New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:04 AM

Urdu Section ( 31 Jan 2016, NewAgeIslam.Com)

Eight Hundred Years of Hazrat Nezamuddin Aulia (ra) حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے 800 سال

 

ڈاکٹر عقیل احمد

30 جنوری، 2016

چشتیہ سلسلے کے چوتھے خلیفہ خواجہ حضرت نظام الدین اولیا 27 صفر 636ھ بروز بدھ بدایوں میں پیدا ہوئے ۔ اس کے مطابق آپ کی ولادت کو 800 سال پورے ہوگئے ۔ آپ کے والد خواجہ احمد جو دلی کا مل اور عالم با عمل تھے ،آپ کو شہر قاضی کا منصب ملاہوا تھا لیکن وہ عہدے سے ان کی ذہنی مطابقت نہیں تھی چنانچہ جلد ہی قاضی شہر کے عہدے سے دستبردار ہوگئے ۔ حضرت نظام الدین کا نام خواجہ محمد رکھا گیا ۔ بچپن میں ہی ان کے والد وصال فر ما گئے ۔ ان کے واصل سے متعلق یہ روایت ہے کہ جب وہ بیمار ہوئے حضرت نظام الدین اولیا کی والدہ نے خواب دیکھا کہ کوئی یہ کہتا ہے کہ دونوں میں سے کسی سے ایک کو لے لو چاہے بیٹے کو لے لو یا شوہر کو لے لو اور آپ نے بیٹے کو لے لیا۔ مگر یہ خواب انہوں نے کسی کو نہیں سنایا ، خواجہ احمد رحمۃ اللہ علیہ کی بیماری دن بدن بڑھتی گئی اور اسی بیماری میں ان کا وصال ہوگیا۔

لہٰذا حضرت نظام الدین اولیا کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آگئی ۔ انہوں نے حضرت نظام الدین اولیا ء کو سب سے پہلے قرآن مجید ناظرہ پڑھوایا ۔ جب قرآن مجید ختم کرلیا تو لغت کی کتاب پڑھی ۔ نوعمری میں آپ نے بہت سی کتابیں پڑھ لیں ایک معتبر کتاب جب ختم ہونے کو آئی تو آپ کے مشفق استاد مولانا علاؤ الدین اصولی نے کہا کہ اب تمہیں دستار فضیلت اپنے سر پر بندھوانی چاہیے ۔ حضرت نظام الدین اولیا نے یہ بات اپنی والدہ سے کہی۔ آپ کی والدہ نے خود اپنے ہاتھوں سےسوت کات کر دستار تیار کی۔ جب وہ معتبر کتاب حضرت نظام الدین نے ختم کرلی تو آپ کی والدہ نے کھانا تیار کرایا او رشہر کے ممتاز بزرگوں او رعلماء کو دعوت دی ۔ کھانے سے فارغ ہوکر حضرت نظام الدین اولیا دستار لے کر آئے وہ دستار خواجہ شیخ جلال الدین تبریزی کے مرید خواجہ علی کودی انہوں نے نے ایک سرا پکڑا اور فرمایا خود ہی باندھو۔ اس کے بعد خواجہ علی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں علمائے دین میں شامل کرے اور ہمت کے اعلیٰ مرتبے پر پہنچائے ۔

مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے حضرت نظام الدین اولیا نے 16 سال کی عمر میں دہلی آنے کا قصدکیا۔ آپ کے ہمراہ والدہ اور ہمشیرہ بھی دلی آئیں اور سارئے نمک میں قیام کیا۔ قریب میں حضرت بابا فرید گنج شکر کے چھوٹے بھائی شیخ نجیب الدین متوکل رہتے تھے ۔ ان سے حضرت نظام الدین اولیا نے ملاقات کی۔ حضرت نظام الدین اولیا کی والدہ کے انتقال کے بعد حضرت نجیب الدین متوکل نے آپ کی سرپرستی کی ۔ دہلی میں تین چار سال بڑی محنت سےعلم حاصل کرنے کی جد وجہد میں مشغول رہے۔ یہاں وہ اس قدر مشہور ہوگئے کہ لوگ انہیں مولانا نظام الدین بحاث و محفل شکن کے نام سے مخاطب کرنے لگے۔ انہیں علم میں حظِ کامل اور دست گاہ کلی حاصل ہوگئی ۔ علم فقہ اور اصول فقہ اور دوسرے علوم میں دسترس حاصل کرکے ادب عالیہ کی طرف متوجہ ہوئے اور شمس الملک مولانا شمس الدین سے مقامات حریری پڑھی اور اس کے چالیس مقام زبانی یاد کرلیے اور جب ادب عالیہ میں آپ کو کمال ہوگیا تو علم حدیث کی طرف متوجہ ہوئے ۔ علم حدیث کی کتاب شارق الانوار پڑھی اور اسے زبانی یاد کرلیا۔

بدایوں سے حاصل کرنے کے بعد ان کی والدہ نے خواہش ظاہر کی کہ اب کہیں کے قاضی بن جاؤ ۔ اس کے لیے حضرت شیخ نجیب الدین متوکل سے دعا کے لیے کہا تو انہوں نے کہا، قاضی نہ بنو کچھ اور بنو چنانچہ آپ قاضی نہ ہوئے بلکہ محبوب الہٰی سلطان اولیا اور سلطان المشائخ ہوئے۔

آپ کو حضرت بابا فرید سے ازلی محبت تھی اس کا ذکر فوائد الفواد میں ملتا ہے ۔ جس میں حضرت کا قول نقل کیا گیا ہے۔

‘‘ جب بدایوں سے ہم دلی کےلیے چلے تو ہمارے ہم سفر ایک بوڑھے عزیز تھے ۔ راستے میں جہاں کہیں لٹیروں کا یا درندوں کا ڈر ہوتا تو وہ کہتے اے پیر حاضر ہوئیے اے پیر ہم آپ کی پناہ میں ہیں ۔ میں نے پوچھا یہ توپیر کسے کہتے ہو انہوں نے کہا حضرت شیخ فریدالدین نوراللہ مرقدہ۔ یہ سنا تو ذوق و شوق او ربھی بڑھ گیا۔’’

دلی میں تعلیم مکمل کر کے حضرت نظام الدین اولیا نے والدہ سے اجازت لے کر اجودھن کا رخ کیا وہاں حضرت بابا فرید سےتعلیم حاصل کی۔ مطابق سیرالاولیا:

‘‘ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ میں چھ پارے کلام اللہ کےاور تین کتابیں جن میں سے ایک کا میں قاری تھا ۔ وہ کتابیں شیوخ العالم کے حلقۂ درس میں سنیں چھ باب اوارف کے اور ابو شکور سالمی کی تمہید میں نے تمام کی تمام شیخ شیوخ العالم سے پڑھی ’’۔

حضرت نظام الدین اولیا بابا فرید سےملنے کےلیے بے قرار تھے اتنی ہی بے قراری سے بابا فرید انتظار کررہے تھے ۔ ملاقات پر بیعت کی۔ بابا فرید نے حضرت نظام الدین اولیا کے لیے چار پائی کا انتظام کرنے کے لیے حکم دیا۔ لیکن حضرت نظام الدین اولیا نے اپنے ہم جماعت طلبا کے احترام میں چار پائی پر لیٹنے سے گریز کیا تو مولانا اسحاق کے ذریعے بابا فرید نے کہا کہ تم اپنی من مانی کروگے یا شیخ کے فرمان پر چلو گے ۔ حضرت نظام الدین اولیا کو خلافت اور سند بھی دی گئی ۔ اس وقت حضرت بابا فرید نے فرمایا کہ میرے پہلے خلیفہ جلا ل الدین ہانسی میں ہیں وہاں جانا وہ سند کی توثیق کریں گے۔ مولانا جلال الدین نے اس سند پر لکھ دیا کہ موتی اس کو سونپا گیا جو موتی کی قدر جانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت نظا م الدین دہلی آگئے ۔ یہاں لا تعداد لوگ ان کے مرید ہونے لگے انہیں میں حضرت امیر خسرو بھی تھے۔ حضرت امیر خسرو نے حضرت نظام الدین اولیا کو اپنے نانا کے مکان میں منتقل ہونے کی پیشکش کی جسے حضرت نظام الدین اولیا نے منظور کرلیا۔ حضرت نے تقریباً دو سال اس گھر میں قیام فرمایا ۔ وہاں سے چھپر وای مسجد میں منتقل ہوئے وہاں سےمختلف مقامات پر منتقل ہوئے آخر ایک روز دعا کرتے وقت غیاث پور کےلیے غیب سے آواز آئی اور آپ غیاث پور آگئے۔ یہ علاقہ آباد نہ تھا لیکن کیلوکری کو جب کیقباد نے اپنی سکونت کے لیے منتخب کیا تو غیاث پور بھی آباد ہوگیا۔ پھر یہاں سے بھی کوچ کرناچاہا کہ ایک نوجوان آکر کہنے لگا کہ جواں مردی اور حوصلہ تو یہ ہے کہ انسان کے ساتھ مشغول رہ کر حق کے ساتھ مشغول رہے۔ حضرت نظام الدین اولیا کے پیر بابا فرید نے فرمایا تھا کہ روزہ رکھنا نصف دین ہے اس لیے حضرت نظام الدین اولیا اکثر روزہ رکھا کرتے تھے اور افطار کے وقت ایک یا آدھی روٹی تناول فرماتے تھے وہ بھی اس لیے کہ مسافروں دوریشوں اور عزیزوں کےساتھ آپ کھانا تناول فرماتے تھے تو بغیر آپ کے کوئی کیسے کھاتا ۔ اکثر اللہ کے مہمان ہوتے جس دن گھر میں کچھ نہ ہوتا تو ان کی والدہ فرماتیں کہ آج ہم اللہ کےمہمان ہیں ۔ اس سے حضرت نظام الدین اولیا کو لذت و کیفیت حاصل ہوتی وہ اس انتظار اور خواہش میں رہتے کہ والدہ فرمائیں کہ ہم اللہ کے مہمان ہیں ۔ حضرت نظام الدین اولیا گوشہ نشین رہنا پسند فرماتے تھے ۔ بچپن سےہی کم آمیزی او ربے تعلقی بہت زیادہ تھی ۔ لیکن انہیں اشارہ ہوا کہ آپ مشغول حق بھی رہیں اور مخلوق کی حاجت روائی کےساتھ احکام الہٰی کی تبلیغ بھی فرمائیں اور بھولی بھٹکی مخلوق کو ہدایت کی راہ دکھائیں تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو سرخ روئی حاصل ہو۔ پھر کیا تھا حضرت نے مخلوق کےلیے دروازہ کھول دیا۔ امیر، غریب چھوٹے بڑے سب آپ کے یہاں آنے لگے ۔ بادشاہ وقت بھی حاضری کےمتمنی ہوئے سلطان جلال الدین خلجی کو کئی بار منع کیا۔ خفیہ طریقے سے حاضر ہونا چاہا تو آپ اجودھن چلے گئے اور سلطان علاؤ الدین خلجی کوکہلا بھیجا کہ فقیر کے مکان کےدروازے ہیں اگر ایک سے بادشاہ آئے گا تو دوسرے سے فقیر نکل جائے گا۔ حضرت نظام الدین اولیا دربار سےہمیشہ دور رہے او رکسی طرح کی کوئی جائداد قبول نہیں کی ۔ انہوں نے اصلاح معاشرہ کاکام کیا بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی خدمت انجام دی۔ فوائد الفواد کے مولف حسن اعلیٰ سجزی کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ کچھ دوستوں کےساتھ شمسی تالاب کے کنارے رنگ رلیاں منارہے تھے اور شراب کے نشے میں دھت تھے کہ حضرت نظام الدین اولیا کا ادھر سےگزر ہوا تو آپ کے قدموں پر سر رکھ دیا توبہ کی اور مرید ہوگئے ۔ ان کے ساتھی بھی مرید ہوئے ۔ حضرت نظام الدین اولیا کے آخری دور میں ہر طرح کی فراوانی تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے پہلے سےبھی زیادہ سخت مجاہدات کئے اور ایسی روشن اور راہ عمل اختیار کی کہ آپ کی زندگی بذات خود بے مثل اور اعلیٰ درجے کی زندگی بن گئی ۔ ان کے یہاں ظاہری ریاضت کم باطنی مشغولیت زیادہ تھی۔ پیری کے زمانے میں بھی پنچ وقتہ نماز با جماعت ادا کرتے۔ کثرت سےروزہ رکھتے ۔ ان کی خانقاہ سےکسی کو بغیر تواضع وا کرام کے واپس نہ کیا جاتا ۔

جس وقت تغلق آباد کا قلعہ تعمیر ہورہا تھا ۔ اسی وقت حضرت نظام الدین اولیا نے عوام الناس کےلیے باولی بنانے کا حکم دیا۔ بادشاہ نے اس کی تعمیر میں رخنہ پیدا کیا اور رات میں کام نہ ہوا اس نے دکانداروں کو حکم جاری کردیا کہ خانقاہ کاتیل بند کردیا جائے ۔ روایت ہے کہ حضرت نے باولی کے پانی کو چراغ میں ڈال کر جلانے کےلیے نصیر الدین سے کہا تو چراغ روشن ہوگیا اور نصیر الدین چراغ دہلوی کےلقب سے مشہور ہوئے ۔ وہی حضرت نظام الدین اولیا کے جانشین اور خلیفہ مقرر ہوئے اور انہیں کو تبرکات بھی ملے۔ انہو ں نے حضرت نظام الدین اولیا کے پیغام کو پورے ہندوستان میں پھیلایا ان کے جانشین خواجہ بندہ نواز گیسودراز ہیں جو اردو کے اہم نثر نگار ہیں۔

ہنوز دلی دور است یا بھی دلی دور ہے کا محاورہ بھی حضرت نظام الدین اولیا کےایک واقعہ سےرائج ہوا ۔ اس بادشاہ نے حضرت کو دلی سے چلے جانے کا فرمان جاری کیا تھا ، وہ بنگال سے واپس آرہا تھا جب لوگ اطلاع دیتے کہ بادشاہ قریب آگیا ہے تو آپ یہی فرماتے ابھی دلی دور ہے اور جب وہ بالکل قریب آگیا تو اپنے استقبال میں بنے نئے مکان دب کر ہلاک ہوگیا ۔

آخر وقت میں حضرت نظام الدین اولیا نےاپنے خادم اقبال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس گھر میں جو کچھ بھی ہو وہ تقسیم کردیا جائے ۔ اقبال نے سب کچھ تقسیم کردیا ۔ کچھ غلہ رہنے دیا اس پر حضرت ناراض ہوئے اور فرمایا خدا کی مخلوق کو بلاؤ اور انبار خانوں کے دروازے توڑ کر بے خوف و خطر غلہ لے جانے کو کہو اور وہاں جھاڑو دے دو ۔ چالیس روز کی بیماری کے بعد 18 ربیع الآخر 725 مطابق 1335 ء کو طلوع آفتاب کے بعد آپ نے اس دار فانی کو خیر باد کہا ۔ اسی تاریخ کو ہر سال حضرت کا عرس ہوتا ہے اور روزانہ بلا تفریق مذہب ملت لا تعداد لوگ آپ کےمزار مبارک پر حاضری دیتے ہیں۔

حضرت نظام الدین اولیا نے ہندوستان میں اردو ہندی اور مشترکہ تہذیب کی بنیاد رکھی جس کو آپ کے خلفا بالخصوص نصیر الدین چراغ دہلوی ، حسن اعلی سجزی ، حضرت امیر خسرو اور راجکمار ہر دیو نے پروان چڑھایا۔

30 جنوری، 2016 بشکریہ : روز نامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-aqeel-ahmed/eight-hundred-years-of-hazrat-nezamuddin-aulia-(ra)--حضرت-نظام-الدین-اولیاء-رحمۃ-اللہ-علیہ-کے-800-سال/d/106181

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..