New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 03:15 PM

Urdu Section ( 29 Jul 2011, NewAgeIslam.Com)

Muslim Women between Sharia and Tradition مسلم خواتین :شریعت اور روایت کے مابین

By Dr. Kausar Fatima

When I completed my Maulvi Degree, I had a book ‘Quran e Rejali Tafawwuq” which stated that in fact this world is created for the men and us women had a marginal role here. (Nauzo Billah). Litaskunu Alaiha. Had my education stopped there, for the rest of my life I would have taken Quran as a charter of patriarchal society.

When I made ‘Muslim Women’ my topic of research at Aligarh Muslim University in Ph. D, I got an opportunity of research and detailed study of all the Aayats (Quranic verses) and Rewayaats (traditions, Hadith) connected to women.

URL: https://newageislam.com/urdu-section/muslim-women-between-sharia-and-tradition--مسلم-خواتین--شریعت-اور-روایت-کے-مابین/d/5152


ڈاکٹر کوثر فاطمہ

جب میں عالمہ فاضلہ کی طالبہ تھی تو مجھے اپنے خدا سے بڑی شکایت تھی۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ اس نے ہم عورتوں کو ناقص العقل والدین کیوں پیدا کیا ۔ ہم پر وفرن ملی ہو تکن  کے  حوالے سے گھروں میں محصور رہنے کے ابدی پابندی کیوں عائد کردی ۔ مجھے اس بات کا بھی شکوہ تھا کہ مردوں کو ہمارے اوپر  قوام جس کا ترجمہ اپنے ذہنی رجحان کے مطابق آپ حکمراں ،نگراں یا انچارج جو بھی کریں ،کیو ں بنایا گیا ۔لفر جال علمھن درجہ کہہ کر دنیا کے ہر مرد کو خواہ وہ اخلاقی طو رپر کتنا ہی پست کیوں نہ ہو ہم عورتوں پر تفوق کیوں عطا کیا گیا ۔تر کے میں ہمارا حصہ مردوں سے کم اور گواہی میں ہمارا اعتبار مردوں سے آدھا کیوں رکھا گیا؟جب میں مکمل مولوی بن کر نکلی تو میرے نزدیک (نعوذ باللہ )قرآن رجائی تفو ق کی ایک کتاب تھی ایک ایسی کتاب جو مردوں کی بالادستی کا  منشور ہو، جو یہ بتاتی ہو کہ دنیا دراصل مردوں کے لیے بنائی گئی ہے، ہم عورتوں کاکا وجود یہاں ضمنی ہے۔ لنکو الھا کی تعبیر بھی ہم عورتوں کو مردوں کی سروس انڈسٹری کا حصہ بتاتی ۔ میں شاید زندگی بھر قرآن کو پدرانہ معاشرے کا منشو ر سمجھتی اگر میرا علمی سفر یہیں رک گیا ہوتا۔

علی گڑھ میں اپنی Ph.Dکے درمیان جب میں نے مسلم عورت کو اپنی محقیق کا موضوع بنایا تو مجھے عورت کے سلسلے میں ہر آیت اور ہر روایت کی تحقیق کا موضوع ملا۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جس عورت کو روایتی ذہن ناقص العلل والثمن بتایا ہے اسی عورت کو قرآن نے آسیہ اور مریم کی شکل میں تمام مومون مردوں او ر عورتوں کے لیے ‘قد’ وہ یعنی رول ماڈل قرار دیا ہے۔ اگر عورت  واقعتاً فطری طور پر ناقص العقل ولدین بنائی گئی ہے تو پھر عورت تو عورت مرد حضرات کو ان کی پیروی کی ترغیب کے کیا معنی ہیں؟ اس سوال کاک ذرا اور آگے بڑھا ئیے اگر المر جال شمھن ترجمہ ایک عمومی بیان ہے جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے تو میں دین مبحین کے شارحین سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا آج دنیا کا متقی شخص بھی حضرت عائشہ ؓ  یا حضرت ام سلمیٰ ؓ سے ایک درجہ آگے ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے ۔ کیا ہمارے علما واقعی سمجھتے ہیں کہ عورت ہونے کی حیثیت سے حضرت عائشہ قص العقل والدین ہیں۔جب آپ ﷺ حدیبیہ میں حضرت ام سلمیٰ کا مشورہ قبول کررہے تھے تو کیا اس بات سے ونستاً چشم پوشی فرمارہے تھے کہ وہ بحیثیت عورت ناقص العقل تھیں؟ مجھے اس بات پر خوشگوار حیرت ہوئی کہ قرآن کو رجائی تفوق کی کتاب سمجھنے میں میرے دل میں جو شبہات پیدا ہوئے تھے میں وہ پہلی خاتون نہ تھی،مجھ سے بہت پہلے صدر اول میں کچھ اسی قسم کے اعتراضات ام المومنین حضرت ام اسلمیٰ نے بھی کیے تھے ۔ ام سلمیٰ نے ایک دن رسو اللہ سےسوال کیا کہ اے خدا کے رسول کیا اللہ صرف مرد وں سے ہی خطاب کرتا ہے ۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سوال کے نتیجہ میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی ۔اِنَّ اُلَمسَلِمِینَ وَالَمُسَلِمَٰتِ وَاُلَمُوََمِنِینَ وَاُمُوََ مِنَٰتِ وَاُلَقَنِتِنَ (احزاب :35)۔تب مجھے معلوم ہوا کہ قرآن پر ، بلکہ کہہ لیجئے کہ اسلام پر ہم عورتوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مردوں کا ۔ جب میں اس آیت پر پہنچی کہ لِّلرِّ جَا لِ نَصِیبُ مِّمَّا اُکٓتَسَبُو ا وَلِلنِّسَآ نَصِیبُ مِّمَّا اُکتَسَبنَ (نسا 32)۔ تو میرے تمام شبہات جاتے رہے ۔خدا سے میری شکایت ختم ہوگئی کہ اب قرآن مجھے رجالی تفوق کی کتاب نہیں ، بلکہ انسانی مساوات اور حریت فکری کا منشور معلوم ہونے لگا۔ مجھے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ جس کتاب کی بدولت عورت کو اس شخصیت واپس ملی ،اسے مال کے بجائے انسان سمجھا گیا، اسی کتاب کی رجالی تعبیر نے آگے چل عورتوں سے اس کے اسلامی حقوق ،بلکہ بنیادی انسانی حقوق چھین لینے کی کوشش کی۔ مردوں نے یہ کام تعبیرات کے ذریعہ کیا یا جھوٹی تراشیدوروایات کے ذریعہ ۔کبھی گھوڑ ا گھر اور عورت کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا ، کبھی انہیں نقص العقل والدین بتایا اور یہ بھی نہ سوچا کہ ان روایات کی زوآمیہؓ ،مریم ،خدیجہؓ ، عائشہ ؓ اور ام سلمیٰ ؓ ہی پرنہیں پڑتی ،بلکہ اسلام کا آفاقی پیغام بھی اس کی زد میں آجاتا ہے ۔ حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ حدیث کے جھوٹے راویوں میں بے شمار مردوں کے نام دکھائی دیتے ہیں ،لیکن ایک عورت بھی جھوٹی روایت کے لئے معجم نہیں کی جاسکتی۔ بے چاری عورتیں مثبت الٰہی کے سبب ایسا کر بھی نہیں سکتی تھیں سودہ پیچھے رہ گئیں ۔نتیجہ یہ ہوا کہ شریعت نے عورتوں کو جو کچھ عطا کیا تھا، مردانہ تعبیرات اور مردانہ رو ایت سازی نے وہ سب کچھ بڑی ہوشیاری سے اس سے چھین لیا ۔نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری نصف آبادی تو عملاً معطل ہے یا بے شعور مردوں کی تابع ومہمل ۔

ہندوستان جہاں مسلمانوں کو ایک تکثیری معاشرے کا سامنا ہے وہاں مسلم عورت کے حقوق کی سلبی اور بھی تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ ہندوستانی مسلم خواتین کے لیے روایتی علما کی قیل وقال کنفیوژن میں مستقل اضافہ کا سبب بنتی رہی ہے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے آپ نے فتویٰ سنا ہوگا کہ عورتوں کا گھروں سے باہر کام کرنا ناجائز ہی نہیں بلکہ حرام بھی ہے۔ہمارے شارحین نہ جانے کیوں پوری آیت پڑھنے اور اس کی اصل سیاق وسباق میں سمجھنے کے قائل نہیں۔وفرت فی اوتکن کا حکم نسا النبی کے ساتھ مخصوص ہے جس کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ وہاں وحی نازل ہوتا اور نبی وقت علم وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ آج بھی اگر کوئی ایسا گھر ہو جہاں وحی کا نزول جاری ہو اور رسولؐ اللہ کا ساتھ بھی موجود ہوتو میں تو کہتی ہوں کہ عورت ہی کیا ایسے گھر میں تو مردوں کو بھی قیامت تک کے لئے جم کر بیٹھ جانا چاہئے کہ بھلا اس سے نادر او رسنہری موقع اور کیا ہوگا۔ لیکن جن گھروں میں عورتوں کو علم وحکمت سے دور اور باورچی خانہ تک محصور رکھا گیا ہو اور جہاں خالی اوقات میں ساس بہو کے سیریل دیکھنے کے علاوہ کوئی اور مشغلہ نہ ہو ایسے گھروں میں جمے رہنے میں مجھے تقوی ٰ شعاری کا کوئی پہلو نہیں دکھتا ۔سچ پوچھیے تو ہم ایک علمی اور فکری تضاد کے شکار ہیں۔ ایک طرف تو ہم ومرن ملی ہوتکن کے حوالے سے عورتوں کو سماجی منظر نامہ سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں ،لیکن دوسری طرف دیندار مردوں کی خواہش یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کی بیوی اور بہو بیٹیوں کا علاج لیڈی ڈاکٹر کرے۔ اب کوئی پوچھے کہ اگر آپ کی تعبیر پر تمام مسلم خواتین نے عمل کیا ہوتا تو خاتون مسلم ڈاکٹر ، ٹیچر اور مصنفہ کہاں سے آتیں؟ اور آج جو میں اس قابل ہوئی کہ آپ کے سامنے نست کی بیٹیوں کا مقدمہ رکھ سکو ں یہ کیسے ممکن ہوتا؟

خدانے جنباب کا حکم دیا ہم نے برقعہ بنا ڈالا اور وہ بھی ایسا جس کے پیچھے مسلم عورت کا چہرہ اور اس کی شخصیت اور شناخت چھپ کررہ گئی ۔ ہم اصو لی طور پر چہرہ اور ہتھیلیوں کو ستر ماننے کے قائل نہیں، لیکن سماجی دباؤ کو جبراً اتنا سخت ہے کہ ہماری دینی بہنیں یا تو معاشرے کے خوف سے یا اپنے مردوں کے خوف سے چہرہ کھلا رکھنے کے شرعی حق سے محروم ہیں۔حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ حج جیسی عبادت میں جہاں لاکھوں کا مجمع ہوتا ہے چہرہ کا کھلا رکھنا ضروری ہے ۔ جب تک عورتوں کا چہرہ کھلا رہا وہ اس پوزیشن میں تھیں کہ وہ حضرت عمر ؓ جیسے بار عب خلیفہ کو برسر منبر ٹوک دیں اور راوی یہ لکھے کہ جس عورت نے عمر ؓ کیے بر سر منبر سرزنش کی تھی وہ ایک چینی ناک والی عورت ۔ سکینہ نت حسین کے مثالی حسن سے کون واقف نہیں لیکن تب کسی کو یہ ہمت نہ ہوئی ک ان پر غط غط کی آواز لگاتا جیسا کہ آج سعودی عرب میں ایک شریف عورت کے کھلے چہرے کو دیکھ کر امریا المعروف والے کرتے ہیں ۔اگر سماجی منظر نامے پر عورتوں سے مشاورت ،جیسا کہ حضرت عمرؓ نے ان سے کیا تھا اور جنگوں میں ان کی شمولیت ممکن نہ ہوتی۔ عورت کو اس کے حقوق سے محروم کر کے ہم اپنی عظیم الشان تاریخ کے انکاری ہوں گے۔

امام غزالی نے احیا العلوم میں لکھا ہے کہ جو شخص عورت کے مشورہ پر چلے گا وہ جہنم میں اوندھا ڈالا جائے گا۔ حضرت عمر ؓ کے حوالے سے انہوں نے ایک روایت لکھی ہے کہ عورتوں سے مشورہ ضرور کرو لیکن اس کا الٹا کرو کہ ایسا کرنے میں برکت ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتاکہ حضرت ام سلمیٰ ؓ کے مشورے پر رسولؐ اللہ نے اس وقت عمل کیا جب بڑے بڑے مردوں کے مشورے کام نہیں کررہے تھے۔ ملکۂ سبا کے مشورے پر چل کر پوری قوم امنت ارب مسلمان پکار اٹھی۔ لیکن پھر بھی عورت سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ حساس امور سے دور رہے ۔روایتی دینداری تو صرف اس عورت کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرتی ہے ،جیسا کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے کہ لکھنؤ کی ایک بی بی جن کے میاں اکثر کوٹھے پر مجرا سنتے اور زیادہ وقت وہیں گذارتے تھے وہ اس بات پر احتجاج کرنے کے بجائے اتنی تابعدارتھیں کہ انہیں وہیں کوٹھے پر کھانا بنا بنا کر بھیجا کرتی تھیں اور بقول مولانا اشرف علی تھانوی ،تمام خلق میں اس نیک بی بی کی تابعداری اور نیک مزاجی کا چرچا تھا۔ جب تک ہمارے درمیان ٹیک بیبیوں کی نسل باقی رہ گی مردوں کی اصلاح کی کوئی ترکیب کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ ہمیں چپکے  سے ان کے کانوں میں بتانا ہوگا کہ قرآن میں نا لقا لحات قائنات سے مراد خدا کی فرمانبرداری ہے شوہروں کی غیر مشروط فرمانبرداری نہیں ۔

ہمارے خیال میں مسلم عورتوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلم مردوں کی تربیت کا کام خود اپنے ہاتھوں میں لینا ہوگا۔ مردانہ وعظ وتلقین بہت سن لیا گیا۔ چہرہ ڈھکنے کی بھی بہت تلقین ہوگئی اب غصو اصر سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ پورے مسلم سماج کو ایک منظم اکائی کے طور پر پھر سے متحرک کرنے کے لئے الازم ہے کہ صرف مسلم عورت کا نہیں بلکہ مسلم مرد کا بھی خدائے تقویٰ شعاری کاک رشتہ قائم ہو جبھی وہ معاشرہ قائم کرسکے گا جب ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکیں گے کہ والمومنون المومنات ‘‘بعضھم  اولیا بعض (توبہ :۷۱)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/muslim-women-between-sharia-and-tradition--مسلم-خواتین--شریعت-اور-روایت-کے-مابین/d/5152

 

Loading..

Loading..