔ ۔ وہ 1486 میں پیدا ہوئے اور 1534 نانک کی موت سے چار سال پہلےان کا انتقال ہوا۔ بنگال میں ان کی تعظیم کی جاتی ہے، اور کرشنا کے اوتار کے طور پر ان  کی پوجا کی جاتی ہے۔

پنجاب میں سب سے زیادہ طاقتور روحانی رہنما گرو نانک سامنے آئے، جنہوں نےسکھ مذہب کی بنیاد رکھی ۔ وہ بھی بھکتی رہنماؤں جیسے، کبیر، روی داس،جئے دیو  ، نام دیو اور صوفی بابا فرید کے پیغامات اور فلسفہ سے بہت متاثر تھے، اور گرو گرنتھ صاحب میں ان تمام صوفیوں کی شاعری اور بھجن کو شامل کیا۔ اس طرح بھکتی تحریک کے مختلف رہنماؤں نے،پنجاب سے بنگال اور مہاراشٹر سے دکن تک پورے ہندوستان کو جوڑتے ہوئے  اور متاثر کرتے ہوئے ، ایک روحانی سلسلہ قائم کیا ۔

اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ، ہندوستان میں  بھکتی فلسفہ نے ،بہت سے لوک مذاہب کو جنم دیا ۔ لیکن یہ بھکتی تحریک خلاء  میں نہیں شروع ہوئی ۔ نہ ہی بھکتی رہنماؤں پر یہ  فلسفہ، ایک بار میں ایک وحی کے طور نازل ہوا تھا۔ اس کی بنیاد  صوفی تحریک ہے ۔ بھکتی تحریک ہندوؤں کے درمیان ایک روحانی تحریک تھی، جس طرح تصوف مسلمانوں کے درمیان گزشتہ صدی میں ایک روحانی تحریک تھی ۔

چشتیہ  صوفی سلسلہ ہندوستان میں 12ویں صدی میں خواجہ معین الدین چشتی کے ذریعہ  قائم کیا گیا تھا۔ ان کا  انتقال 1230 میں ہو گیا۔ ان کے بعد ان کے شاگردوں نے اس سلسلے کو آگے جاری رکھا۔ ان کے شاگردوں میں، بختیاری کاکی ، بابا فرید گنج شکر اور حضرت نظام الدین اولیاءہیں ، جنہوں نے خدا سے محبت  اور صلح کل (سب کے لئے رحم اور محبت) کے  پیغام کو  پھیلایا ۔ حضرت نظام الدین اولیاء کے ایک مشہور شاگرد اور صوفی شاعر خسرو تھے، جن کا ہندوستانی معاشرے ، ادب اور اس کی ثقافت پر گہرا اثر تھا، اور انہیں جامع ہندوستانی ثقافت کے چیمپئن میں سے ایک کہا جاتا  تھا۔ انہوں نے بہت سی نظمیں، غزلیں، دوہے اور  پہیلیا ں لکھی ہیں، اور انہیں قوالی، خیال،اور طبلہ اور ستار کی طرح، آلات موسیقی کا موجد  بھی کہا جاتا ہے۔

دہلی یونیورسٹی میں ایک معروف ناقد اور اردو کے پروفیسر ڈاکٹر مولا بخش نے کہا  کہ کبیر خسرو کی شاعری اور  ان کے نظریات سے بہت متاثر تھے، جیسا کہ انہوں نے اپنے دوہوں میں، اپنے بہت سارے نظریات کو نقل کیا ۔ اصل میں، کبیر کے کچھ دوہے ، خسرو کی  شاعری کے تقریبا ترجمے ہیں ۔ حضرت بابا فرید گنج شکرنے  1266 میں وفات پائی، اور ان کے شاگرد خواجہ نظام الدین اولیاء 1325 میں نئی ​​دہلی میں انتقال کر گئے۔ امیر خسروبھی اسی سال انتقال کرگئے۔

اس طرح 13ویں اور 14ویں صدی نے ہندوستان میں صوفی تحریک کے قیام اور عروج کو دیکھا ہے۔ چشتیہ سلسلے اور دہلی کے آخری صوفی نصیرالدین چراغ دہلی 1356 میں انتقال کرگئے۔ برصغیر میں صوفیوں کا پیغام جو صلح  کل میں یقین رکھتے ہیں ہر جگہ  پھیل گیا  اور ہندوؤں اور مسلمانوں کو  فریفتہ کر گیا۔ مسلمانوں اور ہندوؤں، دونوں کے پسماندہ اور غریب طبقات کے  لئے ان کی شفقت اور ہمدردی کے ساتھ، وہ  تمام ذات اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے ایک نقطہ اتحاد بن گئے تھے ۔ ان کے پیغام نے ہندوستانی عوام کی اجتماعی نفسیات پر ایک پائیدار اثر چھوڑا ہے، جس نے  ہندو روحانی رہنماؤں کے درمیان اسی طرح کے ایک فلسفہ اور طرزفکر نے  بالآخر ہندوستان میں بھکتی تحریک کو جنم دیا ۔ بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 13ویں اور 14ویں صدی صوفی تحریک کا دور تھا ، 15ویں اور 16ویں صدی ہندوستان میں بھکتی تحریک کا دور تھا، اور یہ کہ بھکتی تحریک برصغیر کے صوفیوں سے متٔاثر تھی۔

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/dr-mahmood-islahi,-new-age-islam/sufi-movement-inspired-bhakti-movement-in-india/d/10807

URL for this article:

 http://newageislam.com/urdu-section/dr-mahmood-islahi,-new-age-islam-ڈاکٹر-محمود-اصلاح/sufi-movement-inspired-bhakti-movement-in-india-صوفی-تحریک-نے-ہندوستان-میں-بھکتی-تحریک-کو-جنم-دیا/d/11433

URL for Arabic article

http://newageislam.com/arabic-section/sufi-movement-inspired-bhakti-movement-in-india--أثر-الصوفية-علی-حرکة-بهاكتى-الھندیة/d/10994

 

Loading..

Loading..