New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 11:49 AM

Urdu Section ( 19 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Downfall of Modern Sciences in Muslim Countries مسلم ممالک میں جدید سائنسی علوم کا زوال

 

ڈاکٹر ( حکیم) اسلم جاوید

18 اگست، 2014

رابرٹ بریفالٹ لکھتے ہیں ‘‘ عہد قدیم میں سائنس  کا وجود ہی نہ تھا البتہ یہ امتیاز صرف مسلمانوں  کو حاصل ہے کہ انہوں نے نجوم اور دیومالا جیسی خرافات  کو سائنس سےنکال کر اسے مضبوط علمی استحکام بخشا ۔ انہوں نے  سائنسی نظریات کو تجربے کی کسولی پر پرکھا ۔ یوں  انہوں نے سائنس  میں نئے طریقۂ تحقیق  کا آغاز کیا اور جدید سائنس کو ترقی پانے کی راہ ہموار کی۔ صوفی الطاف نےلکھا ہے کہ اسلام سے پہلے  مشرق کےبہت سے شہر ان یونانی علوم  و فنون کے مراکز بن چکے تھے ۔ اس میں اسکندر یہ شاپورا اور حران کو خاص طور پراہمیت حاصل ہے۔ اسکندریہ کےاسکول کو طب، کیمیاء، طبیعات وغیرہ میں شہرت  حاصل تھی، البتہ  ان کے ہاں تمام مباحث میں سحر، دیومالا اور علم نجوم  کی آمیز ش پائی جاتی تھی۔ یہاں پر عیسائیت  کے غلبے  کے تحت افلاطونیت  اور نطوریت کے اثرات بھی غالب تھے ۔ حران علوم و فنون کا ایک بڑا مرکز تھا ۔ جہاں ریاضی اور فلکیات کوبہت  فروغ حاصل ہوا اور شاپور میں طب و فلسفہ نے بہت ترقی  کی۔

 جب اسلامی فکر دوواضح  گروہوں معتزلہ اور اشعر یہ میں تقسیم ہوگئی اور اس اختلاف  نے شدت اختیار  کرلی تو ارسطو کی عقلیت کے پیروکار مسلمان مفکرین نے جنہیں مشایین کہا گیا، عقل و الہام  کی بحث سے قطع نظر کرتے ہوئے ہر قسم کے حسی علم کو مشاہدے اورتجربے کی کسوٹی پر رکھ کر پرکھنا شروع کیا اور یوں جو نتائج سامنے آئے،  محض انہی کو اعتبارات کی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ مختصر یہ کہ مسلمانوں نے نظری علوم کو تجرباتی  علوم کو سند پر رکھ کر پرکھنا شروع کیا اور یوں سائنس  اپنی حقیقی بنیادوں پر وجود میں آیا ۔ سید حسن نصر اس کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ‘‘ مسلمانوں  نے ارسطو کی قیاس مابعد الطبیعاتی علت  کو تجربی علت میں بدل دیا ’’۔ یہ وہ سائنٹفک طریق کا ر تھا جس کے بارے میں رابرٹ اولفرٹ طریق کار تھا جس کے بارے میں رابرٹ والفرٹ جیسا سائنس کا مؤرخ رقمطراز ہے: ‘‘ محض مفروضوں او ردیومالائی بنیادوں کے بجائے عربی علم نسبتاً زیادہ حسی مشاہدات  کی بنیادوں پر قائم تھا ۔’’

مندرجہ بالا تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ آج جس سائنس کی ارتقا پر یوروپ سمیت سارا مغرب نازاں  ہے،  اس علم کے تمام  سوتے دنیائے مشرق خصو صاً مسلم علماء  ، دانشوروں اور مسلم فرماں رواؤں   کے ذوق و جذبہ کے چشمے سے پھوٹےتھے ۔ مگر یہ ایک المیہ ہے کہ سلطنت  عثمانیہ کے زوال  کے بعد سائنسی علوم  کی ترویج و ترقی کامشرقی یا یوں کہئے کہ اسلامی سرمایہ گھٹتا چلا گیا ۔ کسی نے بھی اس کی طرف توجہ دینے کی کوشش نہیں کی،  یہ کہنا زیادہ  مناسب  ہے کہ بعد کےمسلم بادشاہوں اور فرما رواؤں  کی عیش پسندی  اور علم سے محرومی نے انہیں  اس عظیم وراثت  کابوجھ اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ لہٰذا  ان ریاستوں میں جہاں مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں وہاں سائنسی علوم کی آبیاری نہیں ہوسکی ۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دن انہیں ممالک میں جہاں سے مشرقی طب یعنی  طب اسلامی  نے دنیا کے بیشتر حصے کو محو حیرت بنا کر رکھ دیا تھا، وہیں اپنی تمام خوبیوں اور ماضی  کی شاندار تاریخ  رکھنے کے باوجود اجنبی بن کر رہ گئی ۔ اس حقیقت  سے لگ بھگ ساری دنیا واقف ہے کہ ہمارے مسلم محققین  اور  ہماری انسانیت دوست سلطنتوں نے اپنی زندگی  کے قیمتی  ماہ و سال اسی فن کے فروغ  اور اس کی جدید تحقیق  میں لگادئے تھے ۔ مناسب حالات اور حکومت  کی جانب سےملنی والی حوصلہ افزائی نے فن و سائنس کو دیگر زبانوں سے عام فہم اور وسیع ترین عربی زبان میں منتقل کرنے  میں قابل قدر حد تک تعاون کیا ۔یہاں یہ مسلمہ اصول ذہن نشین رہنا چاہئے کہ کسی بھی علم یا فن کی ترقی اور فروغ  کیلئے  حالات کاموافق  اور سازگار ہونانہایت ضروری ہے بصورت دیگر وہ فن  قصہ ماضی بن کر رہ جاتا ہے۔

اس لحاظ سے ہم اسلامی مملکتوں  میں طب یونانی   کی ترویج و ترقی کو تین مراحل  میں رکھ کر دیکھ سکتے ہیں ۔ پہلا مرحلہ آٹھویں  صدی عیسوی  سے پہلے کا ہے جب حکیم جالینوس ، ابن سینا،  جابر ابن حیان وغیرہ ہم جیسے یگانہ روزگار محققین نے سائنسی  علوم کو یونانی سے عربی زبان میں منتقل کرنے میں کلیدی  رول ادا کیا ۔ دوسرا  دوران  سائنسی علو م کو برتنے  او راپنی مہارت سے فن کو نیا عروج بخشنے کاز مانہ ہے جو آٹھویں صدیں عیسویں  سے شروع ہوتا ہے اور گیارہویں  صدی یعنی بغداد کے زوال تک باقی رہتا ہے ۔ اس حقیقت کامغربی مؤرخین  بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اسلامی تاریخ میں آٹھ سو عیسویں  سے گیارہ سو عیسویں تک کا دور علمی لحاظ سے انتہائی زر خیز دور تھا، اس تین سو سالہ دور میں جب پورا یورپ مرتدین کو ٹھکانے لگانےمیں مصروف  تھا اس وقت بغداد دنیا بھر میں علم و دانش کاڈنکا  بجانے  میں سر گرم عمل تھا ۔

 آٹھویں  صدی عیسویں  کا بغداد دنیا میں علم و دانش کا مرکز کیسے بنا اس کی وجوہات جاننے کے لئے جب ہم اس دور کاجائزہ  لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت  بغداد کا دروازہ بلا تفریق رنگ و نسل ہر موضوع کاعلم رکھنے والوں کے لئے کھلا ہوا تھا ۔ مسلمان  ، عیسائی، یہودی اور دہریے سب ایک ہی شہر میں اپنے اپنے علم اور نظریات  پر تبادلۂ خیالات کرنے میں مشغول تھے ۔ یہ وہ دور تھا جس میں بنی نوع انسان نے انجنیئرنگ ، حیاتیات ، طب اور ریاضی میں زبردست ترقی کی ۔ آج ہم جو جدید ہند سےاستعمال  کرتے ہیں، کیا آپ کو معلوم  ہے کہ انہیں کیا کہا جاتا ہے؟ انہیں عربی ہند سے کہا جاتا ہے ۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ جدید ہند سے جنہیں ہم روز استعمال کرتےہیں عربی ہند  سےکہلاتے  ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ اس دور کے مسلم  ریاضی  دانوں  نے صفر کی ایجاد  سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاضی  کی ایک نئی شاخ الجبراء تخلیق کی ۔ خود الجبراء عربی نام ہے۔

اس دور میں خوبصورت اور حیرت انگیز آسٹرولیب بنائے گئے ۔ اس آلہ کو مختلف فلکیاتی پیمائش سر انجام دینے والا ایک دستی کمپیوٹر کہا جاسکتاہے۔ آج  کےجدید علوم مثال کے طور پر ریاضی  او رفلک پیمائی ، سلیسٹل  نیو یکیشن ، کی جڑیں اسی دور سے جا ملتی ہیں ۔ ملت مرحومہ کے تابناک ماضی  کی تاریخ  ہمیں بتاتی ہے کہ جب ملک کے فرماں رواؤں  کاذہن علم و دانش کے لئے حریص اور متمنی ہوتو وہاں علوم و معارف کو ترقی پانے اور دنیا کو نئی بلندی سے آشنا کرنے کے تمام و سائل جمع ہوجاتے ہیں ۔ مگر  جب ملک کے فرماں رواؤں کی فکر پر غلامی حاوی  ہوجائے، عیش  کوشی اور آرام طلبی کے علاوہ کوئی بھی شئے انہیں اپنی جانب مائل کرنے میں کامیاب  نہ ہوسکے تو وہاں جہالت کا دور دورہ  ہوجاتاہے او رعلم کےشاداب  چشمے خود بخود خشک ہو جاتے ہیں ۔

اس وقت مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک میں علم  و دانش  کے فقدان کا جو عذاب مسلط ہے وہ اسی غلامانہ  ذہنیت اور عیش پرست فرماں روائی کی دین ہے ۔ ہمیں افسوس کےساتھ یہ ماننا پڑتا ہے کہ جس عرب نےساری دنیا کے لئے اپنی سرزمین کو علوم معارف کی آماجگاہ  بنا دیا تھا ۔ آج وہی عرب ان تمام جدید علوم  سے یتیم ہوچکے ہیں جو ان کی شہرت و سر بلندی کا ذریعہ بنے تھے ۔ فن طب کو ہی لے لیجئے انسانیت کی تاریخ  اس عظیم فن کو عرب محققین  کا سرمایہ قرار دیتے ہیں ، جب کہ آج یہ ان  تمام عرب ممالک  میں اجنبی بن کر رہ گیا ہے۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ مسلم مملکتوں  نے اپنی قلمرووں  میں علمی تحقیقات  کے لئے ماحول قائم کرنے سے زیادہ  مغرب کی غلامی  پر اپنے آپ کو منحصر کر لیا ۔

18 اگست، 2014  بشکریہ : روز نامہ عزیز الہند ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-aslam-javed/downfall-of-modern-sciences-in-muslim-countries--مسلم-ممالک-میں-جدید-سائنسی-علوم-کا-زوال/d/98626

 

Loading..

Loading..