New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 12:16 AM

Urdu Section ( 15 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

Urdu Is a Mixture of various Languages اُردو، لشکر، اُردوئے معلی، زبان ہندی اور زبان دہلوی


ڈاکٹر فرمان فتح پوری

12جولائی،2020

اُردو اگرچہ مخلوط زبان ہے او راس میں شبہ نہیں کہ مقامی بولیوں اور زبانوں کے علاوہ باہر کی متعدد زبانوں کے الفاظ اس میں موجود ہیں خصوصاً عربی اور فارسی کے الفاظ تو بکثرت ہیں لیکن ان سب کا تعلق زیادہ تر اسماء و صفات سے ہے اور علمی و ادبی زبان پر ان کا اثر بھی گہرا ہے لیکن جہاں تک روزمرہ کی گفتگو کا تعلق ہے اس میں زیادہ تر مقامی الفاظ ہی بولے جاتے ہیں۔ جہاں تک اردو کے نام اور کی وجہ تسمیہ کا سوال ہے، اس سلسلے میں اس قدر جاننا کافی ہے کہ اردو دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے اور حافظ محمود شیرانی کی تحقیق کے مطابق اس کے لغوی معنی شاہی کیمپ یا لشکر گاہ کے ہیں۔ یہ لفظ ترکوں کے ساتھ برصغیر میں داخل ہوا۔ تزک بابری میں یہ لفظ لشکر گاہ کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ ہوا یہ ہے کہ دہلی کے جس علاقہ یا بازار کو مغل فوجیوں نے شاہی کیمپ یا چھاؤنی بنایا اس کا نام ’اُردو بازار‘ یعنی لشکر گاہ پڑگیا۔ شاہجہاں نے اس اُردو بازار کو اس کی اہمیت کا لحاظ رکھ کر ’’اُردوئے معلیٰ‘‘ کا خطاب دیا۔ اس ’’اُردوئے معلیٰ‘‘ یا ذی مرتبت چھاؤنی میں جو نئی زبان عام طور پر بولی اور سمجھی جاتی تھی وہ ’’زبانِ اُردو‘‘ یا ’’زبان اُردوئے معلیٰ‘‘ یعنی لشکری زبان کہلائی چنانچہ میر تقی میر نے اپنے تذکرے میں اسے ’’زبان اُردوئے معلیٰ‘‘ ہی کے نام سے یا دکیا ہے۔ رفتہ رفتہ زبان کا لفظ حذف ہوگیا اور آج کل جس طرح سلیم شاہی جوتی اور جہانگیری زیور سے ’’جوتی اور زیور‘‘ کے الفاظ نکال کر صرف سلیم شاہی سے جوتی اور جہانگیری سے زیور مراد لی جاتی ہے اسی طرح اُردو کا لفظ جو لشکر گاہ کے معنوں میں ترکوں کے ساتھ برصغیر میں داخل ہوا تھا، اصل معنی چھوڑ کر زبان کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔

اُردو زبان کو سب سے پہلے محمد عطا حسین خان تحسین نے ’’نوطرز مرصع‘‘ میں استعمال کیا ہے جو ۱۲۱۳ء میں تالیف ہوئی ہے۔ بعد ازاں میر امن نے ’’باغ و بہار‘‘ مولفہ ۱۲۱۷ء اور انشاء اللہ خاں نے دریائے لطافت مصنفہ ۱۲۲۳ء میں اس لفظ کو زبان کے معنوں میں استعمال کیا۔ ہرچند کہ آج تک یہ زبان اسی نام سے پکاری جاتی ہے اور اب کوئی دوسرا نام اس کے مقابل سننے میں نہیں آتا لیکن ہمیں اتنی بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہئے کہ برصغیر کے مختلف علاقوں اور مختلف زبانوں میں اسے دوسرے ناموں سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ مثلاً چونکہ یہ زبان ہند سے تعلق رکھتی تھی اس لئے بعض لوگوں نے فارسی کےمقابلے میں اس کا نام ’’ہندی‘‘ رکھا۔ عہد اورنگ زیب کے ایک مزاح نگار اردو شاعر جعفر زٹلی نے اسے ’’ہندی‘‘ ہی کا نام دیا ہے۔ یہ ’’ہندی‘‘  نام میر امن کے دور تک مستعمل رہا ہے۔ اہل دکن نے اسے دکنی اور اہل گجرات نے گوجر کہا۔ دلی میں چونکہ یہ زبان پختہ و مضبوط ہوئی اس لئے اس کا نام ریختہ رکھا گیا۔ میر تقی میر، حاتم، سودا اور اثر دہلوی سے لے کر غالب تک کے یہاں یہ لفظ ’’اُردو‘‘ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ شیخ باجن متوفی ۹۱۲ھ نے اُردو کو ’’زبان دہلوی‘‘ اور ملا وجہی نے سب رس مصنفہ ۱۰۴۵ھ میں ’’زبان ہندوستانی‘‘ کے نام دیئے ہیں۔ لیکن اُردو کے سوا اب کوئی نام باقی نہیں ہے۔

دراصل اُردو زبان عربی، فارسی اور بعض مقامی بولیوں کے باہم میل جول اور ہندو مسلمان دونوں کی سماجی و معاشرتی ضرورتوں کے ماتحت وجود میں آئی ہے۔ عربی کے الفاظ اول اول عرب تاجروں اور محمد بن قاسم کے ہمراہیوں کے طفیل سندھ و گجرات کے علاقے میں پہنچے۔ غزنوی حکمرانوں کی مدد سے فارسی الفاظ سرحد و پنجاب میں داخل ہوئے۔ جب مسلم فاتحین سندھ اور پنجاب سے آگے بڑھے تو عربی و فارسی کو اپنے ساتھ گنگا جمنا کے دو آبے میں لے گئے اور دلی کو دارالخلافہ قرار دیا۔ یہ ۱۱۹۲ء کی بات ہے۔ جب ۱۲۰۶ء میں قطب الدین نے خاندان غلاماں کی سلطنت کی بناء ڈالی اور دلی کو مستقر بنایا تو یہاں کے مقامی باشندوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا ربط و ضبط بڑھنے لگا۔سماجی اور معاشرتی ضرورتوں نے ایک دوسرے کی زبان کی طرف بھی متوجہ کیا اور جس طرح انگریزی راج میں ہم نے اپنی سماجی اور معاشی ضرورتوں کے ماتحت انگریزی سیکھنی شروع کی تھی بالکل اسی طرح یہاں کے مقامی باشندوں نے عربی و فارسی کی طرف رُخ کیا اور تھوڑے دنوں میں ایسی مہارت بہم پہنچائی کہ حکومت کے کاروبار میں ان کا خاص دخل ہوگیا۔ ٹوڈرمل فارسی کا اچھا عالم تھا اور مغلیہ عہد میں ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں ایسے ہندو موجود تھے جو فارسی کے بلند مرتبہ شاعر، انشاء پرداز اور مورخ تھے۔ مسلمان بادشاہوں نے بھی انتہائی رواداری کا ثبوت دیا۔ انہوں نے انگریزوں کی طرح برصغیر کے علاقے کو کبھی غیر ملک یا یہاں کے باشندوں کو غلام و حقیر خیال نہیں کیا بلکہ وہ اپنی وسیع القلبی اور رواداری کی بدولت بہت جلد یہاں کے ہندوؤں میں گھل مل گئے۔ رنگ و نسل و مذہبی تعصب سے قطع نظر کرکے انہوں نے ہندوؤں کے سارے علوم و فنون کی ترقی و ترویج میں حصہ لیا ہے۔ جس طرح ہندو فارسی وعربی سیکھنے میں مصروف تھے بالکل اسی طرح مسلمان سنسکرت، بھاشا، ہندو مذہب اور ان کی بعض روایات سے دلچسپی لے رہے تھے چنانچہ صرف اُردو ہی نہیں بلکہ بھاشا زبان کی تخلیق و ترغیب میں بھی مسلمانوں کا بڑا حصہ ہے۔ مسعود سلمان لاہوری، امیر خسروؒ، بو علی قلندر شاہؒ اور قطبن وغیرہ بھاشا ادب کی بناء رکھنے والوں میں ہیں۔ امیر خسرو نےمقامی موسیقی سے خاص دلچسپی کا اظہار کیا۔ بعض دوسرے بزرگوں نے بھاشا اور دوسری مقامی زبانوں کو اپنے مذہبی خیالات کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا۔ اس معاشرتی میل جول اور ایک دوسرے کی زبان و ادب سے دلچسپی لینے کا اثر یہ ہوا کہ عربی، فارسی، ترکی، ہندی اور دوسری مقامی بولیوں کے الفاظ مخلوط ہونے لگے اور زبانوں کے اس اختلاط کے نتیجے میں رفتہ رفتہ ایک نئی زبان وجود میں آگئی جس کا نام بعد کو اُردو پڑا۔

جب علاؤ الدین خلجی نے دکن کو فتح کیا اور محمد تغلق نے دہلی کو خالی کرا کے دولت آباد، آباد کیا تو سندھ و پنجاب و دہلی کے علاقے کی نیم پختہ اُردو گجرات و حیدرآباد کے علاقوں میں داخل ہوگئی۔ ہرچند کہ پنجاب اور دو آبہ کے علاقو ںمیں یہ نئی زبان ترقی پزیر تھی اور حضرت فرید گنج شکر اور حضرت امیر خسرو جیسے بزرگوں نے اس میں نثر و نظم کا آغاز بھی کردیا تھا لیکن دکن پہنچ کر اُردو کو جو ترقی نصیب ہوئی وہ اب تک اسے میسر نہ آئی تھی۔ شاہان دہلی کے درباروں میں ہمیشہ فارسی کا غلبہ رہا۔ عوام اور صوفیاء کرام البتہ اس نئی زبان کی طرف توجہ دیتے رہے لیکن حکمراں طبقے میں ابھی اس کی باریابی نہ ہوئی تھی چنانچہ حکومت کی سرپرستی اُردو کو دکن میں نصیب ہوئی۔ دکن میں گولکنڈہ کے قطب شاہی اور بیجاپور کے عادل شاہی حکمرانوں نے فارسی کے مقابلے میں اُردو کی قدردانی کا بیڑا اُٹھایا۔ دفاتر میں فارسی کی جگہ اردو رائج ہوئی اور اس زبان کے شعراء و ادباء کو گراں قدر انعامات و اکرام سے نوازا گیا۔ جس زمانے میں مغلیہ درباروں میں فیضی، ابو الفضل، عبدالرحیم خان خاناں، نظیری،صائب اور کلیم جیسے شاعروادیب فارسی ادب کو فروغ دے رہے تھے عین اسی زمانے میں گولکنڈہ اور بیجاپور کے درباروں میں ملا وجہی، قلی قطب شاہ، غواصی اور نشاطی وغیرہ جیسے زبردست شاعرونثر نگار اُردو کے دامن کو وسیع کررہے تھے۔ قدیم دکن کے آخری دور کے شعراء سراج اور ولی ہیں۔ ان دونوں کا کلام زبان و بیان کے اعتبار سے اس قدر صاف،سادہ اور دلکش ہے کہ آج کل کی اُردو سے لگا کھاتا ہے۔ سچ پوچھو تو ولی ہی کی بدولت شمالی ہند میں اُردو شعروسخن کا عام رواج ہوا ہے۔ ہوا یہ کہ جب اورنگ زیب کے انتقال کے بعد ولی اپنے پیرومرشد سعد اللہ گلشن سے ملنے کیلئے دہلی گئے اور وہاں کے شاعروں اور ادیبوں کو اپنا کلام سنایا تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ اس وقت دلی میں حاتم، آبرو، یکرنگ، سراج الدین علی خاں آرزو اورمضمون وغیرہ موجود تھے۔ یہ سب فارسی کے شاعر تھے اور منہ کا ذائقہ بدلنے کیلئے اُردو میں بھی شعر کہتے تھے لیکن ولی سے متاثر ہوکر انہوں نے اُردو کی طرف خاص طور پر رُخ کیا اور دکن کی تباہی کے بعد دلی اُردو کا سب سے اہم مرکز بن گیا۔

12جولائی،2020، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/dr-farman-fatehpuri/urdu-is-a-mixture-of-various-languages-اُردو،-لشکر،-اُردوئے-معلی،-زبان-ہندی-اور-زبان-دہلوی/d/122378


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..