New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 10:09 PM

Urdu Section ( 4 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

The dreadful face of Pakistani Judicial System پاکستانی عدالتی نظام کا بھیانک چہرہ

 

 

 

ڈاکٹر غلام زرقانی

3فروری،2018

کہتے ہیں اور درست کہتے ہیں کہ ملک میں کفر وضلالت کا وجود ، اس قدر خطرناک نہیں، جس قدر عدل و انصاف کی رخصتی ہے ۔ یعنی کوئی شک و شبہ نہیں کہ کفر و ضلالت نہایت ہی نا پسندیدہ ہے،تاہم کفر و ضلالت کے باوجود ملک میں امن و سلامتی کا قیام ممکن ہے،لیکن جب عدل و انصاف کی بنیادیں متزلزل ہوجائیں، تو باہمی رسہ کشی اور انتقامی رد عمل کے نتیجے میں معاشرے کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے بطور تمہید دوتین واقعات پیش نگاہ رکھ لیجے ۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق 36سالہ ریمنڈڈیوس لاہور میں اپنی ہونڈا کار سے جارہے تھے کہ کسی اشارے پر رکے اور موٹر سائیکل سوار پر گولیاں چلادیں۔ 26سالہ فہیم شمشاد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ۔ اس کے بعد ڈیوس اپنی کار سے باہر ہے اور The Guardianکو بیان کردہ تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل چلانے والے 22سالہ فیضان حیدر پر نشانہ باندھا ، جو جان بچا کر موقع سے فرار ہورہے تھے ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق فیضان حیدر پر سامنے سے تین گولیاں اور پیچھے سے دو گولیاں ماری گئیں تھی ۔ قریب کی دکان میں موجود عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ ڈیوس نے باقاعدہ مقتولین کی تصاویر اتاریں او روہیں پر رکے رہے ۔ وہ حیرت زدہ طور پر زندہ تھے کہ مارنے والا بھاگنے کی بجائے آرام سے موقع واردات پر موجود ہے۔ بہر کیف ، اسی دوران ڈیوس نے اپنی مدد کے لیے ساتھیوں کوبلایا۔ یہ لوگ تیز رفتار لینڈ کروزرس سے پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ سامنے سے آنے والے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی اور سوار وہیں پر ہلاک ہوگیا ۔ ریمنڈ ڈیوس گرفتار کیے گئے اور پورا ملک سر اپا احتجاج بن گیا کہ انہیں سزا دی جائے ۔ ادھر فہیم کی بیوی نے چوہے مارنے والی دوا کھا کر خود کشی کرلی ۔ یعنی اس حادثہ کے نتیجے میں چار اموات ہوئیں اور شواہد و قرائن بھی ریمنڈ ڈیوس کے جرم کو بہ آسانی ثابت کررہے تھے ، تاہم اچانک اطلاع آئی کہ پاکستانی عدالتی نظام کے مطابق قاتل کی طرف سے 2-4ملین ڈالر مہلوکین کے خاندان کوادا کردیئے گئے ہیں ۔ اس طرح ریمنڈ ڈیوس آزاد ہوگئے اور اپنے ملک امریکہ واپس آگئے ۔

اسی طرح کہتے ہیں کہ 24دسمبر،2012کی شب طالب علم شاہ زیب خان کی بہن تقریب ولیمہ سے واپس آرہی تھی کہ تالپوری خاندان کے باورچی غلام مرتضی لشاری نے نازیبا اشارے کیے ۔ بچی نے اپنے والدین کو فون کیا اور بھائی شاہ زیب خان جلد ہی آگئے ۔اس طرح شاہ زیب خان اور مرتضیٰ لشاری کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔ شاہ زیب خان کے والدین نے بیچ بچاؤ کرکے معاملہ رفع دفع کردیا، تاہم شاہ رخ جتوئی نے موقع سیچلے جانے والے شاہ زیب خان کو تلاش کیا او راس پر گولی چلادی۔ وہ اب بھی زندہ تھے، لیکن جب غلام مرتضیٰ لشاری اور نواب سجاد علی تالپور نے جاکر دیکھا کہ وہ اب تک زندہ ہے اور شاہ رخ جتوئی کوآکر بتایا، تو دوبارہ جاکر شاہ رخ نے گولیوں سے انہیں بھون دیا ۔کئی دنوں تک پولیس نے کوئی گرفتاری نہیں کی، تاہم پورے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجات ہوئے اور لوگ کہنے پر مجبور ہوئے کہ قاتل مشہور و معروف اور طاقتور خاندان سے ہے، اس لیے اثر و رسوخ کے زیر اثرانتطامیہ کاروائی نہیں کر رہی ہے۔ بہر کیف ، عوامی دباؤ کے نتیجے میں متذکرہ ملزموں کے خلاف کاروائی شروع ہوئی اور غلام مرتضیٰ اور سجاد تالپور گرفتار کئے گئے ، لیکن حادثہ کے کلیدی ملزم شاہ رخ جتوئی چپکے سے دوبئی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ بہر کیف ، کچھ عرصہ بعد انہیں پاکستان لایا گیا او رنچلی عدالت نے دو مجرموں کو عمر قید اور شاہ رخ کو سزائے موت دی۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ جرم ثابت ہونے کے بعد حیرت یہ ہے کہ تینوں مجرم صرف اس لیے آزاد کردیے گئے کہ انہوں نے مقتول کے گھر والوں کے ساتھ مصالحت نامہ تیار کر کے عدالت میں پیش کردیا تھا ۔ یہ مصالحت نامہ کیسے وجود میں آیا، یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانے ، تاہم مقتول کے والدین کے بیان سے بہت سارے راز فاش ہوجاتے ہیں ۔ مقتول کی والدہ عنبرین کہتی ہیں کہ ہمارا بیٹا دنیا سے چلاگیا اور ہم اب ساری زندگی خوف و ہراس کے سائے میں زندگی نہیں گزار نا چاہتے ، اس لیے ہم انہیں معاف کررہے ہیں ۔ اس طرح تینوں مجرم فتح یابی کا علامتی نشان بناتے ہوئے جیل سے باہر آگئے۔

اب ایک روح فرساداستان اور سن لیجئے ۔ جون 2011میں کراچی کے کلفٹن پارک میں 22سالہ سرفراز شاہ کو دن کے اجالے میں گولی مار دی گئی ۔ اتفاق سے ایک ٹی وی چینل کی ٹیم بھی پارک میں موجودتھی، تصویر لینے والے کیمرے کارخ ادھر کردیا ۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوان دونوں ہاتھ جوڑ کر منتیں کررہا ہے، لیکن رینجر شاہد ظفر نے اپنی بندوق تان لی او رایک گولی ایک گھٹنے پر لگی ۔ مظلوم چیخ رہا ہے کہ اسے علاج کے لیے لے جایا جائے، لیکن سفاک ظالم نے دوسرے گھٹنے پر دوسری گولی او رماردی۔ قریب کھڑے ہوئے تین چار اور بھی رینجرس تھے، لیکن کسی نے بھی بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اطلاعات کے مطابق ایسے وقت میں اسے ہسپتال لے جایا گیا، جب کہ جسم سے بہت بڑی مقدار میں خون بہہ جانے کی وجہ سے تیزی سے موت ہوچکی تھی ۔ یہ معاملہ کلیدی ملزم شاہد ظفر کے ساتھ بہاء الرحمن، لیاقت علی، محمد طارق ، منظر علی اور افضل خان کو گرفتار کر لیا ۔12اگست،2011میں کراچی کی دہشت گرد مخالف عدالت نے شاہد ظفر کو سزائے موت او ردوسروں کو عمر قید کی سزا دی ۔ ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی اور یہاں بھی فاصل جج جنوری 2014نے اپیل مسترد کردی ، پھر ضابطہ کے مطابق سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی اور وہاں بھی سزا برقرار رکھی گئی، تاہم اسی درمیان مقتول کے خاندان کے ذریعہ کیا گیا مصالحتی معاہدہ پیش کیا گیا او راگست 2014 میں شاہد ظفر کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا۔ اوراب سن رہے ہیں کہ حکومت نے آرٹیکل 45کی بنیاد پر صدر مامون حسین نے انہیں معاف کرنے کی درخواست کی ہے، بلکہ بعض اخباری ذرائع تویہ بھی کہہ رہے ہیں کہ صدر نینے انہیں معاف کردیا ہے۔

صاحبو! متذکرہ بالا تینوں واقعات و حادثات میں نہ صرف مجرموں کی نشاندہی ہوئی ، بلکہ آثار و قرائن او رعدل و انصاف کے مراحل طے کر تے ہوئے جرم ثابت بھی ہوگئے ، تاہم انہیں سزا نہ ہوئی۔ اس کی وجہ سوائے اس کے او رکچھ نہیں کہ مجرمین دولت و ثروت کے مالک بھی ہیں اور سیاسی طور پر بہت مضبوط بھی ہیں ۔ پاکستانی نظام انصاف کے نتیجے میں سامنے آنے والی یہ حقیقت ہمیں چیخ چیخ کر صاف بتارہی ہے کہ جرم کرنے کے بعد اگر دولت و ثروت بھی ہے اور اثر و رسوخ بھی،تو کسی بھی قتل و خون کے مقدمہ سے مجرم، باعزت ،بری ہوجاتا ہے ۔ سوچتا ہوں تو دماغ چکرانے لگتا ہے کہ جب مؤثر شخصیات اور اصحاب دولت وثروت آزاد ہی ہوجاتے ہیں ، تو پھر سرکاری خرچ پر مقدمات کی کارروائی چلائی ہی کیوں جاتی ہے؟ کیااس سے بہتر نہیں کہ ’ صاحبان عدالت‘ کسی بھی حادثہ میں عدالتی کاروائی شروع کرنے سے پہلے ملزم کی شخصیت متعین کرنے کا حکم دیں کہ وہ صاحب دولت ہے یا غریب وناچار ، مؤثر سیاسی شخصیت ہے یا عام شہری، تاکہ ملکی دولت بھی محفوظ رہ جائے اور عدالتوں کے اوقات بھی!

ٹھیک ہی کہا ہے کہنے والوں نے کہ سارے ضابطے ، قوانین اور آئینی دفعات صرف غریب او رمتوسط شہریوں کے لیے ہوتے ہیں، رہے مشہور و معروف سیاسی شخصیات اور اصحاب دولت و ثروت ، تو ان کے لیے بہت راستے ہیں ، کبھی رشوت دے کر ، کبھی مقتولین کو خوفزادہ کر کے دیت دے کر اور کبھی بیرونی دباؤ کے زیر اثر ۔ ہائے رے نیرنگی زمانہ!

3فروری،2018، بشکریہ : انقلاب، نئی دہلی

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..