New Age Islam
Thu Apr 30 2026, 03:30 PM

Urdu Section ( 26 Apr 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Pahalgam Terror Attack: There Is No Justification For The Killing Of Innocent People! بے قصوروں کے قتل کا کوئی جواز نہیں

ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد

25 اپریل 2025

دہشت گردوں نے پہلگام کشمیر میں مذہبی شناخت کی تصدیق کرکے ہندو سیاحوں کو اپنی گولی کا نشانہ بنایا۔ یہ غیر انسانی  اور وحشیانہ عمل انسانیت، اخلاقیات اور تہذیب کی کیا تعریف اور کونسا زاویہ پیش کر رہا ہے۔  آج مسائل کاحل قتل و غارتگری، ظلمو جبر،تشدد، تخریب کاری، دہشت گردی اور اسی طرح کے غیر انسانی طریقہ کار میں تلاش کیا جا رہا ہے۔ چو طرفہ ایسی ہی کیفیت ہے۔ انسانی ہلاکت اس وقت عام ہے۔ سب نے اپنے خود ساختہ جواز پیدا کر لئے ہیں۔ مسیحی،اپنوں کا قتل عام کر ر ہے ہیں۔ یوکرین میں دونوں طرف ایک ہی عقیدے کےپیرو کار ہیں، دس لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ شام، لیبیا، یمن، عراق،سوڈان،فلسطین میں لاکھوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ایک مسلمان دوسرےمسلمان کومار رہا ہے اور باقی سب بھی اس کو مار رہے ہیں۔ خون بہانے کی پیاس بجھ ہی نہیں رہی ہے۔ اسلحہ کی پیداوار اور خرید وفروخت کا بازار گرم ہے۔فرضی پھیلائی گئی کورونا وبامیں ایک کروڑ سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، مگر انسان اور انسانیت کے نفس پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ فریقین کو کہیں رضاکارانہ طور پر اور کہیں تجارتی بنیادوں پر اسلحہ کی فراہمی کا بازار پورے شباب پر ہے۔ انسان اور انسانیت کدھر جا رہی ہے؟

آج تمام جغرافیائی خطے کسی نہ کسی طرح براہ راست یا بالواسطہ جنگ و تشدد کا حصہ بنے ہوئے ہیں، بد قسمتی سے ہمارے اپنے وطن عزیز میں بھی مذہبی منافرت، فرقہ واریت، بقائے باہم کےاصول پر آنچ اور اکائیوں کےدرمیان اعتماد اور بھروسہ موضوع بحث ہے۔ آخر یہ دنیا کدھر جا رہی ہے اور ہم اسے کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ کوئی مجھے بتائے کہ پوری انسانی تاریخ میں جنگ، جارحیت، دہشت گردی یا حیوانیت کی کسی دیگر شکل اختیار کرنے سےآج تک کون سا مسئلہ حل ہوا ہے۔ہر جنگ کے بعد مذاکرات، مکالمہ، مفاہمت اور پھر امن معاہدہ، یہی سب دیکھتے آ رہے ہیں ۔وطن عزیز میں حال ہی میں منی پور میں تشدد کا جو گھناؤنا روپ ہم سب نے دیکھا،ماؤنوازکارروائیوں  کے نام پر تشدد اور فرقہ وارانہ فسادات میں ہزارہا معصوم انسانی جانیں، آج تک جس طرح گئیں، جموں کشمیر میں ہزارہا جانوں کا دہشت گردی کی نظر ہو جانا ہم بھولے نہیں ہیں۔ کس طرح کشمیری پنڈت جن کا آبائی وطن کشمیر ہے ان کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔ آج چھتیس برس ہو گئے صرف سیاست ہی ہو رہی ہے اپنے وطن میں ہی وہ بے گھر ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟

آج بنیادی گفتگو پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملےپر ہےجس میں۲۸؍ افرادحیوانیت کے نام پرلقمہ اجل بن گئے۔ اس سے گری اخلاقیات اور کیا ہوسکتی ہے کہ کوئی کسی سے اس کا مذہب معلوم کرکے اس کا قتل کردے۔ اس سے قبل ہم نے یہ افسوسناک مناظر ہجومی تشدد اور جب پنجاب دہشت گردی کی آگ میں جل اور جھلس رہا تھا تب دیکھے تھے، آسام نیلی میں ہزاروں مسلمانوں کاقتل عام ہوا، ملک نے ایک وزیر اعظم اور ایک سابق وزیر اعظم، سکھ سیاسی لیڈر لونگووال کو دہشت گردوں کے ہاتھوں کھویا، کشمیر میں نوے کی دہائی میں دہشت گردی کا جو ہولناک دور دیکھا وہ آج بھی ہماری یاداشت میں تازہ ہے۔

۲۰۱۹ میں آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ ۔اے کے ختم کئے جانے کے بعد وہاں حالات کو معمول پر لانے میں کئی برس لگے، صدر راج ہی چلتا رہا، صورتحال بڑی حد تک معمول پر آئی، انتخابات کے نتیجے میں سرکار بنی،سیاحوں کا آنا شروع ہوگیا، کاروبار بھی اٹھنے لگا، امن و امان کی کیفیت قدر اطمینان بخش ہوگئی، سرحد پار دشمن کی سیاست اور سفارتکاری دیوار سے لگ گئی، مسلم ممالک کی اکثریت نے اسکا ساتھ چھوڑ دیا، چین کی پالیسی میں بھی بنیادی تبدیلی نظر آنے لگی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ قابض کشمیر میں بھی شورش بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اب جب ہر فرنٹ پر شکست فاش ہو گئی تو پھر دہشت گردی اور وہ بھی اس گھناؤنے روپ میں کہ سیاحت جو جموں کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس کو سیدھے ٹارگیٹ کیا جائے پہلے امرناتھ یاترا اور یاتریوں کو نشانہ بنایا گیا مگر پہلگام کا واقعہ میری نظر میں کشمیر کی شہ رگ پر حملہ ہے۔

سیاح وہاں جاتا ہے جہاں امن و سکون ہو، جان مال، عزت آبرو کا خطرہ نہ ہو، وہ بے خطر ہوکر گھوم پھر سکے اور قدرتی مناظر کا بھر پور لطف اٹھا سکے۔ کشمیر کو زمین کی جنت تسلیم کیا جاتا ہے وہ ہماری ناک کی حیثیت رکھتا ہے۔ ناک سے سیدھے عزت نفس جڑتی ہے ۔اس پر حملہ پورے وجود پر حملہ مانا جاتا ہے اس سے قبل پلوامہ میں ہمارے بہادر فوجی جوان دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے اور اب پہلگام، یہ محض دہشت گردی کا ایک اور واقعہ نہیں ہے، دشمن زمین پر ہر حربہ آزما چکا۔ کل تک وہ کشمیر پر قبضے کا   خیالی پلاؤ پکاتا تھا۔ اب وہ اس قابل تو نہ رہا اب اس کی  فکرقابض کشمیر میں اس شورش کو لیکر ہے جو اس انتہا کی طرف رواں دواں ہے۔ جہاں اندرونی بغاوت وہاں کے عوام کو ہندوستان کی طرف فطری طور پر مائل کر رہی ہے۔ جب وہاں کا کشمیری ہمارے کشمیر کے بجٹ کا اپنے بجٹ سے موازنہ کرتا ہے تو اسے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ نظر آتا ہے، اداروں، سہولتوں، ترقی اور کاروباری مواقعوں کو دیکھتا ہے توفکری انتشار کا شکار ہوتا ہے ۔

اس واقعے سے یقیناً ہم سب کے جذبات بھڑکے ہوئے ہیں۔ بدلہ لیا جائے اور فیصلہ کن لیا جائے یہ عام رائے ہے۔ میری سوچ اس سے مختلف ہے میں ہمیشہ بڑے زاویے میں سوچنے کا عادی ہوں جس قلعے کو میں خود گرتا ہوا دیکھ رہا ہوں میں ایسا کچھ نہ کروں جس سے اس کےکھلے دریچے بھر جائیں!

وطن عزیز میں جتنی خوشحالی، خوشگواری، خیر سگالی اور خیر اندیشی کا یکساں بنیادوں پر دور دورہ ہوگا، اتنا ہی ہم اپنے اہداف کو بہتر اور جلد حاصل کر پائینگے وہ ملک جس میں انتخابات کے نتائج بدل دئیے جاتے ہیں، مقبول ترین لیڈر تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے، پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے، ملک بدر کر دیا جاتا ہے، جہاں عدلیہ، انتظامیہ،میڈیا اور قانون ساز ادارے ایک جنرل کی لونڈی بن جاتے ہوں، جس ملک میں فوج قومی دولت اور اداروں پر پوری طرح قابض ہو، سارانظام اسکے تابع ہو، جس میں سول بالادستی کا جب چاہے گلا گھونٹا جا سکتا ہو، ہزاروں شہری گمنام کر دئیے گئے ہوں وہ کتنے دن اور چلےگا؟ ہماری حکمت عملی میں چند چیزیں بالکل صاف رہنی چاہئیں۔ اول دہشت گردی پر زیرو ٹولرینس ہے، دوسرے مجرم کو سزا کا ملنا اور تیسرا دشمن کو مہذب دنیا میں مکمل بے نقاب کرنا۔ آج سارا ہندوستان ان پانچ اقدامات کو لیکر اپنی قومی قیادت کے ساتھ کھڑا ہے جو دشمن کی کمر توڑدینگے ۔سندھو آبیمعاہدے کی منسوخی، سفارخانے کا فوری بن کیا جانا، سفارتی عملے کی ۴۸گھنٹے میں وطن واپسی، واگہہ - اٹاری بارڈر کا بند کیا جانا اور پاکستانیوں کو ہندوستانی ویزے پر پابندی!

 ہندوستان اور اس کے فلسفہ حیات کی کچھ بنیادی خصوصیات ہیں جن میں مساوات اور پر امن بقائے باہم اس کی وہ افضل خوبیاں ہیں جو دنیا میں ہمیں منفرد اور ممتاز بناتی ہیں۔ ہر بیرونی سازش اندرونی کمزوری اور خلفشار کا منطقی انجام ہوتی ہے۔ پاکستان کس طرح دو ٹکڑے ہوا اور جرمنی کس طری دوبارہ ایک ہوا اس میں پڑھنے اور سمجھنے کو بہت کچھ ہے۔

میں وزیر اعظم اور انکی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد رکھتے ہوئے وطن عزیز کے ایک معزز اور محب وطن شہری کی حیثیت سے یہ بھروسہ رکھتا ہوں کہ ہمارا کوئی بھی قدم عارضی بنیاد پر نہیں اٹھایا جائیگا بلکہ طویل المدت اہداف کے کامیاب حصول کی روشنی میںاٹھایا جائیگا۔دہشت گرد ہمارے قومی و بین الاقوامی اہداف کوطے نہیں کر سکتے یہ ہم اور ہماری قیادت ہے جو وہ طے کریگی اور یقیناً وہ وہی کرے گی جو وطن عزیز کی آن، بان اور شان کی حفاظت کی ضامن ہی نہ ہو بلکہ ہمارے قومی  وقار کوبلند کرتی ہو۔

ایک سو چوالیس کروڑ شہریوں کا یہ جمہوری ملک تمام عالم کے لئے بقائے باہم کی زندہ مثال ہے۔ آئیے اس فخر کا حصہ بنیں، اس کو اپنی نس نس میں سمائیں اور ہماری طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو اس کی اوقات دکھانے کے لیے ایک ملک، ایک قوم، ایک وحدت، ایک عزم، ایک ولولہ، ایک سپاہی اور ایک جنرل کی طرح بن جائیں! دفن کریں ہر بھید بھاؤ کو ،وہ تمام لوگ جو اس دہشت گردی کا شکار ہوئے یا اس میں زخمی ہوئے ہیں وہ ہندوستانی ہیں ہندو مسلم کرنا دیش بھگتی نہیں ملک سے غداری ہے۔ ہر وہ شخص جو دہشت گردی یا وطن دشمنی میں ملوث ہے وہ ہمارا ساجھا دشمن ہے۔

-------------

 URL: https://newageislam.com/urdu-section/pahalgam-terror-attack-justification-killing-people/d/135319

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..