New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 02:06 PM

Urdu Section ( 11 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Modern Science Is The Gift Of Islam But! !جد ید سائنس اسلام کی دین ہے مگر

 

ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی

28 مئی ، 2013

اسلام ایک انقلاب فکر و نظر کا نام ہے۔ جب اسلام آیا تو دنیا روایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں داخل ہوگئی۔ قرآن میں انسان کو جابجا غور و فکر اور تعقل پر ابھارا ہے ۔ جا بجا یعقلون تعقلون اور تفکرون ( یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے یا تم غور نہیں کرتے ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ بعض  اسکالروں  نے لکھا ہے کہ قرآن نے عقل  و فکر کے صیغے کم سے کم 500 مرتبہ استعمال کیے ہیں۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ غور و فکر  کرنا خدا کی ایک عظیم الشان نعمت ہے جس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا ، اس سےکام لینے اور غور و فکر کرنے پر بہت زیادہ ابھارا گیا ہے۔ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ وہ عقل سےکام لیں اور غور و فکر کیا کریں۔ جب اسلام آیا تو پوری دنیامیں اسطورہ کا رواج تھا۔ میتھا لوجی کے تصورات و خرافات عام تھے جن میں یونانی میتھالوجی ،ہندی میتھالوجی، رومی ضمیات اور اسرائیلی خرافی قصے زبان زد عام تھے ۔ کائنات کی اشیاء اجرام فلکی، شجر و حجر، سمندر اور آسمان سب کو انسان ہیبت کی نظر سے دیکھتا  اور ان کو دیوی دیوتا سمجھ بیٹھتا تھا ۔

 یونانیوں نے جو منطق و فلسفہ ایجاد کیا تھا اس میں بھی عقل عام سے دوراز کا بحثیں تھیں، استقرائی دلیلوں پر زور دیا جاتا تھا ۔ غرض  انسان اس کائنات کو حیرت کی نظر سے دیکھتا تھا ۔ اور جس چیز کو انسان حیرت و سرگشتگی  سے دیکھے اس کو وہ اپنا دیوتا تو بنا سکتا ہے کبھی اس کو اپنی تحقیق و تفتیش اور سرچ کا موضوع نہیں بنا سکتا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کم سن بیٹے حضرت ابراہیم  کا انتقال ہوا تو اسی دن سورج کو گہن لگ گیا ۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں  کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کے غم میں سورج چاند کو بھی غم ہوا او رگہن لگ گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو جمع کر کے خطبہ دیا اور فرمایا کہ یہ چاند سورج خدا کی نشانیاں ہیں وہ کسی کی موت سے گہن  آلود نہیں ہوتے بلکہ طبیعی قوانین کی کار فرمائی سے ایسا ہوتا ہے ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ایک تو ہم کے پیدا ہونے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خاتمہ کردیا۔ کیونکہ تو ہمات کے رہتے ہوئے انسان عقل سے اورغور و فکر سے کام نہیں لے سکتا ۔ وہم عقل پر تالا ڈال دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے آنے تک انسانی علوم  و فنون ، آرٹ اور فکر کا قافلہ جامد بن کر ایک منزل پر رکا ہوا تھا۔

 یہ اسلام تھا جس نے اس فکرانسانی کے اس رکے ہوئے قافلے کو Push  کیا۔ اس کو بتایا کہ کائنات اور اس کی اشیاء اس کے لیے مسخر کی گئی ہیں۔ اس کو ان سے کام لینا ہے ، وہ اس کی عبادت و پوجا کا محل نہیں بلکہ ان کو اس تحقیق و اکتشاف اور تفتیش کا  محل بننا چاہیے ۔ اسلام نے انسان کو استخرا جی اصول دیے ۔ اس کو مشاہدہ سکھایا اور فکر و تعقل کے میدان میں یہ اسلام کی اتنی بڑی دَین تھی کہ اس کے برابر کوئی دَین نہیں ہوسکتی ، چنانچہ  اب جو انسان نے کائنات کو تسخیر کی نظر سے دیکھا، اس کی قوتوں کا مشاہدہ کیا ۔ اپنے فکر و تعقل کی قوتوں کو مہمیز کیا اس نے پوری دنیا میں اکتشاف و اختراع کی ایک نئی دنیا آباد کردی۔

صدر اسلام کی ابتدائی چند صدیوں میں ہی عرب علماء و فضلاء نے صنعت و حرفت  ، معاش و اقتصاد ، کیمیا اور طبیعات ، جغرافیہ ، ہیئنت ، حساب ریاضی، اقلیدس ،حکمت، طب ، جراحت ،پیمائش ،تاریخ ،اصول تاریخ و تمدن ،موسیقی ،آلات طرب ،شعر و اب ، بلاغت و اصول صرف و نحوو غیرہ علوم و فنون  کو کہاں سےکہاں  تک پہنچا دیا۔ اس وقت اسلامی دنیامیں دین و دنیا کی تفریق  نہ ہوئی تھی اور سائنس و ریاضیات کو بھی ایک دینی علم کی حیثیت  سے حاصل کیا جاتا تھا کیونکہ نماز وں کے اوقات کو جاننے کے لیے آلات پیمائش  و حساب کی ضرورت تھی تقویمیں بنانے کی ضرورت ایک دینی ضرورت تھی۔ اس وقت مسلمان دنیا سے آگے چلتے تھے پوری دنیا ان سے اپنا وقت معلوم کرتی تھی۔ اس وقت جتنی اہمیت ایک حدیث کے عالم کو یا تفسیر کے عالم کو دی جاتی  تھی اتنی ہی ریاضی و حساب اور جغرافیہ و سائنس  کے عالم کو دی جاتی تھی۔

 کیا یہ کوئی محض اتفاق تھا کہ امام ابو جعفر صادق کے شاگرد جہاں ایک طرف امام اعظم ابو حنیفہ ہیں وہیں جابر بن حیان جیسا عظیم کیمیاداں بھی  امام صادق کی مجالس کا حاضر باش ہے!اس دور میں جہاں سیاسی مسائل  اور انقلابات تمدن سے بے نیاز علماء و ادباء نے قرآن کے علوم کی ، حدیث  کے علوم کی خدمت کی ، فقہ کے گیسو سنوارے ، ادب و شعر کی بزم آراستہ کیں وہیں  ابن سینا ، فارابی ،ابن مسکویہ ، جابر بن حیان، موسیٰ رازی، بتانی، یعقوب بن اسحاق  الکندی ، ابو عمر و الجاحظ ، عباس بن فرناس ، ابو حنیفہ دینوری، ابو الحسن المسعودیب ، ابو بکر المقدسی ، ابن  بطوطہ ،محمد بن موسی دمیری، ابن ماجد ،البیرونی ، محمد الادریسی  ،ابو القاسم زہراوی، ابن الیہثم ، ابن بیطار ، ابن خلدون اور ابن رشد اور ان جیسے کتنے ہی اساطین علم و فکر  ہیں جنہوں نے اسلامی جوش و جذبہ کے ساتھ علوم و فنون کی گرم بازاری کی ایک نئی سائنس کی دنیا آباد کردی ان کے ترقی دیے گئے علوم و فنون میں علم طبعیات ،معدنیات ، ارضیات ، علم زراعت ،طب و کیمیا بصریات وغیرہ ہیں۔ان کی عربی کتابوں کے ترجمے بڑے پیمانے پر سولہویں صدی میں یوروپ پہنچے  اور لا طینی میں ترجمہ  ہوئے ا س کے بعد فرنچ ، انگریزی  و جرمن میں ۔

جس زمانہ میں پیرس او رلندن  چھوٹے چھوٹے شہر ہوا کرتے راتوں کو تاریک رہتے  اس وقت قرطبہ  ، قیروان ، استبول ، قاہرہ  اور بغداد اور دہلی ملینوں انسانوں کے مسکن تھے ، جہاں شاہراہوں پر چراغاں رہتا جہاں  الف لیلوی سماں چھایا رہتا ۔ جہاں کشادہ محلات ،مساجد کے بلند مینارے اونچی حویلیاں  اور امراء کی ڈیوڑھیاں مرصع رہتیں ۔ شہر کے بازاروں میں وہ چکا چوند ہوتی  کہ لگتا کہ برقی قمقموں  میں شہر نہایا ہوا ہے۔ جہاں بیمار ستانات  میں سیکڑوں اطباء اور ان کے شاگرد مریضوں کی دیکھ بھال او رنئی دواؤں کی تحقیق اور تیاری میں لگے رہتے اور ایک نیا تمدن  خلق کرتے رہتے ۔ یوروپ کے سمندروں میں عثمانی امیر البحر  کے بیڑے مغربیوں  کو لرزاں و ترساں رکھتے ۔ عربی زبان پوری دنیا میں رائج  تھی وہ وقت کی زندہ زبان تھی اور شاہ فرانس  کے نمائندے ، کلیسائے اعظم کے سفیر اور مغرب کے بڑے بڑے علماء قرطبہ و اشبیلیہ اورطلیطلہ کی درسگاہوں سے عربی رسوم و آداب کے ساتھ علوم و فنون  کو سیکھنے  میں فخر محسوس کرتے تھے ۔ اسی لیے مغربی اسکالر جارج سارٹن کہتا ہے کہ ‘‘ گیارہویں  صدی عیسوی  میں علم و حکمت کا حقیقی ارتقا مسلمانوں  کار ہین منت تھا’’۔

اس کے بعد یوروپ والوں نے مسلمانوں کی تحقیقات کو زاد راہ بنا کر اپنا سائنسی سفر شروع کیا اور دوصدیوں  میں یعنی سولہویں اور ستر ہویں صدیوں میں وہ دنیا سے سے آگے نکل چکے تھے ۔ اس عرصہ میں مسلمانوں میں شعوریاں یا غیر شعوری طور پر تجربہ و مشاہد ہ کی قوتیں  کمزور پڑ چکی تھیں۔ عجمی تصوف کی خرافات نے سب سے پہلے اسلام کی اسی بنیاد پر تیشہ  چلا یا جس کو قرآن نے قائم کیا تھا اور وہ تھا عقل سے کام لینا ۔ وحی سراسر غور وفکر اور تعقل  و تدبر کی دعوت تھی ۔ وہ آزادی  فکر کی دعوت تھی جبکہ مسلمانوں کی موجودہ بو سیدہ مذہبی فکر میں پہلا سبق ہی یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ ‘‘ بڑے’’ جو کہہ دیں اسی پر آمنا و صدقنا  کہنا جزو ایمان ہے۔ جس دین کو آسمانوں پر کمند ڈالنے والا بنا یا گیا تھا اس کے حاملین اولیا، قطب ، پیر ، ابدال کے جیسے جاہلی و اہموں کے چکر میں مبتلا ہوکر رہ گئے ہیں۔ اب انہوں نے جھوٹی متصو فانہ کرامات  کشف اور جعلی  الہاموں کے سایہ میں رہنے میں عافیت  جانی اور زندگی  کے کارزار سے کاٹ دینے والا  نیا دین تخلیق  کرلیا جو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر اترے دین سے قطعی طور پر مختلف تھا ۔ جن لوگوں نے اس صورت حال سے پیچھا  چھڑا نا چاہا ان کو بھی بے  سرو پا روایات کے جنگل  سے نجات نہ مل سکی اور وہ اٹھے تھے فکر اسلامی کی تجدید  کرنے مگر اس میں نئی نئی  فرقہ بندیوں  کے ظہور کا سبب بن گئے۔ جب بھی کسی پرُ عزم خلیفہ وقت نے وقت کے دھارے کے ساتھ چلنے کی کوشش کی اپنی فوج  کی نئی تنظیم  کی نئے اسلحہ  یوروپ  سے منگو ائے فوراً کسی شیخ الاسلام نے فتویٰ دےدیا کہ یہ غیر اسلامی حرکت ہے ۔ کسی عالم دین نے کہا کہ ٹیلی فون میں  شیطان بولتا ہے ۔ کسی  نے فتویٰ  دیا کہ ٹرین میں یا ہوائی  جہاز میں نماز  نہ ہوگی کیونکہ سجدہ  کی تعریف اس پر صادق نہیں آئے گی۔

وقت کی طنا بیں مسلمانوں  کے ہاتھوں سے نکل چکی تھیں لیکن ان کے علماء اب بھی ان کو یہی باور کرائے جارہے تھے کہ بہت جلد ایک آنے والا آئے گا و رسارے دلد ردور کردے گا۔ ایک پر ایک سانحہ  ہوتا گیا ۔ ایشیا اور افریقہ  کے ممالک ایک ایک کر کے  مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے وہ پھر بھی سراپا انتظار بیٹھے رہے ۔جب دشمن ان کے قلعوں پر بمباری  کرتا اور ان کے مورچوں  کو توڑ تا تو ان کے علما و فقہاء ختم  بخاری کرتے، ختم خواجگا ں کا تیر بہدف  فارمولا دیتے مگر  کچھ نہیں ہوتا ۔ جلد ہی وہ وقت آیا کہ سیکولر مغربی تہذیب پوری دنیا پر حاوی ہوگئی ۔ انٹر نیٹ  اور دوسرے جدید ذرائع  مواصلات سے نئی ثقافت  کا جو طوفان اٹھا وہ سب کچھ بہا لے گیا ۔ اور کل  جس سائنس نے ہماری انگلیاں  پکڑ کر چلنا سیکھا تھا آج اس صورت حال میں اتنا زبردست فرق واقع ہوگیا ہے کہ آج  اسلام اور سائنس  کو ایک دوسرے کا حریف سمجھا جارہا ہے ۔

 آج  تہذیب  و تمدن  کے قافلہ میں مسلمان سب سے پیچھے  ہیں ۔ کل وہ پوری انسانی علمی و فکری میراث  کے واراث  تھے آج وہ اپنی ہی وراثت  سے گریزاں ہےہیں ۔ آج ان کےواعظ او رمولوی  ان کو عقل  سے کام نہ لینے کا درس دیتے ہیں  کہتے ہیں کہ دین میں عقل  کاکیا کام۔ کل مسلمانوں  کے لیے دینی علم ایک  اکتشافی علم تھا اور اس کے سہارے وہ کائنات  پر کمند ڈالتے تھے ۔ آج علم  ان کے لیے تنخواہوں بھتوں اور اعلی مراتب  کےحصول کا اورجھوٹی شہرت کا ذریعہ  ہے۔ آج  مسلمان یونیورسیٹیاں  ، مسلم ممالک  کے سائنس کے ادارے، تحقیق  ور سرچ کے ادارے، مسلم اخبارات  اور مسلم لیبل  لگی ہوئی ہر چیز  دنیا میں  تھرڈ کلا س مانی جاتی ہے۔

 عرب ممالک کے لوگوں کو یہ زعم  ہے کہ اپنے  پیٹرو ڈالر کے بل پر دنیا کے علم و فن کو خرید سکتے ہیں مگر نادان نہیں جانتے  کہ علم و فن کے لیے پیسہ کی نہیں جگر کا وی  کی  ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی ٹاپ درجہ کی یونیورسٹی مسلم ممالک میں موجود نہیں ۔ جتنے  سائنسداں  ساری مسلم دنیا  پیدا کرتی ہے اتنے تو صرف اکیلے  چھوٹے  سے اسرائیل  کے اندر ہیں  ۔ خود اسلامیات  کے شعبے  میں مسلم ممالک  کی جامعات  کے شعبوں  کی مجموعی کا ر کردگی پر مغرب کا صرف ایک مستشرق بھاری پڑ جاتا ہے ۔ اس لیے کہ مستشرق  کی اپنی  تحقیق  اور اپنی  محنت  ہوتی ہے اور ہماری جامعات  کے پروفیسر ان اور اساتذہ  اپنے رسرچ اسکالر وں سے محنت کر اکر ان سے جبرا و قہر  مضامین  میں  لکھوا کر اپنے نام سے شائع کرتےہیں، ظاہر ہے کہ مانگے کا یہ اجالا  کیا خاک روشنی  دے گا اور اس کا کیا علمی  مقام ہوگا!

28 مئی ، 2013  بشکریہ : روز نامہ قومی سلامتی ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-ghitreef-shahbaz-nadvi-ڈاکٹر-غطریف-شہباز-ندوی/modern-science-is-the-gift-of-islam-but!-!جد-ید-سائنس-اسلام-کی-دین-ہے-مگر/d/12024

 

Loading..

Loading..