New Age Islam
Fri Feb 13 2026, 07:48 PM

Urdu Section ( 4 Jan 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Servant's Prayer to His God Almighty Is Undoubtedly Heard-Part-1 بندہ اپنے رب کو پکارتا ہے تو اس کی پکار ضرور سنی جاتی ہے

ڈاکٹر خواجہ محمد سعید

(حصہ اوّل)

23 دسمبر،2022

اس دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام او ران کی رفیقہئ حیات نے اپنی زندگی کا آغاز دعا سے ہی کیا جس کو ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:

”دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا او رہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے“۔(اعراف: 23)

تمام انبیائے کرام نے دعا کے سلسلے کو جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کا آغاز بھی دعا سے کیا۔ دعا کا مقصد روحانی اور قلبی مسرتوں کا  حصول او راس تڑپ کی تسکین ہے جو انسانی ضمیر میں بدرجہ غایت پوشیدہ ہے کہ اس وسیع و عریض کائنات میں کوئی ہماری پکار کو سنے، کوئی ہماری دعاؤں کو قبول کرے۔ اللہ وہ ہستی ہے جو بندوں کے مانگنے پر خوش ہوتا ہے۔ دعا کو سننے کا اختیار صرف اور صرف رب کریم کے پاس ہے۔ وہ پکار کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔ ارشاد بانی ہے:

”ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے او رجو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں او رہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔“(قٓ:16)

”تمہارا رب کہتا ہے“: مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل وخوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے۔“(المومن:60)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا عبادت کا مغز ہے“۔ (ترمذی) بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے تو اس کی  پکار ضرور سنی جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ دعا کب قبول ہوتی ہے۔ بعض اوقات انسان جو چیز طلب کررہا ہوتا ہے اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی او رانسان سمجھتا ہے کہ اس کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ ایسا ہر گز نہیں ہوتا۔ بعض دعا ؤں کو اللہ تعالیٰ اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے، اور انسان کے نامہئ اعمال میں ان کے بدلے اجر بڑھا دیا جاتاہے۔

دعا سے مراد اپنے ظاہر و باطن کو رضائے الہٰی کے تابع کرنا اور رضائے الٰہی سے متصادم نفسیاتی خواہشات کو ترک کرنا ہے کیونکہ نفس انسانی ساری کائنات پاکر بھی ھل من مزید کا نعرہ لگاتا ہے۔زندگی کا بہترین مقصد طمانیت قلب ہے۔ بارگاہ رب العزت میں جھکنے سے انسانی سیرت منقلب ہوتی ہے۔ دولت وثروت کی ہوس باقی نہیں رہتی۔ انسان کثافت سے نظافت،پستی سے بلندی اور ظلمت سے نور کی طرف آتا ہے۔زندگی میں فراغت و آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ جب ہم کیسی مصیبت میں ہوتے ہیں تو ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہوتاہے کہ رب العزت ضرور عنایت کرے گا او ریہ خیال بہت طمانیت آفرین ہے۔ قرآن پاک میں ہے:

”ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے (اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو) مان لیا ہے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتاہے۔ خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتاہے۔“(الرعد:28)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیا خوب دعا سکھائی ہے:

”پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیوں اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو۔“(البقرہ:201)

اس آیت میں قرآن پاک تین طرح کے لوگوں سے مخاطب ہے۔بعض لوگ صرف اپنی دنیاوی حاجات کی دعا مانگتے ہیں، انہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو صرف آخرت کی دعا مانگتے ہیں انہیں دنیاوی زندگی کی پروا نہیں ہوتی، او رتیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے مطلوب تیسری قسم کے لوگ ہیں جو آخرت کے ساتھ دنیا کی بھی فکر کرتے ہیں دنیا میں رہ کر ہی آخرت کی تیاری کرنی ہے۔

دعا کی فلسفانہ اہمیت

سرسید احمد خاں نے اپنے تصور مذہب میں دعا کے موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ وہ دعا کو عبادت ہی سمجھتے تھے۔ اپنے اس موقف کی حمایت میں انہوں نے یہ حدیث نقل کی ہے:”دعا عبادت ہے۔“(ترمذی) ان کے خیال میں دعا او رعبادت کی قبولیت کے ایک ہی معنی ہیں۔ جس طرح عبادت سے انسان کو روحانی او راخلاقی فائدے پہنچتے ہیں، اسی طرح دعا سے نفس انسانی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دکھ اور مصیبت میں دعا انسان کو تسکین دیتی ہے او رخدا سے تعلق پیدا کرنے او راسی طرف رجوع کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ تمام انبیاء کرام نے اللہ کے حضور دعائیں مانگی ہیں۔

قرآن پاک میں دعا کا جو تصور ملتا ہے، سرسید احمد خا ں نے اس تصور کو نفسیاتی نوعیت کا حامل قرار دیا او ران کے خیال میں دعا اور ندا دو مترادف الفاظ ہیں جن کے لغوی معنی پکار نے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو پکارنے سے انسان اس کی طرف متوجہ ہوتاہے، اور اس طرح انسان اللہ رب العزت کو حاضر و ناظر جاننے او راس کے برحق ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ جو بھی انسان اللہ کو پکارتاہے اللہ اس کی پکار کو قبول فرماتا ہے۔

فرائیڈ کے نزدیک بھی دعائیں نفسیاتی اہمیت کی حامل ہیں۔اس کا خیال تھا کہ جب انسان کو کسی ایسی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے جس سے وہ تمام طریقوں سے نپٹنے میں ناکام ہوجاتاہے تو دعا کا تصور اس کے ذہن میں ابھرتا ہے۔ اس نے اس تصور کو بچوں کے تجربات اور کردار سے تشبیہ دی ہے۔ اس نے اس تصور کو بچوں کے تجربات اور کردار سے تشبیہ دی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ جب بچہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے تو اپنے والدین سے تحفظ کی توقع کرتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ اس کے والدین اس سے زیادہ عقل او رقوت رکھتے ہیں۔ چیخ وپکار کے ذریعے یا والدین کی بات مان کر ان کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی ہمدردی او رمحبت حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح ایک باشعور انسان بھی اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہوئے اس عمل کو دہراتا ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک انسانی قلب کے لیے اس سے بہتر کوئی عقیدہ نہیں۔(جاری)

23 دسمبر،2022، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

-----------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/prayer-god-almighty-undoubtedly–part-1/d/128792

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..