New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 03:25 PM

Urdu Section ( 6 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Noorie Al Maliki Should Fulfil His Official Obligations نوری المالکی اپنے منصب کے تقاضے پورے کریں

 

 

ڈاکٹر غلام زرقانی

5 جولائی، 2014

1990 میں  کویت پر جارحانہ حملہ کے بعد سے مسلم دنیا کے حالات بد سے  بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ سب سے پہلے سینئر  جارج بش  کی قیادت میں صدام حسین کو سبق سکھانے کے بہانے عراق پر منظم فوج کشی ہوئی اور کویت  آزاد کرالیا گیا ۔ پھر  دس برسوں کے بعد عراقی  تحویل  میں بڑے پیمانے  پرکیمیائی  ہتھیار وں کے وہمی الزامات کی آڑ میں دوبادہ حملہ کیا گیا اور صدام حسین کے دور کا مکمل خاتمہ  ہوگیا ۔ 

 اسی دوران  نائن الیون  کا حادثہ  رونماہوا  اور افغانستان  پر حملہ کر کے طالبان حکومت  کی بیخ کنی کردی گئی اور ادھر چند برسوں  سے لیبیا  ، تیونس  ، مصر ، یمن اور شام میں بڑے پیمانے  پر قتل و خون کے قابل  مذمت اور افسوسناک  واقعات سے انسانیت شرمسار  ہورہی ہے ۔ اسی سلسلے  کی ایک کڑی  دولت اسلامیہ عراق وشام ( داعش ) ہے ۔ یہ تحریک القاعدہ  کی کوکھ سے پیدا ہوئی ، شام کے صحرا میں پلی  بڑھی اور اب شام کے سرحدی علاقے  اور عراق  کے بڑے حصے پر قابض  ہوکر جوانی  کے مزے لے رہی ہے ۔ کہتےہیں   کہ صدام حسین کے دور  کے تجربہ کار فوجی بڑی تعداد  میں  اس تحریک  سے وابسطہ ہیں ۔ قارئین  کے حاشیہ  کو شکست  ہوئی اور بغداد سے روپوش ہوگئے،  تو اتحادی  قوتوں نے عراق کی سرکاری فوج تحلیل  کردی ۔  نتیجہ  یہ ہوا کہ  بڑے  پیمانے  پر تجربہ کار فوجی  بے  روزگار ہوگئے،  نہ انہیں سرکاری  وظیفہ  دیا گیا اور  نہ ہی ان کے مسائل  حل کرنے  کی کوئی سنجیدہ  کوشش کی گئی ۔ ظاہر ہے موجودہ کٹھ پتلی حکومت  سےانہیں  سخت تکلیف  پہنچی ،  جس کے رد عمل  میں وہ سب داعش  کے ساتھ  شریک ہوگئے ہیں ۔

یہاں یہ بات قابل  ذکر ہے  کہ صدام حسین  کے بعث پارٹی مروجہ کمیونزم  کی ایک بدلی ہوئی شکل  تھی، لہٰذا  یہ وثوق سےکہا جاسکتا ہے کہ ان کے زیر سایہ پلنے  والے فوجی  بہت زیادہ  مذہبی نہیں ہوسکتے ہیں ۔ اسی  لیے یہ بات کسی بھی  شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ داعش کی قیادت میں لڑنے والے جنگجوؤں میں سب کے سب داعش  کے مبینہ مذہبی افکار و خیالات سے ہم آہنگ نہیں ہیں، تاہم وہ صرف  بر سر اقتدار  حکومت  سے انتقام  لینے کے لیے شریک جنگ  ہوگئے ہیں ۔ یہاں پہنچ کر یہ کہنے میں کوئی پس و پیش  نہیں کہ اگر  بفرض  محال داعش  پورے عراق  پر قابض ہو بھی  جائے تو بہت جلد  آپس میں  ان کے  درمیان  شدیدنوعیت  کے اختلافات  شروع ہوجائیں گے ،جو قتل و خون، بربریت و سفاکیت  اور ظلم و تشدد  کے ایک نئے سیاہ باب کے آغاز کی صورت  میں ظاہر ہوگا ۔  غالباً یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے  ایک حالیہ بیان میں یہ اعتراف کیا ہے کہ  عراق  کے خلاف جنگ بہت بڑی غلطی تھی ۔کوئی شک نہیں  کہ عراق  جنگ  سے مسلمانوں کو ناقابل  تلافی  نقصانات پہنچے ہیں ، تاکہ امریکہ کو بھی کم نقصان نہیں اٹھانا پڑا ہے۔سینکڑوں فوجی مارے گئے  ، ہزاروں معذور ہوگئے اور  نہ جانے کتنے نفسیاتی  امراض  میں مبتلا  ہوکر بے بس ہوچکے ہیں ۔ اب جب کہ  ایک بار عراق  کے داخلی  مسائل پیچیدہ  ہوتےجارہے ہیں، تو تمام  تر زبانی ہمدردی،  احتجاجات اور اپیلوں  کے ، صدر باراک اوباما  عراق  حکومت کی مدد کے لیے اپنے  فوجی بھیجنے  کی ہمت  نہیں کر پارہے ہیں ۔

بہر کیف  یہ تو رہی بات  ایک پہلو سے ، اب ذرا ایک اور پہلو  بھی  نگاہ ڈالیے ۔ داعش اور حکومت  کے مابین ہونے والی جنگ  کو عام طور پر سنی اور شیعہ  کے درمیان اختلافات  سے تعبیر کیا جارہا ہے ، جو کہ  قطعی  درست نہیں ہے ۔اول تو یہ  کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے ۔ وہ اپنے  در پردہ عزائم تک پہنچنے  کے لئے ‘ مذہبی لبادہ ’ پہن لیتے ہیں ، تاکہ عام مسلمانوں  کی حمایت حاصل  کرسکیں ۔ وہ اپنی  راہ میں  آنے والی ہر رکاوٹ  کو بے دردی  سے کچلتے ہیں  اور شریعت  اسلامیہ کے بنائے ہوئے  قوانین  و ضوابط  کی قطعی  پرواہ نہیں کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ بے گناہ  کا قتل   وخون ، ننھے  بچوں  کے ساتھ زیادتی اور خواتین  کے ساتھ بربریت  کی سینکڑوں  مثالیں  آپ انٹر نیٹ  پردیکھ سکتے ہیں ۔ میں نے خود دیکھا کہ  چند نقاب  پوش عورتیں  ایک ویرانے میں لائی جاتی ہیں او رانہیں  کھڑا  کر کے قریب  سے گولیاں  ماری جاتی ہیں،  پھر انہیں پہلے سے تیار  شدہ گڈھے میں ڈھکیل  کر دفن کر دیا جاتا ہے ۔ مجھے بتایا جائے کہ اسلامی  شریعت  کی کس دفعہ  کے تحت قبضے  میں آئی ہوئی خواتین کو بےدردی سے ساتھ  قتل کرنے کاحکم ہے ؟  اسی طرح بازار  ،  مساجد اور  عوامی مقامات  پر خود کشی حملوں  کے نیتجے  میں  بڑے پیمانوں  پر بے گناہوں  کے قتل  عام کی تائید کےلئے  کون سی آیت قرآنیہ  اور حدیث نبوی ہے؟ اس لیے  اسے کسی طور پر اسلامی جہاد  اور مذہبی جنگ کے  زمرے  میں شمار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اور جب  اس کا کوئی تعلق  مذہب سے نہیں ہے ، تو پھر  اسے شیعہ  اور سنی  اختلافات کیوں  کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ اصطلاحات بھی مذہبی پس منظر ہی کی عکاسی  کرتےہیں ۔ اچھا پھر یہ ممکن ہے کہ داعش کے جنگجوؤں  میں شیعہ مسلک  سے تعلق  رکھنے والا کوئی نہ ہو ،  لہٰذا  اسے شیعہ  اور سنی اختلافات سے موسوم کیا جارہا ہو ۔

 فرض  کرلیں یہ بات صحیح ہو، جب بھی برصغیر پاک و ہند  میں اسے شیعہ اور سنی کے درمیان کش مکش  کے نام سے یاد نہیں کیا جانا چاہئے ۔یہ اس لیے کہ ہندو پاک میں سنی سے ایک  خاص طبقہ  مراد لیا جاتاہے ، جب کہ داعش کے جنگجوؤں کے لیے  وہابی اور غیر مقلد جیسی اصطلاحات  استعمال  کی جاتی ہیں ۔ اس نازک  فکری  فرق کا تقاضا یہ ہےکہ عالم عرب  میں نہ سہی  ، تاہم ہندو پاک کے اخبارات  و رسائل میں عراق کی حالیہ جنگ کو  شیعہ اور سنی کے درمیان  جنگ سے تعبیر  نہ کیا جائے ، ورنہ بلاوجہ ہندو پاک کی مذہبی فضا مسموم  ہوجائے گی، جس کے نہایت  ہی بھیانک  نتائج  بر آمد ہوسکتے ہیں ۔ یہ بھی کہا  جارہا ہے کہ نوری المالکی  نے عراق کے سارے طبقات کے ساتھ لے کرچلنے  کی کوئی سنجیدہ  کوشش نہیں کی،  جس کی وجہ سے داعش  کے جنگجوؤں کو مقامی افراد کی در پر دہ حمایت مل رہی ہے ۔ظاہر ہے  کہ جب لڑنے والوں  کے ساتھ مقامی لوگ شامل ہوجائیں  ، تو پھر یہ مسئلہ چند مسلح جد وجہد کر نے  والوں سے  ہی متعلق  نہیں رہتا  ، بلکہ اس کا دائرہ  کا ر نہایت ہی وسیع  ہوجاتاہے اور ایسی  صورت میں حالات  کے معمول پر لانے کے لئے  طاقت کبھی بھی بار آور نہیں ہوسکتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ حکومتی  سرپرستی  میں لڑنے  والی فوج عارضی طور پر داعش کے جنگجوؤں پر فتح  حاصل کرلے، تاہم وہ افغانستان کے طالبان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے  پوشیدہ جد وجہد شروع کردیں  گے اور عراق ایک بار پھر  آپسی قتل و خون کے افسوسناک  واقعات کی زد میں  آجائے گا ۔ اس لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ حکومت  بغداد طاقت کے استعمال  سے کسی حد تک گریز کرے اور ماضی  کی خطاؤں سے سبق حاصل کرتے ہوئے عراق کے سارے  طبقات  کا دل جیتنے  کی کوشش کرے ۔ کیا عجب  کہ نوری المالکی کی مخلصانہ  کرم فرمائی سے وہ طبقات جو اظہار غیظ  و غضب کے لیے داعش کے ساتھ ہوگئے ہیں، وہ ملک  کی بہتری کے لیے دوبارہ واپس آجائیں ۔

صاحبو! میرے خیال  میں  بہتر یہ ہے کہ داعش  کے ذریعہ چھیڑی گئی مسلح جد وجہد  کو عراق  کا داخلی مسئلہ  کہہ کر محدود رکھا جائے اور اسے شیعہ سنی اختلافات  کے نام سے موسوم نہ کیا جائے ، تاکہ  مسلمانوں کے دینی  جذبات  کسی حد تک قابو میں رہیں  اور جنگ کادائرہ  کا ر وسیع  نہ ہونے پائے ۔ اسی کے ساتھ امت اسلامیہ  ، خصوصیت  کے ساتھ عرب لیگ آپسی  گفت و شنید  کے ذریعہ کوئی مناسب حل نکالنے  کی کوشش کرے۔ اس طرح  گھر کامسئلہ  گھر والوں  کے تعاون سے حل  ہوجائے گا اور غیر وں کو دخل  اندازی  کا کوئی موقع میسر  نہیں آئے گا ۔ یاد رہے کہ جب اہل  خانہ لڑتے ہیں ، تب  ہی دوسرے  لوگ  مسئلہ سلجھا نے کےبہانے  گھر میں داخل  ہونے کی کوشش کرتے ہیں،  تاہم  اگر گھر کے دو افراد کے درمیان  ہونے والے اختلافات  کو اہل خانہ ہی خاموشی کے ساتھ  آپس میں  گفت  و شنید کے ذریعہ حل کرلیں ، تو  دوسرے کیوں کر دخل اندازی کرسکیں گے ؟

5 جولائی، 2014  بشکریہ : انقلاب  ، نئی دہلی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-ghulam-zarquani/noorie-al-maliki-should-fulfil-his-official-obligations--نوری-المالکی-اپنے-منصب-کے-تقاضے-پورے-کریں/d/97934

 

Loading..

Loading..