New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 07:04 PM

Urdu Section ( 20 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

A Call for Rethinking Islam اسلام پر از سر نو غورفکر کی ایک دعوت: فاضلات مدارس کا مطالعہ

 

ڈاکٹر کوثر فاطمہ، نیو ایج اسلام

29 اگست 2016

ایک کلیۃ البنات کی فاضلہ ہونے کے ناطے میں نے کسی بے بنیاد مفروضہ نہیں بلکہ اس مضبوط یقین کے ساتھ اپنا کام شروع کیا ہے کہ مدرسے کے نظام میں کچھ سنگین خامیاں ہیں۔در حقیقت خود راقم الحروف کے ساتھ ذاتی طور پر ایسے ناگوار حالات پیدا ہوئے ہیں جن کی وجہ سے میں نے تحقیق کے لئے اس موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ تاہم، ایک ماہرِ سماجیات ہونے کے ناطےمجھے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ محض مضبوط احساسات یا ذاتی تجربات کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیےکافی نہیں ہیں۔ لہذا میرے ذاتی جذبات نے مجھے عملی نتائج کا راستہ دکھایا ہے۔

لہذا، اس کے بعد میں نے خود سے یہ سوال پوچھنا شروع کر دیا ہے کہاگر ہندوستان میں صرف خواتین کے مدرسوں اور کلیۃ البنات کے بارے میں میرے احساسات واقعی حقائق پر مبنی ہیں تو وہ حقائق کیا ہیں؟ ایک محقق کے طور پر بجنور، دہلی، اعظم گڑھ اور رام پور میں کلیات البنات کا دورہ کرنےاورایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے وہاں کا سفرکرنے اور کچھ خاص مواقع پر بات چیت کرنے پر میں نے اس کا ایک نیا معنیٰ دریافت کیا ہے۔ میرے لئے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں ایک ممکنہ تحقیق کا موضوع ہیں،اور ان کے دماغ کو پڑھنے سے مشکل مسائل کے حل ہونے اور ان کی امیدوں اور امنگوں کو سمجھنے میں کامیابی کا امکان ہے۔یہاں تک کہ علی گڑھ، دہلی اور دوسری جگہوں پر قومی سیمناروں میں میری شرکت میں بھی ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوئی ہے،کہ جہاں میں نے ایسی غیر رسمی بات چیت کے دوران مسلم خواتین کے مسائل کو اٹھایا ہے، جہاں اکثر ایسے پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔برقعہ کے اندر سے اپنی خواتین ہم نشینوں سے بات چیت کرنے کے بجائے جو کہ مسلم خواتین کے لیے تکلیف کا باعث ہے، اب میں سوال نامہ کی کاپیاں ان کے حوالے کروں گی۔میں نے محسوس کیاہے کہ ایک فاضل مدرسہ کی حیثیت سے میری گزشتہ تحقیقات کے مقابلے میں ایک محقق کے طور پر میرا یہ نیا میدان عمل مزید تکمیل پذیر اور صلہ بخش تھا۔ان میں سے اکثر نےبے تابی کے ساتھ اس منصوبے میں میری مدد کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اپنے چہرے پر ایک مسکراہٹ کے ساتھ سوال نامہ حاصل کیا۔اگرچہ پانچ سو یا اس سے زیادہ سوال ناموں میں سے جو میں نے اب تک تقسیم کیے تھے، پچاس سے زیادہ سوال نامے میرےپاس واپس نہیں آئے، ان کے کچھ تبصروں نے میری فہم و فراست میں اضافہ کیااور مستقبل میں تحقیق کی نئی راہیں ہموار کیں۔مجھے لگتا ہے کہ ہر سوال نامہ نےایک منفرد طالبہ کے ایک منفرد تجربہ سے مجھے متعارف کرایا۔اگرچہ،میں نےاسی کیمپس میں اپنے اسکول کے ایام گزارے ہیں لیکن میں نے کبھی بھی نہیں سوچا کہ ان اداروں میں شانہ بشانہ اتنی ساری چھوٹی چھوٹی دنیا آباد ہےاور وہاں کی طالبہ مختلف ذہنیت کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر رہی ہے۔ مجھے کبھی یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ ان طالبات کےذہنی تخیلات اور جذبات اتنے وسیع تھے اور میرے ساتھ رہنے والی لڑکی کے خواب اتنے بڑے تھے۔

بڑےخواب اگر پورے نہ ہوں تو اس پر مایوسی اور غصہ بھی اتنا سخت ہوتا ہے۔یہ مدارس کا ایک خطرناک پہلوہے جس کی طرف اب تک کسی کا دھیان نہیں گیا۔ حال ہی میں ممبئی سے کچھ طالبات نےاپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کے بارے میں مجھے لکھا جس کا اختتام ایک بڑی حد تک عالماؤں کی ذہنی اذیت اور حقیقت پسندی پر ہوتا ہے:

وہ کہتے ہیں کہ دنیا اب ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے جو نئے خواب اور نئے مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ وقت تیزی کے ساتھ چل رہا ہے اور لوگ وقت سے بھی زیادہ تیزہوچکے ہیں۔جو لوگ اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے کچھ عظیم کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے بہت سارے دروازےکھلے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ مدرسہ سے فارغ التحصیل خواتین جو مدارس میں اپنی زندگی کے قیمتی سال گزارتی ہیں وہ اس اپاہج تعلیمی نظام کے مضر اثرات سے آگاہ نہیں ہیں۔یہ سچ ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرتی ہیں اور بزعم خویش وہ سب سے بہتر تعلیم حاصل کرتی ہیں اس لیے کہ یہ تعلیم ایک مذہبی قدرکی حامل ہے جو کہ آخرت میں کامیابی کے لئے سب سے اہم اور ضروری ہےخود اپنے حق میں وہ خدا کا ایک نمائندہ بن جاتی ہیں جسے معاملات کو درست کرنے کے لئے خدا نے مقررکیا ہے۔لیکن یہ مکمل سچائی نہیں ہے۔یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے جبکہ تصویرکا دوسرا رخ روشن نہیں ہے۔ جب ہم مدارس کی فارغ التحصیل خواتین عملی طور پردنیاوی معاملات میں داخل ہوتی ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ اس نئے عالمی گاؤں میں ہم صرف حاشیہ نشین ہی بن کر رہ سکتی ہیں۔یہاں،جہاں بانی کے قوانین مختلف ہیں اور ہم نے اپنے مدرسوں میں انہیں نہیں سیکھا ہے۔روزگار کی دنیا میں ہماری قابلیت کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ ہم مکمل طور پر خسارے میں ہیں۔ ہم جا کہاں سکتے ہیں اور ہم کر کیا سکتے ہیں؟ غالبا ہم بھیک مانگنےکے سوائے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن وہ بھی کوئی آسان کام نہیں ہے اور خاص طور پر ان کے لیے جو خدا کی سپاہی بن کر دنیا کو تبدیل کرنےکا ارادہ رکھتی ہیں، جبکہ ان کے اندر گزر بسر کرنے کے لیے بھیک مانگنےکی بھی صلاحیت نہیں ہے۔اگر مدارسہ میں روزگار سے متعلق کورسز فراہم نہیں کر سکتے تو بھیک مانگ کا ہی کوئی کورس کیوں نہیں فراہم کر دیتے؟ .......میں جانتی ہوں کہ میں خود اپنی مادر علمی پر سخت تنقید کر رہی ہوں لیکن میں اورکس طرح اپنے گہرے درد اور غم کا اظہار کر سکتی ہوں؟

..............................کلیۃ البنات کی ایک فارغ التحصیل کے جذبات، ممبئی، 18 فروری، 2013

میرے پاس اس قسم کی دردناک کہانیوں کا انبار جمع ہو رہا ہے اس لیے کہ اس طرح کے خط و کتابت کرنے والوں کے ساتھ میرے تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ کبھی کبھی جب فون کے دوسرے سرے پر کوئی عملی دنیا میں اس اذیت ناک حالت اور غم و اندوہ کو بیان کرتی ہے تو مجھے بھی رونا آ جاتا ہے۔معاملات قابو سے باہر اس وقت ہوتے ہیں اور جذبات میں طلاتم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اندراسلامی تعلیم کے نام پر تو محض فرقہ ورانہ تاثر پیدا کیا گیا ہے، اور خدا کی نمائندہ بننے کے جذبہ میں وہ کسی خاص فرقے کا ترجمان بن چکی ہیں۔میرا سامنا ایسی بہت سی خواتین سے بھی ہوا ہے جنہوں نےنئے سرے سے اپنی تعلیم کا آغاز کیااور ایک کے بعد ایک امتحان میں شامل ہوتی گئی ہیں۔ اور یہ ان کے لیے ایک دشوار کن سفر رہا ہے۔ ان کی ذاتی سرگزشت کا ایک تجزیہ بہت سے زندگیوں کوروشن کر سکتاہے۔

اس عنوان پر کتابوں اور مواد کا تجزیہ:

جیسا کہ چند گمراہ کن مضامین اور ایک ڈچ عورت [میرک ونکلمن(Mareike Winkelmann)] کی کتاب (From Behind the Curtain: A Study of A Girls’ Madrasa in India) کے علاوہ کوئی قابل ذکرمواد خواتین کے مدارس اور کلیۃ النبات پر موجود نہیں ہے اسی لیےبالعموم مدارس کے نظام پر ایک بڑی تعداد میں کلاسیکی مواد کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، جبکہ عربی، اردو اور انگریزیزبانوں میں کارآمدمواد کی تلاش سے میری اس خیال کو تقویت ملی کہ میں کچھ نیا کر رہی ہوں اسی لیے مجھے اپنی ساری توجہ عملی اور نتیجہ خیز مواد کو جمع کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔

اس تحقیق طریقہ کار:

اس تحقیق میں تحقیق کے نوعی اور مقداری دونوں طریقہ کار کو شامل کیا گیا ہے۔اس تحقیق کا بنیادی مواد فیلڈ ورک؛سوال ناموں، متعلقہ اداروں کا دورہ، جدیدیونیورسٹیوں اور اداروں میں خواتین کے مدارس سے فارغ التحصیل طالبات سے میٹنگ اوران کیایسی ذاتی سرگزشتوں پر مبنی ہے جو اکثر جذبات اور اضطراب سے بھرے ہوئے ہیں۔وہ سوال نامے مدرسے سے فارغ التحصیل ان خواتین کو بھی پیش کیے گئے تھےجو مزیداعلیٰ تعلیم کے لیے جدید اداروں تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔بہتر پہنچ اور بہتر ردعمل کے حصول کے لیے سوال نامے اردو زبان میں بھی دستیاب کروائے گئے تھے۔ سوال ناموں کا مقصد زیادہ سے زیادہ معلومات دریافت کرنا تھا:

اس میں سیکولراداروں اور مذہبی (مدرسوں) کے تعلیمی نظام کا موازنہ اورمدرسہ کی فارغ التحصیل کےلیےعالمی بازارمیں روزگار کے امکانات کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ مدرسہ سے فارغ التحصیل خواتین کی امنگوں کا جائزہ لیا جا سکے تاکہ یہ معلوم ہو کہ وہ کون سی روکاوٹیں ہیں جو انہیں معاشرے میں ان کی شرکت سے یا ایک قائدانہ کردار ادا کرنے سے مانع ہیں۔ ان کی متعلقہ مادر علمی کے لئے ان کی تجاویز کیا ھیں؟اور ایک مرتبہ جب وہ جدید تعلیمی نظام کا حصہ بن جائیں تو وہ اپنے لیے کس طرح کا کردار ادا کرنے کا تصور رکھتی ہیں؟

مذکورہ بالا تحقیق کے طریقہ کار کی جانچ کرنے کے لئے سب سے پہلے ایک مقدمہ مرتب کیا جائے گا تاکہ ان سوال ناموں اور سوال نامہ حاصل کرنے والوں کی طرف سے موصول ردعمل کی نتیجہ خیزی اور اثر انگیزی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

اب تک میں نے ان جواب دینے والوں کے مواد سے جو کچھ حاصل کیا ہے اسے مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔

جب تک وہ طالبات اسلامی مدارس میں رہتی ہیں ان کے دماغ میں باہر کی دنیاکی ایک دقیانوسی تصویرموجود رہتی ہےجو کہ ان کی رائے میں ناپاکی اور برائی کا مجموعہ ہے۔ان کا خیال یہ ہوتا ہےکہ کسی جدیدتعلیمی ادارہ میں داخل ہونے سے ان کی اسلامی شناخت میں ایک واضح تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔

باہر کی دنیا اور خاص طور پر جدیدیونیورسٹیوںمیں تعلیم حاصل کرنے والوں کی نظر میں برقعہ پوش مدرسہ سے فارغ التحصیل طالبات کی ایک دقیانوسی تصویرپائی جاتی ہے۔ ان کے لئے مدارسسے فارغ التحصیل خواتین کند ذہن،انتہاء پسند اور قدامت پرست ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ مدارس کے اندر ایک اندرونی بحث بلکہ ایک شدید نظریاتی جنگ بھی جاری ہے۔اس لیے کہ ہندوستان میں مسلم معاشرے دو مخالف گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔عمردراز اور بزرگوں کا طبقہ یہ چاہتا ہے کہ مدارس کے نصاب کی جدید کاری کی جائے، جبکہ دوسرے گروہ کا یہ ماننا ہے کہ مدارس کے نصاب میں کوئی بھی تبدیلی مدارس کو اس کے نظریاتی مواد سے محروم کر دے گی۔

جبکہ مذہبی علم کی نوعیت کے بارے میں بیسویں صدیکی ابتدا میں شروع ہونے والا بحث و مباحثہ اب تک جاری ہے۔ کچھ صاحبان علم کا خیال ہے کہ علم ایک ناقابل تقسیم شئی ہے۔ دینی اور دنیاوی یاشرعی اور غیر شرعی میں علم کی درجہ بندی کی اسلام میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ لیکن جب خواتین کے مدارس کی بات آتی ہے تو یہ بحث و مباحثہ ایک مختلف رخ اختیار کر لیتا ہے اس لیے کہ ان کے بانی ان اب بھی ان کے فارغ التحصیل کے سماجی کردار کے بارے میں واضح نہیں ہیں۔ شایدانہوں نے اپنےخواب میں بھی کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ جن خاتون علماء کو انہوں نے پیدا کیا وہ ایک دن جارحانہ انداز میں اپنا ایک سماجی کردار تلاش کریں گی یایونیورسٹی میں کسی سیکولر کورسز سے جڑ جائیں گی۔

جبکہ دوسری طرف روایتی مسلم مجالس کےاندرجو کہ بنیادی طور پر مسلم علماء پر مشتمل ہے یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا شرعی اعتبار سے ایک مسلمان عورت کو خود کے لئے ایک سماجی کردار تلاش کرنا چاہئے۔ کیا انہیں ایک قاضی یا مفتی بننے یاعقد نکاح انجام دینے اور ایک جماعت کی امامت کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟

یہ قبل از وقت نتائج الگ، اس سروے نے محققوں کے اندر ایک نیا رجحان پیدا کر دیا ہے۔یقیناً لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ جے پور کے جامعۃ الہدایہ جیسے لڑکوں کے کچھ مدارس خود کے اندر جدیدیت پیدا کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پرجامعۃ الہدایہ میں کمپیوٹر کی ایک مناسب تعلیم دی جاتی ہے اور اس کے کیمپس میں ایک پولی ٹیکنیک کا بھی شعبہ ہے۔میں ممبئی کے مرکز معارف اور بنگلور کے درس السرور جیسے مدرسوں کو بھی جانتی ہوں جہاں صرف فارغ التحصیل طلباء کو ہی بِرِج کورسز (Bridge courses) کی پیشکش کی جاتی ہے۔ایسا اس لیےہے کہ بنیادی طور پر مرد علماء کے سماجی کردار کے بارے میں کوئی الجھن اور کوئی خفاء نہیں ہے۔لیکن اس سروے کے دوران لڑکیوں کے مدارس سے بھی آنے والی کچھ اچھی خبروں نےمجھے حیران کر دیا تھا۔جہاں حالیہ برسوں میں بنیادی نصاب میں کچھ تبدیلیوں پر بھی زور دیا جا چکا ہے۔ مثال کے طور پر رام پور کے جامعۃ الصالحات میں کہ جہاں سے خود میں نےفراغت حاصل کی ہےVIIIجماعت تک این سی ای آر ٹی (NCERT) کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ حیدرآبادکی جامعۃ البنات بھی قابل ذکر ہے۔اس لیے کہ یہ اپنے طالبات کو بیک وقت اسکول کے امتحانات کے لئے بھی تیار کرنے کا انتظام کرتے ہیں۔یہاں اسکول (NCERT) کے نصاب کو مدرسہ کے نصاب کے اندر ہی شامل کر لیا گیا ہے۔ اور آخر میں وہاں کی طالبات +2 کے امتحانات میں بیٹھتی ہیں اور پھر عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے کے امتحان میں بھی شامل ہوتی ہیں۔یہ ادارہ اپنے طالبات کوہیومینٹیز اور سوشل سائنسز میں پیش کردہ بہت سے کورسز کاانتخاب کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے اور اس طرح کی مزید حیرت انگیز تبدیلیاں متوقع ہیں۔

کچھ اشارے:

کچھ ایسے اشارات کایہاں ذکر کرنا شاید سیاق و سباق سے باہر نہیں ہو گا جنہوں نے اس تحقیق کے دوران میری رہنمائی کی ہے۔

ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیےکہ مدارس کے تعلیمی نظام کا مقصد صرف علوم شرعیہ یا اسلامی تعلیمات کا حصول ہے۔یہ خود اپنے آپ میں ایک ناقص تصور ہے۔اس لیے کہ اسلام میں علم ایک ناقابل تقسیم حقیقت ہے۔ حکمت ہمارا ایک مشترکہ ورثہ ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک مومن کو یہ ورثہ جہاں کہیں سے بھی ملے اسے حاصل کر لینا چاہئے۔ لہذا دینی مدارس کو اپنے اس نظریہ کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔پوری اسلامی تاریخ میں سیکولر اور مذہبی دونوں علوم کو ایک ہی مانا گیا ہے۔لیکن مسلم حکومت کے زوال کے بعد کچھ علماء نے بنیادی طور پر اس اسلامی ورثے کے تحفظ کے لئے مدارس کا قیام شروع کیا۔یہ ایک ہنگامی اقدام تھا جسے بعد میں خالص مذہبی تعلیم کے لئے متعین کر دیا گیا۔ لہذا اس کے نصاب یا تدریس کے طریقہ کار کے ساتھ کوئی حرمت منسلک نہیں کیا جانا چاہئے۔ اب، ہم ایک مختلف دور میں رہ رہے ہیں اور یہ ہم سے ایک مختلف رد عمل کا متقاضی ہے۔

خوداپنے حق میں دین بہت اہم ہے اور ہمیں تمام مذاہب کا احترام کرنا چاہئے۔ مسلمان ہونے کے ناطےمذہبی تعلیم حاصل کرنا ایک اچھی بات ہے۔مجھے لگتا ہے کہ مدارس ان لوگوں کی خواہش کو پوراکرتے ہیں جو اسلام کے بارے میں جاننے کا شوق رکھتےہیں اور اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے کہ اکثر مدارس اسلام کے ایک فرقہ وارانہ نقطہ نظر کی تعلیم دیتے ہیں۔وہ اسلام جو کہ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک کھلی دعوت اور امن و سکون کا گہوارا ہے اور وہ اسلام جو رنگ، ذات، نسل یا مذہب سے قطع نظر خدا کے تمام بندوں کی بات کرتا ہےاب مدارس کے نصاب کا حصہ نہیں رہا۔ان مدارس میں ایک مسلمان خدا کی عبادت کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہاں مسلمانوں کے اسلام(نہیں) بلکہ سنیوں یاشیعوں یا وہابیوں اور حنفیوں کےاسلام کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسلام کا آفاقی پیغام کھو چکا ہے۔ لہذا، مدرسہ کے نصاب یا مدرسے کے نظام تعلیم کا از سر نو جائزہ لینے لیے بذات خود اسلام پر از سر نو غور غور و فکر کرنا ضروری ہے۔

مدرسہ کے فارغ التحصیل کی شکایت اور بڑے بزرگوں کی ترغیب و تحریک پر رام پور کے جامعۃ الصالحات جیسے کچھ مدرسوں نے پرائمری اور سیکنڈری سطح پر اپنے نصاب میں این سی ای آر ٹی کی کتابیں شامل کی ہیں لیکن اس کا بھی فائدہ کچھ زیادہ نہیں ہے اس لیے کہ یہ حکومت کی جانب سے منظور شدہ نہیں ہیں۔ طالب علموں کو اس وقت بے انتہاء مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ جدید اداروں میں مزیداعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ مدرسہ میں کئی سال گزارنے کے بعد طالب علموں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے تو کچھ حاصل ہی نہیں کیا۔

مدارس کی ڈگری صرف چند جدیدیونیورسٹیوںاور اداروں میں ہی قابل قبول ہیں۔ اور اس کے بعد بھی وہاں صرف چند مضامین میں داخلہ دیا جاتا۔عالمیت کے امید واروں کوجو کہ (+2) کے مساوی ہے صرف عربی، اردو، فارسی، الہیات اور اسلامیات میں بی اے آنس (B.A. honours) کرنے کا موقع ملتا ہے اور فضیلت کے بعد جو کہ گریجویشن کے مساوی ہےایم میں داخلہ دیا جاتا ہے، لیکن ان کا داخلہ صرف عربی اور دینیات کے شعبے میں ہی ہوتا ہے۔اور یہاں آکر ہمارے مدارس کے فارغ التحصیل کا تعلیمی سفرختم ہو جاتا ہے۔یہ ایک بہت ہی مایوس کن صورت حال ہے۔وہ خود کو یونیورسٹی میں تو پاتے ہیں لیکن یونیورسٹی کے بیشتر محکموں کا دروازہ ان کے اوپر بند ہوتا ہے۔اور یہ فکری اور نفسیاتی لاچاری اور بے بسی کی انتہاء ہے۔یہ ایسا ہی کہ کوئی سمندر پر تیررہا ہو لیکن اسے پینے کے لئے ایک بوند پانی نصیب نہ ہو۔

مدرسہ کے نصاب میں تبدیلی لانا بدلتے وقت کا تقاضا ہے۔ تبدیلی یا ہلاکی مدرسے کے فارغ التحصیل کے لیے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔اور اس میں تبدیلی نہ کی جائے تو اور کیا کیا جائےاس لیےآج مدارس حقیقی اسلام نہیں بلکہ ماضی کے ایک جاگیردارانہ ہندوستانی نظام پر مبنی اسلام کی تعلیم دیتے ہیں۔اس سروے میں شامل ہونے والے ہمارے تمام شرکاء نے واضح طور پر بہشتی زیور کے مشہور مصنف اشرف علی تھانوی کے اسلامی نظریات کی مخالفت میں اپنی آوازیں بلند کی ہیں۔ مولانا تھانوی مسلم خواتین کوایک متحمل مزاج اور اطاعت شعار بیوی بننے اور اپنے شوہروں کے تابع دار رہنے کی تعلیم دیتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس قدر اسلامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں۔ تھانوی نےمثالی مسلمان عورت کا جو خاکہ پیش کیا ہے اس کے مطابق ایک مسلمان عورت کا نہ تو کوئی خود اپنا وجود ہے نہ ان کاکوئی اپنا دل ہے اور نہ ہی ان کے اپنے کوئی جذبات ہیں۔ مسلم برادری کو اس امر سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے کہاگر مدارس متحمل مزاج اور اطاعت شعارخواتین کی ایک مکمل طور پر جدید شناخت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اسلام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔مجھے یہ لگتا ہے کہ اسلام کے ایک تصور کی تشہیرکرنے اور ہمارے خداداد حقوق کو ہم سے سلب کرنے والی بہشتی زیور جیسی کتابوں کودلہن کے گفٹ پیکج سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/dr-kausar-fatima,-new-age-islam/a-call-for-rethinking-islam--studying-women-madrasa-graduates;-aspirations-and-roadblocks/d/108397

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-kausar-fatima,-new-age-islam/a-call-for-rethinking-islam--اسلام-پر-از-سر-نو-غورفکر-کی-ایک-دعوت--فاضلات-مدارس-کا-مطالعہ/d/108616

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..