New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 06:15 AM

Urdu Section ( 22 Nov 2015, NewAgeIslam.Com)

Will Killing Ten or Twenty Terrorists Resolve the Problem? دس بیس دہشت گرد مارنے سے کیا ملے گا؟

 

 

 

غلام احمد زرقانی

21 نومبر، 2015

فرانس میں پئے در پئے 6 مقامات پر دہشت گردی کے افسوسناک واقعہ نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق 129 لوگ جاں بحق ہوئے اور تقریباً 300  زخمی بھی ہیں، جن میں سے 80 کی حالت تا حال نازک بتائی جارہی ہے۔ کوئی شک  نہیں کہ یہ حادثہ یورپ کی تاریخ میں اب تک کے سب سے خوفناک حادثات میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری سطح پر اسے عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑے سانحہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرانس انتظامیہ نے سخت لب و لہجہ میں واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے پس پشت عناصر سے بے رحمی کے ساتھ انتقام لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اسی کے ساتھ یورپی یونین، امریکہ، کناڈا اور دوسرے دوست ممالک نے بھی اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

ویسے حادثہ کے بعد فرانس کی اعلیٰ قیادت نے اسے بنام اسلام بننے والی دہشت گرد تنظیموں کے سر ڈالنے کااشارہ دیا تھا  ، تاہم عین دوسرے دن ہی داعش نے خود ہی آگے بڑھ کر اس کی ذمہ داری قبول کرلی اور اسے اپنے خلاف فرانس کے فضائی حملوں کا اانتقام قرار دیا۔ اسی درمیان تفتیشی ایجنسیوں نے بھی ابتدائی مرحلے میں سات ممکنہ دہشت گردوں کے اسماء ذرائع ابلاغ کے حوالے کیے تھے ، جو بڑھتے بڑھتے نو تک پہنچے ہیں۔ غضب یہ ہے کہ یہ سب کے سب عرب مسلمانوں کے نام ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کچھ دہشت گردوں کے والدین کاسراغ لگانے میں پولیس کامیاب ہوگئی اور ان سے ملاقات پر یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ وہ خود اپنے بیٹوں کی حرکتوں سے نالاں تھے۔ ایک ممکنہ دہشت گرد صلاح عبدالسلام کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ حادثہ کے بعد فرانس سے بھاگ رہا تھا او رپولس نے اسے روکا بھی ، تاہم اس وقت تک اسے ممکنہ دہشت گردوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا، اس لیے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

یہ تو رہی ایک بات ، اب ذرا واقعہ کے بعد فرانس کے موقف پر توجہ دیجئے۔ فرانس کی اعلیٰ قیادت نے خاطیوں کے خلاف بے رحمانہ اقدامات کی دھمکی دی اور دوسرے ہی دن داعش کے گڑھ رقہ میں پوری قوت کےساتھ فضائی بمباری شروع ہوگئی۔ خیال رہے کہ فضائی کارروائی میں حملہ کرنے والے ملک کی بے پناہ طاقت کا عملی مظاہرہ توہوتا ہے ، تا ہم نتیجہ دوہرا برآمد ہوتا ہے۔ اسے یوں سمجھئے کہ داعش جیسی تنظیم کے اراکین کوئی کھلی فضا میں خیمہ زن تو ہوتے نہیں ہیں کہ انہیں نشانہ لگا کر ختم کیا جاسکے، وہ اپنے تحفظ  کے لیے انسانی آبادیوں کو ڈھال بنائے رکھتے ہیں اور جب فضائی حملے ہوتے ہیں تو دہشت گردوں کےساتھ ساتھ، عام بے گناہ انسان بھی مارے جاتے ہیں ، بچے، عورتیں اور ضعیف بھی لقمہ اجل بنتے ہیں۔اس طرح فضائی حملوں سےجہاں چند دہشت گرد مارے جاتے ہیں ، وہیں بے گناہوں کے مارے جانے کے بعد دوسرے نوجوانوں میں فضائی حملہ کرنے والوں کے خلاف غم و غصہ بھڑک اٹھتا ہے، جو انہیں بھی دہشت گرد بنا  ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی طاقتیں آئے دن دہشت گردوں کےٹھکانوں پربم باری کررہی ہیں، لیکن دنیا سے دہشت گردی ختم ہونے کے آثار ظاہر نہیں ہورہے ہیں ۔

اور دہشت گردی کی خفیہ حقیقت جاننے کا شوق ہے ، تو سنیے کہ ہم تو ہمیشہ کہتے آرہے تھے کہ دنیا کے کچھ ممالک دہشت گردوں  کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، تو دوسرے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں، جو انہیں در پردہ مضبوط بنانے کی کوشش کرتےہیں، لیکن لوگ یقین نہیں کرتے تھے ، تاہم داعش کے اقتصادی استحکام کا راز طشت از بام ہونے پر سبھی سکتے میں آگئے ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق داعش ہر دن پٹرول کی خفیہ اسمگلنگ کے ذریعہ کروڑوں روپیہ بنارہی ہے۔ اور یہ بھی سنیے کہ پٹرول کوئی آلو پیاز نہیں ہے کہ کسی بھی چلتے پھرتے شخص کے ہاتھوں فروخت کرکے پیسے بنا لیے جائیں، بلکہ اسےبہر کیف ، حکومتی سرپرستی میں قائم ہونے والے اداروں کےہاتھوں فروخت کیا جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر یہ سوال کرنے کا حق ہمیں ضرور ہے کہ داعش جس بے پایاں دولت کے سہارے اپنے دہشت گردانہ اقدامات جاری رکھے ہوئےہے ، اس سہارے کےدست و باز و بننے والے ممالک سےمؤاخذہ کیوں نہیں کیا جارہاہے؟ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ حادثہ کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں اور حادثہ کی معاونت کرنے والے بخش دیئے جائیں! ذرا غور کیجئے کہ داعش اقتصادی طور پر بھی مضبوط ہورہی ہے اورفضائی حملوں کے نتیجے میں جہاں دس بیس دہشت گرد مارے جارہے ہیں ، وہیں دوسرے نئے چہرے بھی لڑنے کےلیے داعش کی صف میں شامل ہورہے ہیں ، تو روئے زمین سے دہشت گردی کیونکر ختم ہوسکتی ہے؟

اس سے بھی بڑھ کر ، بلکہ دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک ملک اپنے مفاد کے پیش نظر دوسرے ملک کے خلاف مسلح جد و جہد کرنے کے لیے جانبازوں کی تربیت کرتا ہے، جو بالآخر دہشت گرد بن جاتے ہیں ۔ یقین نہیں آتا تو افغانستان ، پاکستان ، عراق، یمن اور شام پر نگاہ ڈالیے۔ افغانستان میں روسی فوجیوں سے لڑنے کےلیے جہادی تیار کئے گئے، جو بالآخر القاعدہ کی صورت میں نمودار ہوئے۔ یہی حال پاکستان میں موجود جہادی تنظیموں کا ہے کہ ملکی سر پرستی میں کشمیر کے لیے مسلح دستہ تیار کرنے کی ابتداء ہوئی، جو خود اپنے ملک میں دہشت گردی کے سینکڑوں واقعات میں ملوث پائے گئے۔ اسی طرح تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ داعش بنیادی طور پر دو طرح کے گروہوں کی مشارکت سے پروان چڑھی ہے، عراق پر حملہ کےنتیجے میں وہاں کی سرکاری فوج کے تحلیل شدہ سنی فوجی اور بشار الاسد کے خلاف تیار کیے جانے والے مسلح جنگجو ۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بشارالاسد کے خلاف مسلح جد و جہد کرنے کی پشت پناہی کرنے میں سعودی عرب اور قطر کے نام سر فہرست ہیں۔ لگے ہاتھوں مشہور تجزیہ نگار Conn Hallinan کی تحریر کا یہ اقتباس پڑھیے ۔ یعنی یہ سعودی دولت ہی ہے، جس نےافغان مجاہدین کو تیار کیا ، ایران کے خلاف صدام حسین کے حملہ کا خاکہ تیار کیا اور کاؤکس سےلے کر ہندوکش تک اسلامی جماعت اور دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت بھی کی۔

سچ پوچھئے تو سعودی عرب دو تحریکوں پر ہمیشہ نگاہ رکھتا ہے، ایک یہ کہ ایرانی شیعہ کنٹرول سے باہر نہ جائیں اور دوسرا یہ کہ پڑوس میں کہیں بھی جمہوریت  پروان نہ چڑھے۔ یہی وجہ ہے کہ یمن میں جب جمہوریت کی راہ ہموار ہوئی، تو سعودی عرب نےدخل اندازی شروع کردی۔ اسی طرح مصر میں حسنی مبارک کے بعد جمہوریت کی فضا بنی ہی تھی کہ جنرل سیسی کی پر زور حمایت کرکے وہاں بھی جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا گیا ۔ یہی حال شام کا ہے کہ وہاں شیعہ حکومت ایران سے مل کر مشکلات نہ کھڑی کردے، اس لیے وہاں بشارالاسد کے خلاف مسلح جدوجہد کےلیے جہادی بھی تیار کیے جارہے ہیں اور ان کی مالی معاونت بھی  کی جارہی ہے۔

صاحبو! دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے گا کہ القاعدہ ، داعش ، طالبان ، حرکت المجاہدین اور دوسرے دہشت گرد گروہ کا تانا بانا کسی نہ کسی حیثیت سے سعودی عرب سے جاکر کیوں ملتاہے؟ اور پھر یہ بھی تو غور کرنے کی بات ہے  کہ انسان فطری طور پر تو پیار و محبت، شفقت و مروت اور امداد و اعانت کرنے کا جذبہ رکھتا ہے، تاہم دہشت گردوں کے دلوں میں سفا کی، درندگی اور حیوانیت اچانک کہاں سے آجاتی ہے؟ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس درجہ قساوت قلبی دہشت گردوں کے فکری اعتقاد و عمل کاہی نتیجہ ہو اور اگر واقعی ہے تو دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ایسے افکار و خیالات کی بھی واجبی اصلاح ہونی چاہئے۔ بہر کیف ، سوکی ایک بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فضائی حملوں اور زمینی معرکہ آرائی سے جیتی نہیں جاسکتی، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سارے ممالک سر جوڑ کر بیٹھیں او رمسلح جد وجہد کےلیے خفیہ دستے ترتیب دینے اور انہیں اپنے مفاد کے خلاف استعمال نہ کرنے کا عہد مصمم کریں، نیز ایسے شدت پسند افکار و خیالات کی بھی اصلاح کی جائے، جو اشرف المخلوقات کو رفعت و بلندی سےگرا کر ارذل الحیوانات کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے۔

21 نومبر، 2015  بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL:  http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-ghulam-zarquani/will-killing-ten-or-twenty-terrorists-resolve-the-problem?--دس-بیس-دہشت-گرد-مارنے-سے-کیا-ملے-گا؟/d/105378

 

Loading..

Loading..